احادیث
#731
سنن نسائی - The Masjids
عبداللہ بن کعب کہتے ہیں کہ میں نے کعب بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ اپنا وہ واقعہ بیان کر رہے تھے جب وہ غزوہ تبوک میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پیچھے رہ گئے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صبح کو تشریف لائے، اور جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم سفر سے واپس آتے تو پہلے مسجد جاتے اور اس میں دو رکعت نماز پڑھتے، پھر لوگوں سے ملنے کے لیے بیٹھتے، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا کر لیا تو جنگ سے پیچھے رہ جانے والے لوگ آپ کے پاس آئے، آپ سے معذرت کرنے لگے، اور آپ کے سامنے قسمیں کھانے لگے، وہ اسّی سے کچھ زائد لوگ تھے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے ظاہری بیان کو قبول کر لیا، اور ان سے بیعت کر لی، اور ان کے لیے مغفرت کی دعا کی، اور ان کے دلوں کے راز کو اللہ عزوجل کے سپرد کر دیا، یہاں تک کہ میں آیا تو جب میں نے سلام کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے دیکھ کر مسکرائے جیسے کوئی غصہ میں مسکراتا ہے، پھر فرمایا: آ جاؤ! چنانچہ میں آ کر آپ کے سامنے بیٹھ گیا ۱؎، تو آپ نے مجھ سے پوچھا: تم کیوں پیچھے رہ گئے تھے؟ کیا تم نے اپنی سواری خرید نہیں لی تھی؟ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! اللہ کی قسم اگر میں آپ کے علاوہ کسی اور کے پاس ہوتا تو میں اس کے غصہ سے اپنے آپ کو یقیناً بچا لیتا، مجھے باتیں بنانی خوب آتی ہے لیکن اللہ کی قسم، میں جانتا ہوں کہ اگر آپ کو خوش کرنے کے لیے میں آج آپ سے جھوٹ موٹ کہہ دوں تو قریب ہے کہ جلد ہی اللہ تعالیٰ آپ کو مجھ سے ناراض کر دے، اور اگر میں آپ سے سچ سچ کہہ دوں تو آپ مجھ پر ناراض تو ہوں گے لیکن مجھے امید ہے کہ اللہ مجھے معاف کر دے گا، اللہ کی قسم جب میں آپ سے پیچھے رہ گیا تھا تو اس وقت میں زیادہ طاقتوراور زیادہ مال والا تھا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: رہا یہ شخص تو اس نے سچ کہا، اٹھو چلے جاؤ یہاں تک کہ اللہ آپ کے بارے میں کوئی فیصلہ کر دے ، چنانچہ میں اٹھ کر چلا آیا، یہ حدیث لمبی ہے یہاں مختصراً منقول ہے۔
اخبرنا سليمان بن داود، قال حدثنا ابن وهب، عن يونس، قال ابن شهاب واخبرني عبد الرحمن بن كعب بن مالك، ان عبد الله بن كعب، قال سمعت كعب بن مالك، يحدث حديثه حين تخلف عن رسول الله صلى الله عليه وسلم في غزوة تبوك قال وصبح رسول الله صلى الله عليه وسلم قادما وكان اذا قدم من سفر بدا بالمسجد فركع فيه ركعتين ثم جلس للناس فلما فعل ذلك جاءه المخلفون فطفقوا يعتذرون اليه ويحلفون له وكانوا بضعا وثمانين رجلا فقبل رسول الله صلى الله عليه وسلم علانيتهم وبايعهم واستغفر لهم ووكل سرايرهم الى الله عز وجل حتى جيت فلما سلمت تبسم تبسم المغضب ثم قال " تعال " . فجيت حتى جلست بين يديه فقال لي " ما خلفك الم تكن ابتعت ظهرك " . فقلت يا رسول الله اني والله لو جلست عند غيرك من اهل الدنيا لرايت اني ساخرج من سخطه ولقد اعطيت جدلا ولكن والله لقد علمت لين حدثتك اليوم حديث كذب لترضى به عني ليوشك ان الله عز وجل يسخطك على ولين حدثتك حديث صدق تجد على فيه اني لارجو فيه عفو الله والله ما كنت قط اقوى ولا ايسر مني حين تخلفت عنك . فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اما هذا فقد صدق فقم حتى يقضي الله فيك " . فقمت فمضيت . مختصر
Metadata
- Edition
- سنن نسائی
- Book
- The Masjids
- Hadith Index
- #731
- Book Index
- 44
Grades
- Abu GhuddahSahih
- Al-AlbaniSahih
- Zubair Ali ZaiSahih - Agreed Upon
