Loading...

Loading...
کتب
۹۶ احادیث
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نذر ( ماننے ) سے منع کیا اور فرمایا: اس سے کوئی بھلائی حاصل نہیں ہوتی، البتہ اس سے بخیل سے ( کچھ مال ) نکال لیا جاتا ہے ۱؎۔
اخبرنا اسماعيل بن مسعود، قال حدثنا خالد، عن شعبة، قال اخبرني منصور، عن عبد الله بن مرة، عن عبد الله بن عمر، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم نهى عن النذر وقال " انه لا ياتي بخير انما يستخرج به من البخيل
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نذر ماننے سے منع کیا اور فرمایا: اس سے کوئی چیز رد نہیں ہوتی، البتہ اس سے بخیل سے ( کچھ مال ) نکال لیا جاتا ہے ۔
اخبرنا عمرو بن منصور، قال حدثنا ابو نعيم، قال حدثنا سفيان، عن منصور، عن عبد الله بن مرة، عن عبد الله بن عمر، قال نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن النذر وقال " انه لا يرد شييا انما يستخرج به من الشحيح
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نذر نہ کسی ( مقدر ) چیز کو آگے کرتی ہے نہ پیچھے، البتہ یہ ایک ایسی چیز ہے جس سے بخیل سے ( کچھ مال ) نکال لیا جاتا ہے ۔
اخبرنا عمرو بن علي، قال حدثنا يحيى، قال حدثنا سفيان، عن منصور، عن عبد الله بن مرة، عن ابن عمر، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " النذر لا يقدم شييا ولا يوخره انما هو شىء يستخرج به من الشحيح
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ( اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ) نذر ابن آدم کے پاس کوئی ایسی چیز نہیں لا سکتی جسے میں نے اس کے لیے مقدر نہ کیا ہو، البتہ یہ ایک ایسی چیز ہے جس سے بخیل سے ( کچھ مال ) نکال لیا جاتا ہے ۱؎۔
اخبرنا عبد الله بن محمد بن عبد الرحمن، قال حدثنا سفيان، قال حدثنا ابو الزناد، عن الاعرج، عن ابي هريرة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " لا ياتي النذر على ابن ادم شييا لم يقدره عليه ولكنه شىء يستخرج به من البخيل
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نذر نہ مانو، کیونکہ نذر تقدیر ( کے لکھے ) میں کچھ کام نہیں آتی، اس سے تو صرف بخیل سے کچھ نکلوایا جاتا ہے ۔
اخبرنا قتيبة، قال حدثنا عبد العزيز، عن العلاء، عن ابيه، عن ابي هريرة، ان النبي صلى الله عليه وسلم قال " لا تنذروا فان النذر لا يغني من القدر شييا وانما يستخرج به من البخيل
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو اللہ کی اطاعت و فرماں برداری کی نذر مانے تو اسے چاہیئے کہ وہ اس کی اطاعت کرے، اور جو اللہ کی نافرمانی کرنے کی نذر مانے تو اس کی نافرمانی نہ کرے ۱؎۔
اخبرنا قتيبة، عن مالك، عن طلحة بن عبد الملك، عن القاسم، عن عايشة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " من نذر ان يطيع الله فليطعه ومن نذر ان يعصي الله فلا يعصه
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: جو اللہ تعالیٰ کی اطاعت و فرماں برداری کی نذر مانے تو اسے چاہیئے کہ وہ اس کی اطاعت کرے، اور جو اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کی نذر مانے گا تو وہ اس کی نافرمانی نہ کرے ۔
اخبرنا عمرو بن علي، قال حدثنا يحيى، قال حدثنا مالك، قال حدثني طلحة بن عبد الملك، عن القاسم، عن عايشة، قالت سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " من نذر ان يطيع الله فليطعه ومن نذر ان يعصي الله فلا يعصه
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: جو نذر مانے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت و فرماں برداری کرے گا تو اسے چاہیئے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرے، اور جو اللہ کی نافرمانی کی نذر مانے تو وہ اس کی نافرمانی نہ کرے ۔
اخبرنا محمد بن العلاء، قال حدثنا ابن ادريس، عن عبيد الله، عن طلحة بن عبد الملك، عن القاسم، عن عايشة، قالت سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " من نذر ان يطيع الله فليطعه ومن نذر ان يعصي الله فلا يعصه
عمران بن حصین رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے زیادہ اچھے اور بہتر لوگ وہ ہیں جو میرے زمانے کے ہیں، پھر وہ جو ان کے بعد کے ہیں، پھر وہ جو ان کے بعد کے ہیں، پھر وہ جو ان کے بعد کے ہیں ، مجھے نہیں معلوم کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے «ثم الذين يلونهم» کا ذکر دو بار کیا یا تین بار، پھر آپ نے ان لوگوں کا ذکر کیا جو خیانت کریں گے اور انہیں امین ( امانت دار ) نہیں سمجھا جائے گا، گواہی دیں گے حالانکہ ان سے گواہی نہیں مانگی جائے گی اور نذر مانیں گے اور اسے پورا نہیں کریں گے اور ان لوگوں میں موٹاپا ظاہر ہو گا ۱؎۔ ابوعبدالرحمٰن نسائی کہتے ہیں: یہ ابوجمرہ نصر بن عمران ہیں۔
اخبرنا محمد بن عبد الاعلى، قال حدثنا خالد، قال حدثنا شعبة، عن ابي جمرة، عن زهدم، قال سمعت عمران بن حصين، يذكر ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " خيركم قرني ثم الذين يلونهم ثم الذين يلونهم ثم الذين يلونهم " . فلا ادري اذكر مرتين بعده او ثلاثا ثم ذكر قوما يخونون ولا يوتمنون ويشهدون ولا يستشهدون وينذرون ولا يوفون ويظهر فيهم السمن . قال ابو عبد الرحمن هذا نصر بن عمران ابو جمرة
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک ایسے شخص کے پاس سے گزرے جو ایک آدمی کو رسی میں باندھ کر کھینچے لے جا رہا تھا، آپ نے رسی کو لیا اور اسے کاٹ ڈالا اور فرمایا: یہ نذر ہے ۱؎۔
اخبرنا محمد بن عبد الاعلى، قال حدثنا خالد، عن ابن جريج، قال حدثني سليمان الاحول، عن طاوس، عن ابن عباس، قال مر رسول الله صلى الله عليه وسلم برجل يقود رجلا في قرن فتناوله النبي صلى الله عليه وسلم فقطعه قال انه نذر
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک آدمی کے پاس سے گزرے جو کعبے کا طواف کر رہا تھا، اور ایک آدمی اس کی ناک میں نکیل ڈال کر اسے کھینچ رہا تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اپنے ہاتھ سے کاٹ دیا پھر حکم دیا کہ وہ اسے اپنے ہاتھ سے پکڑ کر لے جائے۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس ( آدمی ) کے پاس سے گزرے، وہ کعبے کا طواف کر رہا تھا اور اس نے ایک آدمی کا ہاتھ ایک دوسرے آدمی سے تسمے سے یا دھاگے سے یا کسی اور چیز سے باندھ رکھا تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے اسے کاٹ ڈالا اور فرمایا: اسے اپنے ہاتھ سے پکڑ کر لے جاؤ۔
اخبرنا يوسف بن سعيد، قال حدثنا حجاج، عن ابن جريج، قال اخبرني سليمان الاحول، ان طاوسا، اخبره عن ابن عباس، ان النبي صلى الله عليه وسلم مر برجل وهو يطوف بالكعبة يقوده انسان بخزامة في انفه فقطعه النبي صلى الله عليه وسلم بيده ثم امره ان يقوده بيده . قال ابن جريج واخبرني سليمان ان طاوسا اخبره عن ابن عباس ان النبي صلى الله عليه وسلم مر به وهو يطوف بالكعبة وانسان قد ربط يده بانسان اخر بسير او خيط او بشىء غير ذلك فقطعه النبي صلى الله عليه وسلم بيده ثم قال " قده بيدك
عمران بن حصین رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ کی نافرمانی میں نذر نہیں، اور نہ ہی کسی ایسی چیز میں ہے جس کا ابن آدم مالک نہ ہو ۔
اخبرنا محمد بن منصور، قال حدثنا سفيان، قال حدثني ايوب، قال حدثنا ابو قلابة، عن عمه، عن عمران بن حصين، ان النبي صلى الله عليه وسلم قال " لا نذر في معصية الله ولا فيما لا يملك ابن ادم
ثابت بن ضحاک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو کوئی دین اسلام کے سوا کسی دوسری ملت کی جھوٹی قسم کھائے گا تو وہ اسی طرح ہو گا جیسے اس نے کہا، اور جس نے اپنے آپ کو دنیا میں کسی چیز سے قتل کیا تو اسے قیامت کے دن اسی چیز سے عذاب دیا جائے گا، اور آدمی پر اس چیز کی نذر نہیں جس کا وہ مالک نہ ہو ۔
اخبرنا اسحاق بن منصور، قال حدثنا ابو المغيرة، قال حدثنا الاوزاعي، قال حدثني يحيى، عن ابي قلابة، عن ثابت بن الضحاك، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من حلف بملة سوى ملة الاسلام كاذبا فهو كما قال ومن قتل نفسه بشىء في الدنيا عذب به يوم القيامة وليس على رجل نذر فيما لا يملك
عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میری بہن نے نذر مانی کہ وہ بیت اللہ پیدل جائے گی، اس نے مجھے حکم دیا کہ میں اس کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بارے میں مسئلہ پوچھوں، میں نے اس کے لیے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مسئلہ پوچھا تو آپ نے فرمایا: وہ پیدل جائے اور سوار ہو کر ( بھی ) جائے ۔
اخبرني يوسف بن سعيد، قال حدثنا حجاج، عن ابن جريج، قال حدثني سعيد بن ابي ايوب، عن يزيد بن ابي حبيب، اخبره ان ابا الخير حدثه عن عقبة بن عامر، قال نذرت اختي ان تمشي، الى بيت الله فامرتني ان استفتي لها رسول الله صلى الله عليه وسلم فاستفتيت لها النبي صلى الله عليه وسلم فقال " لتمش ولتركب
عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنی ایک بہن کے بارے میں پوچھا جس نے نذر مانی تھی کہ وہ دوپٹہ اوڑھے بغیر پیدل ( حج کرنے ) جائے گی۔ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: اسے حکم دو کہ وہ اوڑھنی اوڑھ کر اور سوار ہو کر جائے اور تین دن کے روزے رکھ لے ۔
اخبرنا عمرو بن علي، ومحمد بن المثنى، قالا حدثنا يحيى بن سعيد، عن يحيى بن سعيد، عن عبيد الله بن زحر، - وقال عمرو ان عبيد الله بن زحر اخبره - عن عبد الله بن مالك، ان عقبة بن عامر، اخبره انه، سال النبي صلى الله عليه وسلم عن اخت له نذرت ان تمشي حافية غير مختمرة فقال له النبي صلى الله عليه وسلم " مرها فلتختمر ولتركب ولتصم ثلاثة ايام
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ایک عورت نے سمندر کا سفر کیا اور نذر مانی کہ وہ ایک مہینہ روزے رکھے گی پھر وہ روزے رکھنے سے پہلے ہی مر گئی تو اس کی بہن نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر آپ سے اس کا ذکر کیا تو آپ نے اسے حکم دیا کہ وہ اس کی طرف سے روزے رکھے ۔
اخبرنا بشر بن خالد العسكري، قال حدثنا محمد بن جعفر، عن شعبة، قال سمعت سليمان، يحدث عن مسلم البطين، عن سعيد بن جبير، عن ابن عباس، قال ركبت امراة البحر فنذرت ان تصوم شهرا فماتت قبل ان تصوم فاتت اختها النبي صلى الله عليه وسلم وذكرت ذلك له فامرها ان تصوم عنها
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس نذر کے متعلق مسئلہ پوچھا جو ان کی ماں کے ذمہ تھی اور اسے پوری کرنے سے پہلے ہی ان کا انتقال ہو چکا تھا تو آپ نے فرمایا: ان کی طرف سے تم اسے پوری کرو ۔
اخبرنا علي بن حجر، والحارث بن مسكين، قراءة عليه وانا اسمع، - واللفظ له - عن سفيان، عن الزهري، عن عبيد الله بن عبد الله، عن ابن عباس، ان سعد بن عبادة، استفتى رسول الله صلى الله عليه وسلم في نذر كان على امه توفيت قبل ان تقضيه فقال " اقضه عنها
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک نذر کے بارے میں مسئلہ پوچھا جو ان کی ماں کے ذمے تھی اور وہ اسے پوری کرنے سے پہلے ہی انتقال کر گئی تھیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے ان کی طرف سے تم پوری کرو ۔
اخبرنا قتيبة، قال حدثنا الليث، عن ابن شهاب، عن عبيد الله بن عبد الله، عن ابن عباس، قال استفتى سعد بن عبادة رسول الله صلى الله عليه وسلم في نذر كان على امه فتوفيت قبل ان تقضيه فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اقضه عنها
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور عرض کیا کہ میری ماں مر گئیں، ان کے ذمے ایک نذر تھی جو انہوں نے پوری نہیں کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے ان کی جانب سے تم پوری کر دو ۔
اخبرنا محمد بن ادم، وهارون بن اسحاق الهمداني، عن عبدة، عن هشام، - وهو ابن عروة - عن بكر بن وايل، عن الزهري، عن عبيد الله بن عبد الله، عن ابن عباس، قال جاء سعد بن عبادة الى النبي صلى الله عليه وسلم فقال ان امي ماتت وعليها نذر فلم تقضه . قال " اقضه عنها
عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے جاہلیت میں ایک رات کی نذر مانی تھی کہ وہ اس میں اعتکاف کریں گے، تو انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا تو آپ نے انہیں اعتکاف کرنے کا حکم دیا ۱؎۔
اخبرنا اسحاق بن موسى، قال حدثنا سفيان، عن ايوب، عن نافع، عن ابن عمر، عن عمر، انه كان عليه ليلة نذر في الجاهلية يعتكفها فسال رسول الله صلى الله عليه وسلم فامره ان يعتكف