Loading...

Loading...
کتب
۵۴ احادیث
عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: لوگو! تم ان دونوں پودوں میں سے کھاتے ہو جنہیں میں خبیث ہی سمجھتا ہوں ۱؎ یعنی اس پیاز اور لہسن سے، میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ جب آپ کسی آدمی سے ان میں سے کسی کی بدبو پاتے تو اسے مسجد سے نکل جانے کا حکم دیتے، تو اسے بقیع کی طرف نکال دیا جاتا، جو ان دونوں کو کھائے تو پکا کر ان کی بو کو مار دے۔
اخبرنا محمد بن المثنى، قال حدثنا يحيى بن سعيد، قال حدثنا هشام، قال حدثنا قتادة، عن سالم بن ابي الجعد، عن معدان بن ابي طلحة، ان عمر بن الخطاب، قال انكم ايها الناس تاكلون من شجرتين ما اراهما الا خبيثتين هذا البصل والثوم ولقد رايت نبي الله صلى الله عليه وسلم اذا وجد ريحهما من الرجل امر به فاخرج الى البقيع فمن اكلهما فليمتهما طبخا
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب اعتکاف کا ارادہ فرماتے تو فجر پڑھتے، پھر آپ اس جگہ میں داخل ہو جاتے جہاں آپ اعتکاف کرنے کا ارادہ فرماتے، چنانچہ آپ نے ایک رمضان کے آخری عشرے میں اعتکاف کا ارادہ فرمایا، تو آپ نے ( خیمہ لگانے کا ) حکم دیا تو آپ کے لیے خیمہ لگایا گیا، ام المؤمنین حفصہ رضی اللہ عنہا نے بھی حکم دیا تو ان کے لیے بھی ایک خیمہ لگایا گیا، پھر جب ام المؤمنین زینب رضی اللہ عنہا نے ان کے خیمے دیکھے تو انہوں نے بھی حکم دیا تو ان کے لیے بھی ایک خیمہ لگایا گیا، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ خیمے دیکھے تو فرمایا: کیا تم لوگ اس سے نیکی کا ارادہ رکھتی ہو؟ ۱؎، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( اس سال ) رمضان میں اعتکاف نہیں کیا ( اور اس کے بدلے ) شوال میں دس دنوں کا اعتکاف کیا۔
اخبرنا ابو داود، قال حدثنا يعلى، قال حدثنا يحيى بن سعيد، عن عمرة، عن عايشة، قالت كان رسول الله صلى الله عليه وسلم اذا اراد ان يعتكف صلى الصبح ثم دخل في المكان الذي يريد ان يعتكف فيه فاراد ان يعتكف العشر الاواخر من رمضان فامر فضرب له خباء وامرت حفصة فضرب لها خباء فلما رات زينب خباءها امرت فضرب لها خباء فلما راى ذلك رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " البر تردن " . فلم يعتكف في رمضان واعتكف عشرا من شوال
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: غزوہ خندق ( غزوہ احزاب ) کے دن سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ زخمی ہو گئے، قبیلہ قریش کے ایک شخص نے ان کے ہاتھ کی رگ ۱؎ میں تیر مارا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے مسجد میں ایک خیمہ لگایا تاکہ آپ قریب سے ان کی عیادت کر سکیں۔
اخبرنا عبيد الله بن سعيد، قال حدثنا عبد الله بن نمير، قال حدثنا هشام بن عروة، عن ابيه، عن عايشة، قالت اصيب سعد يوم الخندق رماه رجل من قريش رمية في الاكحل فضرب عليه رسول الله صلى الله عليه وسلم خيمة في المسجد ليعوده من قريب
ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ہم لوگ مسجد میں بیٹھے ہوئے تھے کہ اسی دوران رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم امامہ بنت ابی العاص بن ربیع رضی اللہ عنہ کو ( گود میں ) اٹھائے ہوئے ہمارے پاس تشریف لائے، ( ان کی ماں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی زینب رضی اللہ عنہا ہیں ) امامہ ایک ( کمسن ) بچی تھیں، آپ انہیں اٹھائے ہوئے تھے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اپنے کندھے پر اٹھائے ہوئے نماز پڑھائی، جب رکوع میں جاتے تو انہیں اتار دیتے، اور جب کھڑے ہوتے تو انہیں پھر گود میں اٹھا لیتے، ۱؎ یہاں تک کہ اسی طرح کرتے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی نماز پوری کی۔
اخبرنا قتيبة، قال حدثنا الليث، عن سعيد بن ابي سعيد، عن عمرو بن سليم الزرقي، انه سمع ابا قتادة، يقول بينا نحن جلوس في المسجد اذ خرج علينا رسول الله صلى الله عليه وسلم يحمل امامة بنت ابي العاص بن الربيع وامها زينب بنت رسول الله صلى الله عليه وسلم وهي صبية يحملها فصلى رسول الله صلى الله عليه وسلم وهي على عاتقه يضعها اذا ركع ويعيدها اذا قام حتى قضى صلاته يفعل ذلك بها
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ سواروں کو قبیلہ نجد کی جانب بھیجا، تو وہ قبیلہ بنی حنیفہ کے ثمامہ بن اثال نامی ایک شخص کو ( گرفتار کر کے ) لائے، جو اہل یمامہ کا سردار تھا، اسے مسجد کے کھمبے سے باندھ دیا گیا، یہ ایک لمبی حدیث کا اختصار ہے۔
اخبرنا قتيبة، حدثنا الليث، عن سعيد بن ابي سعيد، انه سمع ابا هريرة، يقول بعث رسول الله صلى الله عليه وسلم خيلا قبل نجد فجاءت برجل من بني حنيفة يقال له ثمامة بن اثال سيد اهل اليمامة فربط بسارية من سواري المسجد . مختصر
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع میں اونٹ پر بیٹھ کر طواف کیا، آپ ایک چھڑی سے حجر اسود کا استلام کر رہے تھے۔
اخبرنا سليمان بن داود، عن ابن وهب، قال اخبرني يونس، عن ابن شهاب، عن عبيد الله بن عبد الله، عن عبد الله بن عباس، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم طاف في حجة الوداع على بعير يستلم الركن بمحجن
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جمعہ کے دن نماز سے پہلے حلقہ بنا کر بیٹھنے، اور مسجد میں خرید و فروخت کرنے سے منع فرمایا ہے ۱؎۔
اخبرنا اسحاق بن ابراهيم، قال اخبرني يحيى بن سعيد، عن ابن عجلان، عن عمرو بن شعيب، عن ابيه، عن جده، ان النبي صلى الله عليه وسلم نهى عن التحلق يوم الجمعة قبل الصلاة وعن الشراء والبيع في المسجد
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد میں اشعار پڑھنے سے منع فرمایا ہے ۱؎۔
اخبرنا قتيبة، قال حدثنا الليث بن سعد، عن ابن عجلان، عن عمرو بن شعيب، عن ابيه، عن جده، ان النبي صلى الله عليه وسلم نهى عن تناشد الاشعار في المسجد
سعید بن مسیب کہتے ہیں کہ عمر رضی اللہ عنہ حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ کے پاس سے گزرے، وہ مسجد میں اشعار پڑھ رہے تھے، تو عمران رضی اللہ عنہ کی طرف گھورنے لگے، تو انہوں نے کہا: میں نے ( مسجد میں ) شعر پڑھا ہے، اور اس میں ایسی ہستی موجود ہوتی تھی جو آپ سے بہتر تھی، پھر وہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی طرف متوجہ ہوئے، اور پوچھا: کیا آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ( مجھ سے ) یہ کہتے نہیں سنا کہ تم میری طرف سے ( کافروں کو ) جواب دو، اے اللہ! روح القدس کے ذریعہ ان کی تائید فرما! ، تو ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا! ہاں ( سنا ہے ) ۔
اخبرنا قتيبة، قال حدثنا سفيان، عن الزهري، عن سعيد بن المسيب، قال مر عمر بحسان بن ثابت وهو ينشد في المسجد فلحظ اليه فقال قد انشدت وفيه من هو خير منك ثم التفت الى ابي هريرة فقال اسمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " اجب عني اللهم ايده بروح القدس " . قال اللهم نعم
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی آ کر مسجد میں ایک گمشدہ چیز ڈھونڈنے لگا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ کرے تو نہ پائے ۔
اخبرنا محمد بن وهب، قال حدثنا محمد بن سلمة، عن ابي عبد الرحيم، قال حدثني زيد بن ابي انيسة، عن ابي الزبير، عن جابر، قال جاء رجل ينشد ضالة في المسجد فقال له رسول الله صلى الله عليه وسلم " لا وجدت
سفیان ثوری کہتے ہیں کہ میں نے عمرو بن دینار سے پوچھا: کیا آپ نے جابر رضی اللہ عنہ کو کہتے ہوئے سنا ہے کہ ایک شخص مسجد میں کچھ تیر لے کر گزرا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: ان کی پیکان پکڑ کر رکھو ، تو عمرو نے کہا: جی ہاں ( سنا ہے ) ۔
اخبرنا عبد الله بن محمد بن عبد الرحمن بن المسور الزهري، - بصري - ومحمد بن منصور قالا حدثنا سفيان، قال قلت لعمرو اسمعت جابرا يقول مر رجل بسهام في المسجد فقال له رسول الله صلى الله عليه وسلم " خذ بنصالها " . قال نعم
اسود کہتے ہیں کہ میں اور علقمہ دونوں عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس گئے، تو آپ نے ہم سے پوچھا: کیا ان لوگوں نے نماز پڑھ لی؟ ہم نے کہا: نہیں، تو آپ نے کہا: اٹھو نماز پڑھو، ہم چلے تاکہ آپ کے پیچھے کھڑے ہوں، تو آپ نے ہم میں سے ایک کو اپنی داہنی طرف، اور دوسرے کو اپنی بائیں طرف کر لیا، پھر بغیر کسی اذان اور اقامت کے نماز پڑھائی، جب آپ رکوع کرتے تو اپنی انگلیوں کو ایک دوسرے میں داخل کر لیتے، اور دونوں ہاتھوں کو دونوں گھٹنوں کے بیچ کر لیتے ۱؎، اور ( نماز کے بعد ) کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اسی طرح کرتے ہوئے دیکھا ہے۔
اخبرنا اسحاق بن ابراهيم، قال انبانا عيسى بن يونس، قال حدثنا الاعمش، عن ابراهيم، عن الاسود، قال دخلت انا وعلقمة، على عبد الله بن مسعود فقال لنا اصلى هولاء قلنا لا . قال قوموا فصلوا . فذهبنا لنقوم خلفه فجعل احدنا عن يمينه والاخر عن شماله فصلى بغير اذان ولا اقامة فجعل اذا ركع شبك بين اصابعه وجعلها بين ركبتيه وقال هكذا رايت رسول الله صلى الله عليه وسلم فعل
اس سند سے علقمہ اور اسود نے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے اسی جیسی حدیث ذکر کی ہے۔
اخبرنا اسحاق بن ابراهيم، قال انبانا النضر، قال انبانا شعبة، عن سليمان، قال سمعت ابراهيم، عن علقمة، والاسود، عن عبد الله، فذكر نحوه
عبداللہ بن زید بن عاصم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مسجد میں اپنے ایک پیر کو دوسرے پیر پر رکھ کر چت لیٹے ہوئے دیکھا ۱؎۔
اخبرنا قتيبة، عن مالك، عن ابن شهاب، عن عباد بن تميم، عن عمه، انه راى رسول الله صلى الله عليه وسلم مستلقيا في المسجد واضعا احدى رجليه على الاخرى
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں جب وہ نوجوان اور غیر شادی شدہ تھے تو مسجد نبوی میں سوتے تھے۔
اخبرنا عبيد الله بن سعيد، قال حدثنا يحيى، عن عبيد الله، قال اخبرني نافع، عن ابن عمر، انه كان ينام وهو شاب عزب لا اهل له على عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم في مسجد النبي صلى الله عليه وسلم
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مسجد میں تھوکنا گناہ ہے، اور اس کا کفارہ اسے مٹی ڈال کر دبا دینا ہے ۱؎۔
اخبرنا قتيبة، قال حدثنا ابو عوانة، عن قتادة، عن انس، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " البصاق في المسجد خطيية وكفارتها دفنها
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبلہ والی دیوار پر تھوک دیکھا تو اسے رگڑ دیا، پھر آپ لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: جب تم میں سے کوئی شخص نماز پڑھ رہا ہو تو اپنے چہرہ کی جانب ہرگز نہ تھوکے، کیونکہ جب وہ نماز پڑھ رہا ہوتا ہے تو اللہ عزوجل اس کے چہرہ کے سامنے ہوتا ہے ۔
اخبرنا قتيبة، عن مالك، عن نافع، عن ابن عمر، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم راى بصاقا في جدار القبلة فحكه ثم اقبل على الناس فقال " اذا كان احدكم يصلي فلا يبصقن قبل وجهه فان الله عز وجل قبل وجهه اذا صلى
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد کی قبلہ ( والی دیوار پر ) بلغم دیکھا تو اسے کنکری سے کھرچ دیا، اور لوگوں کو اپنے سامنے اور دائیں طرف تھوکنے سے روکا، اور فرمایا: ( جنہیں ضرورت ہو ) وہ اپنے بائیں تھوکے یا اپنے بائیں پاؤں کے نیچے ۔
اخبرنا قتيبة، قال حدثنا سفيان، عن الزهري، عن حميد بن عبد الرحمن، عن ابي سعيد الخدري، ان النبي صلى الله عليه وسلم راى نخامة في قبلة المسجد فحكها بحصاة ونهى ان يبصق الرجل بين يديه او عن يمينه وقال " يبصق عن يساره او تحت قدمه اليسرى
طارق بن عبداللہ محاربی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم نماز پڑھ رہے ہو تو اپنے سامنے اور اپنے داہنے ہرگز نہ تھوکو، بلکہ اپنے پیچھے تھوکو، یا اپنے بائیں تھوکو، بشرطیکہ بائیں طرف کوئی نہ ہو، ورنہ اس طرح کرو ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے پیر کے نیچے تھوک کر اسے مل دیا۔
اخبرنا عبيد الله بن سعيد، قال حدثنا يحيى، عن سفيان، قال حدثني منصور، عن ربعي، عن طارق بن عبد الله المحاربي، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اذا كنت تصلي فلا تبزقن بين يديك ولا عن يمينك وابصق خلفك او تلقاء شمالك ان كان فارغا والا فهكذا " . وبزق تحت رجله ودلكه
شخیر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا، آپ نے کھکھار کر تھوکا، پھر اسے اپنے بائیں پیر سے رگڑ دیا۔
اخبرنا سويد بن نصر، قال انبانا عبد الله، عن سعيد الجريري، عن ابي العلاء بن الشخير، عن ابيه، قال رايت رسول الله صلى الله عليه وسلم تنخع فدلكه برجله اليسرى