Loading...

Loading...
کتب
۴۶۲ احادیث
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ جمیلہ بنت سلول رضی اللہ عنہا نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر عرض کیا: اللہ کی قسم میں ( اپنے شوہر ) ثابت پر کسی دینی و اخلاقی خرابی سے غصہ نہیں کر رہی ہوں، لیکن میں مسلمان ہو کر کفر ( شوہر کی ناشکری ) کو ناپسند کرتی ہوں، میں ان کے ساتھ نہیں رہ پاؤں گی کیونکہ شکل و صورت سے وہ مجھے ناپسند ہیں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: کیا ان کا دیا ہوا باغ واپس لوٹا دو گی ؟ انہوں نے کہا: ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ثابت کو حکم دیا کہ اپنی بیوی جمیلہ سے اپنا باغ لے لیں، اور زیادہ نہ لیں ۱؎۔
حدثنا ازهر بن مروان، حدثنا عبد الاعلى بن عبد الاعلى، حدثنا سعيد بن ابي عروبة، عن قتادة، عن عكرمة، عن ابن عباس، ان جميلة بنت سلول، اتت النبي صلى الله عليه وسلم فقالت والله ما اعتب على ثابت في دين ولا خلق . ولكني اكره الكفر في الاسلام لا اطيقه بغضا . فقال لها النبي صلى الله عليه وسلم " اتردين عليه حديقته " . قالت نعم . فامره رسول الله صلى الله عليه وسلم ان ياخذ منها حديقته ولا يزداد
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ حبیبہ بنت سہل رضی اللہ عنہا ثابت بن قیس بن شماس رضی اللہ عنہما کے نکاح میں تھیں، وہ ناٹے اور بدصورت آدمی تھے، حبیبہ رضی اللہ عنہا نے کہا: اللہ کے رسول! اللہ کی قسم! اگر اللہ کا ڈر نہ ہوتا تو ثابت جب میرے پاس آئے تو میں ان کے منہ پر تھوک دیتی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم ان کا باغ واپس لوٹا دو گی ؟ کہا: ہاں، اور ان کا باغ انہیں واپس دے دیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں کے درمیان جدائی کرا دی۔
حدثنا ابو كريب، حدثنا ابو خالد الاحمر، عن حجاج، عن عمرو بن شعيب، عن ابيه، عن جده، قال كانت حبيبة بنت سهل تحت ثابت بن قيس بن شماس وكان رجلا دميما . فقالت يا رسول الله والله لولا مخافة الله اذا دخل على لبصقت في وجهه فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اتردين عليه حديقته " . قالت نعم . قال فردت عليه حديقته . قال ففرق بينهما رسول الله صلى الله عليه وسلم
عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے ربیع بنت معوذ بن عفراء رضی اللہ عنہا سے کہا: تم مجھ سے اپنا واقعہ بیان کرو، انہوں نے کہا: میں نے اپنے شوہر سے خلع کرا لیا، پھر میں نے عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس آ کر پوچھا: مجھ پر کتنی عدت ہے؟ انہوں نے کہا: تم پر کوئی عدت نہیں مگر یہ کہ تمہارے شوہر نے حال ہی میں تم سے صحبت کی ہو، تو تم اس کے پاس رکی رہو یہاں تک کہ تمہیں ایک حیض آ جائے، ربیع رضی اللہ عنہا نے کہا: عثمان رضی اللہ عنہ نے اس سلسلے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فیصلہ کی پیروی کی، جو آپ نے بنی مغالہ کی خاتون مریم رضی اللہ عنہا کے سلسلے میں کیا تھا، جو ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ کی زوجیت میں تھیں اور ان سے خلع کر لیا تھا ۱؎۔
حدثنا علي بن سلمة النيسابوري، حدثنا يعقوب بن ابراهيم بن سعد، حدثنا ابي، عن ابن اسحاق، اخبرني عبادة بن الوليد بن عبادة بن الصامت، عن الربيع بنت معوذ ابن عفراء، قال قلت لها حدثيني حديثك، . قالت اختلعت من زوجي ثم جيت عثمان . فسالت ماذا على من العدة فقال لا عدة عليك الا ان يكون حديث عهد بك فتمكثين عنده حتى تحيضين حيضة . قالت وانما تبع في ذلك قضاء رسول الله صلى الله عليه وسلم في مريم المغالية . وكانت تحت ثابت بن قيس فاختلعت منه
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قسم کھائی کہ ایک ماہ تک اپنی بیویوں کے پاس نہیں جائیں گے، آپ ۲۹ دن تک رکے رہے، جب تیسویں دن کی شام ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس آئے، میں نے کہا: آپ نے تو ایک ماہ تک ہمارے پاس نہ آنے کی قسم کھائی تھی؟! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مہینہ اس طرح ہوتا ہے آپ نے دونوں ہاتھوں کی ساری انگلیوں کو کھلا رکھ کر تین بار فرمایا، اس طرح کل تیس دن ہوئے، پھر فرمایا: اور مہینہ اس طرح بھی ہوتا ہے اس بار دو دفعہ ساری انگلیوں کو کھلا رکھا، تیسری بار میں ایک انگلی بند کر لی۔
حدثنا هشام بن عمار، حدثنا عبد الرحمن بن ابي الرجال، عن ابيه، عن عمرة، عن عايشة، قالت اقسم رسول الله صلى الله عليه وسلم ان لا يدخل على نسايه شهرا فمكث تسعة وعشرين يوما حتى اذا كان مساء ثلاثين دخل على فقلت انك اقسمت ان لا تدخل علينا شهرا . فقال " شهر هكذا " . يرسل اصابعه فيها ثلاث مرات " وشهر هكذا " . وارسل اصابعه كلها وامسك اصبعا واحدا في الثالثة
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایلاء کیا، اس لیے کہ ام المؤمنین زینب رضی اللہ عنہا نے آپ کا بھیجا ہوا ہدیہ واپس کر دیا تھا، ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: زینب نے آپ کی بےقدری کی ہے، یہ سن کر آپ غصہ ہوئے اور ان سب سے ایلاء کر لیا ۱؎۔
حدثنا سويد بن سعيد، حدثنا يحيى بن زكريا بن ابي زايدة، عن حارثة بن محمد، عن عمرة، عن عايشة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم انما الى لان زينب ردت عليه هديته . فقالت عايشة لقد اقماتك . فغضب صلى الله عليه وسلم فالى منهن
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بعض بیویوں سے ایک ماہ کا ایلاء کیا، جب ۲۹ دن ہو گئے تو آپ صبح کو یا شام کو بیویوں کے پاس تشریف لے گئے، عرض کیا گیا: اللہ کے رسول! ابھی تو ۲۹ ہی دن ہوئے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مہینہ ۲۹ کا بھی ہوتا ہے ۔
حدثنا احمد بن يوسف السلمي، حدثنا ابو عاصم، عن ابن جريج، عن يحيى بن عبد الله بن محمد بن صيفي، عن عكرمة بن عبد الرحمن، عن ام سلمة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم الى من بعض نسايه شهرا فلما كان تسعة وعشرين راح او غدا . فقيل يا رسول الله انما مضى تسع وعشرون . فقال " الشهر تسع وعشرون
سلمہ بن صخر بیاضی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں ایک ایسا آدمی تھا جسے عورتوں کی بڑی چاہت رہتی تھی، میں کسی مرد کو نہیں جانتا جو عورت سے اتنی صحبت کرتا ہو جتنی میں کرتا تھا، جب رمضان آیا تو میں نے اپنی بیوی سے رمضان گزرنے تک ظہار کر لیا، ایک رات وہ مجھ سے باتیں کر رہی تھی کہ اس کا کچھ بدن کھل گیا، میں اس پہ چڑھ بیٹھا، اور اس سے مباشرت کر لی، جب صبح ہوئی تو میں اپنے لوگوں کے پاس گیا، اور ان سے اپنا قصہ بیان کیا، میں نے ان سے کہا: تم لوگ میرے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مسئلہ پوچھو، تو انہوں نے کہا: ہم نہیں پوچھیں گے، ایسا نہ ہو کہ ہماری شان میں وحی اترے، یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم لوگوں کے سلسلے میں کچھ فرما دیں، اور اس کا عار ہمیشہ کے لیے باقی رہے لیکن اب یہ کام ہم تمہارے ہی سپرد کرتے ہیں، اب تم خود ہی جاؤ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنا حال بیان کرو۔ سلمہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں خود ہی چلا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر آپ سے واقعہ بیان کیا، آپ نے فرمایا: تم نے یہ کام کیا ہے ؟ میں نے عرض کیا: ہاں، اے اللہ کے رسول! میں حاضر ہوں اور اپنے بارے میں اللہ کے حکم پر صابر ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم ایک غلام آزاد کرو ، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! قسم ہے اس ذات کی جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے، میں تو صرف اپنی جان کا مالک ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم لگاتار دو ماہ کے روزے رکھو، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول یہ بلا جو میرے اوپر آئی ہے روزے ہی کہ وجہ سے تو آئی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو صدقہ دو، یا ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلاؤ ، میں نے کہا: قسم ہے اس ذات کی جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے ہم نے یہ رات اس حالت میں گزاری ہے کہ ہمارے پاس رات کا کھانا نہ تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بنی زریق کا صدقہ وصول کرنے والے کے پاس جاؤ، اور اس سے کہو کہ وہ تمہیں کچھ مال دیدے، اور اس میں سے ساٹھ مسکینوں کو کھلاؤ اور جو بچے اپنے کام میں لے لو ۱؎۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا عبد الله بن نمير، حدثنا محمد بن اسحاق، عن محمد بن عمرو بن عطاء، عن سليمان بن يسار، عن سلمة بن صخر البياضي، قال كنت امرا استكثر من النساء لا ارى رجلا كان يصيب من ذلك ما اصيب فلما دخل رمضان ظاهرت من امراتي حتى ينسلخ رمضان فبينما هي تحدثني ذات ليلة انكشف لي منها شىء فوثبت عليها فواقعتها فلما اصبحت غدوت على قومي فاخبرتهم خبري وقلت لهم سلوا لي رسول الله صلى الله عليه وسلم . فقالوا ما كنا لنفعل اذا ينزل الله فينا كتابا او يكون فينا من رسول الله صلى الله عليه وسلم قول فيبقى علينا عاره ولكن سوف نسلمك لجريرتك اذهب انت فاذكر شانك لرسول الله صلى الله عليه وسلم . قال فخرجت حتى جيته فاخبرته الخبر فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " انت بذاك " . فقلت انا بذاك وها انا يا رسول الله صابر لحكم الله على . قال " فاعتق رقبة " . قال قلت والذي بعثك بالحق ما اصبحت املك الا رقبتي هذه . قال " فصم شهرين متتابعين " . قال قلت يا رسول الله وهل دخل على ما دخل من البلاء الا بالصوم قال " فتصدق واطعم ستين مسكينا " . قال قلت والذي بعثك بالحق لقد بتنا ليلتنا هذه ما لنا عشاء . قال " فاذهب الى صاحب صدقة بني زريق فقل له فليدفعها اليك واطعم ستين مسكينا وانتفع ببقيتها
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا بابرکت ہے وہ ذات جو ہر چیز کو سنتی ہے، میں خولہ بنت ثعلبہ رضی اللہ عنہا کی بات سن رہی تھی، کچھ باتیں سمجھ میں نہیں آ رہی تھیں، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنے شوہر کی شکایت کر رہی تھیں کہ میرا شوہر میری جوانی کھا گیا، میں اس کی اولاد جنتی رہی، جب میں بوڑھی ہو گئی اور ولادت کا سلسلہ منقطع ہو گیا، تو اس نے مجھ سے ظہار کر لیا، اے اللہ! میں تجھ ہی سے شکوہ کرتی ہوں، وہ ابھی وہاں سے ہٹی بھی نہیں تھیں کہ جبرائیل علیہ السلام یہ آیتیں لے کر اترے: «قد سمع الله قول التي تجادلك في زوجها وتشتكي إلى الله» ( سورة المجادلة: 1 ) اللہ نے اس عورت کی بات سن لی جو تجھ سے اپنے شوہر کے بارے میں جھگڑ رہی تھی اور اللہ سے شکوہ کر رہی تھی ۱؎۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا محمد بن ابي عبيدة، حدثنا ابي، عن الاعمش، عن تميم بن سلمة، عن عروة بن الزبير، قال قالت عايشة تبارك الذي وسع سمعه كل شىء . اني لاسمع كلام خولة بنت ثعلبة ويخفى على بعضه وهي تشتكي زوجها الى رسول الله صلى الله عليه وسلم وهي تقول يا رسول الله اكل شبابي ونثرت له بطني حتى اذا كبرت سني وانقطع ولدي ظاهر مني اللهم اني اشكو اليك . فما برحت حتى نزل جبراييل بهولاء الايات {قد سمع الله قول التي تجادلك في زوجها وتشتكي الى الله}
سلمہ بن صخر بیاضی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہار کرنے والے شخص کے متعلق جو کفارہ کی ادائیگی سے پہلے جماع کر لے فرمایا: اس پر ایک ہی کفارہ ہے ۔
حدثنا عبد الله بن سعيد، حدثنا عبد الله بن ادريس، عن محمد بن اسحاق، عن محمد بن عمرو بن عطاء، عن سليمان بن يسار، عن سلمة بن صخر البياضي، عن النبي صلى الله عليه وسلم في المظاهر يواقع قبل ان يكفر قال " كفارة واحدة
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک شخص نے اپنی بیوی سے ظہار کیا، اور کفارہ کی ادائیگی سے قبل ہی جماع کر لیا، چنانچہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، اور آپ سے اس کا ذکر کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: تم نے ایسا کیوں کیا ؟ وہ بولا: اللہ کے رسول! میں نے اس کے پازیب کی سفیدی چاندنی رات میں دیکھی، میں بے اختیار ہو گیا، اور اس سے جماع کر بیٹھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسکرائے، اور اسے حکم دیا کہ کفارہ کی ادائیگی سے پہلے اس کے قریب نہ جائے۔
حدثنا العباس بن يزيد، قال حدثنا غندر، حدثنا معمر، عن الحكم بن ابان، عن عكرمة، عن ابن عباس، ان رجلا، ظاهر من امراته فغشيها قبل ان يكفر فاتى النبي صلى الله عليه وسلم فذكر ذلك له فقال " ما حملك على ذلك " . فقال يا رسول الله رايت بياض حجليها في القمر فلم املك نفسي ان وقعت عليها . فضحك رسول الله صلى الله عليه وسلم وامره الا يقربها حتى يكفر
سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ عویمر عجلانی ( رضی اللہ عنہ ) عاصم بن عدی ( رضی اللہ عنہ ) کے پاس آئے، اور کہنے لگے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے میرے لیے یہ مسئلہ پوچھو کہ اگر کوئی مرد اپنی عورت کے ساتھ کسی اجنبی مرد کو ( زنا ) کرتے ہوئے پائے پھر اس کو قتل کر دے تو کیا اس کے بدلے اسے بھی قتل کر دیا جائے گا یا وہ کیا کرے؟ عاصم ( رضی اللہ عنہ ) نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے متعلق پوچھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسے سوالات برے لگے ۱؎، پھر عویمر ( رضی اللہ عنہ ) عاصم ( رضی اللہ عنہ ) سے ملے اور پوچھا: تم نے کیا کیا؟ عاصم رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے کیا جو کیا یعنی پوچھا لیکن تم سے مجھے کوئی بھلائی نہیں پہنچی، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا تو آپ نے اس طرح کے سوالوں کو برا جانا، عویمر رضی اللہ عنہ کہنے لگے: اللہ کی قسم میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس خود جاؤں گا اور آپ سے پوچھوں گا، چنانچہ وہ خود آپ کے پاس آئے تو دیکھا کہ ان دونوں کے بارے میں وحی اتر چکی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں کے درمیان لعان کرا دیا، عویمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کے رسول! اب اگر اس عورت کو میں ساتھ لے جاؤں تو گویا میں نے اس پر تہمت لگائی چنانچہ انہوں نے اس کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے پہلے ہی چھوڑ دیا، پھر لعان کرنے والوں کے بارے میں یہ دستور ہو گیا۔ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دیکھو اگر عویمر کی عورت کالے رنگ کا، کالی آنکھوں والا، بڑی سرین والا بچہ جنے تو میں سمجھتا ہوں کہ عویمر سچے ہیں، اور اگر سرخ رنگ کا بچہ جنے جیسے وحرہ ( سرخ کیڑا ہوتا ہے ) تو میں سمجھتا ہوں وہ جھوٹے ہیں ۔ راوی کہتے ہیں کہ پھر اس عورت کا بچہ بری شکل پہ پیدا ہوا۔
حدثنا ابو مروان، محمد بن عثمان العثماني حدثنا ابراهيم بن سعد، عن ابن شهاب، عن سهل بن سعد الساعدي، قال جاء عويمر الى عاصم بن عدي فقال سل لي رسول الله صلى الله عليه وسلم ارايت رجلا وجد مع امراته رجلا فقتله ايقتل به ام كيف يصنع فسال عاصم رسول الله صلى الله عليه وسلم عن ذلك فعاب رسول الله صلى الله عليه وسلم المسايل . ثم لقيه عويمر فساله فقال ما صنعت فقال صنعت انك لم تاتني بخير سالت رسول الله صلى الله عليه وسلم فعاب المسايل فقال عويمر والله لاتين رسول الله صلى الله عليه وسلم ولاسالنه . فاتى رسول الله صلى الله عليه وسلم فوجده قد انزل عليه فيهما فلاعن بينهما فقال عويمر والله لين انطلقت بها يا رسول الله لقد كذبت عليها . قال ففارقها قبل ان يامره رسول الله صلى الله عليه وسلم فصارت سنة في المتلاعنين ثم قال النبي صلى الله عليه وسلم " انظروها فان جاءت به اسحم ادعج العينين عظيم الاليتين فلا اراه الا قد صدق عليها وان جاءت به احيمر كانه وحرة فلا اراه الا كاذبا " . قال فجاءت به على النعت المكروه
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ہلال بن امیہ رضی اللہ عنہ نے اپنی بیوی پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے شریک بن سحماء کے ساتھ ( بدکاری کا ) الزام لگایا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم گواہ لاؤ ورنہ تمہاری پیٹھ پر کوڑے لگیں گے، ہلال بن امیہ رضی اللہ عنہ نے کہا: قسم ہے اس ذات کی جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے میں بالکل سچا ہوں، اور اللہ تعالیٰ میرے بارے میں کوئی ایسا حکم اتارے گا جس سے میری پیٹھ حد لگنے سے بچ جائے گی، راوی نے کہا: پھر یہ آیت اتری: «والذين يرمون أزواجهم ولم يكن لهم شهداء إلا أنفسهم» جو لوگ اپنی بیویوں کو تہمت لگاتے ہیں اور ان کے پاس اپنے سوا کوئی گواہ نہیں ہوتے… یہاں تک کہ اخیر آیت: «والخامسة أن غضب الله عليها إن كان من الصادقين» ( سورة النور: ۶-۹ ) تک پہنچے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم لوٹے اور ہلال اور ان کی بیوی دونوں کو بلوایا، وہ دونوں آئے، ہلال بن امیہ رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور گواہیاں دیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے: اللہ تعالیٰ جانتا ہے کہ تم میں سے ایک جھوٹا ہے، تو کوئی ہے توبہ کرنے والا ، اس کے بعد ان کی بیوی کھڑی ہوئی اور اس نے گواہی دی، جب پانچویں گواہی کا وقت آیا یعنی یہ کہنے کا کہ عورت پہ اللہ کا غضب نازل ہو اگر مرد سچا ہو تو لوگوں نے عورت سے کہا: یہ گواہی ضرور واجب کر دے گی۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ یہ سن کر وہ عورت جھجکی اور واپس مڑی یہاں تک کہ ہم نے گمان کیا کہ اب وہ اپنی گواہی سے پھر جائے گی، لیکن اس نے کہا: اللہ کی قسم! میں تو اپنے گھر والوں کو زندگی بھر کے لیے رسوا اور ذلیل نہیں کروں گی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دیکھو اگر اس عورت کو کالی آنکھوں والا، بھری سرین والا، موٹی پنڈلیوں والا بچہ پیدا ہو، تو وہ شریک بن سحماء کا ہے ، بالآخر اسی شکل کا لڑکا پیدا ہوا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر اللہ کی کتاب کا فیصلہ جو ہو چکا نہ ہوا ہوتا تو میں اس عورت کے ساتھ ضرور کچھ سزا کا معاملہ کرتا ۱؎۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا ابن ابي عدي، قال انبانا هشام بن حسان، حدثنا عكرمة، عن ابن عباس، ان هلال بن امية، قذف امراته عند النبي صلى الله عليه وسلم بشريك بن سحماء فقال النبي صلى الله عليه وسلم " البينة او حد في ظهرك " . فقال هلال بن امية والذي بعثك بالحق اني لصادق ولينزلن الله في امري ما يبري ظهري . قال فنزلت {والذين يرمون ازواجهم ولم يكن لهم شهداء الا انفسهم} . حتى بلغ {والخامسة ان غضب الله عليها ان كان من الصادقين} . فانصرف النبي صلى الله عليه وسلم فارسل اليهما فجاءا فقام هلال بن امية فشهد والنبي صلى الله عليه وسلم يقول " ان الله يعلم ان احدكما كاذب فهل من تايب " . ثم قامت فشهدت فلما كان عند الخامسة {ان غضب الله عليها ان كان من الصادقين} . قالوا لها انها الموجبة . قال ابن عباس فتلكات ونكصت حتى ظننا انها سترجع فقالت والله لا افضح قومي ساير اليوم . فقال النبي صلى الله عليه وسلم " انظروها فان جاءت به اكحل العينين سابغ الاليتين خدلج الساقين فهو لشريك بن سحماء " . فجاءت به كذلك فقال النبي صلى الله عليه وسلم " لولا ما مضى من كتاب الله لكان لي ولها شان
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم جمعہ کی رات کو مسجد میں تھے کہ ایک شخص آ کر کہنے لگا اگر کوئی اپنی بیوی کے ساتھ کسی مرد کو پائے، پھر اس کو مار ڈالے، تو تم لوگ اس کو مار ڈالو گے، اور اگر زبان سے کچھ کہے تو تم اسے کوڑے لگاؤ گے، اللہ کی قسم میں تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر ضرور کروں گا، آخر اس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا، تب اللہ تعالیٰ نے لعان کی آیتیں نازل فرمائیں، پھر وہ آیا اور اس نے اپنی بیوی پر زنا کی تہمت لگائی، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں کے درمیان لعان کرایا اور فرمایا: میرا گمان ہے کہ شاید اس عورت کا بچہ کالا ہی پیدا ہو چنانچہ ایسا ہی ہوا، اس کے یہاں کالا گھونگھریالے بال والا بچہ پیدا ہوا۔
حدثنا ابو بكر بن خلاد الباهلي، واسحاق بن ابراهيم بن حبيب، قالا حدثنا عبدة بن سليمان، عن الاعمش، عن ابراهيم، عن علقمة، عن عبد الله، قال كنا في المسجد ليلة الجمعة . فقال رجل لو ان رجلا وجد مع امراته رجلا فقتله قتلتموه وان تكلم جلدتموه والله لاذكرن ذلك للنبي صلى الله عليه وسلم . فذكره للنبي صلى الله عليه وسلم فانزل الله ايات اللعان . ثم جاء الرجل بعد ذلك يقذف امراته فلاعن النبي صلى الله عليه وسلم بينهما وقال " عسى ان تجيء به اسود " . فجاءت به اسود جعدا
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک مرد نے اپنی بیوی سے لعان کیا، اور اس کے بچے کا انکار کر دیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں میں جدائی کرا دی اور بچہ کو ماں کو دیدیا ۱؎۔
حدثنا احمد بن سنان، حدثنا عبد الرحمن بن مهدي، عن مالك بن انس، عن نافع، عن ابن عمر، ان رجلا، لاعن امراته وانتفى من ولدها ففرق رسول الله صلى الله عليه وسلم بينهما والحق الولد بالمراة
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ قبیلہ انصار کے ایک شخص نے قبیلہ بنی عجلان کی ایک عورت سے شادی کی، اور اس کے پاس رات گزاری، جب صبح ہوئی تو کہنے لگا: میں نے اسے کنواری نہیں پایا، آخر دونوں کا مقدمہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تک لے جایا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لڑکی کو بلایا، اور اس سے پوچھا تو اس نے کہا: میں تو کنواری تھی، پھر آپ نے حکم دیا تو دونوں نے لعان کیا، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس عورت کو مہر دلوا دیا۔
حدثنا علي بن سلمة النيسابوري، حدثنا يعقوب بن ابراهيم بن سعد، حدثنا ابي، عن ابن اسحاق، قال ذكر طلحة بن نافع عن سعيد بن جبير، عن ابن عباس، قال تزوج رجل من الانصار امراة من بلعجلان فدخل بها فبات عندها فلما اصبح قال ما وجدتها عذراء فرفع شانها الى النبي صلى الله عليه وسلم فدعا الجارية فسالها فقالت بلى قد كنت عذراء . فامر بهما فتلاعنا واعطاها المهر
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: چار قسم کی عورتوں میں لعان نہیں ہے، ایک تو نصرانیہ جو کسی مسلمان کے نکاح میں ہو، دوسری یہودیہ جو کسی مسلمان کے نکاح میں ہو، تیسری آزاد عورت جو کسی غلام کے نکاح میں ہو، چوتھی لونڈی جو کسی آزاد مرد کے نکاح میں ہو ۱؎۔
حدثنا محمد بن يحيى، حدثنا حيوة بن شريح الحضرمي، عن ضمرة بن ربيعة، عن ابن عطاء، عن ابيه، عن عمرو بن شعيب، عن ابيه، عن جده، ان النبي صلى الله عليه وسلم قال " اربع من النساء لا ملاعنة بينهن النصرانية تحت المسلم واليهودية تحت المسلم والحرة تحت المملوك والمملوكة تحت الحر
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیویوں سے ایلاء کیا، اور اپنے اوپر حلال کو حرام ٹھہرا لیا ۱؎ اور قسم کا کفارہ ادا کیا ۲؎۔
حدثنا الحسن بن قزعة، حدثنا مسلمة بن علقمة، حدثنا داود بن ابي هند، عن عامر، عن مسروق، عن عايشة، قالت الى رسول الله صلى الله عليه وسلم من نسايه وحرم فجعل الحرام حلالا . وجعل في اليمين كفارة
سعید بن جبیر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: حلال کو حرام کرنے میں قسم کا کفارہ ہے، اور ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے تھے:«لقد كان لكم في رسول الله أسوة حسنة» ( سورة الاحزاب: 21 ) تمہارے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں بہترین نمونہ ہے ۔
حدثنا محمد بن يحيى، حدثنا وهب بن جرير، حدثنا هشام الدستوايي، عن يحيى بن ابي كثير، عن يعلى بن حكيم، عن سعيد بن جبير، قال قال ابن عباس في الحرام يمين . وكان ابن عباس يقول لقد كان لكم في رسول الله اسوة حسنة
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ انہوں نے بریرہ رضی اللہ عنہا کو آزاد کر دیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو اختیار دے دیا، ( کہ وہ اپنے شوہر کے پاس رہیں یا اس سے جدا ہو جائیں ) اور ان کے شوہر آزاد تھے ۱؎۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا حفص بن غياث، عن الاعمش، عن ابراهيم، عن الاسود بن يزيد، عن عايشة، انها اعتقت بريرة فخيرها رسول الله صلى الله عليه وسلم وكان لها زوج حر
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ بریرہ رضی اللہ عنہا کا شوہر غلام تھا اس کو مغیث کہا جاتا تھا، گویا کہ میں اس وقت اس کو دیکھ رہا ہوں کہ وہ بریرہ کے پیچھے پھر رہا ہے، اور رو رہا ہے اور اس کے آنسو اس کے گالوں پہ بہہ رہے ہیں، اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم عباس رضی اللہ عنہ سے فرما رہے ہیں: عباس! کیا تمہیں بریرہ سے مغیث کی محبت اور مغیث سے بریرہ کی نفرت پہ تعجب نہیں ہے ؟ چنانچہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بریرہ رضی اللہ عنہا سے کہا: کاش تو مغیث کے پاس لوٹ جاتی، وہ تیرے بچے کا باپ ہے ، اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا آپ مجھے حکم دے رہے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا: نہیں، میں صرف سفارش کر رہا ہوں ، تو وہ بولی: مجھے مغیث کی کوئی ضرورت نہیں۔
حدثنا محمد بن المثنى، ومحمد بن خلاد الباهلي، قالا حدثنا عبد الوهاب الثقفي، حدثنا خالد الحذاء، عن عكرمة، عن ابن عباس، قال كان زوج بريرة عبدا يقال له مغيث كاني انظر اليه يطوف خلفها ويبكي ودموعه تسيل على خده فقال النبي صلى الله عليه وسلم للعباس " يا عباس الا تعجب من حب مغيث بريرة ومن بغض بريرة مغيثا " . فقال لها النبي صلى الله عليه وسلم " لو راجعتيه فانه ابو ولدك " . قالت يا رسول الله تامرني قال " انما اشفع " . قالت لا حاجة لي فيه