Loading...

Loading...
کتب
۵۲ احادیث
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے اپنے آپ کو دیکھا ہے کہ میں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دونوں اس برتن سے غسل کرتے تھے، تو میں نے نظر اٹھا کر دیکھا تو وہاں ایک ڈول رکھا ہوا تھا جو ایک صاع کے برابر تھا، یا اس سے کچھ کم، ( اور وہ اسی کی طرف اشارہ کر رہی تھیں ) ( وہ کہہ رہی تھیں کہ ) ہم دونوں غسل ایک ساتھ شروع کرتے، تو میں اپنے سر پر اپنے ہاتھوں سے تین مرتبہ پانی بہاتی، اور میں اپنا بال نہیں کھولتی تھی۔
اخبرنا سويد بن نصر، قال انبانا عبد الله، عن ابراهيم بن طهمان، عن ابي الزبير، عن عبيد بن عمير، ان عايشة، قالت لقد رايتني اغتسل انا ورسول الله صلى الله عليه وسلم من هذا فاذا تور موضوع مثل الصاع او دونه فنشرع فيه جميعا فافيض على راسي بيدى ثلاث مرات وما انقض لي شعرا
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ میں ( اپنے جسم پر ) تارکول مل لوں یہ میرے لیے زیادہ پسندیدہ ہے اس بات سے کہ میں اس حال میں احرام باندھوں کہ میرے جسم سے خوشبو پھوٹ رہی ہو، تو ( محمد بن منتشر کہتے ہیں ) میں ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آیا، اور میں نے انہیں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم کی یہ بات بتائی تو ام المؤمنین رضی اللہ عنہا نے کہا: میں نے خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خوشبو لگائی تھی، اور آپ نے اپنی بیویوں کا چکر لگایا ۱؎ آپ نے محرم ہو کر صبح کی ( اس وقت آپ کے جسم پر خوشبو کا اثر باقی تھا ) ۔
حدثنا هناد بن السري، عن وكيع، عن مسعر، وسفيان، عن ابراهيم بن محمد بن المنتشر، عن ابيه، قال سمعت ابن عمر، يقول لان اصبح مطليا بقطران احب الى من ان اصبح محرما انضخ طيبا . فدخلت على عايشة فاخبرتها بقوله فقالت طيبت رسول الله صلى الله عليه وسلم فطاف على نسايه ثم اصبح محرما
ام المؤمنین میمونہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی نماز کے وضو کی طرح وضو کیا، البتہ اپنے دونوں پاؤں نہیں دھوئے، اور ( وضو سے پہلے ) آپ نے اپنی شرمگاہ اور اس پر لگی ہوئی گندگی دھوئی، پھر اپنے جسم پر پانی بہایا، پھر اپنے دونوں پاؤں کو ہٹایا اور انہیں دھویا، یہی ( آپ کے ) غسل جنابت کا طریقہ تھا۔
اخبرنا محمد بن علي، قال حدثنا محمد بن يوسف، قال حدثنا سفيان، عن الاعمش، عن سالم، عن كريب، عن ابن عباس، عن ميمونة، قالت توضا رسول الله صلى الله عليه وسلم وضوءه للصلاة غير رجليه وغسل فرجه وما اصابه ثم افاض عليه الماء ثم نحى رجليه فغسلهما . قالت هذه غسلة للجنابة
ام المؤمنین میمونہ بنت حارث رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب غسل جنابت کرتے تو پہلے اپنے دونوں ہاتھ دھوتے، پھر اپنے داہنے ہاتھ سے بائیں ہاتھ پر پانی ڈالتے، اور اپنی شرمگاہ دھوتے، پھر زمین پر اپنا ہاتھ مارتے، پھر اسے ملتے، پھر دھوتے، پھر نماز کے وضو کی طرح وضو کرتے، پھر اپنے سر اور باقی جسم پر پانی ڈالتے، پھر وہاں سے ہٹ کر اپنے دونوں پاؤں دھوتے۔
اخبرنا محمد بن العلاء، قال حدثنا ابو معاوية، عن الاعمش، عن سالم بن ابي الجعد، عن كريب، عن ابن عباس، عن ميمونة بنت الحارث، زوج النبي صلى الله عليه وسلم قالت كان رسول الله صلى الله عليه وسلم اذا اغتسل من الجنابة يبدا فيغسل يديه ثم يفرغ بيمينه على شماله فيغسل فرجه ثم يضرب بيده على الارض ثم يمسحها ثم يغسلها ثم يتوضا وضوءه للصلاة ثم يفرغ على راسه وعلى ساير جسده ثم يتنحى فيغسل رجليه
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب غسل جنابت کرتے تو اپنے دونوں ہاتھ دھوتے، پھر نماز کے وضو کی طرح وضو کرتے، پھر غسل کرتے، پھر ہاتھ سے اپنے بال کا خلال کرتے، یہاں تک کہ جب آپ جان لیتے کہ اپنی کھال تر کر لی ہے تو اس پر تین مرتبہ پانی بہاتے، پھر اپنے تمام جسم کو دھوتے۔
اخبرنا سويد بن نصر، قال انبانا عبد الله، عن هشام بن عروة، عن ابيه، عن عايشة، انها قالت كان رسول الله صلى الله عليه وسلم اذا اغتسل من الجنابة غسل يديه ثم توضا وضوءه للصلاة ثم اغتسل ثم يخلل بيده شعره حتى اذا ظن انه قد اروى بشرته افاض عليه الماء ثلاث مرات ثم غسل ساير جسده
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم طہارت میں، جوتا پہننے میں، اور کنگھا کرنے میں جہاں تک ہو سکتا تھا داہنے کو پسند فرماتے۔
اخبرنا سويد بن نصر، قال انبانا عبد الله، عن شعبة، عن الاشعث بن ابي الشعثاء، عن ابيه، عن مسروق، عن عايشة، قالت كان النبي صلى الله عليه وسلم يحب التيمن ما استطاع في طهوره وتنعله وترجله وقال بواسط في شانه كله
ام المؤمنین عائشہ اور ابن عمر رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ عمر رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے غسل جنابت کے متعلق سوال کیا، اس جگہ دونوں احادیث ( عائشہ رضی اللہ عنہا اور ابن عمر رضی اللہ عنہما کی ) متفق ہو جاتی ہیں کہ آپ ( غسل ) شروع کرتے تو پہلے اپنے داہنے ہاتھ پر دو یا تین بار پانی ڈالتے، پھر اپنا داہنا ہاتھ برتن میں داخل کرتے، اس سے اپنی شرمگاہ پر پانی ڈالتے، اور آپ کا بایاں ہاتھ شرمگاہ پر ہوتا، تو جو گندگی وہاں ہوتی دھوتے یہاں تک کہ اسے صاف کر دیتے، پھر اگر چاہتے تو بایاں ہاتھ مٹی پر ملتے، پھر اس پر پانی بہا کر صاف کر لیتے، پھر اپنے دونوں ہاتھ تین بار دھوتے، ناک میں پانی ڈالتے، کلی کرتے اور اپنا چہرہ اور دونوں بازووں تین تین مرتبہ دھوتے، یہاں تک کہ جب اپنے سر کے پاس پہنچتے تو اس کا مسح نہیں کرتے، اس کے اوپر پانی بہا لیتے، تو اسی طرح جیسا کہ ذکر کیا گیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا غسل ( جنابت ) ہوتا تھا۔
اخبرنا عمران بن يزيد بن خالد، قال حدثنا اسماعيل بن عبد الله، - هو ابن سماعة - قال انبانا الاوزاعي، عن يحيى بن ابي كثير، عن ابي سلمة، عن عايشة، وعن عمرو بن سعد، عن نافع، عن ابن عمر، ان عمر، سال رسول الله صلى الله عليه وسلم عن الغسل من الجنابة واتسقت الاحاديث على هذا يبدا فيفرغ على يده اليمنى مرتين او ثلاثا ثم يدخل يده اليمنى في الاناء فيصب بها على فرجه ويده اليسرى على فرجه فيغسل ما هنالك حتى ينقيه ثم يضع يده اليسرى على التراب ان شاء ثم يصب على يده اليسرى حتى ينقيها ثم يغسل يديه ثلاثا ويستنشق ويمضمض ويغسل وجهه وذراعيه ثلاثا ثلاثا حتى اذا بلغ راسه لم يمسح وافرغ عليه الماء فهكذا كان غسل رسول الله صلى الله عليه وسلم فيما ذكر
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب غسل جنابت کرتے تو اپنے دونوں ہاتھ دھوتے، پھر اپنی نماز کے وضو کی طرح وضو کرتے، پھر اپنی انگلیوں کے ذریعہ سر کا خلال کرتے یہاں تک کہ جب آپ کو یہ محسوس ہو جاتا کہ سر کی پوری جلد تک پانی پہنچا لیا ہے، تو اپنے سر پر تین لپ پانی ڈالتے، پھر پورے جسم کو دھوتے۔
اخبرنا علي بن حجر، قال حدثنا علي بن مسهر، عن هشام بن عروة، عن ابيه، عن عايشة، قالت كان رسول الله صلى الله عليه وسلم اذا اغتسل من الجنابة غسل يديه ثم توضا وضوءه للصلاة ثم يخلل راسه باصابعه حتى اذا خيل اليه انه قد استبرا البشرة غرف على راسه ثلاثا ثم غسل ساير جسده
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب غسل جنابت کرتے تو دودھ دوہنے کے برتن ۱؎ کی طرح ایک برتن منگاتے، اور اس سے اپنے لپ سے پانی لیتے اور اپنے سر کے داہنے حصہ سے شروع کرتے، پھر بائیں سے، پھر اپنے دونوں لپ سے پانی لیتے، اور انہیں سے اپنے سر پر ڈالتے۔
اخبرنا محمد بن المثنى، قال حدثنا الضحاك بن مخلد، عن حنظلة بن ابي سفيان، عن القاسم، عن عايشة، قالت كان رسول الله صلى الله عليه وسلم اذا اغتسل من الجنابة دعا بشىء نحو الحلاب فاخذ بكفه بدا بشق راسه الايمن ثم الايسر ثم اخذ بكفيه فقال بهما على راسه
جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے غسل ( جنابت ) کا ذکر کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: رہا میں تو میں اپنے سر پر تین مرتبہ پانی ڈالتا ہوں ۔
اخبرنا عبيد الله بن سعيد، عن يحيى، عن شعبة، قال حدثنا ابو اسحاق، ح وانبانا سويد بن نصر، قال حدثنا عبد الله، عن شعبة، عن ابي اسحاق، قال سمعت سليمان بن صرد، يحدث عن جبير بن مطعم، ان النبي صلى الله عليه وسلم ذكر عنده الغسل فقال " اما انا فافرغ على راسي ثلاثا " . لفظ سويد
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب غسل کرتے تو اپنے سر پر تین مرتبہ پانی بہاتے۔
اخبرنا محمد بن عبد الاعلى، قال حدثنا خالد، عن شعبة، عن مخول، عن ابي جعفر، عن جابر، قال كان رسول الله صلى الله عليه وسلم اذا اغتسل افرغ على راسه ثلاثا
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ایک عورت نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا: اللہ کے رسول! میں طہارت کے وقت کیسے غسل کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم مشک کا ایک پھاہا لو، اور اس سے پاکی حاصل کرو ، اس نے کہا: میں اس سے کیسے پاکی حاصل کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس سے پاکی حاصل کرو ، اس نے ( پھر ) عرض کیا: میں اس سے کیسے پاکی حاصل کروں؟ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سبحان اللہ کہا، اور اس سے اپنا رخ مبارک پھیر لیا، عائشہ رضی اللہ عنہا اس بات کو سمجھ گئیں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بتانا چاہ رہے تھے، آپ کہتی ہیں: تو میں نے اسے پکڑ کر اپنی طرف کھینچ لیا، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جو چاہ رہے تھے اسے بتایا ۔
اخبرنا الحسن بن محمد، قال حدثنا عفان، قال حدثنا وهيب، قال حدثنا منصور بن عبد الرحمن، عن امه، صفية بنت شيبة عن عايشة، ان امراة، سالت النبي صلى الله عليه وسلم قالت يا رسول الله كيف اغتسل عند الطهور قال " خذي فرصة ممسكة فتوضيي بها " . قالت كيف اتوضا بها قال " توضيي بها " . قالت كيف اتوضا بها قالت ثم ان رسول الله صلى الله عليه وسلم سبح واعرض عنها ففطنت عايشة لما يريد رسول الله صلى الله عليه وسلم قالت فاخذتها وجبذتها الى فاخبرتها بما يريد رسول الله صلى الله عليه وسلم
ام المؤمنین میمونہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جنابت کا غسل کیا، تو آپ نے اپنی شرمگاہ کو دھویا، اور زمین یا دیوار پر اپنا ہاتھ رگڑا، پھر نماز کے وضو کی طرح وضو کیا، پھر اپنے سر اور پورے جسم پر پانی بہایا ۱؎۔
اخبرنا اسحاق بن ابراهيم، قال انبانا جرير، عن الاعمش، عن سالم بن ابي الجعد، عن كريب، عن ابن عباس، عن ميمونة، زوج النبي صلى الله عليه وسلم قالت اغتسل النبي صلى الله عليه وسلم من الجنابة فغسل فرجه ودلك يده بالارض او الحايط ثم توضا وضوءه للصلاة ثم افاض على راسه وساير جسده
محمد (باقر) کہتے ہیں: ہم لوگ جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہم کے پاس آئے، اور ہم نے ان سے حجۃ الوداع کے متعلق دریافت کیا، تو انہوں نے ہم سے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پچیس ذی قعدہ کو ( مدینہ سے ) نکلے، ہم آپ کے ساتھ تھے، یہاں تک کہ جب آپ ذوالحلیفہ آئے تو اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا نے محمد بن ابوبکر کو جنا، تو انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھوایا کہ میں کیا کروں؟ آپ نے فرمایا: تم غسل کر لو، پھر لنگوٹ باندھ لو، پھر ( احرام باندھ کر ) لبیک پکارو ۔
اخبرنا عمرو بن علي، ومحمد بن المثنى، ويعقوب بن ابراهيم، - واللفظ له - قالوا حدثنا يحيى بن سعيد، قال حدثنا جعفر بن محمد، قال حدثني ابي قال، اتينا جابر بن عبد الله فسالناه عن حجة الوداع، فحدثنا ان رسول الله صلى الله عليه وسلم خرج لخمس بقين من ذي القعدة . وخرجنا معه حتى اذا اتى ذا الحليفة ولدت اسماء بنت عميس محمد بن ابي بكر فارسلت الى رسول الله صلى الله عليه وسلم كيف اصنع فقال " اغتسلي ثم استثفري ثم اهلي
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غسل کے بعد وضو نہیں کرتے تھے۔
اخبرنا احمد بن عثمان بن حكيم، قال حدثنا ابي، حدثنا حسن، عن ابي اسحاق، ح وانبانا عمرو بن علي، قال حدثنا عبد الرحمن، قال حدثنا شريك، عن ابي اسحاق، عن الاسود، عن عايشة، قالت كان رسول الله صلى الله عليه وسلم لا يتوضا بعد الغسل
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خوشبو لگاتی تھی، پھر آپ اپنی بیویوں کے پاس جاتے ۱؎ پھر آپ محرم ہو کر صبح کرتے، اور آپ کے جسم سے خوشبو پھوٹتی ہوتی ۲؎۔
اخبرنا حميد بن مسعدة، عن بشر، - وهو ابن المفضل - قال حدثنا شعبة، عن ابراهيم بن محمد، عن ابيه، قال قالت عايشة كنت اطيب رسول الله صلى الله عليه وسلم فيطوف على نسايه ثم يصبح محرما ينضخ طيبا
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے پانچ چیزیں ایسی دی گئی ہیں جو مجھ سے پہلے کسی کو نہیں دی گئیں ۱؎: ایک مہینہ کی مسافت پر رعب کے ذریعہ میری مدد کی گئی ہے ۲؎، میرے لیے پوری روئے زمین مسجد اور پاکی کا ذریعہ بنا دی گئی ہے، تو میری امت کا کوئی فرد جہاں بھی نماز کا وقت پا لے، نماز پڑھ لے، اور مجھے شفاعت ( عظمیٰ ) عطا کی گئی ہے، یہ چیز مجھ سے پہلے کسی نبی کو نہیں دی گئی، اور میں سارے انسانوں کی طرف ( رسول بنا کر ) بھیجا گیا ہوں، اور ( مجھ سے پہلے ) نبی خاص اپنی قوم کے لیے بھیجے جاتے تھے ۔
اخبرنا الحسن بن اسماعيل بن سليمان، قال حدثنا هشيم، قال انبانا سيار، عن يزيد الفقير، عن جابر بن عبد الله، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اعطيت خمسا لم يعطهن احد قبلي نصرت بالرعب مسيرة شهر وجعلت لي الارض مسجدا وطهورا فاينما ادرك الرجل من امتي الصلاة يصلي واعطيت الشفاعة ولم يعط نبي قبلي وبعثت الى الناس كافة وكان النبي يبعث الى قومه خاصة
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ دو آدمیوں نے تیمم کر کے نماز پڑھ لی، پھر انہیں وقت کے اندر ہی پانی مل گیا، تو ان میں سے ایک شخص نے وضو کر کے وقت کے اندر نماز دوبارہ پڑھ لی، اور دوسرے نے نماز نہیں دہرائی، ان دونوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے متعلق سوال کیا، تو آپ نے اس شخص سے جس نے نماز نہیں لوٹائی تھی فرمایا: تم نے سنت کے موافق عمل کیا، اور تمہاری نماز تمہیں کفایت کر گئی ، اور دوسرے سے فرمایا: رہے تم تو تمہارے لیے دوہرا اجر ہے ۔
اخبرنا مسلم بن عمرو بن مسلم، قال حدثني ابن نافع، عن الليث بن سعد، عن بكر بن سوادة، عن عطاء بن يسار، عن ابي سعيد، ان رجلين، تيمما وصليا ثم وجدا ماء في الوقت فتوضا احدهما وعاد لصلاته ما كان في الوقت ولم يعد الاخر فسالا النبي صلى الله عليه وسلم فقال للذي لم يعد " اصبت السنة واجزاتك صلاتك " . وقال للاخر " اما انت فلك مثل سهم جمع
عطا بن یسار سے روایت ہے کہ دو آدمیوں نے ….، پھر یہی حدیث بیان کی۔
اخبرنا سويد بن نصر، قال حدثنا عبد الله، عن ليث بن سعد، قال حدثني عميرة، وغيره، عن بكر بن سوادة، عن عطاء بن يسار، ان رجلين، وساق الحديث،
طارق بن شہاب سے روایت ہے کہ ایک شخص جنبی ہو گیا، تو اس نے نماز نہیں پڑھی اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، اور آپ سے اس کا ذکر کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم نے ٹھیک کیا ، پھر ایک دوسرا آدمی جنبی ہوا، تو اس نے تیمم کیا، اور نماز پڑھ لی، تو آپ نے اس سے بھی اسی طرح کی بات کہی جو آپ نے دوسرے سے کہی تھی یعنی تم نے ٹھیک کیا۔
اخبرنا محمد بن عبد الاعلى، انبانا امية بن خالد، حدثنا شعبة، ان مخارقا، اخبرهم عن طارق بن شهاب، ان رجلا، اجنب فلم يصل فاتى النبي صلى الله عليه وسلم فذكر ذلك له فقال " اصبت " . فاجنب رجل اخر فتيمم وصلى فاتاه فقال نحوا مما قال للاخر يعني " اصبت