Loading...

Loading...
کتب
۸۲ احادیث
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے کہا: مجھے اندیشہ ہے کہ جب زمانہ زیادہ گزر جائے گا تو کہنے والا یہ کہے گا کہ میں کتاب اللہ میں رجم ( کا حکم ) نہیں پاتا، اور اس طرح لوگ اللہ تعالیٰ کے ایک فریضے کو ترک کر کے گمراہ ہو جائیں، واضح رہے کہ رجم حق ہے، جب کہ آدمی شادی شدہ ہو گواہی قائم ہو، یا حمل ٹھہر جائے، یا زنا کا اعتراف کر لے، اور میں نے رجم کی یہ آیت پڑھی ہے: «الشيخ والشيخة إذا زنيا فارجموهما البتة» جب بوڑھا مرد اور بوڑھی عورت زنا کریں تو ان دونوں کو ضرور رجم کرو … ۱؎، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رجم کیا، اور آپ کے بعد ہم نے بھی رجم کیا
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، ومحمد بن الصباح، قالا حدثنا سفيان بن عيينة، عن الزهري، عن عبيد الله بن عبد الله بن عتبة، عن ابن عباس، قال قال عمر بن الخطاب لقد خشيت ان يطول، بالناس زمان حتى يقول قايل ما اجد الرجم في كتاب الله فيضلوا بترك فريضة من فرايض الله الا وان الرجم حق اذا احصن الرجل وقامت البينة او كان حمل او اعتراف وقد قراتها الشيخ والشيخة اذا زنيا فارجموهما البتة . رجم رسول الله صلى الله عليه وسلم ورجمنا بعده
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ماعز بن مالک رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، اور کہا: میں نے زنا کیا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی طرف سے منہ پھیر لیا، انہوں نے پھر کہا: میں نے زنا کیا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر منہ پھیر لیا، انہوں نے پھر کہا: میں نے زنا کیا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر منہ پھیر لیا، انہوں نے پھر کہا: میں نے زنا کیا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر منہ پھیر لیا یہاں تک کہ چار بار زنا کا اقرار کیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ انہیں رجم کر دیا جائے، چنانچہ جب ان پر پتھر پڑے تو وہ پیٹھ پھیر کر بھاگنے لگے، ایک شخص نے انہیں پا لیا، اس کے ہاتھ میں اونٹ کے جبڑے کی ہڈی تھی، اس نے ماعز کو مار کر گرا دیا، پتھر پڑتے وقت ان کے بھاگنے کا تذکرہ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آخر تم نے انہیں چھوڑ کیوں نہ دیا ؟۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا عباد بن العوام، عن محمد بن عمرو، عن ابي سلمة، عن ابي هريرة، قال جاء ماعز بن مالك الى النبي صلى الله عليه وسلم . فقال اني قد زنيت . فاعرض عنه ثم قال اني قد زنيت فاعرض عنه . ثم قال اني زنيت . فاعرض عنه . ثم قال قد زنيت . فاعرض عنه حتى اقر اربع مرات فامر به ان يرجم . فلما اصابته الحجارة ادبر يشتد فلقيه رجل بيده لحى جمل فضربه فصرعه فذكر للنبي صلى الله عليه وسلم فراره حين مسته الحجارة قال " فهلا تركتموه
عمران بن حصین رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک عورت نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر زنا کا اعتراف کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا تو اس کے کپڑے باندھ دئیے گئے، پھر اس کو رجم کیا، اس کے بعد اس کی نماز جنازہ پڑھی ۱؎۔
حدثنا العباس بن عثمان الدمشقي، حدثنا الوليد بن مسلم، حدثنا ابو عمرو، حدثني يحيى بن ابي كثير، عن ابي قلابة، عن ابي المهاجر، عن عمران بن الحصين، ان امراة، اتت النبي صلى الله عليه وسلم فاعترفت بالزنا فامر بها فشكت عليها ثيابها ثم رجمها ثم صلى عليها
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک یہودی جوڑے کو رجم کیا، میں بھی اس کو رجم کرنے والوں میں شامل تھا، میں نے دیکھا کہ یہودی مرد یہودیہ کو پتھروں سے بچانے کے لیے آڑے آ جاتا تھا۔
حدثنا علي بن محمد، حدثنا عبد الله بن نمير، عن عبيد الله بن عمر، عن نافع، عن ابن عمر، ان النبي صلى الله عليه وسلم رجم يهوديين انا فيمن رجمهما فلقد رايته وانه يسترها من الحجارة
جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک یہودی اور ایک یہودیہ کو رجم کیا۔
حدثنا اسماعيل بن موسى، حدثنا شريك، عن سماك بن حرب، عن جابر بن سمرة، ان النبي صلى الله عليه وسلم رجم يهوديا ويهودية
براء بن عازب رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر ایک یہودی کے پاس سے ہوا جس کا منہ کالا کیا گیا تھا اور جس کو کوڑے لگائے گئے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان یہودیوں کو بلایا اور پوچھا: کیا تم لوگ اپنی کتاب توریت میں زانی کی یہی حد پاتے ہو ؟ لوگوں نے عرض کیا: ہاں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے عالموں میں سے ایک شخص کو بلایا، اور اس سے پوچھا: میں تمہیں اس اللہ کا واسطہ دے کر کہتا ہوں جس نے موسیٰ پر توراۃ نازل فرمائی: کیا تم اپنی کتاب میں زانی کی حد یہی پاتے ہو ؟ اس نے جواب دیا: نہیں، اور اگر آپ نے مجھے اللہ کی قسم نہ دی ہوتی تو میں آپ کو کبھی نہ بتاتا، ہماری کتاب میں زانی کی حد رجم ہے، لیکن ہمارے معزز لوگوں میں کثرت سے رجم کے واقعات پیش آئے، تو جب ہم کسی معزز آدمی کو زنا کے جرم میں پکڑتے تو اسے چھوڑ دیتے اور اگر پکڑا جانے والا معمولی آدمی ہوتا تو ہم اس پر حد جاری کرتے، پھر ہم نے لوگوں سے کہا کہ آؤ ایسی حد پر اتفاق کریں کہ جو معزز اور معمولی دونوں قسم کے آدمیوں پر ہم یکساں طور پر قائم کر سکیں، چنانچہ ہم نے رجم کی جگہ منہ کالا کرنے اور کوڑے مارنے کی سزا پر اتفاق کر لیا، یہ سن کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «اللهم إني أول من أحيا أمرك إذ أماتوه» یعنی اے اللہ! میں پہلا وہ شخص ہوں جس نے تیرے اس حکم کو زندہ کیا ہے جسے ان لوگوں نے مردہ کر دیا تھا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا اور وہ یہودی رجم کر دیا گیا۔
حدثنا علي بن محمد، حدثنا ابو معاوية، عن الاعمش، عن عبد الله بن مرة، عن البراء بن عازب، قال مر النبي بيهودي محمم مجلود فدعاهم فقال " هكذا تجدون في كتابكم حد الزاني " . قالوا نعم . فدعا رجلا من علمايهم فقال " انشدك بالله الذي انزل التوراة على موسى اهكذا تجدون حد الزاني قال لا ولولا انك نشدتني لم اخبرك نجد حد الزاني في كتابنا الرجم ولكنه كثر في اشرافنا فكنا اذا اخذنا الشريف تركناه وكنا اذا اخذنا الضعيف اقمنا عليه الحد . فقلنا تعالوا فلنجتمع على شىء نقيمه على الشريف والوضيع فاجتمعنا على التحميم والجلد مكان الرجم . فقال النبي صلى الله عليه وسلم اللهم اني اول من احيا امرك اذ اماتوه " . وامر به فرجم
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر میں گواہوں کے بغیر کسی کو رجم کرتا تو فلاں عورت کو کرتا، اس لیے کہ اس کی بات چیت سے اس کی شکل و صورت سے اور جو لوگ اس کے پاس آتے ہیں اس سے اس کا فاحشہ ہونا ظاہر ہو چکا ہے ۱؎۔
حدثنا العباس بن الوليد الدمشقي، حدثنا زيد بن يحيى بن عبيد، حدثنا الليث بن سعد، عن عبيد الله بن ابي جعفر، عن ابي الاسود، عن عروة، عن ابن عباس، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لو كنت راجما احدا بغير بينة لرجمت فلانة فقد ظهر فيها الريبة في منطقها وهييتها ومن يدخل عليها
قاسم بن محمد کہتے ہیں کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے دو لعان کرنے والوں کا تذکرہ کیا، تو ان سے ابن شداد نے پوچھا: کیا یہ وہی عورت تھی جس کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا: اگر میں گواہوں کے بغیر کسی کو رجم کرتا تو اس عورت کو کرتا؟ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: وہ تو ایسی عورت تھی جو علانیہ بدکار تھی
حدثنا ابو بكر بن خلاد الباهلي، حدثنا سفيان، عن ابي الزناد، عن القاسم بن محمد، قال ذكر ابن عباس المتلاعنين . فقال له ابن شداد هي التي قال لها رسول الله صلى الله عليه وسلم " لو كنت راجما احدا بغير بينة لرجمتها " . فقال ابن عباس تلك امراة اعلنت
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس کو تم پاؤ کہ وہ قوم لوط کا عمل ( اغلام بازی ) کر رہا ہے، تو فاعل اور مفعول دونوں کو قتل کر دو ۔
حدثنا محمد بن الصباح، وابو بكر بن خلاد قالا حدثنا عبد العزيز بن محمد، عن عمرو بن ابي عمرو، عن عكرمة، عن ابن عباس، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " من وجدتموه يعمل عمل قوم لوط فاقتلوا الفاعل والمفعول به
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے قوم لوط کے عمل یعنی اغلام بازی کرنے والوں کے بارے میں فرمایا: اوپر والا ہو کہ نیچے والا، دونوں کو رجم کر دو ۔
حدثنا يونس بن عبد الاعلى، اخبرني عبد الله بن نافع، اخبرني عاصم بن عمر، عن سهيل، عن ابيه، عن ابي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم في الذي يعمل عمل قوم لوط قال " ارجموا الاعلى والاسفل ارجموهما جميعا
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے اپنی امت کے بارے میں سب سے زیادہ جس چیز کا خوف ہے وہ قوم لوط کے عمل یعنی اغلام بازی کا ہے ۱؎۔
حدثنا ازهر بن مروان، حدثنا عبد الوارث بن سعيد، حدثنا القاسم بن عبد الواحد، عن عبد الله بن محمد بن عقيل، عن جابر بن عبد الله، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ان اخوف ما اخاف على امتي عمل قوم لوط
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو کسی محرم سے جماع کرے اسے قتل کر دو، اور جو کسی جانور سے جماع کرے تو اسے بھی قتل کر دو، اور اس جانور کو بھی ۔
حدثنا عبد الرحمن بن ابراهيم الدمشقي، حدثنا ابن ابي فديك، عن ابراهيم بن اسماعيل، عن داود بن الحصين، عن عكرمة، عن ابن عباس، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من وقع على ذات محرم فاقتلوه ومن وقع على بهيمة فاقتلوه واقتلوا البهيمة
ابوہریرہ، زید بن خالد اور شبل رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھے کہ ایک شخص نے آپ سے اس لونڈی کے بارے میں سوال کیا جس نے شادی شدہ ہونے سے پہلے زنا کیا ہو؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے کوڑے مارو، اگر پھر زنا کرے تو پھر کوڑے مارو ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تیسری یا چوتھی مرتبہ میں کہا: اسے بیچ دو خواہ وہ بالوں کی ایک رسی کے عوض بکے ۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، ومحمد بن الصباح، قالا حدثنا سفيان بن عيينة، عن الزهري، عن عبيد الله بن عبد الله، عن ابي هريرة، وزيد بن خالد، وشبل، قالوا كنا عند النبي صلى الله عليه وسلم فساله رجل عن الامة تزني قبل ان تحصن . فقال " اجلدها فان زنت فاجلدها فان زنت فاجلدها " . ثم قال في الثالثة او في الرابعة " فبعها ولو بحبل من شعر
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب لونڈی زنا کرے تو اسے کوڑے مارو، پھر زنا کرے تو پھر کوڑے مارو، اگر اب بھی زنا کرے تو پھر کوڑے مارو، اس کے بعد اگر زنا کرے تو اسے بیچ دو خواہ ایک «ضفیر» ہی کے بدلے ہو، اور «ضفیر» رسی کو کہتے ہیں
حدثنا محمد بن رمح، قال انبانا الليث بن سعد، عن يزيد بن ابي حبيب، عن عمار بن ابي فروة، ان محمد بن مسلم، حدثه ان عروة حدثه ان عمرة بنت عبد الرحمن حدثته ان عايشة حدثتها ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " اذا زنت الامة فاجلدوها فان زنت فاجلدوها فان زنت فاجلدوها فان زنت فاجلدوها ثم بيعوها ولو بضفير " . والضفير الحبل
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ جب میری براءت نازل ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر کھڑے ہوئے اور اس کا تذکرہ کر کے قرآنی آیات کی تلاوت کی، اور جب منبر سے اتر آئے، تو دو مردوں اور ایک عورت کے بارے میں حکم دیا چنانچہ ان کو حد لگائی گئی ۱؎۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا ابن ابي عدي، عن محمد بن اسحاق، عن عبد الله بن ابي بكر، عن عمرة، عن عايشة، قالت لما نزل عذري قام رسول الله صلى الله عليه وسلم على المنبر فذكر ذلك وتلا القران فلما نزل امر برجلين وامراة فضربوا حدهم
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر کوئی آدمی کسی کو کہے: اے مخنث! تو اسے بیس کوڑے لگاؤ، اور اگر کوئی کسی کو کہے: اے لوطی! تو اسے بیس کوڑے لگاؤ ۔
حدثنا عبد الرحمن بن ابراهيم، حدثنا ابن ابي فديك، حدثني ابن ابي حبيبة، عن داود بن الحصين، عن عكرمة، عن ابن عباس، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " اذا قال الرجل للرجل يا مخنث فاجلدوه عشرين واذا قال الرجل للرجل يا لوطي فاجلدوه عشرين
علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جس پر میں حد جاری کروں ( اگر وہ مر جائے ) تو میں اس کی دیت ادا نہیں کروں گا، سوائے شرابی کے، اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی کوئی حد نہیں مقرر فرمائی، بلکہ یہ تو ہماری اپنی مقرر کی ہوئی حد ہے۔
حدثنا اسماعيل بن موسى، حدثنا شريك، عن ابي حصين، عن عمير بن سعيد، ح وحدثنا عبد الله بن محمد الزهري، حدثنا سفيان بن عيينة، حدثنا مطرف، سمعته عن عمير بن سعيد، قال قال علي بن ابي طالب ما كنت ادي من اقمت عليه الحد الا شارب الخمر فان رسول الله صلى الله عليه وسلم لم يسن فيه شييا انما هو شىء جعلناه نحن
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم شراب کے جرم میں جوتوں اور چھڑیوں سے مارنے کی سزا دیتے تھے۔
حدثنا نصر بن علي الجهضمي، حدثنا يزيد بن زريع، حدثنا سعيد، ح وحدثنا علي بن محمد، حدثنا وكيع، عن هشام الدستوايي، جميعا عن قتادة، عن انس بن مالك، قال كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يضرب في الخمر بالنعال والجريد
حضین بن منذر رقاشی کہتے ہیں کہ جب ولید بن عقبہ کو عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس لایا گیا اور لوگوں نے ان کے خلاف گواہی دی، تو عثمان رضی اللہ عنہ نے علی رضی اللہ عنہ سے کہا: اٹھئیے اور اپنے چچا زاد بھائی پر حد جاری کیجئے، چنانچہ علی رضی اللہ عنہ نے ان کو کوڑے مارے اور کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چالیس کوڑے لگائے، اور ابوبکر رضی اللہ عنہ نے چالیس کوڑے لگائے، اور عمر رضی اللہ عنہ نے اسی کوڑے لگائے، اور ان میں سے ہر ایک سنت ہے ۱؎۔
حدثنا عثمان بن ابي شيبة، حدثنا ابن علية، عن سعيد بن ابي عروبة، عن عبد الله بن الداناج، سمعت حضين بن المنذر الرقاشي، ح وحدثنا محمد بن عبد الملك بن ابي الشوارب، حدثنا عبد العزيز بن المختار، حدثنا عبد الله بن فيروز الداناج، قال حدثني حضين بن المنذر، قال لما جيء بالوليد بن عقبة الى عثمان قد شهدوا عليه قال لعلي دونك ابن عمك فاقم عليه الحد . فجلده علي وقال جلد رسول الله صلى الله عليه وسلم اربعين وجلد ابو بكر اربعين وجلد عمر ثمانين وكل سنة
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب کوئی نشے میں آ جائے تو اسے کوڑے لگاؤ، اور اگر پھر ایسا کرے تو پھر کوڑے مارو، اور پھر بھی ایسا کرے تو پھر کوڑے مارو ، پھر چوتھی بار کے لیے فرمایا: اس کے بعد بھی ایسا کرے تو اس کی گردن اڑا دو ۱؎۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا شبابة، عن ابن ابي ذيب، عن الحارث، عن ابي سلمة، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اذا سكر فاجلدوه فان عاد فاجلدوه فان عاد فاجلدوه " . ثم قال في الرابعة " فان عاد فاضربوا عنقه