Loading...

Loading...
کتب
۹۶ احادیث
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ عمر رضی اللہ عنہ کے ذمہ مسجد الحرام میں ایک رات اعتکاف کرنے کی نذر تھی، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بارے میں سوال کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اعتکاف کرنے کا حکم دیا۔
اخبرنا محمد بن عبد الله بن يزيد، قال حدثنا سفيان، عن ايوب، عن نافع، عن ابن عمر، قال كان على عمر نذر في اعتكاف ليلة في المسجد الحرام فسال رسول الله صلى الله عليه وسلم عن ذلك فامره ان يعتكف
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ عمر رضی اللہ عنہ نے جاہلیت میں ( مسجد الحرام میں ) ایک دن کا اعتکاف اپنے اوپر واجب کر لیا تھا، انہوں نے اس کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا تو آپ نے انہیں اس میں اعتکاف کرنے کا حکم دیا ۔
اخبرنا احمد بن عبد الله بن الحكم، قال حدثنا محمد بن جعفر، قال حدثنا شعبة، قال سمعت عبيد الله، عن نافع، عن ابن عمر، ان عمر، كان جعل عليه يوما يعتكفه في الجاهلية فسال رسول الله صلى الله عليه وسلم عن ذلك فامره ان يعتكفه
کعب بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب ان کی توبہ قبول ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں اللہ اور اس کے رسول کے نام پر صدقہ کر کے اپنے مال سے علیحدہ ہو جاتا ہوں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: اپنا کچھ مال روک لو یہ تمہارے لیے بہتر ہو گا ۱؎ ۔ ابوعبدالرحمٰن نسائی کہتے ہیں: ہو سکتا ہے کہ زہری نے اس حدیث کو عبداللہ بن کعب اور عبدالرحمٰن دونوں سے سنا ہو اور انہوں نے ان ( کعب رضی اللہ عنہ ) سے روایت کی ہو ۲؎۔ اسی لمبی حدیث میں کعب رضی اللہ عنہ کی توبہ کا بھی ذکر ہے
حدثنا يونس بن عبد الاعلى، قال حدثنا ابن وهب، قال اخبرني يونس، عن ابن شهاب، قال اخبرني عبد الله بن كعب بن مالك، عن ابيه، انه قال لرسول الله صلى الله عليه وسلم حين تيب عليه يا رسول الله اني انخلع من مالي صدقة الى الله ورسوله . فقال له رسول الله صلى الله عليه وسلم " امسك عليك بعض مالك فهو خير لك " . قال ابو عبد الرحمن يشبه ان يكون الزهري سمع هذا الحديث من عبد الله بن كعب ومن عبد الرحمن عنه في هذا الحديث الطويل توبة كعب
کعب بن مالک رضی اللہ عنہ اپنا وہ واقعہ بیان کرتے ہیں کہ جب وہ غزوہ تبوک میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پیچھے رہ گئے تھے، وہ کہتے ہیں: جب میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے بیٹھا تو میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میری توبہ میں سے یہ بھی ہے کہ میں اللہ اور اس کے رسول کو صدقہ کر کے اپنے مال سے الگ ہو جاؤں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنا کچھ مال اپنے لیے روک لو یہ تمہارے لیے بہتر ہو گا ، میں نے عرض کیا: اچھا تو میں اپنا وہ حصہ روک لیتا ہوں جو خیبر میں ہے، یہ حدیث مختصر ہے۔
اخبرنا سليمان بن داود، قال انبانا ابن وهب، عن يونس، قال قال ابن شهاب فاخبرني عبد الرحمن بن كعب بن مالك، ان عبد الله بن كعب، قال سمعت كعب بن مالك، يحدث حديثه حين تخلف عن رسول الله صلى الله عليه وسلم في غزوة تبوك قال فلما جلست بين يديه قلت يا رسول الله ان من توبتي ان انخلع من مالي صدقة الى الله والى رسوله . قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " امسك عليك بعض مالك فهو خير لك " . فقلت فاني امسك سهمي الذي بخيبر . مختصر
کعب بن مالک رضی اللہ عنہ اپنا اس وقت کا واقعہ بیان کرتے ہیں کہ جب وہ غزوہ تبوک میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پیچھے رہ گئے تھے۔ ( کہتے ہیں: ) میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میری توبہ میں سے یہ بھی ہے کہ اللہ اور اس کے رسول کو صدقہ کر کے اپنے مال سے الگ ہو جاؤں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اپنا ( کچھ ) مال اپنے لیے روک لو یہ تمہارے لیے بہتر ہو گا ، میں نے عرض کیا: تو میں اپنے پاس اپنا وہ حصہ روک لیتا ہوں جو خیبر میں ہے۔
اخبرنا يوسف بن سعيد، قال حدثنا حجاج بن محمد، قال حدثنا ليث بن سعد، قال حدثني عقيل، عن ابن شهاب، قال حدثني عبد الرحمن بن عبد الله بن كعب، ان عبد الله بن كعب بن مالك، قال سمعت كعب بن مالك، يحدث حديثه حين تخلف عن رسول الله صلى الله عليه وسلم في غزوة تبوك قلت يا رسول الله ان من توبتي ان انخلع من مالي صدقة الى الله والى رسوله . فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " امسك عليك مالك فهو خير لك " . قلت فاني امسك على سهمي الذي بخيبر
کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! اللہ تعالیٰ نے مجھے صرف سچ کی وجہ سے نجات دی تو میری توبہ میں سے یہ ہے کہ اللہ اور اس کے رسول کو صدقہ کر کے اپنے مال سے الگ ہو جاؤں۔ آپ نے فرمایا: اپنا کچھ مال اپنے پاس روک لو یہ تمہارے لیے بہتر ہو گا ، میں نے عرض کیا: تو میں اپنا وہ حصہ روک لیتا ہوں جو خیبر میں ہے۔
اخبرنا محمد بن معدان بن عيسى، قال حدثنا الحسن بن اعين، قال حدثنا معقل، عن الزهري، قال اخبرني عبد الرحمن بن عبد الله بن كعب، عن عمه، عبيد الله بن كعب قال سمعت ابي كعب بن مالك، يحدث قال قلت يا رسول الله ان الله عز وجل انما نجاني بالصدق وان من توبتي ان انخلع من مالي صدقة الى الله والى رسوله . فقال " امسك عليك بعض مالك فهو خير لك " . قلت فاني امسك سهمي الذي بخيبر
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ خیبر کے سال ہم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے، ہمیں مال ۱؎، سامان اور کپڑوں کے علاوہ کوئی غنیمت نہ ملی تو بنو ضبیب کے رفاعہ بن زید نامی ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مدعم نامی ایک کالا غلام ہدیہ کیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وادی قریٰ کا رخ کیا، یہاں تک کہ جب ہم وادی قریٰ میں پہنچے تو مدعم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا کجاوا اتار رہا تھا کہ اسی دوران اچانک ایک تیر آ کر اسے لگا اور اسے قتل کر ڈالا، لوگوں نے کہا کہ تمہیں جنت مبارک ہو، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہرگز نہیں، قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! وہ کملی جو اس نے غنیمت کے مال سے خیبر کے روز لے لی تھی ( اور مال تقسیم نہ ہوا تھا ) اس کے سر پر آگ بن کر دہک رہی ہے ۔ جب لوگوں نے یہ بات سنی تو ایک شخص چمڑے کا ایک یا دو تسمہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے کر آیا تو آپ نے فرمایا: یہ ایک یا دو تسمے آگ کے ہیں ۔
قال الحارث بن مسكين قراءة عليه وانا اسمع، عن ابن القاسم، قال حدثني مالك، عن ثور بن زيد، عن ابي الغيث، مولى ابن مطيع عن ابي هريرة، قال كنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم عام خيبر فلم نغنم الا الاموال والمتاع والثياب فاهدى رجل من بني الضبيب يقال له رفاعة بن زيد لرسول الله صلى الله عليه وسلم غلاما اسود يقال له مدعم فوجه رسول الله صلى الله عليه وسلم الى وادي القرى حتى اذا كنا بوادي القرى بينا مدعم يحط رحل رسول الله صلى الله عليه وسلم فجاءه سهم فاصابه فقتله فقال الناس هنييا لك الجنة . فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " كلا والذي نفسي بيده ان الشملة التي اخذها يوم خيبر من المغانم لتشتعل عليه نارا " . فلما سمع الناس بذلك جاء رجل بشراك او بشراكين الى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " شراك او شراكان من نار
اخبرنا يونس بن عبد الاعلى، قال حدثنا ابن وهب، قال اخبرني عمرو بن الحارث، ان كثير بن فرقد، حدثه ان نافعا حدثهم عن عبد الله بن عمر، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من حلف فقال ان شاء الله فقد استثنى
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے قسم کھائی اور ان شاءاللہ کہا تو اس نے استثناء کر لیا ۔
اخبرنا محمد بن منصور، قال حدثنا سفيان، عن ايوب، عن نافع، عن ابن عمر، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من حلف فقال ان شاء الله فقد استثنى
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے کسی بات پر قسم کھائی اور ان شاءاللہ کہا تو اب اسے اختیار ہے چاہے تو قسم پوری کرے اور چاہے تو نہ کرے ۔
اخبرنا احمد بن سليمان، قال حدثنا عفان، قال حدثنا وهيب، قال حدثنا ايوب، عن نافع، عن ابن عمر، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " من حلف على يمين فقال ان شاء الله فهو بالخيار ان شاء امضى وان شاء ترك
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سلیمان بن داود علیہ السلام نے ( قسم کھا کر ) کہا: آج رات میں نوے بیویوں کے پاس جاؤں گا، ان میں سے ہر کوئی ایک سوار کو جنم دے گی جو اللہ کے راستے میں جہاد کرے گا، تو ان کے ساتھی نے ان سے کہا: ان شاءاللہ ( اگر اللہ نے چاہا ) مگر خود انہوں نے نہیں کہا، پھر وہ ان تمام عورتوں کے پاس گئے لیکن ان میں سوائے ایک عورت کے کوئی بھی حاملہ نہ ہوئی اور اس نے بھی ایک ادھورے بچے کو جنم دیا، قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے! اگر انہوں نے ان شاءاللہ کہا ہوتا تو وہ تمام بیٹے اللہ کی راہ میں سوار ہو کر جہاد کرتے ۱؎۔
اخبرنا عمران بن بكار، قال حدثنا علي بن عياش، قال انبانا شعيب، قال حدثني ابو الزناد، مما حدثه عبد الرحمن الاعرج، مما ذكر انه سمع ابا هريرة، يحدث به عن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " قال سليمان بن داود لاطوفن الليلة على تسعين امراة كلهن ياتي بفارس يجاهد في سبيل الله عز وجل فقال له صاحبه ان شاء الله . فلم يقل ان شاء الله فطاف عليهن جميعا فلم تحمل منهن الا امراة واحدة جاءت بشق رجل وايم الذي نفس محمد بيده لو قال ان شاء الله لجاهدوا في سبيل الله فرسانا اجمعين
اخبرنا احمد بن يحيى بن الوزير بن سليمان، والحارث بن مسكين، قراءة عليه وانا اسمع، عن ابن وهب، قال اخبرني عمرو بن الحارث، عن كعب بن علقمة، عن عبد الرحمن بن شماسة، عن عقبة بن عامر، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " كفارة النذر كفارة اليمين
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: معصیت ( گناہ کے کاموں ) میں نذر نہیں ۔
اخبرنا كثير بن عبيد، قال حدثنا محمد بن حرب، عن الزبيدي، عن الزهري، انه بلغه عن القاسم، عن عايشة، قالت قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لا نذر في معصية
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں ک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: معصیت ( گناہوں کے کاموں ) میں نذر نہیں، اور اس کا کفارہ قسم کا کفارہ ہے ۱؎۔
اخبرنا يونس بن عبد الاعلى، قال حدثنا ابن وهب، قال اخبرني يونس، عن ابن شهاب، عن ابي سلمة، عن عايشة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " لا نذر في معصية وكفارته كفارة اليمين
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: معصیت ( گناہوں کے کاموں ) میں نذر نہیں، اور اس کا کفارہ قسم کا کفارہ ہے ۔
اخبرنا محمد بن عبد الله بن المبارك المخرمي، قال حدثنا يحيى بن ادم، قال حدثنا ابن المبارك، عن يونس، عن الزهري، عن ابي سلمة، عن عايشة، قالت قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لا نذر في معصية وكفارته كفارة يمين
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: معصیت ( گناہوں کے کاموں ) میں نذر نہیں، اور اس کا کفارہ قسم کا کفارہ ہے ۔
اخبرنا اسحاق بن منصور، قال انبانا عثمان بن عمر، قال حدثنا يونس، عن الزهري، عن ابي سلمة، عن عايشة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " لا نذر في معصية وكفارته كفارة يمين
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: معصیت ( گناہوں کے کاموں ) میں نذر نہیں اور اس کا کفارہ قسم کا کفارہ ہے ۔ ابوعبدالرحمٰن نسائی کہتے ہیں: کہا گیا ہے کہ زہری نے اسے ابوسلمہ سے نہیں سنا ۱؎۔
اخبرنا قتيبة، قال حدثنا ابو صفوان، عن يونس، عن الزهري، عن ابي سلمة، عن عايشة، قالت قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لا نذر في معصية وكفارته كفارة اليمين " . قال ابو عبد الرحمن وقد قيل ان الزهري لم يسمع هذا من ابي سلمة
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: معصیت ( گناہوں کے کاموں ) میں نذر نہیں اور اس کا کفارہ قسم کا کفارہ ہے ۔
اخبرنا هارون بن موسى الفروي، قال حدثنا ابو ضمرة، عن يونس، عن ابن شهاب، قال حدثنا ابو سلمة، عن عايشة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " لا نذر في معصية وكفارتها كفارة اليمين
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: معصیت ( گناہوں کے کاموں ) میں نذر نہیں اور اس کا کفارہ قسم کا کفارہ ہے ۔ ابوعبدالرحمٰن نسائی کہتے ہیں: سلیمان بن ارقم متروک الحدیث راوی ہے، واللہ اعلم، اس حدیث کے سلسلے میں یحییٰ بن ابی کثیر کے تلامذہ میں سے کئی ایک نے سلیمان بن ارقم کی مخالفت کی ہے ۱؎۔
اخبرنا محمد بن اسماعيل الترمذي، قال حدثنا ايوب بن سليمان، قال حدثني ابو بكر بن ابي اويس، قال حدثني سليمان بن بلال، عن محمد بن ابي عتيق، وموسى بن عقبة، عن ابن شهاب، عن سليمان بن ارقم، ان يحيى بن ابي كثير الذي، كان يسكن اليمامة حدثه انه، سمع ابا سلمة، يخبر عن عايشة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " لا نذر في معصية وكفارتها كفارة يمين " . قال ابو عبد الرحمن سليمان بن ارقم متروك الحديث والله اعلم . خالفه غير واحد من اصحاب يحيى بن ابي كثير في هذا الحديث
عمران بن حصین رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: معصیت ( گناہ کے کاموں ) کی نذر نہیں، اور اس کا کفارہ قسم کا کفارہ ہے ۔
اخبرنا هناد بن السري، عن وكيع، عن ابن المبارك، - وهو علي - عن يحيى بن ابي كثير، عن محمد بن الزبير الحنظلي، عن ابيه، عن عمران بن حصين، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لا نذر في معصية وكفارته كفارة يمين