Loading...

Loading...
کتب
۴۶۲ احادیث
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ بریرہ میں تین سنتیں سامنے آئیں ایک تو یہ کہ جب وہ آزاد ہوئیں تو انہیں اختیار دیا گیا، اور ان کے شوہر غلام تھے، دوسرے یہ کہ لوگ بریرہ رضی اللہ عنہا کو صدقہ دیا کرتے اور وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ہدیہ کر دیتیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے: وہ اس کے لیے صدقہ ہے، اور ہمارے لیے ہدیہ ہے ، تیسرے یہ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں کے سلسلہ میں فرمایا: حق ولاء ( غلام یا لونڈی کی میراث ) اس کا ہے جو آزاد کرے ۱؎۔
حدثنا علي بن محمد، حدثنا وكيع، عن اسامة بن زيد، عن القاسم بن محمد، عن عايشة، قالت مضى في بريرة ثلاث سنن خيرت حين اعتقت وكان زوجها مملوكا وكانوا يتصدقون عليها فتهدي الى النبي صلى الله عليه وسلم فيقول " هو عليها صدقة وهو لنا هدية " . وقال " الولاء لمن اعتق
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ بریرہ رضی اللہ عنہا کو حکم دیا گیا کہ وہ تین حیض عدت گزاریں
حدثنا علي بن محمد، حدثنا وكيع، عن سفيان، عن منصور، عن ابراهيم، عن الاسود، عن عايشة، قالت امرت بريرة ان تعتد، بثلاث حيض
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بریرہ رضی اللہ عنہا کو اختیار دیا ( کہ وہ اپنے شوہر مغیث کی زوجیت میں رہیں یا نہ رہیں ) ۔
حدثنا اسماعيل بن توبة، حدثنا عباد بن العوام، عن يحيى بن ابي اسحاق، عن عبد الرحمن بن اذينة، عن ابي هريرة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم خير بريرة
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لونڈی کے لیے دو طلاقیں ہیں، اور اس کی عدت دو حیض ہے ۱؎۔
حدثنا محمد بن طريف، وابراهيم بن سعيد الجوهري، قالا حدثنا عمر بن شبيب المسلي، عن عبد الله بن عيسى، عن عطية، عن ابن عمر، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " طلاق الامة اثنتان وعدتها حيضتان
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لونڈی کی دو طلاقیں ہیں، اور اس کی عدت دو حیض ہے ۔ ابوعاصم کہتے ہیں کہ میں نے مظاہر بن اسلم سے اس حدیث کا ذکر کیا اور ان سے عرض کیا کہ یہ حدیث آپ مجھ سے ویسے ہی بیان کریں جیسے کہ آپ نے ابن جریج سے بیان کی ہے، تو انہوں نے مجھے «قاسم عن عائشہ» کے طریق سے بتایا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لونڈی کے لیے دو طلاقیں ہیں اور اس کی عدت دو حیض ہے ۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا ابو عاصم، حدثنا ابن جريج، عن مظاهر بن اسلم، عن القاسم، عن عايشة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " طلاق الامة تطليقتان وقروها حيضتان " . قال ابو عاصم فذكرته لمظاهر فقلت حدثني كما حدثت ابن جريج . فاخبرني عن القاسم عن عايشة عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " طلاق الامة تطليقتان وقروها حيضتان
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک آدمی آیا، اور اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میرے مالک نے اپنی لونڈی سے میرا نکاح کر دیا تھا، اب وہ چاہتا ہے کہ مجھ میں اور میری بیوی میں جدائی کرا دے، یہ سن کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر چڑھے اور فرمایا: لوگو! تمہارا کیا حال ہے کہ تم میں سے ایک شخص اپنے غلام کا نکاح اپنی لونڈی سے کر دیتا ہے، پھر وہ چاہتا ہے کہ ان دونوں میں جدائی کرا دے، طلاق تو اسی کا حق ہے جو عورت کی پنڈلی پکڑے ۱؎۔
حدثنا محمد بن يحيى، حدثنا يحيى بن عبد الله بن بكير، حدثنا ابن لهيعة، عن موسى بن ايوب الغافقي، عن عكرمة، عن ابن عباس، قال اتى النبي صلى الله عليه وسلم رجل فقال يا رسول الله ان سيدي زوجني امته وهو يريد ان يفرق بيني وبينها . قال فصعد رسول الله صلى الله عليه وسلم المنبر فقال " يا ايها الناس ما بال احدكم يزوج عبده امته ثم يريد ان يفرق بينهما انما الطلاق لمن اخذ بالساق
ابوالحسن مولی بنی نوفل کہتے ہیں کہ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے اس غلام کے بارے میں پوچھا گیا جس نے اپنی بیوی کو دو طلاق دے دی ہو پھر دونوں آزاد ہو جائیں، کیا وہ اس سے نکاح کر سکتا ہے؟ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے جواب دیا: ہاں، کر سکتا ہے، ان سے پوچھا گیا: یہ فیصلہ کس کا ہے؟ تو وہ بولے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا فیصلہ کیا۔ عبدالرزاق کہتے ہیں کہ عبداللہ بن مبارک نے کہا: ابوالحسن نے یہ حدیث روایت کر کے گویا ایک بڑا پتھر اپنی گردن پہ اٹھا لیا ہے۔
حدثنا محمد بن عبد الملك بن زنجويه ابو بكر، حدثنا عبد الرزاق، حدثنا معمر، عن يحيى بن ابي كثير، عن عمر بن معتب، عن ابي الحسن، مولى بني نوفل قال سيل ابن عباس عن عبد طلق، امراته تطليقتين ثم اعتقا ايتزوجها قال نعم . فقيل له عمن قال قضى بذلك رسول الله صلى الله عليه وسلم . قال عبد الرزاق قال عبد الله بن المبارك لقد تحمل ابو الحسن هذا صخرة عظيمة على عنقه
عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم پر ہمارے نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کو نہ بگاڑو، ام ولد کی عدت چار ماہ دس دن ہے ۱؎۔
حدثنا علي بن محمد، حدثنا وكيع، عن سعيد بن ابي عروبة، عن مطر الوراق، عن رجاء بن حيوة، عن قبيصة بن ذويب، عن عمرو بن العاص، قال لا تفسدوا علينا سنة نبينا محمد صلى الله عليه وسلم عدة ام الولد اربعة اشهر وعشرا
ام المؤمنین ام سلمہ اور ام المؤمنین ام حبیبہ رضی اللہ عنہما ذکر کرتی ہیں کہ ایک عورت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور اس نے عرض کیا کہ اس کی بیٹی کا شوہر مر گیا ہے، اور اس کی بیٹی کی آنکھ دکھ رہی ہے وہ سرمہ لگانا چاہتی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پہلے ( زمانہ جاہلیت میں ) تم سال پورا ہونے پر اونٹ کی مینگنی پھینکتی تھی اور اب تو عدت صرف چار ماہ دس دن ہے ۱؎۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا يزيد بن هارون، انبانا يحيى بن سعيد، عن حميد بن نافع، . انه سمع زينب ابنة ام سلمة، تحدث انها سمعت ام سلمة، وام حبيبة تذكران ان امراة اتت النبي صلى الله عليه وسلم فقالت ان ابنة لها توفي عنها زوجها فاشتكت عينها فهي تريد ان تكحلها . فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " قد كانت احداكن ترمي بالبعرة عند راس الحول وانما هي اربعة اشهر وعشرا
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کسی عورت کے لیے حلال نہیں کہ شوہر کے سوا کسی میت پہ تین دن سے زیادہ سوگ منائے ۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا سفيان بن عيينة، عن الزهري، عن عروة، عن عايشة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " لا يحل لامراة ان تحد على ميت فوق ثلاث الا على زوج
ام المؤمنین حفصہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو عورت اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتی ہو اس کے لیے حلال نہیں کہ شوہر کے علاوہ کسی میت پر تین دن سے زیادہ سوگ منائے ۔
حدثنا هناد بن السري، حدثنا ابو الاحوص، عن يحيى بن سعيد، عن نافع، عن صفية بنت ابي عبيد، عن حفصة، زوج النبي صلى الله عليه وسلم قالت قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لا يحل لامراة تومن بالله واليوم الاخر ان تحد على ميت فوق ثلاث الا على زوج
ام عطیہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کسی میت پہ تین دن سے زیادہ سوگ نہ منایا جائے البتہ بیوی اپنے شوہر پر چار ماہ دس دن تک سوگ کرے، رنگا ہوا کپڑا نہ پہنے، ہاں رنگین بنی ہوئی چادر اوڑھ سکتی ہے، سرمہ اور خوشبو نہ لگائے، مگر حیض سے پاکی کے شروع میں تھوڑا سا قسط یا اظفار ( خوشبو ) لگا لے ۱؎۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا عبد الله بن نمير، عن هشام بن حسان، عن حفصة، عن ام عطية، قالت قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لا تحد على ميت فوق ثلاث الا المراة تحد على زوجها اربعة اشهر وعشرا ولا تلبس ثوبا مصبوغا الا ثوب عصب ولا تكتحل ولا تطيب الا عند ادنى طهرها بنبذة من قسط واظفار
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میرے نکاح میں ایک عورت تھی میں اس سے محبت کرتا تھا، اور میرے والد اس کو برا جانتے تھے، انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے حکم دیا کہ میں اسے طلاق دے دوں، چنانچہ میں نے اسے طلاق دے دی۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا يحيى بن سعيد القطان، وعثمان بن عمر، قالا حدثنا ابن ابي ذيب، عن خاله الحارث بن عبد الرحمن، عن حمزة بن عبد الله بن عمر، عن عبد الله بن عمر، قال كانت تحتي امراة وكنت احبها وكان ابي يبغضها فذكر ذلك عمر للنبي صلى الله عليه وسلم فامرني ان اطلقها فطلقتها
ابوعبدالرحمٰن سے روایت ہے کہ ایک شخص کو اس کی ماں نے یا باپ نے ( یہ شک شعبہ کو ہوا ہے ) حکم دیا کہ اپنی بیوی کو طلاق دیدے، اس نے نذر مان لی کہ اگر اپنی بیوی کو طلاق دیدے تو اسے سو غلام آزاد کرنا ہوں گے، پھر وہ ابوالدرداء رضی اللہ عنہ کے پاس آیا، وہ صلاۃ الضحیٰ ( چاشت کی نماز ) پڑھ رہے تھے، اور اسے خوب لمبی کر رہے تھے، اور انہوں نے نماز پڑھی ظہر و عصر کے درمیان، بالآخر اس شخص نے ان سے پوچھا، تو ابوالدرداء رضی اللہ عنہ نے کہا: اپنی نذر پوری کرو، اور اپنے ماں باپ کی اطاعت کرو۔ ابوالدرداء رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے: باپ جنت میں جانے کا بہترین دروازہ ہے، اب تم اپنے والدین کے حکم کی پابندی کرو، یا اسے نظر انداز کر دو ۱؎۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا محمد بن جعفر، حدثنا شعبة، عن عطاء بن السايب، عن ابي عبد الرحمن، ان رجلا، امره ابوه او امه - شك شعبة - ان يطلق، امراته فجعل عليه ماية محرر . فاتى ابا الدرداء فاذا هو يصلي الضحى ويطيلها وصلى ما بين الظهر والعصر فساله فقال ابو الدرداء اوف بنذرك وبر والديك . وقال ابو الدرداء سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " الوالد اوسط ابواب الجنة فحافظ على والديك او اترك