Loading...

Loading...
کتب
۴۶۲ احادیث
عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ام المؤمنین حفصہ رضی اللہ عنہا کو طلاق دے دی پھر رجوع کر لیا۔
حدثنا سويد بن سعيد، وعبد الله بن عامر بن زرارة، ومسروق بن المرزبان، قالوا حدثنا يحيى بن زكريا بن ابي زايدة، عن صالح بن صالح بن حى، عن سلمة بن كهيل، عن سعيد بن جبير، عن ابن عباس، عن عمر بن الخطاب، . ان رسول الله صلى الله عليه وسلم طلق حفصة ثم راجعها
ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ان لوگوں کا کیا حال ہے جو اللہ کے حدود سے کھیل کرتے ہیں، ان میں سے ایک اپنی بیوی سے کہتا ہے: میں نے تجھے طلاق دے دی پھر تجھ سے رجعت کر لی، پھر تجھے طلاق دے دی ۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا مومل، حدثنا سفيان، عن ابي اسحاق، عن ابي بردة، عن ابي موسى، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ما بال اقوام يلعبون بحدود الله يقول احدهم قد طلقتك قد راجعتك . قد طلقتك
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: حلال چیزوں میں اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ ناپسندیدہ اور مبغوض چیز طلاق ہے ۔
حدثنا كثير بن عبيد الحمصي، حدثنا محمد بن خالد، عن عبيد الله بن الوليد الوصافي، عن محارب بن دثار، عن عبد الله بن عمر، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ابغض الحلال الى الله الطلاق
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے اپنی بیوی کو حیض کی حالت میں طلاق دے دی، عمر رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: انہیں حکم دو کہ اپنی بیوی سے رجوع کر لیں یہاں تک کہ وہ عورت حیض سے پاک ہو جائے پھر اسے حیض آئے، اور اس سے بھی پاک ہو جائے، پھر ابن عمر اگر چاہیں تو جماع سے پہلے اسے طلاق دے دیں، اور اگر چاہیں تو روکے رکھیں یہی عورتوں کی عدت ہے جس کا اللہ نے حکم دیا ہے ۱؎۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا عبد الله بن ادريس، عن عبيد الله، عن نافع، عن ابن عمر، قال طلقت امراتي وهي حايض فذكر ذلك عمر لرسول الله صلى الله عليه وسلم فقال " مره فليراجعها حتى تطهر ثم تحيض ثم تطهر ثم ان شاء طلقها قبل ان يجامعها وان شاء امسكها فانها العدة التي امر الله
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ طلاق سنی یہ ہے کہ عورت کو اس طہر میں ایک طلاق دے جس میں اس سے جماع نہ کیا ہو ۱؎۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا يحيى بن سعيد، عن سفيان، عن ابي اسحاق، عن ابي الاحوص، عن عبد الله، قال طلاق السنة ان يطلقها طاهرا من غير جماع
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں طلاق سنی یہ ہے کہ عورت کو ہر طہر میں ایک طلاق دے، جب تیسری بار پاک ہو تو آخری طلاق دیدے، اور اس کے بعد عدت ایک حیض ہو گی ۱؎۔
حدثنا علي بن ميمون الرقي، حدثنا حفص بن غياث، عن الاعمش، عن ابي اسحاق، عن ابي الاحوص، عن عبد الله، قال طلاق السنة يطلقها عند كل طهر تطليقة فاذا طهرت الثالثة طلقها وعليها بعد ذلك حيضة
ابو غلاب یونس بن جبیر کہتے ہیں کہ میں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے اس شخص کے بارے میں پوچھا جس نے اپنی بیوی کو حیض کی حالت میں طلاق دے دی تو انہوں نے کہا: کیا تم عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو پہچانتے ہو؟ انہوں نے اپنی بیوی کو حیض کی حالت میں طلاق دے دی تھی تو عمر رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حکم دیا تھا کہ ابن عمر رجوع کر لیں، میں نے پوچھا: کیا اس طلاق کا شمار ہو گا؟ انہوں نے کہا: تم کیا سمجھتے ہو، اگر وہ عاجز ہو جائے یا دیوانہ ہو جائے ( تو کیا وہ شمار نہ ہو گی یعنی ضرور ہو گی ) ۔
حدثنا نصر بن علي الجهضمي، حدثنا عبد الاعلى، حدثنا هشام، عن محمد، عن يونس بن جبير ابي غلاب، قال سالت ابن عمر عن رجل، طلق امراته وهي حايض فقال تعرف عبد الله بن عمر طلق امراته وهي حايض فاتى عمر النبي صلى الله عليه وسلم فامره ان يراجعها . قلت ايعتد بتلك قال ارايت ان عجز واستحمق
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے اپنی بیوی کو حیض کی حالت میں طلاق دے دی، تو عمر رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: انہیں حکم دو کہ رجوع کر لیں، پھر طہر کی یا حمل کی حالت میں طلاق دیں ۱؎۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، وعلي بن محمد، قالا حدثنا وكيع، عن سفيان، عن محمد بن عبد الرحمن، مولى ال طلحة عن سالم، عن ابن عمر، انه طلق امراته وهي حايض فذكر ذلك عمر للنبي صلى الله عليه وسلم فقال " مره فليراجعها ثم ليطلقها وهي طاهر او حامل
عامر شعبی کہتے ہیں کہ میں نے فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا سے کہا: آپ مجھ سے اپنی طلاق کے بارے میں بیان کریں، تو انہوں نے کہا: میرے شوہر نے یمن کے سفر پر نکلتے وقت مجھے تین طلاق دی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو جائز رکھا ۱؎۔
حدثنا محمد بن رمح، انبانا الليث بن سعد، عن اسحاق بن ابي فروة، عن ابي الزناد، عن عامر الشعبي، قال قلت لفاطمة بنت قيس حدثيني عن طلاقك، . قالت طلقني زوجي ثلاثا وهو خارج الى اليمن فاجاز ذلك رسول الله صلى الله عليه وسلم
مطرف بن عبداللہ بن شخیر سے روایت ہے کہ عمران بن حصین رضی اللہ عنہما سے اس شخص کے بارے میں پوچھا گیا جو اپنی بیوی کو طلاق دیدے پھر اس سے جماع کرے، اور اپنی طلاق اور رجعت پہ کسی کو گواہ نہ بنائے؟ تو عمران رضی اللہ عنہ نے کہا: تم نے سنت کے خلاف طلاق دی، اور سنت کے خلاف رجعت کی، اپنی طلاق اور رجعت پہ گواہ بناؤ ۱؎۔
حدثنا بشر بن هلال الصواف، حدثنا جعفر بن سليمان الضبعي، عن يزيد الرشك، عن مطرف بن عبد الله بن الشخير، ان عمران بن الحصين، سيل عن رجل، يطلق امراته ثم يقع بها ولم يشهد على طلاقها ولا على رجعتها . فقال عمران طلقت بغير سنة وراجعت بغير سنة اشهد على طلاقها وعلى رجعتها
زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ان کی زوجیت میں ام کلثوم بنت عقبہ تھیں، انہوں نے حمل کی حالت میں زبیر رضی اللہ عنہ سے کہا: مجھے ایک طلاق دے کر میرا دل خوش کر دو، لہٰذا انہوں نے ایک طلاق دے دی، پھر وہ نماز کے لیے نکلے جب واپس آئے تو وہ بچہ جن چکی تھیں تو زبیر رضی اللہ عنہ نے کہا: اسے کیا ہو گیا؟ اس نے مجھ سے مکر کیا ہے، اللہ اس سے مکر کرے، پھر وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کتاب کی میعاد گزر گئی ( اب رجوع کا اختیار نہیں رہا ) لیکن اسے نکاح کا پیغام دے دو ۱؎۔
حدثنا محمد بن عمر بن هياج، حدثنا قبيصة بن عقبة، حدثنا سفيان، عن عمرو بن ميمون، عن ابيه، عن الزبير بن العوام، انه كانت عنده ام كلثوم بنت عقبة فقالت له وهي حامل طيب نفسي بتطليقة . فطلقها تطليقة ثم خرج الى الصلاة فرجع وقد وضعت . فقال مالها خدعتني خدعها الله ثم اتى النبي صلى الله عليه وسلم فقال " سبق الكتاب اجله اخطبها الى نفسها
ابوسنابل کہتے ہیں کہ سبیعہ اسلمیہ بنت حارث رضی اللہ عنہا نے اپنے شوہر کی وفات کے بیس سے کچھ زائد دنوں بعد بچہ جنا، جب وہ نفاس سے پاک ہو گئیں تو شادی کی خواہشمند ہوئیں، تو یہ معیوب سمجھا گیا، اور اس کی خبر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دی گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر چاہے تو وہ ایسا کر سکتی ہے کیونکہ اس کی عدت گزر گئی ہے ۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا ابو الاحوص، عن منصور، عن ابراهيم، عن الاسود، عن ابي السنابل، قال وضعت سبيعة الاسلمية بنت الحارث حملها بعد وفاة زوجها ببضع وعشرين ليلة فلما تعلت من نفاسها تشوفت فعيب ذلك عليها وذكر امرها للنبي صلى الله عليه وسلم فقال " ان تفعل فقد مضى اجلها
مسروق اور عمرو بن عتبہ سے روایت ہے کہ ان دونوں نے سبیعہ بنت حارث رضی اللہ عنہا کو خط لکھا، وہ ان سے پوچھ رہے تھے کہ ان کا کیا معاملہ تھا؟ سبیعہ رضی اللہ عنہا نے ان کو جواب لکھا کہ ان کے شوہر کی وفات کے پچیس دن بعد ان کے یہاں بچہ پیدا ہوا، پھر وہ خیر یعنی شوہر کی تلاش میں متحرک ہوئیں، تو ان کے پاس ابوسنابل بن بعکک گزرے تو انہوں نے کہا کہ تم نے جلدی کر دی، دونوں میعادوں میں سے آخری میعاد چار ماہ دس دن عدت گزارو، یہ سن کر میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی، اور عرض کیا: اللہ کے رسول! میرے لیے دعائے مغفرت کر دیجئیے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ کس لیے ؟ میں نے صورت حال بتائی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر کوئی نیک اور دیندار شوہر ملے تو شادی کر لو ۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا علي بن مسهر، عن داود بن ابي هند، عن الشعبي، عن مسروق، وعمرو بن عتبة، انهما كتبا الى سبيعة بنت الحارث يسالانها عن امرها، فكتبت اليهما انها وضعت بعد وفاة زوجها بخمسة وعشرين فتهيات تطلب الخير فمر بها ابو السنابل بن بعكك فقال قد اسرعت اعتدي اخر الاجلين اربعة اشهر وعشرا . فاتيت النبي صلى الله عليه وسلم فقلت يا رسول الله استغفر لي . قال " ومم ذاك " . فاخبرته . فقال " ان وجدت زوجا صالحا فتزوجي
مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سبیعہ رضی اللہ عنہا کو حکم دیا کہ نفاس سے پاک ہونے کے بعد شادی کر لیں ۱؎۔
حدثنا نصر بن علي، ومحمد بن بشار، قالا حدثنا عبد الله بن داود، حدثنا هشام بن عروة، عن ابيه، عن المسور بن مخرمة، ان النبي صلى الله عليه وسلم امر سبيعة ان تنكح اذا تعلت من نفاسها
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ اللہ کی قسم! جو کوئی چاہے ہم اس سے لعان کر لیں کہ چھوٹی سورۃ نساء ( سورۃ الطلاق ) اس آیت کے بعد اتری ہے جس میں چار ماہ دس دن کی عدت کا حکم ہے ۱؎۔
حدثنا محمد بن المثنى، حدثنا ابو معاوية، عن الاعمش، عن مسلم، عن مسروق، عن عبد الله بن مسعود، قال والله لمن شاء لاعناه لانزلت سورة النساء القصرى بعد اربعة اشهر وعشرا
زینب بنت کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہما جو ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کے نکاح میں تھیں سے روایت ہے کہ ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کی بہن فریعہ بنت مالک رضی اللہ عنہما نے کہا: میرے شوہر اپنے کچھ غلاموں کی تلاش میں نکلے اور ان کو قدوم کے کنارے پا لیا، ان غلاموں نے انہیں مار ڈالا، میرے شوہر کے انتقال کی خبر آئی تو اس وقت میں انصار کے ایک گھر میں تھی، جو میرے کنبہ والوں کے گھر سے دور تھا، میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میرے شوہر کی موت کی خبر آئی ہے اور میں اپنے کنبہ والوں اور بھائیوں کے گھروں سے دور ایک گھر میں ہوں، اور میرے شوہر نے کوئی مال نہیں چھوڑا جسے میں خرچ کروں یا میں اس کی وارث ہوں، اور نہ اپنا ذاتی کوئی گھر چھوڑا جس کے وہ مالک ہوتے، اب اگر آپ اجازت دیں تو میں اپنے خاندان کے گھر اور بھائیوں کے گھر میں آ جاؤں؟ یہ مجھے زیادہ پسند ہے، اس میں میرے بعض کام زیادہ چل جائیں گے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر تم چاہتی ہو تو ایسا کر لو ۔ فریعہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ میں یہ سن کر ٹھنڈی آنکھوں کے ساتھ خوش خوش نکلی کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان پہ مجھے حکم دیا تھا، یہاں تک کہ میں ابھی مسجد میں یا حجرہ ہی میں تھی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بلایا اور فرمایا: کیا کہتی ہو ؟ میں نے سارا قصہ پھر بیان کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسی گھر میں جہاں تمہارے شوہر کے انتقال کی خبر آئی ہے ٹھہری رہو یہاں تک کہ کتاب ( قرآن ) میں لکھی ہوئی عدت ( چار ماہ دس دن ) پوری ہو جائے، فریعہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: پھر میں نے اسی گھر میں چار ماہ دس دن عدت کے گزارے ۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا ابو خالد الاحمر، سليمان بن حيان عن سعد بن اسحاق بن كعب بن عجرة، عن زينب بنت كعب بن عجرة، وكانت، تحت ابي سعيد الخدري ان اخته الفريعة بنت مالك، قالت خرج زوجي في طلب اعلاج له فادركهم بطرف القدوم فقتلوه فجاء نعى زوجي وانا في دار من دور الانصار شاسعة عن دار اهلي فاتيت النبي صلى الله عليه وسلم فقلت يا رسول الله انه جاء نعى زوجي وانا في دار شاسعة عن دار اهلي ودار اخوتي ولم يدع مالا ينفق على ولا مالا ورثته . ولا دارا يملكها فان رايت ان تاذن لي فالحق بدار اهلي ودار اخوتي فانه احب الى واجمع لي في بعض امري . قال " فافعلي ان شيت " . قالت فخرجت قريرة عيني لما قضى الله لي على لسان رسول الله صلى الله عليه وسلم حتى اذا كنت في المسجد - او في بعض الحجرة - دعاني فقال " كيف زعمت " . قالت فقصصت عليه فقال " امكثي في بيتك الذي جاء فيه نعى زوجك حتى يبلغ الكتاب اجله " . قالت فاعتددت فيه اربعة اشهر وعشرا
عروہ کہتے ہیں کہ میں نے مروان کے پاس جا کر کہا کہ آپ کے خاندان کی ایک عورت کو طلاق دے دی گئی، میرا اس کے پاس سے گزر ہوا تو دیکھا کہ وہ گھر سے منتقل ہو رہی ہے، اور کہتی ہے: فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا نے ہمیں حکم دیا ہے اور ہمیں بتایا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں گھر بدلنے کا حکم دیا تھا، مروان نے کہا: اسی نے اسے حکم دیا ہے۔ عروہ کہتے ہیں کہ تو میں نے کہا: اللہ کی قسم، عائشہ رضی اللہ عنہا نے اس چیز کو ناپسند کیا ہے، اور کہا ہے کہ فاطمہ رضی اللہ عنہا ایک خالی ویران مکان میں تھیں جس کی وجہ سے ان کے بارے میں ڈر پیدا ہوا، اسی لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو مکان بدلنے کی اجازت دی ۱؎۔
حدثنا محمد بن يحيى، حدثنا عبد العزيز بن عبد الله، حدثنا ابن ابي الزناد، عن هشام بن عروة، عن ابيه، قال دخلت على مروان فقلت له امراة من اهلك طلقت فمررت عليها وهي تنتقل فقالت امرتنا فاطمة بنت قيس واخبرتنا ان رسول الله صلى الله عليه وسلم امرها ان تنتقل . فقال مروان هي امرتهم بذلك . قال عروة فقلت اما والله لقد عابت ذلك عايشة وقالت ان فاطمة كانت في مسكن وحش فخيف عليها فلذلك ارخص لها رسول الله صلى الله عليه وسلم
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا نے کہا: اللہ کے رسول! میں ڈرتی ہوں کہ کوئی میرے پاس گھس آئے، تو آپ نے انہیں وہاں سے منتقل ہو جانے کا حکم دیا۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا حفص بن غياث، عن هشام بن عروة، عن ابيه، عن عايشة، قالت قالت فاطمة بنت قيس يا رسول الله اني اخاف ان يقتحم على . فامرها ان تتحول
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میری خالہ کو طلاق دے دی گئی، پھر انہوں نے اپنی کھجوریں توڑنے کا ارادہ کیا، تو ایک شخص نے انہیں گھر سے نکل کر باغ جانے پر ڈانٹا تو وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ٹھیک ہے، تم اپنی کھجوریں توڑو، ممکن ہے تم صدقہ کرو یا کوئی کار خیر انجام دو ۱؎۔
حدثنا سفيان بن وكيع، حدثنا روح، ح وحدثنا احمد بن منصور، حدثنا حجاج بن محمد، جميعا عن ابن جريج، اخبرني ابو الزبير، عن جابر بن عبد الله، قال طلقت خالتي فارادت ان تجد نخلها فزجرها رجل ان تخرج اليه فاتت النبي صلى الله عليه وسلم فقال " بلى فجدي نخلك فانك عسى ان تصدقي او تفعلي معروفا
ابوبکر بن ابی جہم بن صخیر عدوی کہتے ہیں کہ میں نے فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا کو کہتے سنا کہ ان کے شوہر نے انہیں تین طلاقیں دے دیں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں سکنیٰ ( جائے رہائش ) اور نفقہ کا حقدار نہیں قرار دیا ۱؎۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، وعلي بن محمد، قالا حدثنا وكيع، حدثنا سفيان، عن ابي بكر بن ابي الجهم بن صخير العدوي، قال سمعت فاطمة بنت قيس، تقول ان زوجها طلقها ثلاثا فلم يجعل لها رسول الله صلى الله عليه وسلم سكنى ولا نفقة