Loading...

Loading...
کتب
۵۴ احادیث
عمرو بن عبسہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے کوئی مسجد بنائی جس میں اللہ تعالیٰ کا ذکر کیا جاتا ہو، تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے جنت میں ایک گھر بنائے گا ۔
اخبرنا عمرو بن عثمان، قال حدثنا بقية، عن بحير، عن خالد بن معدان، عن كثير بن مرة، عن عمرو بن عبسة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " من بنى مسجدا يذكر الله فيه بنى الله عز وجل له بيتا في الجنة
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قیامت کی نشانیوں میں سے یہ ہے کہ لوگ مساجد بنانے میں فخر و مباہات کریں گے ۔
اخبرنا سويد بن نصر، قال انبانا عبد الله بن المبارك، عن حماد بن سلمة، عن ايوب، عن ابي قلابة، عن انس، ان النبي صلى الله عليه وسلم قال " من اشراط الساعة ان يتباهى الناس في المساجد
ابراہیم تیمی کہتے ہیں کہ گلی میں راستہ چلتے ہوئے میں اپنے والد ( یزید بن شریک ) کو قرآن سنا رہا تھا، جب میں نے آیت سجدہ پڑھی تو انہوں نے سجدہ کیا، میں نے کہا: ابا محترم! کیا آپ راستے میں سجدہ کرتے ہیں؟ کہا: میں نے ابوذر رضی اللہ عنہ سے سنا کہ وہ کہہ رہے تھے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ سب سے پہلے کون سی مسجد بنائی گئی؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مسجد الحرام ، میں نے عرض کیا: پھر کون سی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مسجد الاقصیٰ ۱؎ میں نے پوچھا: ان دونوں کے درمیان کتنا فاصلہ ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: چالیس سال کا، اور پوری روئے زمین تمہارے لیے سجدہ گاہ ہے، تو تم جہاں کہیں نماز کا وقت پا جاؤ نماز پڑھ لو ۔
اخبرنا علي بن حجر، قال حدثنا علي بن مسهر، عن الاعمش، عن ابراهيم، قال كنت اقرا على ابي القران في السكة فاذا قرات السجدة سجد فقلت يا ابت اتسجد في الطريق فقال اني سمعت ابا ذر يقول سالت رسول الله صلى الله عليه وسلم اى مسجد وضع اولا قال " المسجد الحرام " . قلت ثم اى قال " المسجد الاقصى " . قلت وكم بينهما قال " اربعون عاما والارض لك مسجد فحيثما ادركت الصلاة فصل
ام المؤمنین میمونہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ جس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مسجد میں نماز پڑھی تو میں نے اس کے متعلق آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کہتے ہوئے سنا ہے کہ: اس مسجد میں نماز پڑھنا دوسری مسجدوں میں نماز پڑھنے سے ہزار گنا افضل ہے، سوائے خانہ کعبہ کے ۱؎۔
اخبرنا قتيبة، قال حدثنا الليث، عن نافع، عن ابراهيم بن عبد الله بن معبد بن عباس، ان ميمونة، زوج النبي صلى الله عليه وسلم قالت من صلى في مسجد رسول الله صلى الله عليه وسلم فاني سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " الصلاة فيه افضل من الف صلاة فيما سواه الا مسجد الكعبة
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم کہتے ہیں: رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم، اسامہ بن زید، بلال اور عثمان بن طلحہ رضی اللہ عنہم خانہ کعبہ کے اندر داخل ہوئے، اور ان لوگوں نے خانہ کعبہ کا دروازہ بند کر لیا، پھر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کھولا تو سب سے پہلے اندر جانے والا میں تھا، پھر میں بلال رضی اللہ عنہ سے ملا تو میں نے ان سے پوچھا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں نماز پڑھی ہے؟ تو انہوں نے کہا: ہاں، آپ نے دونوں یمانی ستونوں یعنی رکن یمانی اور حجر اسود کے درمیان نماز پڑھی ہے۔
اخبرنا قتيبة، قال حدثنا الليث، عن ابن شهاب، عن سالم، عن ابيه، قال دخل رسول الله صلى الله عليه وسلم البيت هو واسامة بن زيد وبلال وعثمان بن طلحة فاغلقوا عليهم فلما فتحها رسول الله صلى الله عليه وسلم كنت اول من ولج فلقيت بلالا فسالته هل صلى فيه رسول الله صلى الله عليه وسلم قال نعم صلى بين العمودين اليمانيين
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سلیمان بن داود علیہما السلام نے جب بیت المقدس کی تعمیر فرمائی تو اللہ تعالیٰ سے تین چیزیں مانگیں، اللہ عزوجل سے مانگا کہ وہ لوگوں کے مقدمات کے ایسے فیصلے کریں جو اس کے فیصلے کے موافق ہوں، تو انہیں یہ چیز دے دی گئی، نیز انہوں نے اللہ تعالیٰ سے ایسی سلطنت مانگی جو ان کے بعد کسی کو نہ ملی ہو، تو انہیں یہ بھی دے دی گئی، اور جس وقت وہ مسجد کی تعمیر سے فارغ ہوئے تو انہوں نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ جو کوئی اس مسجد میں صرف نماز کے لیے آئے تو اسے اس کے گناہوں سے ایسا پاک کر دے جیسے کہ وہ اس دن تھا جس دن اس کی ماں نے اسے جنا ۔
اخبرنا عمرو بن منصور، قال حدثنا ابو مسهر، قال حدثنا سعيد بن عبد العزيز، عن ربيعة بن يزيد، عن ابي ادريس الخولاني، عن ابن الديلمي، عن عبد الله بن عمرو، عن رسول الله صلى الله عليه وسلم " ان سليمان بن داود صلى الله عليه وسلم لما بنى بيت المقدس سال الله عز وجل خلالا ثلاثة سال الله عز وجل حكما يصادف حكمه فاوتيه وسال الله عز وجل ملكا لا ينبغي لاحد من بعده فاوتيه وسال الله عز وجل حين فرغ من بناء المسجد ان لا ياتيه احد لا ينهزه الا الصلاة فيه ان يخرجه من خطييته كيوم ولدته امه
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مسجد میں نماز پڑھنا دوسری مسجدوں میں نماز پڑھنے سے ہزار گنا افضل ہے سوائے خانہ کعبہ کے، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آخری نبی ہیں اور آپ کی مسجد آخری مسجد ہے ۱؎ ابوسلمہ اور ابوعبداللہ کہتے ہیں: ہمیں شک نہیں کہ ابوہریرہ ہمیشہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث ہی بیان کرتے تھے، اسی وجہ سے ہم نے ان سے یہ وضاحت طلب نہیں کی کہ یہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے یا خود ان کا قول ہے، یہاں تک کہ جب ابوہریرہ رضی اللہ عنہ وفات پا گئے تو ہم نے اس کا ذکر کیا تو ہم ایک دوسرے کو ملامت کرنے لگے کہ ہم نے اس سلسلے میں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے کیوں نہیں گفتگو کر لی کہ اگر انہوں نے اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے تو اسے آپ کی طرف منسوب کریں، ہم اسی تردد میں تھے کہ ہم نے عبداللہ بن ابراہیم بن قارظ کی مجالست اختیار کی، تو ہم نے اس حدیث کا اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے حدیث پوچھنے میں جو ہم نے کوتاہی کی تھی دونوں کا ذکر کیا، تو عبداللہ بن ابراہیم نے ہم سے کہا: میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو کہتے ہوئے سنا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ: بلاشبہ میں آخری نبی ہوں، اور یہ ( مسجد نبوی ) آخری مسجد ہے ۔
اخبرنا كثير بن عبيد، قال حدثنا محمد بن حرب، عن الزبيدي، عن الزهري، عن ابي سلمة بن عبد الرحمن، وابي عبد الله الاغر، مولى الجهنيين وكانا من اصحاب ابي هريرة انهما سمعا ابا هريرة يقول صلاة في مسجد رسول الله صلى الله عليه وسلم افضل من الف صلاة فيما سواه من المساجد الا المسجد الحرام فان رسول الله صلى الله عليه وسلم اخر الانبياء ومسجده اخر المساجد . قال ابو سلمة وابو عبد الله لم نشك ان ابا هريرة كان يقول عن حديث رسول الله صلى الله عليه وسلم فمنعنا ان نستثبت ابا هريرة في ذلك الحديث حتى اذا توفي ابو هريرة ذكرنا ذلك وتلاومنا ان لا نكون كلمنا ابا هريرة في ذلك حتى يسنده الى رسول الله صلى الله عليه وسلم ان كان سمعه منه فبينا نحن على ذلك جالسنا عبد الله بن ابراهيم بن قارظ فذكرنا ذلك الحديث والذي فرطنا فيه من نص ابي هريرة فقال لنا عبد الله بن ابراهيم اشهد اني سمعت ابا هريرة يقول قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " فاني اخر الانبياء وانه اخر المساجد
عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو حصہ میرے گھر ۱؎ اور میرے منبر کے درمیان ہے وہ جنت کی کیاریوں میں سے ایک کیاری ہے ۱؎۔
اخبرنا قتيبة، عن مالك، عن عبد الله بن ابي بكر، عن عباد بن تميم، عن عبد الله بن زيد، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ما بين بيتي ومنبري روضة من رياض الجنة
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میرے اس منبر کے پائے جنت میں گڑے ہوئے ہیں ۔
اخبرنا قتيبة، قال حدثنا سفيان، عن عمار الدهني، عن ابي سلمة، عن ام سلمة، ان النبي صلى الله عليه وسلم قال " ان قوايم منبري هذا رواتب في الجنة
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ دو آدمی اس بارے میں لڑ پڑے کہ وہ کون سی مسجد ہے جس کی بنیاد اول دن سے تقویٰ پر رکھی گئی ہے، تو ایک شخص نے کہا: یہ مسجد قباء ہے، اور دوسرے نے کہا: یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مسجد ہے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ میری یہ مسجد ہے ( یعنی مسجد نبوی ) ۔
اخبرنا قتيبة، قال حدثنا الليث، عن عمران بن ابي انس، عن ابن ابي سعيد الخدري، عن ابيه، قال تمارى رجلان في المسجد الذي اسس على التقوى من اول يوم فقال رجل هو مسجد قباء وقال الاخر هو مسجد رسول الله صلى الله عليه وسلم . فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " هو مسجدي هذا
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد قباء ( کبھی ) سوار ہو کر اور ( کبھی ) پیدل جاتے تھے ۱؎۔
اخبرنا قتيبة، عن مالك، عن عبد الله بن دينار، عن ابن عمر، قال كان رسول الله صلى الله عليه وسلم ياتي قباء راكبا وماشيا
سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص ( اپنے گھر سے ) نکلے یہاں تک کہ وہ اس مسجد یعنی مسجد قباء میں آ کر اس میں نماز پڑھے تو اس کے لیے عمرہ کے برابر ثواب ہے ۔
اخبرنا قتيبة، قال حدثنا مجمع بن يعقوب، عن محمد بن سليمان الكرماني، قال سمعت ابا امامة بن سهل بن حنيف، قال قال ابي قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من خرج حتى ياتي هذا المسجد مسجد قباء فصلى فيه كان له عدل عمرة
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ( ثواب کی نیت سے ) صرف تین مسجدوں کے لیے سفر کیا جائے: ایک مسجد الحرام، دوسری میری یہ مسجد ( مسجد نبوی ) ، اور تیسری مسجد اقصی ( بیت المقدس ) ۔
اخبرنا محمد بن منصور، قال حدثنا سفيان، عن الزهري، عن سعيد، عن ابي هريرة، عن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " لا تشد الرحال الا الى ثلاثة مساجد مسجد الحرام ومسجدي هذا ومسجد الاقصى
طلق بن علی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف وفد کی شکل میں نکلے، ہم نے آ کر آپ سے بیعت کی اور آپ کے ساتھ نماز پڑھی، اور آپ کو بتایا کہ ہماری سر زمین میں ہمارا ایک گرجا گھر ہے، ہم نے آپ سے آپ کے وضو کے بچے ہوئے پانی کی درخواست کی، تو آپ نے پانی منگوایا وضو کیا، اور کلی کی پھر اسے ایک برتن میں انڈیل دیا، اور ہمیں ( جانے ) کا حکم دیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم لوگ جاؤ اور جب تم لوگ اپنے علاقے میں پہنچنا تو گرجا ( کلیسا ) کو توڑ ڈالنا، اور اس جگہ اس پانی کو چھڑک دینا اور اسے مسجد بنا لینا ، ہم نے کہا: اللہ کے رسول! ہمارا ملک دور ہے، اور گرمی سخت ہے، پانی سوکھ جاتا ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس میں اور پانی ملا لیا کرنا کیونکہ تم جس قدر ملاؤ گے اس کی خوشبو بڑھتی جائے گی ؛ چنانچہ ہم نکلے یہاں تک کہ اپنے ملک میں آ گئے، تو ہم نے گرجا کو توڑ ڈالا، پھر ہم نے اس جگہ پر یہ پانی چھڑکا اور اسے مسجد بنا لیا، پھر ہم نے اس میں اذان دی، اس گرجا کا راہب قبیلہ طے کا ایک آدمی تھا، جب اس نے اذان سنی تو کہا: یہ حق کی پکار ہے، پھر اس نے ہمارے ٹیلوں میں ایک ٹیلے کی طرف چلا گیا، اس کے بعد ہم نے اسے کبھی نہیں دیکھا۔
اخبرنا هناد بن السري، عن ملازم، قال حدثني عبد الله بن بدر، عن قيس بن طلق، عن ابيه، طلق بن علي قال خرجنا وفدا الى النبي صلى الله عليه وسلم فبايعناه وصلينا معه واخبرناه ان بارضنا بيعة لنا فاستوهبناه من فضل طهوره فدعا بماء فتوضا وتمضمض ثم صبه في اداوة وامرنا فقال " اخرجوا فاذا اتيتم ارضكم فاكسروا بيعتكم وانضحوا مكانها بهذا الماء واتخذوها مسجدا " . قلنا ان البلد بعيد والحر شديد والماء ينشف . فقال " مدوه من الماء فانه لا يزيده الا طيبا " . فخرجنا حتى قدمنا بلدنا فكسرنا بيعتنا ثم نضحنا مكانها واتخذناها مسجدا فنادينا فيه بالاذان . قال والراهب رجل من طيي فلما سمع الاذان قال دعوة حق . ثم استقبل تلعة من تلاعنا فلم نره بعد
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ آئے تو اس کے ایک کنارے بنی عمرو بن عوف نامی ایک قبیلہ میں اترے، آپ نے ان میں چودہ دن تک قیام کیا، پھر آپ نے بنو نجار کے لوگوں کو بلا بھیجا تو وہ اپنی تلواریں لٹکائے ہوئے آئے، آپ ان کے ساتھ چلے گویا میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ رہا ہوں کہ آپ اپنی سواری پر ہیں، اور ابوبکر رضی اللہ عنہ آپ کے پیچھے سوار ہیں، اور بنی نجار کے لوگ آپ کے اردگرد ہیں، یہاں تک کہ آپ ابوایوب رضی اللہ عنہ کے دروازے پر اترے، جہاں نماز کا وقت ہوتا وہاں آپ نماز پڑھ لیتے، یہاں تک کہ آپ بکریوں کے باڑوں میں بھی نماز پڑھ لیتے، پھر آپ کو مسجد بنانے کا حکم ہوا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنی نجار کے لوگوں کو بلوایا، وہ آئے تو آپ نے فرمایا: بنو نجار! تم مجھ سے اپنی اس زمین کی قیمت لے لو ، ان لوگوں نے کہا: اللہ کی قسم ہم اس کی قیمت صرف اللہ تعالیٰ سے طلب کرتے ہیں، انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: اس میں مشرکین کی قبریں، کھنڈر اور کھجور کے درخت تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا تو مشرکین کی قبریں کھود ڈالی گئیں، کھجور کے درخت کاٹ دیئے گئے، اور کھنڈرات ہموار کر دیئے گئے، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کھجور کے درختوں کو مسجد کے قبلہ کی جانب لائن میں رکھ دیا، اور چوکھٹ کے دونوں پٹ پتھر کے بنائے، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم پتھر ڈھوتے، اور اشعار پڑھتے جاتے تھے، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے ساتھ تھے، وہ لوگ کہہ رہے تھے: اے اللہ! بھلائی صرف آخرت کی بھلائی ہے، انصار و مہاجرین کی تو مدد فرما۔
اخبرنا عمران بن موسى، قال حدثنا عبد الوارث، عن ابي التياح، عن انس بن مالك، قال لما قدم رسول الله صلى الله عليه وسلم نزل في عرض المدينة في حى يقال لهم بنو عمرو بن عوف فاقام فيهم اربع عشرة ليلة ثم ارسل الى ملا من بني النجار فجاءوا متقلدي سيوفهم كاني انظر الى رسول الله صلى الله عليه وسلم على راحلته وابو بكر - رضى الله عنه - رديفه وملا من بني النجار حوله حتى القى بفناء ابي ايوب وكان يصلي حيث ادركته الصلاة فيصلي في مرابض الغنم ثم امر بالمسجد فارسل الى ملا من بني النجار فجاءوا فقال " يا بني النجار ثامنوني بحايطكم هذا " . قالوا والله لا نطلب ثمنه الا الى الله عز وجل . قال انس وكانت فيه قبور المشركين وكانت فيه خرب وكان فيه نخل فامر رسول الله صلى الله عليه وسلم بقبور المشركين فنبشت وبالنخل فقطعت وبالخرب فسويت فصفوا النخل قبلة المسجد وجعلوا عضادتيه الحجارة وجعلوا ينقلون الصخر وهم يرتجزون ورسول الله صلى الله عليه وسلم معهم وهم يقولون اللهم لا خير الا خير الاخرة فانصر الانصار والمهاجرة
ام المؤمنین عائشہ اور ابن عباس رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا وقت آیا تو آپ اپنی چادر چہرہ مبارک پر ڈالتے، اور جب دم گھٹنے لگتا تو چادر اپنے چہرہ سے ہٹا دیتے، اور اس حالت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہود و نصاریٰ پر اللہ کی لعنت ہو، انہوں نے اپنے نبیوں کی قبروں کو سجدہ گاہ بنا لیا ۔
اخبرنا سويد بن نصر، قال انبانا عبد الله بن المبارك، عن معمر، ويونس، قالا قال الزهري اخبرني عبيد الله بن عبد الله، ان عايشة، وابن، عباس قالا لما نزل برسول الله صلى الله عليه وسلم فطفق يطرح خميصة له على وجهه فاذا اغتم كشفها عن وجهه قال وهو كذلك " لعنة الله على اليهود والنصارى اتخذوا قبور انبيايهم مساجد
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ام المؤمنین ام حبیبہ اور ام سلمہ رضی اللہ عنہم دونوں نے ایک کنیسہ ( گرجا گھر ) کا ذکر کیا جسے ان دونوں نے حبشہ میں دیکھا تھا، اس میں تصویریں تھیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ لوگ ایسے تھے کہ جب ان میں کا کوئی صالح آدمی مرتا تو یہ اس کی قبر کو سجدہ گاہ بنا لیتے، اور اس کی مورتیاں بنا کر رکھ لیتے، یہ لوگ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے نزدیک بدترین مخلوق ہوں گے ۔
اخبرنا يعقوب بن ابراهيم، قال حدثنا يحيى، قال حدثنا هشام بن عروة، قال حدثني ابي، عن عايشة، ان ام حبيبة، وام سلمة ذكرتا كنيسة راتاها بالحبشة فيها تصاوير فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ان اوليك اذا كان فيهم الرجل الصالح فمات بنوا على قبره مسجدا وصوروا تيك الصور اوليك شرار الخلق عند الله يوم القيامة
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس وقت بندہ اپنے گھر سے مسجد کی طرف نکلتا ہے تو ایک قدم پر ایک نیکی لکھی جاتی ہے، اور دوسرے قدم پر ایک برائی مٹا دی جاتی ہے ۔
اخبرنا عمرو بن علي، قال حدثنا يحيى، قال حدثنا ابن ابي ذيب، قال حدثنا الاسود بن العلاء بن جارية الثقفي، عن ابي سلمة، - هو ابن عبد الرحمن - عن ابي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " حين يخرج الرجل من بيته الى مسجده فرجل تكتب حسنة ورجل تمحو سيية
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کسی کی بیوی مسجد جانے کی اجازت چاہے تو وہ اسے نہ روکے ۔
حدثنا اسحاق بن ابراهيم، قال انبانا سفيان، عن الزهري، عن سالم، عن ابيه، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اذا استاذنت امراة احدكم الى المسجد فلا يمنعها
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو کوئی اس درخت میں سے کھائے، پہلے دن آپ نے فرمایا لہسن میں سے، پھر فرمایا: لہسن، پیاز اور گندنا میں سے، تو وہ ہماری مسجدوں کے قریب نہ آئے، کیونکہ فرشتے بھی ان چیزوں سے اذیت محسوس کرتے ہیں جن سے انسان اذیت و تکلیف محسوس کرتا ہے ۔
اخبرنا اسحاق بن منصور، قال حدثنا يحيى، عن ابن جريج، قال حدثنا عطاء، عن جابر، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من اكل من هذه الشجرة " . قال اول يوم " الثوم " . ثم قال " الثوم والبصل والكراث فلا يقربنا في مساجدنا فان الملايكة تتاذى مما يتاذى منه الانس