Loading...

Loading...
کتب
۹۶ احادیث
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جو قسم کھاتے تھے وہ یہ تھی «لا ومقلب القلوب» نہیں، اس کی قسم جو دلوں کو پھیر نے والا ہے ۔
اخبرنا احمد بن سليمان الرهاوي، وموسى بن عبد الرحمن، قالا حدثنا محمد بن بشر، قال حدثنا سفيان، عن موسى بن عقبة، عن سالم بن عبد الله بن عمر، عن ابن عمر، قال كانت يمين يحلف عليها رسول الله صلى الله عليه وسلم " لا ومقلب القلوب
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جو قسم کھاتے تھے وہ یہ تھی «لا ومصرف القلوب» نہیں، اس کی قسم جو دلوں کو پھیرنے والا ہے ۔
اخبرني محمد بن يحيى بن عبد الله، قال حدثنا محمد بن الصلت ابو يعلى، قال حدثنا عبد الله بن رجاء، عن عباد بن اسحاق، عن الزهري، عن سالم، عن ابيه، قال كانت يمين رسول الله صلى الله عليه وسلم التي يحلف بها " لا ومصرف القلوب
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ نے جب جنت اور جہنم کو پیدا کیا تو جبرائیل کو جنت کے پاس بھیجا اور فرمایا: اسے اور ان چیزوں کو دیکھو جو میں نے اس میں اس کے مستحقین کے لیے تیار کی ہیں، چنانچہ انہوں نے اسے دیکھا اور لوٹ کر آئے تو کہا: قسم ہے تیری عزت اور غلبے کی! ۱؎ جو کوئی بھی اس کے بارے میں سنے گا اس میں داخل ہوئے بغیر نہ رہے گا، پھر اس کے بارے میں حکم دیا تو اسے مکروہ ناپسندیدہ چیزوں سے گھیر دیا گیا ۲؎، پھر کہا: جاؤ اسے اور ان چیزوں کو دیکھو جو میں نے اس میں اس کے مستحقین کے لیے تیار کی ہیں، چنانچہ انہوں نے اس پر نظر ڈالی تو دیکھا کہ وہ ناپسندیدہ چیزوں سے گھیر دی گئی ہے، انہوں نے کہا: تیری عزت اور غلبے کی قسم! مجھے اس بات کا ڈر ہے کہ اس میں کوئی داخل نہ ہو گا، کہا: جاؤ اور جہنم کو اور ان چیزوں کو دیکھو جو میں نے اس کے مستحقین کے لیے تیار کی ہیں، انہوں نے اس پر نظر ڈالی تو دیکھا کہ اس کا ایک حصہ دوسرے حصے پر چڑھا جا رہا ہے ۳؎، وہ لوٹ کر آئے اور بولے: تیری عزت اور غلبے کی قسم! اس میں کوئی داخل نہ ہو گا، پھر اللہ تعالیٰ نے اس کے بارے میں حکم دیا تو وہ دل کو بھانے والی چیزوں سے گھیر دی گئی۔ ( پھر اللہ تعالیٰ نے ) کہا: واپس جا کر اب اسے دیکھو۔ انہوں نے اس پر نظر ڈالی تو دیکھا کہ وہ پسندیدہ چیزوں سے گھیر دی گئی ہے۔ وہ لوٹے اور کہا: تیرے غلبے کی قسم! مجھے ڈر ہے کہ اس میں تو کوئی داخل ہونے سے نہ بچ سکے گا ۴؎۔
اخبرنا اسحاق بن ابراهيم، قال انبانا الفضل بن موسى، قال حدثني محمد بن عمرو، قال حدثنا ابو سلمة، عن ابي هريرة، عن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " لما خلق الله الجنة والنار ارسل جبريل عليه السلام الى الجنة فقال انظر اليها والى ما اعددت لاهلها فيها . فنظر اليها فرجع فقال وعزتك لا يسمع بها احد الا دخلها . فامر بها فحفت بالمكاره فقال اذهب اليها فانظر اليها والى ما اعددت لاهلها فيها فنظر اليها فاذا هي قد حفت بالمكاره فقال وعزتك لقد خشيت ان لا يدخلها احد . قال اذهب فانظر الى النار والى ما اعددت لاهلها فيها . فنظر اليها فاذا هي يركب بعضها بعضا فرجع فقال وعزتك لا يدخلها احد . فامر بها فحفت بالشهوات فقال ارجع فانظر اليها . فاذا هي قد حفت بالشهوات فرجع وقال وعزتك لقد خشيت ان لا ينجو منها احد الا دخلها
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو قسم کھائے تو وہ اللہ کے سوا کسی اور کی قسم نہ کھائے ، اور قریش اپنے باپ دادا کی قسم کھاتے تھے تو آپ نے فرمایا: تم اپنے باپ دادا کی قسم نہ کھاؤ ۔
اخبرنا علي بن حجر، عن اسماعيل، - وهو ابن جعفر - قال حدثنا عبد الله بن دينار، عن ابن عمر، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من كان حالفا فلا يحلف الا بالله " . وكانت قريش تحلف بابايها فقال " لا تحلفوا بابايكم
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ تمہیں اس بات سے روکتا ہے کہ تم اپنے باپ دادا کی قسم کھاؤ
اخبرني زياد بن ايوب، قال حدثنا ابن علية، قال حدثنا يحيى بن ابي اسحاق، قال حدثني رجل، من بني غفار في مجلس سالم بن عبد الله قال سالم بن عبد الله سمعت عبد الله، - يعني ابن عمر - وهو يقول قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ان الله ينهاكم ان تحلفوا بابايكم
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک بار نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عمر رضی اللہ عنہ کو کہتے سنا: میرے باپ کی قسم! میرے باپ کی قسم! تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ تمہیں اس بات سے روکتا ہے کہ تم اپنے باپ دادا کی قسم کھاؤ ۔ ( عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں ) اللہ کی قسم! اس کے بعد پھر میں نے کبھی ان کی قسم نہیں کھائی، نہ تو خود اپنی بات بیان کرتے ہوئے اور نہ ہی دوسرے کی بات نقل کرتے ہوئے۔
اخبرنا عبيد الله بن سعيد، وقتيبة بن سعيد، واللفظ، له قالا حدثنا سفيان، عن الزهري، عن سالم، عن ابيه، انه سمع النبي صلى الله عليه وسلم عمر مرة وهو يقول وابي وابي . فقال " ان الله ينهاكم ان تحلفوا بابايكم " . فوالله ما حلفت بها بعد ذاكرا ولا اثرا
عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ تمہیں اس بات سے روکتا ہے کہ تم اپنے باپ دادا کی قسم کھاؤ ۔ عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: اللہ کی قسم! اس کے بعد پھر کبھی میں نے خود اپنی بات بیان کرتے ہوئے یا دوسرے کی بات نقل کرتے ہوئے ان کی قسم نہیں کھائی۔
اخبرنا محمد بن عبد الله بن يزيد، وسعيد بن عبد الرحمن، - واللفظ له - قالا حدثنا سفيان، عن الزهري، عن سالم، عن ابيه، عن عمر، ان النبي صلى الله عليه وسلم قال " ان الله ينهاكم ان تحلفوا بابايكم " . قال عمر فوالله ما حلفت بها بعد ذاكرا ولا اثرا
عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ تمہیں اس بات سے روکتا ہے کہ تم اپنے باپ دادا کی قسم کھاؤ ۔ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کی قسم! میں نے اس کے بعد ان کی قسم نہیں کھائی، نہ تو خود کچھ بیان کرتے ہوئے اور نہ ہی کسی دوسرے کی بات نقل کرتے ہوئے
اخبرنا عمرو بن عثمان بن سعيد، قال انبانا محمد، - وهو ابن حرب - عن الزبيدي، عن الزهري، عن سالم، عن ابيه، انه اخبره عن عمر، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " ان الله ينهاكم ان تحلفوا بابايكم " . قال عمر فوالله ما حلفت بها بعد ذاكرا ولا اثرا
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اپنے ماں باپ، دادا، دادی اور شریکوں ۱؎ کی قسم نہ کھاؤ، اور نہ اللہ کے سوا کسی اور کی قسم کھاؤ اور تم قسم نہ کھاؤ سوائے اس کے کہ تم سچے ہو ۔
اخبرنا ابو بكر بن علي، قال حدثنا عبيد الله بن معاذ، قال حدثنا ابي قال، حدثنا عوف، عن محمد بن سيرين، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لا تحلفوا بابايكم ولا بامهاتكم ولا بالانداد ولا تحلفوا الا بالله ولا تحلفوا الا وانتم صادقون
ثابت بن ضحاک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسلام کے سوا کسی اور ملت و مذہب کی جو کوئی جھوٹی قسم کھائے تو وہ ویسا ہی ہو گا جیسا اس نے کہا ، قتیبہ نے اپنی حدیث میں «متعمدا» کہا ہے ( یعنی دوسری ملت کی جان بوجھ کر قسم کھائے ) اور یزید نے «كاذبا» کہا ہے ( جو دوسری ملت کی جھوٹی قسم کھائے گا ) تو وہ ویسا ہی ہو گا جیسا اس نے کہا ۱؎ اور جو کوئی اپنے آپ کو کسی چیز سے قتل کر لے گا تو اللہ تعالیٰ اسے جہنم کی آگ میں اسی چیز سے عذاب دے گا۔
اخبرنا قتيبة، قال حدثنا ابن ابي عدي، عن خالد، ح وانبانا محمد بن عبد الله بن بزيع، قال حدثنا يزيد، قال حدثنا خالد، عن ابي قلابة، عن ثابت بن الضحاك، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من حلف بملة سوى الاسلام كاذبا فهو كما قال " . قال قتيبة في حديثه متعمدا وقال يزيد " كاذبا فهو كما قال ومن قتل نفسه بشىء عذبه الله به في نار جهنم
ثابت بن ضحاک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے اسلام کے سوا کسی ملت و مذہب کی جھوٹی قسم کھائی تو وہ ویسا ہی ہے، جیسا اس نے کہا، اور جس نے خود کو کسی چیز سے مار ڈالا ( خودکشی کر لی ) تو اسے آخرت میں اسی چیز سے عذاب دیا جائے گا ۔
اخبرني محمود بن خالد، قال حدثنا الوليد، قال حدثنا ابو عمرو، عن يحيى، انه حدثه قال حدثني ابو قلابة، قال حدثني ثابت بن الضحاك، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " من حلف بملة سوى الاسلام كاذبا فهو كما قال ومن قتل نفسه بشىء عذب به في الاخرة
بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے کہا: ( اگر میں نے یہ کیا ہوا تو ) میں اسلام سے بری اور لاتعلق ہوں، تو اگر وہ جھوٹا ہے تو وہ ویسا ہی ہے جیسا اس نے کہا، اور اگر وہ سچا ہے تو بھی وہ اسلام کی طرف صحیح سالم نہیں لوٹے گا
اخبرنا الحسين بن حريث، قال حدثنا الفضل بن موسى، عن حسين بن واقد، عن عبد الله بن بريدة، عن ابيه، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من قال اني بريء من الاسلام فان كان كاذبا فهو كما قال وان كان صادقا لم يعد الى الاسلام سالما
قبیلہ جہینہ کی ایک عورت قتیلہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ایک یہودی نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر کہا: تم لوگ ( غیر اللہ کو اللہ کے ساتھ ) شریک ٹھہراتے اور شرک کرتے ہو، تم کہتے ہو: جو اللہ چاہے اور آپ چاہیں، اور تم کہتے ہو: کعبے کی قسم! تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حکم دیا کہ جب وہ قسم کھانا چاہیں تو کہیں: کعبے کے رب کی قسم! اور کہیں: جو اللہ چاہے پھر آپ جو چاہیں
اخبرنا يوسف بن عيسى، قال حدثنا الفضل بن موسى، قال حدثنا مسعر، عن معبد بن خالد، عن عبد الله بن يسار، عن قتيلة، - امراة من جهينة - ان يهوديا، اتى النبي صلى الله عليه وسلم فقال انكم تنددون وانكم تشركون تقولون ما شاء الله وشيت وتقولون والكعبة . فامرهم النبي صلى الله عليه وسلم اذا ارادوا ان يحلفوا ان يقولوا " ورب الكعبة " . ويقولون " ما شاء الله ثم شيت
عبدالرحمٰن بن سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنے باپ دادا کی قسم نہ کھاؤ، اور نہ طاغوتوں ( جھوٹے معبودوں ) کی ۔
اخبرنا احمد بن سليمان، قال حدثنا يزيد، قال انبانا هشام، عن الحسن، عن عبد الرحمن بن سمرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " لا تحلفوا بابايكم ولا بالطواغيت
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے جو قسم کھائے اور کہے: لات ( بت ) کی قسم، تو اسے چاہیئے کہ وہ لا الٰہ الا اللہ پڑھے، اور جو اپنے ساتھی سے کہے: آؤ تمہارے ساتھ جوا کھیلیں گے ) تو اسے چاہیئے کہ صدقہ کرے
اخبرنا كثير بن عبيد، قال حدثنا محمد بن حرب، عن الزبيدي، عن الزهري، عن حميد بن عبد الرحمن، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من حلف منكم فقال باللات فليقل لا اله الا الله ومن قال لصاحبه تعال اقامرك فليتصدق
سعد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم ایک معاملے کا ذکر کر رہے تھے اور میں نیا نیا مسلمان ہوا تھا، میں نے لات و عزیٰ کی قسم کھا لی، تو مجھ سے صحابہ کرام نے کہا کہ تم نے بری بات کہی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جاؤ اور آپ کو اس کی خبر دو کیونکہ ہمارے خیال میں تو تم نے کفر کا ارتکاب کیا ہے، چنانچہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی اطلاع دی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: تین بار: «لا إله إلا اللہ وحده لا شريك له» کہو اور تین بار شیطان سے اللہ کی پناہ مانگو اور تین بار اپنے بائیں طرف تھوک دو اور پھر دوبارہ کبھی ایسا نہ کہنا ۔
اخبرنا ابو داود، قال حدثنا الحسن بن محمد، قال حدثنا زهير، قال حدثنا ابو اسحاق، عن مصعب بن سعد، عن ابيه، قال كنا نذكر بعض الامر وانا حديث، عهد بالجاهلية فحلفت باللات والعزى فقال لي اصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم بيس ما قلت ايت رسول الله صلى الله عليه وسلم فاخبره فانا لا نراك الا قد كفرت فاتيته فاخبرته فقال لي " قل لا اله الا الله وحده لا شريك له ثلاث مرات وتعوذ بالله من الشيطان ثلاث مرات واتفل عن يسارك ثلاث مرات ولا تعد له
سعد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے لات و عزیٰ کی قسم کھا لی تو میرے ساتھیوں نے مجھ سے کہا: تم نے بری بات کہی ہے، تم نے فحش بات کہی ہے، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر آپ سے اس کا تذکرہ کیا، تو آپ نے فرمایا: کہو: «لا إله إلا اللہ وحده لا شريك له له الملك وله الحمد وهو على كل شىء قدير» اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، وہ تنہا ہے اس کا کوئی شریک نہیں، اسی کے لیے بادشاہت ہے اور اسی کے لیے تعریف ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے اور تین بار بائیں طرف تھوک لو اور شیطان سے اللہ کی پناہ طلب کرو اور پھر کبھی ایسا نہ کرنا ۔
اخبرنا عبد الحميد بن محمد، قال حدثنا مخلد، قال حدثنا يونس بن ابي اسحاق، عن ابيه، قال حدثني مصعب بن سعد، عن ابيه، قال حلفت باللات والعزى فقال لي اصحابي بيس ما قلت قلت هجرا . فاتيت رسول الله صلى الله عليه وسلم فذكرت ذلك له فقال " قل لا اله الا الله وحده لا شريك له له الملك وله الحمد وهو على كل شىء قدير وانفث عن يسارك ثلاثا وتعوذ بالله من الشيطان ثم لا تعد
براء بن عازب رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں سات باتوں کا حکم دیا: آپ نے ہمیں جنازوں کے پیچھے جانے، بیمار کی عیادت کرنے، چھینکنے والے کا جواب دینے، دعوت دینے والے کی دعوت قبول کرنے، مظلوم کی مدد کرنے، قسم پوری کرنے اور سلام کا جواب دینے کا حکم دیا ۔
اخبرنا محمد بن المثنى، ومحمد بن بشار، عن محمد، قال حدثنا شعبة، عن الاشعث بن سليم، عن معاوية بن سويد بن مقرن، عن البراء بن عازب، قال امرنا رسول الله صلى الله عليه وسلم بسبع امرنا باتباع الجنايز وعيادة المريض وتشميت العاطس واجابة الداعي ونصر المظلوم وابرار القسم ورد السلام
ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: زمین پر کوئی ایسی قسم نہیں جو میں کھاؤں پھر اس کے سوا کو اس سے بہتر سمجھوں مگر میں وہی کروں گا ( جو بہتر ہو گا ) ۔
اخبرنا قتيبة، قال حدثنا ابن ابي عدي، عن سليمان، عن ابي السليل، عن زهدم، عن ابي موسى، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " ما على الارض يمين احلف عليها فارى غيرها خيرا منها الا اتيته
ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں اشعریوں کی ایک جماعت کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، ہم آپ سے سواریاں مانگ رہے تھے۱؎، آپ نے فرمایا: قسم اللہ کی! میں تمہیں سواریاں نہیں دے سکتا، میرے پاس کوئی سواری ہے بھی نہیں جو میں تمہیں دوں ، پھر ہم جب تک اللہ نے چاہا ٹھہرے رہے، اتنے میں کچھ اونٹ لائے گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے لیے تین اونٹوں کا حکم دیا، تو جب ہم چلنے لگے تو ہم میں سے ایک نے دوسرے سے کہا: اللہ تعالیٰ ہمیں برکت نہیں دے گا۔ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سواریاں طلب کرنے آئے تو آپ نے قسم کھائی کہ آپ ہمیں سواریاں نہیں دیں گے۔ ابوموسیٰ اشعری کہتے ہیں: تو ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر آپ سے اس کا ذکر کیا تو آپ نے فرمایا: میں نے تمہیں سواریاں نہیں دی ہیں بلکہ اللہ تعالیٰ نے دی ہیں، قسم اللہ کی! میں کسی بات کی قسم کھاتا ہوں، پھر میں اس کے علاوہ کو بہتر سمجھتا ہوں تو میں اپنی قسم کا کفارہ دے دیتا ہوں اور جو بہتر ہوتا ہے کرتا ہوں ۔
اخبرنا قتيبة، قال حدثنا حماد، عن غيلان بن جرير، عن ابي بردة، عن ابي موسى الاشعري، قال اتيت رسول الله صلى الله عليه وسلم في رهط من الاشعريين نستحمله فقال " والله لا احملكم وما عندي ما احملكم " . ثم لبثنا ما شاء الله فاتي بابل فامر لنا بثلاث ذود فلما انطلقنا قال بعضنا لبعض لا يبارك الله لنا اتينا رسول الله صلى الله عليه وسلم نستحمله فحلف ان لا يحملنا . قال ابو موسى فاتينا النبي صلى الله عليه وسلم فذكرنا ذلك له فقال " ما انا حملتكم بل الله حملكم اني والله لا احلف على يمين فارى غيرها خيرا منها الا كفرت عن يميني واتيت الذي هو خير