Loading...

Loading...
کتب
۹۶ احادیث
عمران بن حصین رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: معصیت ( گناہ کے کام ) میں نذر نہیں، اور اس کا کفارہ قسم کا کفارہ ہے ۔
اخبرني عمرو بن عثمان، قال حدثنا بقية، عن ابي عمرو، - وهو الاوزاعي - عن يحيى بن ابي كثير، عن محمد بن الزبير الحنظلي، عن ابيه، عن عمران بن حصين، رضى الله عنهما قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لا نذر في معصية وكفارتها كفارة يمين
عمران بن حصین رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: غضب کی نذر نہیں، اور اس کا کفارہ قسم کا کفارہ ہے ۔ ابوعبدالرحمٰن کہتے ہیں: محمد بن زبیر ضعیف ہیں، ان جیسے سے حجت قائم نہیں ہوتی اور اس حدیث کے سلسلے میں ان کے متعلق اختلاف کیا گیا ہے۔
اخبرنا علي بن ميمون، قال حدثنا معمر بن سليمان، عن عبد الله بن بشر، عن يحيى بن ابي كثير، عن محمد الحنظلي، عن ابيه، عن عمران بن حصين، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لا نذر في غضب وكفارته كفارة اليمين " . قال ابو عبد الرحمن محمد بن الزبير ضعيف لا يقوم بمثله حجة . وقد اختلف عليه في هذا الحديث
عمران رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: غضب کی نذر نہیں، اور اس کا کفارہ قسم کا کفارہ ہے ۔
اخبرني ابراهيم بن يعقوب، قال حدثنا الحسن بن موسى، قال حدثنا شيبان، عن يحيى، عن محمد بن الزبير، عن ابيه، عن عمران، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لا نذر في غضب وكفارته كفارة اليمين
عمران رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: غضب کی نذر نہیں، اور اس کا کفارہ قسم کا کفارہ ہے ۔ کہا گیا ہے کہ ( محمد کے والد ) زبیر نے اس حدیث کو عمران بن حصین سے نہیں سنا۔
اخبرنا قتيبة، انبانا حماد، عن محمد، عن ابيه، عن عمران، قال قال النبي صلى الله عليه وسلم " لا نذر في غضب وكفارته كفارة اليمين " . وقيل ان الزبير لم يسمع هذا الحديث من عمران بن حصين
عمران بن حصین رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ عمران بن حصین رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: نذر کی دو قسمیں ہیں: جو نذر اللہ کی اطاعت کی ہو تو وہ اللہ کے لیے ہے اور اسے پورا کرنا ہے اور جو نذر اللہ کی معصیت کی ہو تو وہ شیطان کی ہے اور اسے پورا نہیں کرنا ہے اور اس کا کفارہ وہی ہو گا جو قسم کا ہوتا ہے ۔
اخبرني محمد بن وهب، قال حدثنا محمد بن سلمة، قال حدثني ابن اسحاق، عن محمد بن الزبير، عن ابيه، عن رجل، من اهل البصرة قال صحبت عمران بن حصين قال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " النذر نذران فما كان من نذر في طاعة الله فذلك لله وفيه الوفاء وما كان من نذر في معصية الله فذلك للشيطان ولا وفاء فيه ويكفره ما يكفر اليمين
زبیر حنظلی سے روایت ہے کہ ایک شخص نے ان سے بیان کیا کہ اس نے عمران بن حصین رضی اللہ عنہما سے ایک ایسے شخص کے بارے میں پوچھا، جس نے یہ نذر مانی کہ وہ اپنے قبیلے کی مسجد میں نماز میں حاضر نہیں ہو گا، تو عمران رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: غضب کی کوئی نذر نہیں ہوتی اور اس کا کفارہ قسم کا کفارہ ہے ۔
اخبرني ابراهيم بن يعقوب، قال حدثنا مسدد، قال حدثنا عبد الوارث، عن محمد بن الزبير الحنظلي، قال اخبرني ابي ان رجلا، حدثه انه، سال عمران بن حصين عن رجل، نذر نذرا لا يشهد الصلاة في مسجد قومه فقال عمران سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " لا نذر في غضب وكفارته كفارة يمين
عمران بن حصین رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: معصیت کی کوئی نذر نہیں، اور نہ ہی غضب میں، اور اس کا کفارہ قسم کا کفارہ ہے ۔
اخبرنا احمد بن حرب، قال حدثنا ابو داود، قال حدثنا سفيان، عن محمد بن الزبير، عن الحسن، عن عمران بن حصين، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لا نذر في معصية ولا غضب وكفارته كفارة يمين
عمران بن حصین رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: معصیت میں نذر نہیں، اور اس کا کفارہ قسم کا کفارہ ہے ۔ منصور بن زاذان کی روایت کے الفاظ اس سے مختلف ہیں ( ان کی روایت آگے آ رہی ہے ) ۔
اخبرنا هلال بن العلاء، قال حدثنا ابو سليم، - وهو عبيد بن يحيى - قال حدثنا ابو بكر النهشلي، عن محمد بن الزبير، عن الحسن، عن عمران بن حصين، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لا نذر في المعصية وكفارته كفارة اليمين " . خالفه منصور بن زاذان في لفظه
عمران بن حصین رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آدمی کی ایسی چیزوں میں نذر نہیں، جن کا اسے اختیار نہیں اور نہ ہی اللہ کی معصیت میں نذر ہے ۔ علی بن زید نے منصور کی مخالفت کی ہے اور اسے بسند حسن بصری عن عبدالرحمٰن بن سمرہ سے روایت کی ہے۔
اخبرنا يعقوب بن ابراهيم، قال انبانا هشيم، قال انبانا منصور، عن الحسن، عن عمران بن حصين، قال قال يعني النبي صلى الله عليه وسلم " لا نذر لابن ادم فيما لا يملك ولا في معصية الله عز وجل " . خالفه علي بن زيد فرواه عن الحسن عن عبد الرحمن بن سمرة
عبدالرحمٰن بن سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: معصیت میں کوئی نذر نہیں اور نہ ہی کسی ایسی چیز میں کوئی نذر ہے جس کا آدمی کو اختیار نہیں ۔ ابوعبدالرحمٰن نسائی کہتے ہیں: علی بن زید ضعیف ہیں اور اس حدیث میں غلطی ہوئی ہے اور صحیح عمران بن حصین رضی اللہ عنہما ہے اور دوسری سند سے یہ حدیث عمران بن حصین رضی اللہ عنہما سے روایت کی گئی ہے۔
اخبرني علي بن محمد بن علي، قال حدثنا خلف بن تميم، قال حدثنا زايدة، قال حدثنا علي بن زيد بن جدعان، عن الحسن، عن عبد الرحمن بن سمرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " لا نذر في معصية ولا فيما لا يملك ابن ادم " . قال ابو عبد الرحمن علي بن زيد ضعيف وهذا الحديث خطا والصواب عمران بن حصين . وقد روي هذا الحديث عن عمران بن حصين من وجه اخر
عمران بن حصین رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: معصیت میں کوئی نذر نہیں اور نہ ہی ایسی چیز میں کوئی نذر ہے جس کا آدمی کو اختیار نہیں ۔
اخبرنا محمد بن منصور، قال حدثنا سفيان، قال حدثني ايوب، قال حدثنا ابو قلابة، عن عمه، عن عمران بن حصين، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لا نذر في معصية ولا فيما لا يملك ابن ادم
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو دیکھا کہ وہ دو آدمیوں کے بیچ میں ان کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر چل رہا ہے، آپ نے فرمایا: یہ کیا ہے؟ لوگوں نے عرض کیا: اس نے نذر مانی ہے کہ وہ بیت اللہ تک پیدل چل کر جائے گا، آپ نے فرمایا: اس طرح اپنی جان کو تکلیف دینے کی اللہ کو ضرورت نہیں، اس سے کہو کہ سوار ہو کر جائے ۱؎۔
اخبرنا اسحاق بن ابراهيم، قال انبانا حماد بن مسعدة، عن حميد، عن ثابت، عن انس، قال راى النبي صلى الله عليه وسلم رجلا يهادى بين رجلين فقال " ما هذا " . قالوا نذر ان يمشي الى بيت الله . قال " ان الله غني عن تعذيب هذا نفسه مره فليركب
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر ایک ایسے بوڑھے شخص کے پاس سے ہوا جو دو آدمیوں کے درمیان ان کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر چل رہا تھا۔ آپ نے فرمایا: اس کا کیا حال ہے؟ ان لوگوں نے عرض کیا: اس نے ( کعبہ ) پیدل جانے کی نذر مانی ہے، آپ نے فرمایا: اس کے اس طرح اپنی جان کو تکلیف پہنچانے کی اللہ کو ضرورت نہیں، اسے حکم دو کہ سوار ہو کر چلے، چنانچہ انہوں نے اسے سوار ہونے کا حکم دیا ۔
اخبرنا محمد بن المثنى، قال حدثنا خالد، قال حدثنا حميد، عن ثابت، عن انس، قال مر رسول الله صلى الله عليه وسلم بشيخ يهادى بين اثنين فقال " ما بال هذا " . قالوا نذر ان يمشي . قال " ان الله غني عن تعذيب هذا نفسه مره فليركب " . فامره ان يركب
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک ایسے شخص کے پاس سے گزر ہوا جو اپنے دو بیٹوں کے درمیان ان کے کندھوں کا سہارا لیے چل رہا تھا، آپ نے فرمایا: اس کا کیا معاملہ ہے؟ عرض کیا گیا: اس نے کعبہ پیدل جانے کی نذر مانی ہے، آپ نے فرمایا: اس طرح اپنے آپ کو تکلیف دینے سے اللہ تعالیٰ اس کو کوئی ثواب نہیں دے گا، پھر آپ نے اسے سوار ہونے کا حکم دیا ۔
اخبرنا احمد بن حفص، قال حدثني ابي قال، حدثني ابراهيم بن طهمان، عن يحيى بن سعيد، عن حميد الطويل، عن انس بن مالك، قال اتى رسول الله صلى الله عليه وسلم على رجل يهادى بين ابنيه فقال " ما شان هذا " . فقيل نذر ان يمشي الى الكعبة . فقال " ان الله لا يصنع بتعذيب هذا نفسه شييا " . فامره ان يركب
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص کسی بات کی قسم کھائے، پھر وہ ان شاءاللہ کہے تو اس نے استثناء کر لیا ۱؎۔
اخبرنا نوح بن حبيب، قال انبانا عبد الرزاق، قال انبانا معمر، عن ابن طاوس، عن ابيه، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من حلف على يمين فقال ان شاء الله فقد استثنى
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سلیمان علیہ السلام نے کہا: آج رات میں نوے ( ۹۰ ) عورتوں ( بیویوں ) کے پاس جاؤں گا، ان میں سے ہر عورت ایک ایسا بچہ جنے گی جو اللہ کی راہ میں جہاد کرے گا۔ ان سے کہا گیا: آپ ان شاءاللہ کہیں، لیکن انہوں نے نہیں کہا۔ سلیمان علیہ السلام اپنی عورتوں کے پاس گئے تو ان میں سے صرف ایک عورت نے آدھا بچہ جنا ، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر انہوں نے ان شاءاللہ کہا ہوتا تو وہ قسم توڑنے والے نہیں ہوتے اور اپنی حاجت پا لینے میں کامیاب بھی رہتے ۔
اخبرنا العباس بن عبد العظيم، قال حدثنا عبد الرزاق، قال انبانا معمر، عن ابن طاوس، عن ابيه، عن ابي هريرة، رفعه " قال سليمان لاطوفن الليلة على تسعين امراة تلد كل امراة منهن غلاما يقاتل في سبيل الله فقيل له قل ان شاء الله . فلم يقل فطاف بهن فلم تلد منهن الا امراة واحدة نصف انسان " . فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لو قال ان شاء الله لم يحنث وكان دركا لحاجته