احادیث
#2548
سنن ابن ماجہ - Legal Punishments
مسعود بن اسود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب اس عورت ( فاطمہ بنت اسود ) نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر سے چادر چرائی تو ہمیں اس کی بڑی فکر ہوئی، وہ قریشی عورت تھی، چنانچہ ہم گفتگو کرنے کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور ہم نے عرض کیا: ہم اس کے فدیہ میں چالیس اوقیہ ادا کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس عورت کا پاک کر دیا جانا اس کے حق میں بہتر ہے ، جب ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نرم گفتگو سنی تو ( امیدیں لگائے ) اسامہ رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور ان سے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ( اس کے سلسلے میں ) گفتگو کرو، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دیکھا ( کہ اسامہ سفارش کر رہے ہیں ) تو کھڑے ہو کر خطبہ دیا، اور فرمایا: کیا بات ہے تم باربار مجھ سے اللہ کی حدود میں سے ایک حد کے بارے میں سفارش کر رہے ہو؟ جو اللہ کی ایک باندی پر ثابت ہے، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، اگر یہ چیز اللہ کے رسول کی بیٹی فاطمہ کے ساتھ پیش آتی، جو اس کے ساتھ پیش آئی ہے تو محمد اس کا بھی ہاتھ کاٹ دیتے ۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا عبد الله بن نمير، حدثنا محمد بن اسحاق، عن محمد بن طلحة بن ركانة، عن امه، عايشة بنت مسعود بن الاسود عن ابيها، قال لما سرقت المراة تلك القطيفة من بيت رسول الله صلى الله عليه وسلم اعظمنا ذلك وكانت امراة من قريش فجينا الى النبي صلى الله عليه وسلم نكلمه وقلنا نحن نفديها باربعين اوقية . فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " تطهر خير لها " . فلما سمعنا لين قول رسول الله صلى الله عليه وسلم اتينا اسامة فقلنا كلم رسول الله صلى الله عليه وسلم . فلما راى رسول الله صلى الله عليه وسلم ذلك قام خطيبا فقال " ما اكثاركم على في حد من حدود الله عز وجل وقع على امة من اماء الله والذي نفس محمد بيده لو كانت فاطمة ابنة رسول الله نزلت بالذي نزلت به لقطع محمد يدها
Metadata
- Edition
- سنن ابن ماجہ
- Book
- Legal Punishments
- Hadith Index
- #2548
- Book Index
- 16
Grades
- Al-AlbaniDaif
- Muhammad Fouad Abd al-BaqiDaif
- Shuaib Al ArnautDaif
- Zubair Ali ZaiDaif
