Loading...

Loading...
کتب
۵۲ احادیث
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کوئی ٹھہرے ہوئے پانی میں غسل نہ کرے، اور وہ جنبی ہو ۔
اخبرنا سليمان بن داود، والحارث بن مسكين، قراءة عليه وانا اسمع، عن ابن وهب، عن عمرو بن الحارث، عن بكير، ان ابا السايب، حدثه انه، سمع ابا هريرة، يقول قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لا يغتسل احدكم في الماء الدايم وهو جنب
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آدمی ٹھہرے ہوئے پانی میں ہرگز پیشاب نہ کرے، پھر اسی سے غسل یا وضو کرے ۔
اخبرنا محمد بن حاتم، قال حدثنا حبان، قال حدثنا عبد الله، عن معمر، عن همام بن منبه، عن ابي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " لا يبولن الرجل في الماء الدايم ثم يغتسل منه او يتوضا
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا کہ ٹھہرے ہوئے پانی میں پیشاب کیا جائے پھر اس میں جنابت کا غسل کیا جائے۔
اخبرنا احمد بن صالح البغدادي، قال حدثنا يحيى بن محمد، قال حدثني ابن عجلان، عن ابي الزناد، عن الاعرج، عن ابي هريرة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم نهى ان يبال في الماء الدايم ثم يغتسل فيه من الجنابة
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا: ٹھہرے ہوئے پانی میں پیشاب کیا جائے، پھر اسی سے غسل کیا جائے۔
اخبرنا محمد بن عبد الله بن يزيد، عن سفيان، عن ابي الزناد، عن موسى بن ابي عثمان، عن ابيه، عن ابي هريرة، ان النبي صلى الله عليه وسلم نهى ان يبال في الماء الراكد ثم يغتسل منه
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ تم میں سے کوئی ٹھہرے ہوئے پانی میں جو بہتا نہ ہو ہرگز پیشاب نہ کرے، پھر اسی سے غسل بھی کرے۔
اخبرنا قتيبة، قال حدثنا سفيان، عن ايوب، عن ابن سيرين، عن ابي هريرة، قال لا يبولن احدكم في الماء الدايم الذي لا يجري ثم يغتسل منه . قال سفيان قالوا لهشام - يعني ابن حسان - ان ايوب انما ينتهي بهذا الحديث الى ابي هريرة فقال ان ايوب لو استطاع ان لا يرفع حديثا لم يرفعه
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہو بغیر تہبند کے حمام میں داخل نہ ہو ۔
اخبرنا اسحاق بن ابراهيم، قال حدثنا معاذ بن هشام، قال حدثني ابي، عن عطاء، عن ابي الزبير، عن جابر، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " من كان يومن بالله واليوم الاخر فلا يدخل الحمام الا بميزر
عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم دعا کرتے تھے کہ اے اللہ! مجھے گناہوں اور خطاؤں سے پاک کر دے، اے اللہ! مجھے اس سے اسی طرح پاک کر دے جیسے سفید کپڑا میل سے پاک کیا جاتا ہے، اے اللہ! مجھے برف، اولے اور ٹھنڈے پانی کے ذریعہ پاک کر دے ۔
اخبرنا محمد بن ابراهيم، قال حدثنا بشر بن المفضل، قال حدثنا شعبة، عن مجزاة بن زاهر، انه سمع عبد الله بن ابي اوفى، يحدث عن النبي صلى الله عليه وسلم انه كان يدعو " اللهم طهرني من الذنوب والخطايا اللهم نقني منها كما ينقى الثوب الابيض من الدنس اللهم طهرني بالثلج والبرد والماء البارد
ابن ابی اوفی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: اے اللہ! مجھے برف، اولے اور ٹھنڈے پانی کے ذریعہ پاک کر دے، اے اللہ! مجھے گناہوں سے اسی طرح پاک کر دے جس طرح سفید کپڑے کو میل سے پاک کیا جاتا ہے ۔
اخبرنا محمد بن يحيى بن محمد، حدثنا محمد بن موسى، قال حدثنا ابراهيم بن يزيد، عن رقبة، عن مجزاة الاسلمي، عن ابن ابي اوفى، قال كان النبي صلى الله عليه وسلم يقول " اللهم طهرني بالثلج والبرد والماء البارد اللهم طهرني من الذنوب كما يطهر الثوب الابيض من الدنس
عبداللہ بن ابوقیس کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا کہ حالت جنابت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیسے سوتے تھے؟ کیا آپ سونے سے پہلے غسل کرتے تھے یا غسل سے پہلے سوتے تھے؟ انہوں نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ سب کرتے تھے، کبھی غسل کر کے سوتے اور کبھی ( صرف ) وضو کر کے سو جاتے۔
اخبرنا شعيب بن يوسف، قال حدثنا عبد الرحمن بن مهدي، عن معاوية بن صالح، عن عبد الله بن ابي قيس، قال سالت عايشة كيف كان نوم رسول الله صلى الله عليه وسلم في الجنابة ايغتسل قبل ان ينام او ينام قبل ان يغتسل قالت كل ذلك قد كان يفعل ربما اغتسل فنام وربما توضا فنام
غضیف بن حارث کہتے ہیں کہ میں ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آیا، تو میں نے ان سے سوال کیا اور کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات کے ابتدائی حصہ میں غسل کرتے تھے یا آخری حصے میں؟ تو انہوں نے کہا: دونوں طرح سے ( کرتے تھے ) ، کبھی رات کے ابتدائی حصہ میں غسل کرتے، اور کبھی آخری حصہ میں، اس پر میں نے کہا: اس اللہ کی تعریف ہے جس نے شریعت مطہرہ والے معاملہ کے اندر گنجائش رکھی ہے۔
اخبرنا يحيى بن حبيب بن عربي، قال حدثنا حماد، عن برد، عن عبادة بن نسى، عن غضيف بن الحارث، قال دخلت على عايشة فسالتها فقلت اكان رسول الله صلى الله عليه وسلم يغتسل من اول الليل او من اخره قالت كل ذلك كان ربما اغتسل من اوله وربما اغتسل من اخره . قلت الحمد لله الذي جعل في الامر سعة
یعلیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کو کھلی جگہ غسل کرتے دیکھا تو منبر پر چڑھے، اور اللہ کی حمد و ثنا بیان کی اور فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ «حلیم» بردبار ، «حیی» باحیاء اور «ستر» پردہ پوشی پسند فرمانے والا ہے، حیاء اور پردہ پوشی کو پسند کرتا ہے، تو جب تم میں سے کوئی غسل کرے تو پردہ کر لے ۔
اخبرني ابراهيم بن يعقوب، قال حدثنا النفيلي، قال حدثنا زهير، قال حدثنا عبد الملك، عن عطاء، عن يعلى، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم راى رجلا يغتسل بالبراز فصعد المنبر فحمد الله واثنى عليه وقال " ان الله عز وجل حليم حيي ستير يحب الحياء والستر فاذا اغتسل احدكم فليستتر
یعلیٰ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بیشک اللہ عزوجل «ستر» پردہ پوشی کرنے والا ہے، تو جب تم میں سے کوئی غسل کرنا چاہے تو کسی چیز سے پردہ کر لے ۔
اخبرنا ابو بكر بن اسحاق، قال حدثنا الاسود بن عامر، قال حدثنا ابو بكر بن عياش، عن عبد الملك بن ابي سليمان، عن عطاء، عن صفوان بن يعلى، عن ابيه، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ان الله عز وجل ستير فاذا اراد احدكم ان يغتسل فليتوار بشىء
ام المؤمنین میمونہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے پانی رکھا، پھر میں نے آپ کے لیے پردہ کیا، پھر آپ نے غسل کا ذکر کیا، پھر میں آپ کے پاس ایک کپڑا لے کر آئی تو آپ نے اسے نہیں ( لینا ) چاہا۔
اخبرنا قتيبة، قال حدثنا عبيدة، عن الاعمش، عن سالم، عن كريب، عن ابن عباس، عن ميمونة، قالت وضعت لرسول الله صلى الله عليه وسلم ماء - قالت - فسترته فذكرت الغسل قالت ثم اتيته بخرقة فلم يردها
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایوب علیہ السلام ننگے غسل کر رہے تھے ۱؎ کہ اسی دوران ان کے اوپر سونے کی ٹڈی گری، تو وہ اسے اپنے کپڑے میں سمیٹنے لگے، تو اللہ عزوجل نے انہیں آواز دی: ایوب! کیا میں نے تمہیں بے نیاز نہیں کیا ہے؟ انہوں نے کہا: ہاں، کیوں نہیں میرے رب! لیکن تیری برکتوں سے میں بے نیاز نہیں ہو سکتا ۔
اخبرنا احمد بن حفص بن عبد الله، قال حدثني ابي قال، حدثني ابراهيم، عن موسى بن عقبة، عن صفوان بن سليم، عن عطاء بن يسار، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " بينما ايوب عليه الصلاة والسلام يغتسل عريانا خر عليه جراد من ذهب فجعل يحثي في ثوبه قال فناداه ربه عز وجل يا ايوب الم اكن اغنيتك قال بلى يا رب ولكن لا غنى بي عن بركاتك
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک برتن سے جس کا نام فرق تھا غسل کرتے تھے، اور میں اور آپ دونوں ایک ہی برتن سے غسل کرتے تھے۔
اخبرنا القاسم بن زكريا بن دينار، قال حدثني اسحاق بن منصور، عن ابراهيم بن سعد، عن الزهري، عن القاسم بن محمد، عن عايشة، قالت كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يغتسل في الاناء وهو الفرق وكنت اغتسل انا وهو من اناء واحد
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور میں دونوں ایک ہی برتن سے غسل کرتے تھے، ہم اس سے لپ ( بھربھر کر ) لیتے تھے۔
اخبرنا سويد بن نصر، قال حدثنا عبد الله، عن هشام، ح واخبرنا قتيبة، عن مالك، عن هشام بن عروة، عن ابيه، عن عايشة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم كان يغتسل وانا من اناء واحد نغترف منه جميعا . وقال سويد قالت كنت انا
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دونوں ایک برتن سے غسل جنابت کرتے تھے۔
اخبرنا محمد بن عبد الاعلى، قال حدثنا خالد، قال حدثنا شعبة، قال اخبرني عبد الرحمن بن القاسم، قال سمعت القاسم، يحدث عن عايشة، قالت كنت اغتسل انا ورسول الله، صلى الله عليه وسلم من اناء واحد من الجنابة
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے اپنے آپ کو دیکھا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے برتن کے سلسلے میں کھینچا تانی کر رہی ہوں، میں اور آپ دونوں اسی سے غسل کر رہے تھے۔
اخبرنا قتيبة بن سعيد، قال حدثنا عبيدة بن حميد، عن منصور، عن ابراهيم، عن الاسود، عن عايشة، قالت لقد رايتني انازع رسول الله صلى الله عليه وسلم الاناء اغتسل انا وهو منه
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دونوں ایک برتن سے غسل کرتے تھے، میں چاہتی کہ آپ سے پہلے میں نہا لوں اور آپ چاہتے کہ مجھ سے پہلے آپ نہا لیں یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے: تم میرے لیے چھوڑ دو ، اور میں کہتی: آپ میرے لیے چھوڑ دیجئیے۔
اخبرنا محمد بن بشار، عن محمد، حدثنا شعبة، عن عاصم، ح واخبرنا سويد بن نصر، قال انبانا عبد الله، عن عاصم، عن معاذة، عن عايشة، قالت كنت اغتسل انا ورسول الله، صلى الله عليه وسلم من اناء واحد ابادره ويبادرني حتى يقول " دعي لي " . واقول انا دع لي . قال سويد يبادرني وابادره فاقول دع لي دع لي
ام ہانی رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ وہ فتح مکہ کے دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں، آپ ایک ٹب سے غسل کر رہے تھے جس میں گندھا ہوا آٹا لگا تھا، اور آپ کو ( فاطمہ رضی اللہ عنہا ۱؎ ) کپڑا سے پردہ کیے ہوئے تھیں، تو جب آپ غسل کر چکے، تو آپ نے چاشت کی نماز پڑھی، اور میں نہیں جان سکی کہ آپ نے کتنی رکعت پڑھی۔
اخبرنا محمد بن يحيى بن محمد، قال حدثنا محمد بن موسى بن اعين، قال حدثنا ابي، عن عبد الملك بن ابي سليمان، عن عطاء، قال حدثتني ام هاني، انها دخلت على النبي صلى الله عليه وسلم يوم فتح مكة وهو يغتسل قد سترته بثوب دونه في قصعة فيها اثر العجين . قالت فصلى الضحى فما ادري كم صلى حين قضى غسله