احادیث
#3827
سنن نسائی - Agriculture
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ خیبر کے سال ہم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے، ہمیں مال ۱؎، سامان اور کپڑوں کے علاوہ کوئی غنیمت نہ ملی تو بنو ضبیب کے رفاعہ بن زید نامی ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مدعم نامی ایک کالا غلام ہدیہ کیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وادی قریٰ کا رخ کیا، یہاں تک کہ جب ہم وادی قریٰ میں پہنچے تو مدعم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا کجاوا اتار رہا تھا کہ اسی دوران اچانک ایک تیر آ کر اسے لگا اور اسے قتل کر ڈالا، لوگوں نے کہا کہ تمہیں جنت مبارک ہو، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہرگز نہیں، قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! وہ کملی جو اس نے غنیمت کے مال سے خیبر کے روز لے لی تھی ( اور مال تقسیم نہ ہوا تھا ) اس کے سر پر آگ بن کر دہک رہی ہے ۔ جب لوگوں نے یہ بات سنی تو ایک شخص چمڑے کا ایک یا دو تسمہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے کر آیا تو آپ نے فرمایا: یہ ایک یا دو تسمے آگ کے ہیں ۔
قال الحارث بن مسكين قراءة عليه وانا اسمع، عن ابن القاسم، قال حدثني مالك، عن ثور بن زيد، عن ابي الغيث، مولى ابن مطيع عن ابي هريرة، قال كنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم عام خيبر فلم نغنم الا الاموال والمتاع والثياب فاهدى رجل من بني الضبيب يقال له رفاعة بن زيد لرسول الله صلى الله عليه وسلم غلاما اسود يقال له مدعم فوجه رسول الله صلى الله عليه وسلم الى وادي القرى حتى اذا كنا بوادي القرى بينا مدعم يحط رحل رسول الله صلى الله عليه وسلم فجاءه سهم فاصابه فقتله فقال الناس هنييا لك الجنة . فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " كلا والذي نفسي بيده ان الشملة التي اخذها يوم خيبر من المغانم لتشتعل عليه نارا " . فلما سمع الناس بذلك جاء رجل بشراك او بشراكين الى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " شراك او شراكان من نار
Metadata
- Edition
- سنن نسائی
- Book
- Agriculture
- Hadith Index
- #3827
- Book Index
- 67
Grades
- Abu GhuddahSahih
- Al-AlbaniSahih
- Zubair Ali ZaiSahih Bukhari
