Loading...

Loading...
کتب
۹۶ احادیث
عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو کوئی قسم کھائے پھر اس کے سوا کو اس سے بہتر سمجھے تو اسے چاہیئے کہ وہ اپنی قسم کا کفارہ دے اور وہی کام انجام دے جو بہتر ہے ۔
اخبرنا عمرو بن علي، قال حدثنا يحيى، عن عبيد الله بن الاخنس، قال حدثنا عمرو بن شعيب، عن ابيه، عن جده، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " من حلف على يمين فراى غيرها خيرا منها فليكفر عن يمينه وليات الذي هو خير
عبدالرحمٰن بن سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے جب کوئی قسم کھائے پھر اس کے سوا کو اس سے بہتر سمجھے تو چاہیئے کہ اپنی قسم کا کفارہ ادا کرے اور دیکھے کہ کون سی بات بہتر ہے تو وہی کرے ۔
اخبرنا محمد بن عبد الاعلى، قال حدثنا المعتمر، عن ابيه، عن الحسن، عن عبد الرحمن بن سمرة، عن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " اذا حلف احدكم على يمين فراى غيرها خيرا منها فليكفر عن يمينه ولينظر الذي هو خير فلياته
عبدالرحمٰن بن سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم قسم کھاؤ تو اپنی قسم کا کفارہ ادا کرو پھر وہ کام کرو جو بہتر ہو ۔
اخبرنا احمد بن سليمان، قال حدثنا عفان، قال حدثنا جرير بن حازم، قال سمعت الحسن، قال حدثنا عبد الرحمن بن سمرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اذا حلفت على يمين فكفر عن يمينك ثم ايت الذي هو خير
عبدالرحمٰن بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم کسی بات کی قسم کھاؤ پھر اس کے علاوہ کو اس سے بہتر دیکھو تو اپنی قسم کا کفارہ دے دو اور وہی کرو جو بہتر ہے ۔
اخبرنا محمد بن يحيى القطعي، عن عبد الاعلى، وذكر، كلمة معناها حدثنا سعيد، عن قتادة، عن الحسن، عن عبد الرحمن بن سمرة، ان النبي صلى الله عليه وسلم قال " اذا حلفت على يمين فرايت غيرها خيرا منها فكفر عن يمينك وايت الذي هو خير
عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو کسی بات کی قسم کھائے پھر اس کے علاوہ کو اس سے بہتر پائے تو وہی کرے جو بہتر ہے اور اپنی قسم کا کفارہ ادا کرے ۱؎۔
اخبرنا اسحاق بن منصور، قال حدثنا عبد الرحمن، قال حدثنا شعبة، عن عمرو بن مرة، قال سمعت عبد الله بن عمرو، مولى الحسن بن علي يحدث عن عدي بن حاتم، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من حلف على يمين فراى غيرها خيرا منها فليات الذي هو خير وليكفر عن يمينه
عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو کسی بات کی قسم کھائے پھر اس کے علاوہ کو اس سے بہتر بات پائے تو اپنی قسم کو ترک کر دے اور وہی کرے جو بہتر ہو، اور قسم کا کفارہ ادا کرے ۔
اخبرنا هناد بن السري، عن ابي بكر بن عياش، عن عبد العزيز بن رفيع، عن تميم بن طرفة، عن عدي بن حاتم، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من حلف على يمين فراى غيرها خيرا منها فليدع يمينه وليات الذي هو خير وليكفرها
عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو کسی بات کی قسم کھائے، پھر اس سے بہتر بات پائے تو وہی کرے جو بہتر ہے اور اپنی قسم کو چھوڑ دے ۔
اخبرنا عمرو بن يزيد، قال حدثنا بهز بن اسد، قال حدثنا شعبة، قال اخبرني عبد العزيز بن رفيع، قال سمعت تميم بن طرفة، يحدث عن عدي بن حاتم، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من حلف على يمين فراى خيرا منها فليات الذي هو خير وليترك يمينه
ابوالاحوص کے والد مالک بن نضلہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا آپ نے میرے چچا زاد بھائی کو دیکھا؟ میں اس کے پاس اس سے کچھ مانگنے آتا ہوں تو وہ مجھے نہیں دیتا اور مجھ سے صلہ رحمی نہیں کرتا ہے ۱؎، پھر اسے میری ضرورت پڑتی ہے تو وہ میرے پاس مجھ سے مانگنے آتا ہے، میں نے قسم کھا لی ہے کہ میں نہ اسے دوں گا اور نہ اس سے صلہ رحمی کروں گا، تو آپ نے مجھے حکم دیا کہ میں وہی کروں جو بہتر ہو اور میں اپنی قسم کا کفارہ ادا کر دوں۔
اخبرنا محمد بن منصور، عن سفيان، قال حدثنا ابو الزعراء، عن عمه ابي الاحوص، عن ابيه، قال قلت يا رسول الله ارايت ابن عم لي اتيته اساله فلا يعطيني ولا يصلني ثم يحتاج الى فياتيني فيسالني وقد حلفت ان لا اعطيه ولا اصله فامرني ان اتي الذي هو خير واكفر عن يميني
عبدالرحمٰن بن سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مجھ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم کسی چیز کی قسم کھاؤ پھر اس کے علاوہ چیز کو اس سے بہتر پاؤ تو وہی کرو جو بہتر ہو اور اپنی قسم کا کفارہ دے دو
اخبرنا زياد بن ايوب، قال حدثنا هشيم، قال انبانا منصور، ويونس، عن الحسن، عن عبد الرحمن بن سمرة، قال قال لي النبي صلى الله عليه وسلم " اذا اليت على يمين فرايت غيرها خيرا منها فات الذي هو خير وكفر عن يمينك
عبدالرحمٰن بن سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم کسی بات کی قسم کھاؤ پھر اس کے علاوہ بات کو اس سے بہتر پاؤ تو وہی کرو جو بہتر ہو اور اپنی قسم کا کفارہ دے دو ۔
اخبرنا عمرو بن علي، قال حدثنا يحيى، قال حدثنا ابن عون، عن الحسن، عن عبد الرحمن بن سمرة، قال قال يعني رسول الله صلى الله عليه وسلم " اذا حلفت على يمين فرايت غيرها خيرا منها فات الذي هو خير منها وكفر عن يمينك
عبدالرحمٰن بن سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مجھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم کسی بات کی قسم کھاؤ پھر اس کے علاوہ بات کو اس سے بہتر پاؤ تو وہی کرو جو بہتر ہے اور اپنی قسم کا کفارہ دے دو ۔
اخبرنا محمد بن قدامة، في حديثه عن جرير، عن منصور، عن الحسن البصري، قال عبد الرحمن بن سمرة قال لي رسول الله صلى الله عليه وسلم " اذا حلفت على يمين فرايت غيرها خيرا منها فات الذي هو خير وكفر عن يمينك
عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس چیز میں کوئی نذر، اور کوئی قسم نہیں ہوتی، جس کے تم مالک نہیں ہو اور نہ ہی معصیت اور قطع رحمی میں قسم ہے ۱؎
اخبرنا ابراهيم بن محمد، قال حدثنا يحيى، عن عبيد الله بن الاخنس، قال اخبرني عمرو بن شعيب، عن ابيه، عن جده، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لا نذر ولا يمين فيما لا تملك ولا في معصية ولا قطيعة رحم
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو قسم کھائے اور ان شاءاللہ ( اگر اللہ نے چاہا ) کہے تو اگر چاہے تو وہ قسم پوری کرے اور اگر چاہے تو پوری نہ کرے، وہ قسم توڑنے والا نہیں ہو گا ۱؎ ۔
اخبرني احمد بن سعيد، قال حدثنا حبان، قال حدثنا عبد الوارث، قال حدثنا ايوب، عن نافع، عن ابن عمر، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " من حلف فاستثنى فان شاء مضى وان شاء ترك غير حنث
عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اعمال کا دارومدار نیت پر ہے اور آدمی کو اسی کا ثواب ملے گا جس کی اس نے نیت کی ہو، تو جس شخص کی ہجرت اللہ اور اس کے رسول کے لیے ہو گی تو اس کی ہجرت اللہ اور اس کے رسول کے لیے ہو گی اور جس کی ہجرت دنیا حاصل کرنے یا کسی عورت سے شادی کرنے کے لیے ہو گی تو اس کی ہجرت اسی کی طرف ہو گی جس کی خاطر اس نے ہجرت کی ہے ۱؎۔
اخبرنا اسحاق بن ابراهيم، قال انبانا سليمان بن حيان، قال حدثنا يحيى بن سعيد، عن محمد بن ابراهيم، عن علقمة بن وقاص، عن عمر بن الخطاب، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " انما الاعمال بالنية وانما لامري ما نوى فمن كانت هجرته الى الله ورسوله فهجرته الى الله ورسوله ومن كانت هجرته لدنيا يصيبها او امراة يتزوجها فهجرته الى ما هاجر اليه
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ام المؤمنین زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا کے پاس ٹھہرتے اور ان کے پاس شہد پیتے تھے، میں نے اور حفصہ نے آپس میں مشورہ کیا کہ ہم میں سے جس کے پاس نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم آئیں تو وہ کہے: مجھے آپ ( کے منہ ) سے مغافیر ۱؎ کی بو محسوس ہو رہی ہے، آپ نے مغافیر کھائی ہے۔ آپ ان دونوں میں سے ایک کے پاس گئے تو اس نے آپ سے یہی کہا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں، میں نے تو زینب بنت جحش کے پاس شہد پیا ہے اور آئندہ اسے نہیں پیوں گا ۔ تو آیت کریمہ «يا أيها النبي لم تحرم ما أحل اللہ لك» سے ( آیت کا سیاق یہ ہے کہ ) اے نبی جس چیز کو اللہ تعالیٰ نے حلال کر دیا ہے اسے آپ کیوں حرام کرتے ہیں ( التحریم: ۱ ) «إن تتوبا إلى اللہ» ( آیت کا سیاق یہ ہے کہ ) ( اے نبی کی بیویو! ) اگر تم دونوں اللہ تعالیٰ کے سامنے توبہ کر لو ( تو بہتر ہے ) ( التحریم: ۴ ) تک نازل ہوئی، اس سے عائشہ اور حفصہ رضی اللہ عنہما مراد ہیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قول: میں نے تو شہد پیا ہے ( مگر اب نہیں پیوں گا ) کی وجہ سے آیت کریمہ «وإذ أسر النبي إلى بعض أزواجه حديثا» جب نبی نے اپنی بعض عورتوں سے چپکے سے ایک بات کہی ( التحریم: ۳ ) نازل ہوئی۔
اخبرنا الحسن بن محمد الزعفراني، قال حدثنا حجاج، عن ابن جريج، قال زعم عطاء انه سمع عبيد بن عمير، يقول سمعت عايشة، تزعم ان النبي صلى الله عليه وسلم كان يمكث عند زينب بنت جحش فيشرب عندها عسلا فتواصيت انا وحفصة ان ايتنا دخل عليها النبي صلى الله عليه وسلم فلتقل اني اجد منك ريح مغافير اكلت مغافير فدخل على احداهما فقالت ذلك له فقال " لا بل شربت عسلا عند زينب بنت جحش ولن اعود له " . فنزلت { يا ايها النبي لم تحرم ما احل الله لك } الى { ان تتوبا الى الله } عايشة وحفصة { واذ اسر النبي الى بعض ازواجه حديثا } لقوله " بل شربت عسلا
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آپ کے گھر میں گیا تو کیا دیکھتا ہوں کہ روٹی کا ایک ٹکڑا اور سرکہ ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کھاؤ، سرکہ کیا ہی بہترین سالن ہے ۱؎۔
اخبرنا عمرو بن علي، قال حدثنا يحيى، قال حدثنا المثنى بن سعيد، قال حدثنا طلحة بن نافع، عن جابر، قال دخلت مع النبي صلى الله عليه وسلم بيته فاذا فلق وخل فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " كل فنعم الادام الخل
قیس بن ابی غرزہ غفاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ کہ ہمیں «سماسر» ( دلال ) کہا جاتا تھا، ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس آئے اور ہم خرید و فروخت کر رہے تھے تو آپ نے ہمیں ہمارے نام سے بہتر ایک نام دیا، آپ نے فرمایا: اے تاجروں کی جماعت! خرید و فروخت میں قسم اور جھوٹ ۱؎ بھی شامل ہو جاتی ہیں تو تم اپنی خرید و فروخت میں صدقہ ملا لیا کرو ۔
اخبرنا عبد الله بن محمد بن عبد الرحمن، قال حدثنا سفيان، عن عبد الملك، عن ابي وايل، عن قيس بن ابي غرزة، قال كنا نسمى السماسرة فاتانا رسول الله صلى الله عليه وسلم ونحن نبيع فسمانا باسم هو خير من اسمنا فقال " يا معشر التجار ان هذا البيع يحضره الحلف والكذب فشوبوا بيعكم بالصدقة
قیس بن ابی غرزہ غفاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم لوگ بقیع میں خرید و فروخت کرتے تھے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس آئے، ہم لوگوں کو«سماسرہ» ( دلال ) کہا جاتا تھا، تو آپ نے فرمایا: اے تاجروں کی جماعت! آپ نے ہمیں ایک ایسا نام دیا جو ہمارے نام سے بہتر تھا، پھر فرمایا: خرید و فروخت میں ( بغیر قصد و ارادے کے ) قسم اور جھوٹ کی باتیں شامل ہو جاتی ہیں تو اس میں صدقہ ملا لیا کرو ۔
اخبرنا محمد بن عبد الله بن يزيد، عن سفيان، عن عبد الملك، وعاصم، وجامع، عن ابي وايل، عن قيس بن ابي غرزة، قال كنا نبيع بالبقيع فاتانا رسول الله صلى الله عليه وسلم وكنا نسمى السماسرة فقال " يا معشر التجار " . فسمانا باسم هو خير من اسمنا ثم قال " ان هذا البيع يحضره الحلف والكذب فشوبوه بالصدقة
قیس بن ابی غرزہ غفاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم لوگ بازار میں تھے کہ ہمارے پاس نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم آئے اور فرمایا: ان بازاروں میں ( بغیر قصد و ارادے کے ) غلط اور جھوٹی باتیں آ ہی جاتی ہیں، لہٰذا تم اس میں صدقہ ملا لیا کرو ۱؎۔
اخبرنا محمد بن بشار، قال حدثنا محمد بن جعفر، قال حدثنا شعبة، عن مغيرة، عن ابي وايل، عن قيس بن ابي غرزة، قال اتانا النبي صلى الله عليه وسلم ونحن في السوق فقال " ان هذه السوق يخالطها اللغو والكذب فشوبوها بالصدقة
قیس بن ابی غرزہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم لوگ مدینے میں وسق بیچتے اور خریدتے تھے، اور ہم اپنے کو «سماسرہ» ( دلال ) کہتے تھے، لوگ بھی ہمیں دلال کہتے تھے۔ ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہماری طرف نکل کر آئے تو آپ نے ہمیں ایک ایسا نام دیا جو اس نام سے بہتر تھا جو ہم اپنے لیے کہتے تھے یا لوگ ہمیں اس نام سے پکارتے تھے، آپ نے فرمایا: اے تاجروں کی جماعت! تمہاری خرید و فروخت میں ( بلا قصد و ارادے کے ) قسم اور جھوٹ کی باتیں بھی آ جاتی ہیں تو تم اس میں صدقہ ملا لیا کرو ۔
اخبرنا علي بن حجر، ومحمد بن قدامة، قالا حدثنا جرير، عن منصور، عن ابي وايل، عن قيس بن ابي غرزة، قال كنا بالمدينة نبيع الاوساق ونبتاعها وكنا نسمي انفسنا السماسرة ويسمينا الناس فخرج الينا رسول الله صلى الله عليه وسلم ذات يوم فسمانا باسم هو خير من الذي سمينا انفسنا وسمانا الناس فقال " يا معشر التجار انه يشهد بيعكم الحلف والكذب فشوبوه بالصدقة