Loading...

Loading...
کتب
۵۲ احادیث
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ علی، مقداد اور عمار رضی اللہ عنہم نے آپس میں بات کی، علی رضی اللہ عنہ نے کہا: میں ایک ایسا آدمی ہوں جسے بہت مذی آتی ہے اور میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ( اس کے بارے میں ) پوچھنے سے شرماتا ہوں، اس لیے کہ آپ کی صاحبزادی میرے عقد نکاح میں ہیں، تو تم دونوں میں سے کوئی آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھے ( عطاء کہتے ہیں: ) ابن عباس رضی اللہ عنہا نے مجھ سے ذکر کیا کہ ان دونوں میں سے ایک نے ( میں اس کا نام بھول گیا ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ مذی ہے، جب تم میں سے کوئی اسے پائے تو اسے اپنے جسم سے دھو لے، اور نماز کے وضو کی طرح وضو کرے ، راوی کو شک ہے «وضوئه للصلاة» کہا یا «كوضوء الصلاة» کہا۔
اخبرنا علي بن ميمون، قال حدثنا مخلد بن يزيد، عن ابن جريج، عن عطاء، عن ابن عباس، قال تذاكر علي والمقداد وعمار فقال علي اني امرو مذاء واني استحي ان اسال رسول الله صلى الله عليه وسلم لمكان ابنته مني فيساله احدكما فذكر لي ان احدهما ونسيته ساله فقال النبي صلى الله عليه وسلم " ذاك المذى اذا وجده احدكم فليغسل ذلك منه وليتوضا وضوءه للصلاة او كوضوء الصلاة
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں ایک ایسا آدمی تھا جسے بہت مذی آتی تھی، تو میں نے ایک آدمی کو حکم دیا، تو اس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس میں وضو ہے ۔
اخبرنا محمد بن حاتم قال: حدثنا عبيدة قال: حدثنا سليمان الاعمش عن حبيب بن ابي ثابت عن سعيد بن جبير عن ابن عباس عن علي رضي الله عنه قال: كنت رجلا مذاء فامرت رجلا فسال النبي صلى الله عليه وسلم فقال: «فيه الوضوء»
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں مذی کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھنے میں فاطمہ رضی اللہ عنہا کی وجہ سے شرما رہا تھا، تو میں نے مقداد کو حکم دیا، انہوں نے پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس میں وضو ہے ۔
اخبرنا محمد بن عبد الاعلى، قال حدثنا خالد بن الحارث، قال حدثنا شعبة، قال اخبرني سليمان الاعمش، قال سمعت منذرا، عن محمد بن علي، عن علي، - رضى الله عنه - قال استحييت ان اسال رسول الله صلى الله عليه وسلم عن المذى من اجل فاطمة فامرت المقداد فساله فقال " فيه الوضوء
علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے مقداد کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بھیجا کہ وہ ( جا کر ) آپ سے مذی کے متعلق پوچھیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وضو کر لو، اور اپنی شرمگاہ پر پانی چھڑک لو ۔
اخبرنا احمد بن عيسى عن ابن وهب وذكر كلمة معناها اخبرني مخرمة بن بكير عن ابيه عن سليمان بن يسار عن ابن عباس قال: قال علي رضي الله عنه ارسلت المقداد الى رسول الله صلى الله عليه وسلم يساله عن المذي فقال: «توضا وانضح فرجك». قال ابو عبد الرحمن: مخرمة لم يسمع من ابيه شييا
سلیمان بن یسار کہتے ہیں کہ علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے مقداد کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بھیجا کہ وہ آپ سے اس آدمی کے بارے میں پوچھیں جو مذی پاتا ہو، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ اپنی شرمگاہ دھو لے، پھر وضو کر لے ۔
اخبرنا سويد بن نصر، قال انبانا عبد الله، عن ليث بن سعد، عن بكير بن الاشج، عن سليمان بن يسار، قال ارسل علي بن ابي طالب - رضى الله عنه - المقداد الى رسول الله صلى الله عليه وسلم يساله عن الرجل يجد المذى فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " يغسل ذكره ثم ليتوضا
مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ علی رضی اللہ عنہ نے انہیں حکم دیا کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس آدمی کے متعلق پوچھیں کہ جب وہ عورت سے قریب ہوتا ہو تو اسے مذی نکل آتی ہو، چونکہ میرے عقد نکاح میں آپ کی صاحبزادی ہیں اس لیے میں پوچھنے سے شرما رہا ہوں، تو انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے متعلق پوچھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی اسے پائے تو اسے چاہیئے کہ اپنی شرمگاہ پر پانی چھڑک لے، اور اپنی نماز کے وضو کی طرح وضو کر لے ۔
اخبرنا عتبة بن عبد الله، قال قري على مالك وانا اسمع، عن ابي النضر، عن سليمان بن يسار، عن المقداد بن الاسود، عن علي بن ابي طالب، رضى الله عنه امره ان يسال رسول الله صلى الله عليه وسلم عن الرجل اذا دنا من المراة فخرج منه المذى فان عندي ابنته وانا استحيي ان اساله . فسال رسول الله صلى الله عليه وسلم عن ذلك فقال " اذا وجد احدكم ذلك فلينضح فرجه وليتوضا وضوءه للصلاة
سعید بن مسیب کہتے ہیں: مجھ سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی رات میں اٹھے تو اپنا ہاتھ برتن میں داخل نہ کرے، یہاں تک کہ دو یا تین مرتبہ اس پر پانی ڈال لے، کیونکہ وہ نہیں جانتا کہ اس کا ہاتھ رات میں کہاں کہاں رہا ۔
اخبرنا عمران بن يزيد، قال حدثنا اسماعيل بن عبد الله، قال حدثنا الاوزاعي، قال حدثنا محمد بن مسلم الزهري، قال حدثني سعيد بن المسيب، قال حدثني ابو هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اذا قام احدكم من الليل فلا يدخل يده في الاناء حتى يفرغ عليها مرتين او ثلاثا فان احدكم لا يدري اين باتت يده
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک رات نماز پڑھی تو میں ( جا کر ) آپ کے بائیں جانب کھڑا ہو گیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اپنی داہنی طرف کر لیا، اور نماز ادا کی، پھر لیٹے اور سو گئے اتنے میں مؤذن آپ کے پاس آیا ( اس نے آپ کو جگایا ) تو آپ نے ( جا کر ) نماز پڑھی، اور وضو نہیں کیا روایت مختصر ہے۔
اخبرنا قتيبة، قال حدثنا داود، عن عمرو، عن كريب، عن ابن عباس، قال صليت مع النبي صلى الله عليه وسلم ذات ليلة فقمت عن يساره فجعلني عن يمينه فصلى ثم اضطجع ورقد فجاءه الموذن فصلى ولم يتوضا مختصر
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی اپنی نماز میں اونگھے تو وہ لوٹ جائے، اور ( جا کر ) سو جائے ۱؎۔
اخبرنا يعقوب بن ابراهيم، قال حدثنا محمد بن عبد الرحمن الطفاوي، قال حدثنا ايوب، عن ابي قلابة، عن انس، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " اذا نعس احدكم في صلاته فلينصرف وليرقد
بسرۃ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو اپنا ذکر ( عضو تناسل ) چھوئے، تو چاہیئے کہ وہ وضو کرے ۔
اخبرنا قتيبة، عن سفيان، عن عبد الله، - يعني ابن ابي بكر - قال على اثره قال ابو عبد الرحمن ولم اتقنه عن عروة، عن بسرة، قالت قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من مس فرجه فليتوضا
بسرہ بنت صفوان رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی اپنا ہاتھ اپنے ذکر ( عضو تناسل ) تک لے جائے ( چھوئے ) تو چاہیئے کہ وہ وضو کرے ۔
اخبرنا عمران بن موسى، قال حدثنا محمد بن سواء، عن شعبة، عن معمر، عن الزهري، عن عروة بن الزبير، عن بسرة بنت صفوان، ان النبي صلى الله عليه وسلم قال " اذا افضى احدكم بيده الى فرجه فليتوضا
عروہ بن زبیر مروان بن حکم سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا: شرمگاہ چھونے پر وضو ہے، تو مروان نے کہا: مجھ سے اسے بسرہ بنت صفوان نے بیان کیا ہے، تو عروہ نے بسرہ کے پاس ( اس کی تصدیق کے لیے آدمی ) بھیجا، تو انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان چیزوں کا ذکر کیا جن سے وضو کیا جاتا ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ذکر چھونے سے بھی وضو ہے ۔
اخبرنا قتيبة، قال حدثنا الليث، عن ابن شهاب، عن عروة بن الزبير، عن مروان بن الحكم، انه قال الوضوء من مس الذكر فقال مروان اخبرتنيه بسرة بنت صفوان . فارسل عروة قالت ذكر رسول الله صلى الله عليه وسلم ما يتوضا منه فقال " من مس الذكر
بسرہ بنت صفوان رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو اپنا ذکر ( عضو تناسل ) چھوئے، تو نماز نہ پڑھے یہاں تک کہ وضو کر لے ۔ ابوعبدالرحمٰن ( امام نسائی ) کہتے ہیں: ہشام بن عروہ نے اس حدیث ۱؎ کو اپنے باپ سے نہیں سنا ہے، «واللہ سبحانہ تعالیٰ اعلم»۔
اخبرنا اسحاق بن منصور، قال حدثنا يحيى بن سعيد، عن هشام بن عروة، قال اخبرني ابي، عن بسرة بنت صفوان، ان النبي صلى الله عليه وسلم قال " من مس ذكره فلا يصلي حتى يتوضا " . قال ابو عبد الرحمن هشام بن عروة لم يسمع من ابيه هذا الحديث والله سبحانه وتعالى اعلم