احادیث
#2606
سنن ابن ماجہ - Legal Punishments
سلمہ بن محبق رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب حدود کی آیت نازل ہوئی تو سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ سے جو ایک غیرت مند شخص تھے، پوچھا گیا: اگر آپ اپنی بیوی کے ساتھ کسی مرد کو پائیں تو اس وقت آپ کیا کریں گے؟ جواب دیا: میں تلوار سے ان دونوں کی گردن اڑا دوں گا، کیا میں چار گواہ ملنے کا انتظار کروں گا؟ اس وقت تک تو وہ اپنی ضرورت پوری کر کے چلا جائے گا، اور پھر میں لوگوں سے کہتا پھروں کہ فلاں شخص کو میں نے ایسا اور ایسا کرتے دیکھا ہے، اور وہ مجھے حد قذف لگا دیں، اور میری گواہی قبول نہ کریں، پھر سعد رضی اللہ عنہ کی اس بات کا تذکرہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا گیا، تو آپ نے فرمایا: ( غلط حالت میں ) تلوار سے دونوں کو قتل کر دینا ہی سب سے بڑی گواہی ہے ، پھر فرمایا: نہیں میں اس کی اجازت نہیں دیتا، مجھے اندیشہ ہے کہ اس طرح غیرت مندوں کے ساتھ متوالے بھی ایسا کرنے لگیں گے۔ ابن ماجہ کہتے ہیں کہ میں نے ابوزرعہ کو کہتے سنا ہے کہ یہ علی بن محمد طنافسی کی حدیث ہے، اور مجھے اس میں کا کچھ حصہ یاد نہیں رہا۔
حدثنا علي بن محمد، حدثنا وكيع، عن الفضل بن دلهم، عن الحسن، عن قبيصة بن حريث، عن سلمة بن المحبق، قال قيل لابي ثابت سعد بن عبادة حين نزلت اية الحدود وكان رجلا غيورا ارايت لو انك وجدت مع ام ثابت رجلا اى شىء كنت تصنع قال كنت ضاربهما بالسيف انتظر حتى اجيء باربعة الى ما ذاك قد قضى حاجته وذهب . او اقول رايت كذا وكذا فتضربوني الحد ولا تقبلوا لي شهادة ابدا . قال فذكر ذلك للنبي صلى الله عليه وسلم فقال " كفى بالسيف شاهدا " . ثم قال " لا اني اخاف ان يتتايع في ذلك السكران والغيران " . قال ابو عبد الله يعني ابن ماجه سمعت ابا زرعة يقول هذا حديث علي بن محمد الطنافسي وفاتني منه
Metadata
- Edition
- سنن ابن ماجہ
- Book
- Legal Punishments
- Hadith Index
- #2606
- Book Index
- 74
Grades
- Al-AlbaniDaif
- Muhammad Fouad Abd al-BaqiDaif
- Shuaib Al ArnautDaif
- Zubair Ali ZaiDaif
