Loading...

Loading...
کتب
۴۶۲ احادیث
شعبی کہتے ہیں کہ فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا کا بیان ہے کہ میرے شوہر نے مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں تین طلاقیں دے دیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہارے لیے نہ سکنی ( رہائش ) ہے، نہ نفقہ ( اخراجات ) ۱؎۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا جرير، عن مغيرة، عن الشعبي، قال قالت فاطمة بنت قيس طلقني زوجي على عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم ثلاثا فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لا سكنى لك ولا نفقة
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ جب عمرہ بنت جون رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لائی گئی تو اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ( اللہ کی ) پناہ مانگی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو نے ایسی ہستی کی پناہ مانگی جس کی پناہ مانگی جاتی ہے ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے طلاق دے دی، اور اسامہ رضی اللہ عنہ یا انس رضی اللہ عنہ کو حکم دیا تو انہوں نے اسے سفید کتان کے تین کپڑے دیئے۔
حدثنا احمد بن المقدام ابو الاشعث العجلي، حدثنا عبيد بن القاسم، حدثنا هشام بن عروة، عن ابيه، عن عايشة، ان عمرة بنت الجون، تعوذت من رسول الله صلى الله عليه وسلم حين ادخلت عليه فقال " لقد عذت بمعاذ " . فطلقها وامر اسامة او انسا فمتعها بثلاثة اثواب رازقية
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب عورت دعویٰ کرے کہ اس کے شوہر نے اسے طلاق دے دی ہے، اور طلاق پہ ایک معتبر شخص کو گواہ لائے ( اور اس کا مرد انکار کرے ) تو اس کے شوہر سے قسم لی جائے گی، اگر وہ قسم کھا لے تو گواہ کی گواہی باطل ہو جائے گی، اور اگر قسم کھانے سے انکار کرے تو اس کا انکار دوسرے گواہ کے درجہ میں ہو گا، اور طلاق جائز ہو جائے گی ۔
حدثنا محمد بن يحيى، حدثنا عمرو بن ابي سلمة ابو حفص التنيسي، عن زهير، عن ابن جريج، عن عمرو بن شعيب، عن ابيه، عن جده، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " اذا ادعت المراة طلاق زوجها فجاءت على ذلك بشاهد عدل استحلف زوجها فان حلف بطلت شهادة الشاهد وان نكل فنكوله بمنزلة شاهد اخر وجاز طلاقه
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تین کام ہیں جو سنجیدگی سے کرنا بھی حقیقت ہے، اور مذاق کے طور پر کرنا بھی حقیقت ہے، ایک نکاح، دوسرے طلاق، تیسرے ( طلاق سے ) رجعت ۱؎۔
حدثنا هشام بن عمار، حدثنا حاتم بن اسماعيل، حدثنا عبد الرحمن بن حبيب بن اردك، حدثنا عطاء بن ابي رباح، عن يوسف بن ماهك، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ثلاث جدهن جد وهزلهن جد النكاح والطلاق والرجعة
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے میری امت سے معاف کر دیا ہے جو وہ دل میں سوچتے ہیں جب تک کہ اس پہ عمل نہ کریں، یا اسے زبان سے نہ کہیں ۱؎۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا علي بن مسهر، وعبدة بن سليمان، ح وحدثنا حميد بن مسعدة، حدثنا خالد بن الحارث، جميعا عن سعيد بن ابي عروبة، عن قتادة، عن زرارة بن اوفى، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ان الله تجاوز لامتي عما حدثت به انفسها ما لم تعمل به او تكلم به
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تین افراد سے قلم اٹھا لیا گیا ہے: ایک تو سونے والے سے یہاں تک کہ وہ جاگے، دوسرے نابالغ سے یہاں تک کہ وہ بالغ ہو جائے، تیسرے پاگل اور دیوانے سے یہاں تک کہ وہ عقل و ہوش میں آ جائے ۔ ابوبکر کی روایت میں «وعن المجنون حتى يعقل» کے بجائے «وعن المبتلى حتى يبرأ» دیوانگی میں مبتلا شخص سے یہاں تک کہ وہ اچھا ہو جائے ہے ۱؎۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا يزيد بن هارون، ح وحدثنا محمد بن خالد بن خداش، ومحمد بن يحيى، قالا حدثنا عبد الرحمن بن مهدي، حدثنا حماد بن سلمة، عن حماد، عن ابراهيم، عن الاسود، عن عايشة، . ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " رفع القلم عن ثلاثة عن النايم حتى يستيقظ وعن الصغير حتى يكبر وعن المجنون حتى يعقل او يفيق " . قال ابو بكر في حديثه " وعن المبتلى حتى يبرا
علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بچے، دیوانے اور سوئے ہوئے شخص سے قلم اٹھا لیا جاتا ہے ۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا روح بن عبادة، حدثنا ابن جريج، انبانا القاسم بن يزيد، عن علي بن ابي طالب، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " يرفع القلم عن الصغير وعن المجنون وعن النايم
ابوذرغفاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے میری امت سے بھول چوک، اور جس کام پہ تم مجبور کر دیئے جاؤ معاف کر دیا ہے ۱؎۔
حدثنا ابراهيم بن محمد بن يوسف الفريابي، حدثنا ايوب بن سويد، حدثنا ابو بكر الهذلي، عن شهر بن حوشب، عن ابي ذر الغفاري، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ان الله تجاوز عن امتي الخطا والنسيان وما استكرهوا عليه
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے میری امت سے جو ان کے دلوں میں وسوسے آتے ہیں معاف کر دیا ہے جب تک کہ اس پہ عمل نہ کریں، یا نہ بولیں، اور اسی طرح ان کاموں سے بھی انہیں معاف کر دیا ہے جس پر وہ مجبور کر دیئے جائیں ۱؎۔
حدثنا هشام بن عمار، حدثنا سفيان بن عيينة، عن مسعر، عن قتادة، عن زرارة بن اوفى، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ان الله تجاوز لامتي عما توسوس به صدورها . ما لم تعمل به او تتكلم به وما استكرهوا عليه
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بیشک اللہ نے میری امت سے بھول چوک اور زبردستی کرائے گئے کام معاف کر دیئے ہیں ۔
حدثنا محمد بن المصفى الحمصي، حدثنا الوليد بن مسلم، حدثنا الاوزاعي، عن عطاء، عن ابن عباس، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " ان الله وضع عن امتي الخطا والنسيان وما استكرهوا عليه
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: زبردستی کی صورت میں نہ طلاق واقع ہوتی ہے اور نہ عتاق ( غلامی سے آزادی ) ۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا عبد الله بن نمير، عن محمد بن اسحاق، عن ثور، عن عبيد بن ابي صالح، عن صفية بنت شيبة، قالت حدثتني عايشة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " لا طلاق ولا عتاق في اغلاق
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آدمی جس عورت کا بطور نکاح مالک نہیں اس کی طلاق کا کوئی اعتبار نہیں ہے ۱؎۔
حدثنا ابو كريب، حدثنا هشيم، انبانا عامر الاحول، ح وحدثنا ابو كريب، حدثنا حاتم بن اسماعيل، عن عبد الرحمن بن الحارث، جميعا عن عمرو بن شعيب، عن ابيه، عن جده، . ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " لا طلاق فيما لا يملك
مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نکاح سے پہلے طلاق نہیں، اور ملکیت سے پہلے آزادی نہیں ۔
حدثنا احمد بن سعيد الدارمي، حدثنا علي بن الحسين بن واقد، حدثنا هشام بن سعد، عن الزهري، عن عروة، عن المسور بن مخرمة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " لا طلاق قبل نكاح ولا عتق قبل ملك
علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نکاح سے پہلے طلاق نہیں ۔
حدثنا محمد بن يحيى، حدثنا عبد الرزاق، انبانا معمر، عن جويبر، عن الضحاك، عن النزال بن سبرة، عن علي بن ابي طالب، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " لا طلاق قبل النكاح
اوزاعی کہتے ہیں میں نے زہری سے پوچھا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی کون سی بیوی نے آپ سے اللہ کی پناہ مانگی تو انہوں نے کہا: مجھے عروہ نے خبر دی کی عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: جَون کی بیٹی جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خلوت میں آئی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے قریب گئے تو بولی: میں آپ سے اللہ کی پناہ مانگتی ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم نے ایک بڑی ہستی کی پناہ مانگی ہے تم اپنے گھر والوں کے پاس چلی جاؤ ۱؎۔
حدثنا عبد الرحمن بن ابراهيم الدمشقي، حدثنا الوليد بن مسلم، حدثنا الاوزاعي، قال سالت الزهري اى ازواج النبي صلى الله عليه وسلم استعاذت منه فقال اخبرني عروة عن عايشة ان ابنة الجون لما دخلت على رسول الله صلى الله عليه وسلم فدنا منها قالت اعوذ بالله منك . فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " عذت بعظيم . الحقي باهلك
رکانہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ انہوں نے اپنی بیوی کو طلاق بتہ ( قطعی طلاق ) دے دی، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تو آپ نے ان سے پوچھا: تم نے اس سے کیا مراد لی ہے ؟ انہوں نے کہا: ایک ہی مراد لی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: قسم اللہ کی کیا تم نے اس سے ایک ہی مراد لی ہے ؟، انہوں نے کہا: قسم اللہ کی میں نے اس سے صرف ایک ہی مراد لی ہے، تب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی بیوی انہیں واپس لوٹا دی ۱؎۔ محمد بن ماجہ کہتے ہیں: میں نے محمد بن حسن بن علی طنافسی کو کہتے سنا: یہ حدیث کتنی عمدہ ہے۔ ابن ماجہ کہتے ہیں: ابوعبیدہ نے یہ حدیث ایک گوشے میں ڈال دی ہے، اور احمد اسے روایت کرنے کی ہمت نہیں کر سکے ہیں۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، وعلي بن محمد، قالا حدثنا وكيع، عن جرير بن حازم، عن الزبير بن سعيد، عن عبد الله بن علي بن يزيد بن ركانة، عن ابيه، عن جده، انه طلق امراته البتة فاتى رسول الله صلى الله عليه وسلم فساله فقال " ما اردت بها " . قال واحدة . قال " الله ما اردت بها الا واحدة قال الله ما اردت بها الا واحدة . قال فردها عليه . قال محمد بن ماجه سمعت ابا الحسن علي بن محمد الطنافسي يقول ما اشرف هذا الحديث . قال ابن ماجه ابو عبيد تركه ناحية واحمد جبن عنه
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم کو اختیار دیا تو ہم نے آپ ہی کو اختیار کیا، پھر آپ نے اس کو کچھ نہیں سمجھا ۱؎۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا ابو معاوية، عن الاعمش، عن مسلم، عن مسروق، عن عايشة، قالت خيرنا رسول الله صلى الله عليه وسلم فاخترناه . فلم نره شييا
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ جب آیت: «وإن كنتن تردن الله ورسوله» اتری تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے پاس آ کر فرمایا: عائشہ! میں تم سے ایک بات کہنے والا ہوں، تم اس میں جب تک اپنے ماں باپ سے مشورہ نہ کر لینا جلد بازی نہ کرنا ، عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: اللہ کی قسم! آپ خوب جانتے تھے کہ میرے ماں باپ کبھی بھی آپ کو چھوڑ دینے کے لیے نہیں کہیں گے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ پر یہ آیت پڑھی: «يا أيها النبي قل لأزواجك إن كنتن تردن الحياة الدنيا وزينتها» ( سورة الأحزاب: 28 ) اے نبی! اپنی بیویوں سے کہہ دیجئیے کہ اگر تم دنیا کی زندگی اور اس کی آرائش و زیبائش پسند کرتی ہو تو آؤ میں تم کو کچھ دے کر اچھی طرح رخصت کر دوں، اور اگر تم اللہ اور اس کے رسول اور یوم آخرت کو چاہتی ہو تو تم میں سے جو نیک ہیں اللہ نے ان کے لیے بڑا ثواب تیار کر رکھا ہے … ( یہ سن کر ) میں بولی: کیا میں اس میں اپنے ماں باپ سے مشورہ لینے جاؤں گی! میں اللہ اور اس کے رسول کو اختیار کر چکی ہوں ۱؎۔
حدثنا محمد بن يحيى، حدثنا عبد الرزاق، انبانا معمر، عن الزهري، عن عروة، عن عايشة، قالت لما نزلت {وان كنتن تردن الله ورسوله} دخل على رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال " يا عايشة اني ذاكر لك امرا فلا عليك ان لا تعجلي فيه حتى تستامري ابويك قالت قد علم والله ان ابوى لم يكونا ليامراني بفراقه . قالت فقرا على {يا ايها النبي قل لازواجك ان كنتن تردن الحياة الدنيا وزينتها } . الايات . فقلت في هذا استامر ابوى قد اخترت الله ورسوله
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عورت بغیر کسی حقیقی وجہ اور واقعی سبب کے اپنے شوہر سے طلاق کا مطالبہ نہ کرے تاکہ وہ جنت کی خوشبو پا سکے، جب کہ جنت کی خوشبو چالیس سال کی مسافت سے پائی جاتی ہے ۱؎۔
حدثنا بكر بن خلف ابو بشر، حدثنا ابو عاصم، عن جعفر بن يحيى بن ثوبان، عن عمه، عمارة بن ثوبان عن عطاء، عن ابن عباس، ان النبي صلى الله عليه وسلم قال " لا تسال المراة زوجها الطلاق في غير كنهه فتجد ريح الجنة . وان ريحها ليوجد من مسيرة اربعين عاما
ثوبان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس کسی عورت نے اپنے شوہر سے بغیر کسی ایسی تکلیف کے جو طلاق لینے پر مجبور کرے طلاق کا مطالبہ کیا، تو اس پہ جنت کی خوشبو حرام ہے ۔
حدثنا احمد بن الازهر، حدثنا محمد بن الفضل، عن حماد بن زيد، عن ايوب، عن ابي قلابة، عن ابي اسماء، عن ثوبان، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ايما امراة سالت زوجها الطلاق في غير ما باس فحرام عليها رايحة الجنة