احادیث
#3800
سنن نسائی - Agriculture
قیس بن ابی غرزہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم لوگ مدینے میں وسق بیچتے اور خریدتے تھے، اور ہم اپنے کو «سماسرہ» ( دلال ) کہتے تھے، لوگ بھی ہمیں دلال کہتے تھے۔ ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہماری طرف نکل کر آئے تو آپ نے ہمیں ایک ایسا نام دیا جو اس نام سے بہتر تھا جو ہم اپنے لیے کہتے تھے یا لوگ ہمیں اس نام سے پکارتے تھے، آپ نے فرمایا: اے تاجروں کی جماعت! تمہاری خرید و فروخت میں ( بلا قصد و ارادے کے ) قسم اور جھوٹ کی باتیں بھی آ جاتی ہیں تو تم اس میں صدقہ ملا لیا کرو ۔
اخبرنا علي بن حجر، ومحمد بن قدامة، قالا حدثنا جرير، عن منصور، عن ابي وايل، عن قيس بن ابي غرزة، قال كنا بالمدينة نبيع الاوساق ونبتاعها وكنا نسمي انفسنا السماسرة ويسمينا الناس فخرج الينا رسول الله صلى الله عليه وسلم ذات يوم فسمانا باسم هو خير من الذي سمينا انفسنا وسمانا الناس فقال " يا معشر التجار انه يشهد بيعكم الحلف والكذب فشوبوه بالصدقة
Metadata
- Edition
- سنن نسائی
- Book
- Agriculture
- Hadith Index
- #3800
- Book Index
- 40
Grades
- Abu GhuddahSahih
- Al-AlbaniSahih
- Zubair Ali ZaiHasan
