Loading...

Loading...
کتب
۵۴ احادیث
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد کے قبلہ میں بلغم دیکھا تو غضبناک ہو گئے یہاں تک کہ آپ کا چہرہ مبارک سرخ ہو گیا، انصار کی ایک عورت نے اٹھ کر اسے کھرچ کر صاف کر دیا، اور اس جگہ پر خلوق خوشبو مل دی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس نے کیا ہی اچھا کیا ۔
اخبرنا اسحاق بن ابراهيم، قال حدثنا عايذ بن حبيب، قال حدثنا حميد الطويل، عن انس بن مالك، قال راى رسول الله صلى الله عليه وسلم نخامة في قبلة المسجد فغضب حتى احمر وجهه فقامت امراة من الانصار فحكتها وجعلت مكانها خلوقا فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ما احسن هذا
ابوحمید اور ابواسید (مالک بن ربیعہ) رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی مسجد میں داخل ہو تو وہ: «اللہم افتح لي أبواب رحمتك» اے اللہ! تو میرے لیے اپنی رحمت کے دروازے کھول دے پڑھے، اور جب نکلے تو: «اللہم إني أسألك من فضلك» اے اللہ! میں تجھ سے تیرا فضل مانگتا ہوں پڑھے ۔
اخبرنا سليمان بن عبيد الله الغيلاني، - بصري - قال حدثنا ابو عامر، قال حدثنا سليمان، عن ربيعة، عن عبد الملك بن سعيد، قال سمعت ابا حميد، وابا، اسيد يقولان قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اذا دخل احدكم المسجد فليقل اللهم افتح لي ابواب رحمتك واذا خرج فليقل اللهم اني اسالك من فضلك
ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی مسجد میں داخل ہو تو اسے چاہیئے کہ بیٹھنے سے پہلے دو رکعت پڑھ لے ۔
اخبرنا قتيبة، قال حدثنا مالك، عن عامر بن عبد الله بن الزبير، عن عمرو بن سليم، عن ابي قتادة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " اذا دخل احدكم المسجد فليركع ركعتين قبل ان يجلس
عبداللہ بن کعب کہتے ہیں کہ میں نے کعب بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ اپنا وہ واقعہ بیان کر رہے تھے جب وہ غزوہ تبوک میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پیچھے رہ گئے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صبح کو تشریف لائے، اور جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم سفر سے واپس آتے تو پہلے مسجد جاتے اور اس میں دو رکعت نماز پڑھتے، پھر لوگوں سے ملنے کے لیے بیٹھتے، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا کر لیا تو جنگ سے پیچھے رہ جانے والے لوگ آپ کے پاس آئے، آپ سے معذرت کرنے لگے، اور آپ کے سامنے قسمیں کھانے لگے، وہ اسّی سے کچھ زائد لوگ تھے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے ظاہری بیان کو قبول کر لیا، اور ان سے بیعت کر لی، اور ان کے لیے مغفرت کی دعا کی، اور ان کے دلوں کے راز کو اللہ عزوجل کے سپرد کر دیا، یہاں تک کہ میں آیا تو جب میں نے سلام کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے دیکھ کر مسکرائے جیسے کوئی غصہ میں مسکراتا ہے، پھر فرمایا: آ جاؤ! چنانچہ میں آ کر آپ کے سامنے بیٹھ گیا ۱؎، تو آپ نے مجھ سے پوچھا: تم کیوں پیچھے رہ گئے تھے؟ کیا تم نے اپنی سواری خرید نہیں لی تھی؟ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! اللہ کی قسم اگر میں آپ کے علاوہ کسی اور کے پاس ہوتا تو میں اس کے غصہ سے اپنے آپ کو یقیناً بچا لیتا، مجھے باتیں بنانی خوب آتی ہے لیکن اللہ کی قسم، میں جانتا ہوں کہ اگر آپ کو خوش کرنے کے لیے میں آج آپ سے جھوٹ موٹ کہہ دوں تو قریب ہے کہ جلد ہی اللہ تعالیٰ آپ کو مجھ سے ناراض کر دے، اور اگر میں آپ سے سچ سچ کہہ دوں تو آپ مجھ پر ناراض تو ہوں گے لیکن مجھے امید ہے کہ اللہ مجھے معاف کر دے گا، اللہ کی قسم جب میں آپ سے پیچھے رہ گیا تھا تو اس وقت میں زیادہ طاقتوراور زیادہ مال والا تھا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: رہا یہ شخص تو اس نے سچ کہا، اٹھو چلے جاؤ یہاں تک کہ اللہ آپ کے بارے میں کوئی فیصلہ کر دے ، چنانچہ میں اٹھ کر چلا آیا، یہ حدیث لمبی ہے یہاں مختصراً منقول ہے۔
اخبرنا سليمان بن داود، قال حدثنا ابن وهب، عن يونس، قال ابن شهاب واخبرني عبد الرحمن بن كعب بن مالك، ان عبد الله بن كعب، قال سمعت كعب بن مالك، يحدث حديثه حين تخلف عن رسول الله صلى الله عليه وسلم في غزوة تبوك قال وصبح رسول الله صلى الله عليه وسلم قادما وكان اذا قدم من سفر بدا بالمسجد فركع فيه ركعتين ثم جلس للناس فلما فعل ذلك جاءه المخلفون فطفقوا يعتذرون اليه ويحلفون له وكانوا بضعا وثمانين رجلا فقبل رسول الله صلى الله عليه وسلم علانيتهم وبايعهم واستغفر لهم ووكل سرايرهم الى الله عز وجل حتى جيت فلما سلمت تبسم تبسم المغضب ثم قال " تعال " . فجيت حتى جلست بين يديه فقال لي " ما خلفك الم تكن ابتعت ظهرك " . فقلت يا رسول الله اني والله لو جلست عند غيرك من اهل الدنيا لرايت اني ساخرج من سخطه ولقد اعطيت جدلا ولكن والله لقد علمت لين حدثتك اليوم حديث كذب لترضى به عني ليوشك ان الله عز وجل يسخطك على ولين حدثتك حديث صدق تجد على فيه اني لارجو فيه عفو الله والله ما كنت قط اقوى ولا ايسر مني حين تخلفت عنك . فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اما هذا فقد صدق فقم حتى يقضي الله فيك " . فقمت فمضيت . مختصر
ابوسعید بن معلی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں بازار جاتے تو مسجد سے گزرتے، تو اس میں نماز پڑھتے تھے۔
اخبرنا محمد بن عبد الله بن عبد الحكم بن اعين، قال حدثنا شعيب، قال حدثنا الليث، قال حدثنا خالد، عن ابن ابي هلال، قال اخبرني مروان بن عثمان، ان عبيد بن حنين، اخبره عن ابي سعيد بن المعلى، قال كنا نغدو الى السوق على عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم فنمر على المسجد فنصلي فيه
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: فرشتے تمہارے حق میں دعا کرتے رہتے ہیں جب تک آدمی اس جگہ بیٹھا رہے جہاں اس نے نماز پڑھی ہے، اور وضو نہ توڑا ہو، وہ کہتے ہیں: اے اللہ! تو اسے بخش دے، اور اے اللہ! تو اس پر رحم فرما ۔
اخبرنا قتيبة، عن مالك، عن ابي الزناد، عن الاعرج، عن ابي هريرة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " ان الملايكة تصلي على احدكم ما دام في مصلاه الذي صلى فيه ما لم يحدث اللهم اغفر له اللهم ارحمه
سہل ساعدی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: جو شخص مسجد میں نماز کا انتظار کرتا ہے، وہ نماز ہی میں رہتا ہے ۔
اخبرنا قتيبة، قال حدثنا بكر بن مضر، عن عياش بن عقبة، ان يحيى بن ميمون، حدثه قال سمعت سهلا الساعدي، - رضى الله عنه - يقول سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " من كان في المسجد ينتظر الصلاة فهو فى الصلاة
عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اونٹوں کے باڑے میں نماز پڑھنے سے روکا ہے۔
اخبرنا عمرو بن علي، قال حدثنا يحيى، عن اشعث، عن الحسن، عن عبد الله بن مغفل، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم نهى عن الصلاة في اعطان الابل
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پوری روئے زمین ۱؎ میرے لیے سجدہ گاہ اور پاکی کا ذریعہ بنا دی گئی ہے، میری امت کا کوئی بھی آدمی جہاں نماز کا وقت پائے نماز پڑھ لے ۔
اخبرنا الحسن بن اسماعيل بن سليمان، قال حدثنا هشيم، قال حدثنا سيار، عن يزيد الفقير، عن جابر بن عبد الله، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " جعلت لي الارض مسجدا وطهورا اينما ادرك رجل من امتي الصلاة صلى
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ام سلیم رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے درخواست کی کہ آپ ان کے پاس تشریف لا کر ان کے گھر میں نماز پڑھ دیں تاکہ وہ اسی کو اپنی نماز گاہ بنا لیں ۱؎، چنانچہ آپ ان کے ہاں تشریف لائے، تو انہوں نے چٹائی لی اور اس پر پانی چھڑکا، پھر آپ نے اس پر نماز پڑھی، اور آپ کے ساتھ گھر والوں نے بھی نماز پڑھی۔
اخبرنا سعيد بن يحيى بن سعيد الاموي، قال حدثنا ابي قال، حدثنا يحيى بن سعيد، عن اسحاق بن عبد الله بن ابي طلحة، عن انس بن مالك، ان ام سليم، سالت رسول الله صلى الله عليه وسلم ان ياتيها فيصلي في بيتها فتتخذه مصلى فاتاها فعمدت الى حصير فنضحته بماء فصلى عليه وصلوا معه
ام المؤمنین میمونہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھجور کی چھوٹی چٹائی پر نماز پڑھتے تھے۔
اخبرنا اسماعيل بن مسعود، قال حدثنا خالد، عن شعبة، عن سليمان، - يعني الشيباني - عن عبد الله بن شداد، عن ميمونة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم كان يصلي على الخمرة
ابوحازم بن دینار کہتے ہیں کہ کچھ لوگ سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ کے پاس آئے وہ لوگ منبر کی لکڑی کے بارے میں بحث کر رہے تھے کہ وہ کس چیز کی تھی؟ ان لوگوں نے سہیل رضی اللہ عنہ اس بارے میں پوچھا، تو انہوں نے کہا: اللہ کی قسم میں خوب جانتا ہوں کہ یہ منبر کس لکڑی کا تھا، میں نے اسے پہلے ہی دن دیکھا تھا جس دن وہ رکھا گیا، اور جس دن رسول صلی اللہ علیہ وسلم پہلے پہل اس پر بیٹھے ( ہوا یوں تھا ) کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فلاں عورت ( سہل رضی اللہ عنہ نے اس کا نام لیا تھا ) کو کہلوا بھیجا کہ آپ اپنے غلام سے جو بڑھئی ہے کہیں کہ وہ میرے لیے کچھ لکڑیوں کو اس طرح بنا دے کہ جب میں لوگوں کو وعظ و نصیحت کروں تو اس پر بیٹھ سکوں، تو اس عورت نے غلام سے منبر بنانے کے لیے کہہ دیا، چنانچہ غلام نے جنگل کے جھاؤ سے اسے تیار کیا، پھر اسے اس عورت کے پاس لے کر آیا تو اس نے اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بھیج دیا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم پر اسے یہاں رکھا گیا، پھر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ اس پر چڑھے، اور اس پر نماز پڑھی، آپ نے اللہ اکبر کہا، آپ اسی پر تھے، پھر آپ نے رکوع کیا، اور آپ اسی پر تھے، پھر آپ الٹے پاؤں اترے اور منبر کے پایوں کے پاس سجدہ کیا، پھر آپ نے دوبارہ اسی طرح کیا، تو جب آپ فارغ ہو گئے، تو لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: لوگو! میں نے یہ کام صرف اس لیے کیا ہے تاکہ تم لوگ میری پیروی کر سکو، اور ( مجھ سے ) میری نماز سیکھ سکو ۔
اخبرنا قتيبة، قال حدثنا يعقوب بن عبد الرحمن، قال حدثني ابو حازم بن دينار، ان رجالا، اتوا سهل بن سعد الساعدي وقد امتروا في المنبر مم عوده فسالوه عن ذلك فقال والله اني لاعرف مم هو ولقد رايته اول يوم وضع واول يوم جلس عليه رسول الله صلى الله عليه وسلم ارسل رسول الله صلى الله عليه وسلم الى فلانة امراة قد سماها سهل " ان مري غلامك النجار ان يعمل لي اعوادا اجلس عليهن اذا كلمت الناس " . فامرته فعملها من طرفاء الغابة ثم جاء بها فارسلت الى رسول الله صلى الله عليه وسلم فامر بها فوضعت ها هنا ثم رايت رسول الله صلى الله عليه وسلم رقي فصلى عليها وكبر وهو عليها ثم ركع وهو عليها ثم نزل القهقرى فسجد في اصل المنبر ثم عاد فلما فرغ اقبل على الناس فقال " يا ايها الناس انما صنعت هذا لتاتموا بي ولتعلموا صلاتي
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو گدھے پر نماز پڑھتے ہوئے دیکھا، اور آپ کا رخ خیبر کی طرف تھا۔
اخبرنا قتيبة بن سعيد، عن مالك، عن عمرو بن يحيى، عن سعيد بن يسار، عن ابن عمر، قال رايت رسول الله صلى الله عليه وسلم يصلي على حمار وهو متوجه الى خيبر
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو گدھے پر نماز پڑھتے دیکھا آپ سوار ہو کر خیبر کی طرف جا رہے تھے، اور قبلہ آپ کے پیچھے تھا۔ ابوعبدالرحمٰن ( نسائی ) کہتے کہ ہم کسی ایسے شخص کو نہیں جانتے جس نے عمرو بن یحییٰ کی ان کے قول «يصلي على حمار» میں متابعت کی ہو ۱؎اور یحییٰ بن سعید کی حدیث جو انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، صحیح یہ ہے کہ وہ موقوف ہے ۲؎ واللہ سبحانہ وتعالیٰ اعلم بالصواب۔
اخبرنا محمد بن منصور، قال حدثنا اسماعيل بن عمر، قال حدثنا داود بن قيس، عن محمد بن عجلان، عن يحيى بن سعيد، عن انس بن مالك، انه راى رسول الله صلى الله عليه وسلم يصلي على حمار وهو راكب الى خيبر والقبلة خلفه . قال ابو عبد الرحمن لا نعلم احدا تابع عمرو بن يحيى على قوله يصلي على حمار وحديث يحيى بن سعيد عن انس الصواب موقوف والله سبحانه وتعالى اعلم