Loading...

Loading...
کتب
۴۶۶ احادیث
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدی کی بکریوں کے ہار ( قلادے ) بٹا کرتی تھی پھر آپ حلال ( غیر محرم ) ہی رہتے تھے۔
اخبرنا الحسن بن محمد الزعفراني، عن عبيدة، عن منصور، عن ابراهيم، عن الاسود، عن عايشة، قالت لقد رايتني افتل قلايد الغنم لهدى رسول الله صلى الله عليه وسلم ثم يمكث حلالا
ام المؤمنین (عائشہ رضی الله عنہا) کہتی ہیں کہ میں نے ان ہاروں ( قلادوں ) کو اس رنگین اون سے بٹا جو ہمارے پاس تھے پھر ہم میں موجود رہ کر آپ نے صبح کی اور وہ سب کام کرتے رہے جو غیر محرم اپنی بیوی سے کرتا ہے اور جو عام آدمی اپنی بیوی سے کرتا ہے۔
اخبرنا الحسن بن محمد الزعفراني، قال حدثنا حسين، - يعني ابن حسن - عن ابن عون، عن القاسم، عن ام المومنين، قالت انا فتلت، تلك القلايد من عهن كان عندنا ثم اصبح فينا فياتي ما ياتي الحلال من اهله وما ياتي الرجل من اهله
ام المؤمنین حفصہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا: بات ہے لوگ عمرہ کر کے حلال ہو گئے اور آپ اپنے عمرہ سے حلال نہیں ہوئے، آپ نے فرمایا: ”میں نے اپنے سر کی تلبید، اور اپنی ہدی کو قلادۃ پہنا دیا ہے، تو جب تک میں قربانی نہ کر لوں حلال نہیں ہوں گا“۔
اخبرنا محمد بن سلمة، قال انبانا ابن القاسم، حدثني مالك، عن نافع، عن عبد الله بن عمر، عن حفصة، زوج النبي صلى الله عليه وسلم انها قالت يا رسول الله ما شان الناس قد حلوا بعمرة ولم تحلل انت من عمرتك قال " اني لبدت راسي وقلدت هديي فلا احل حتى انحر
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب ذوالحلیفہ آئے تو آپ نے ہدی کے دائیں کوہان کی جانب اشعار کیا پھر اس سے خون صاف کیا، اور اس کے گلے میں دو جوتیاں لٹکائیں، پھر آپ اپنی اونٹنی پر سوار ہوئے، اور جب وہ آپ کو کو لے کر سیدھی کھڑی ہو گئی تو آپ نے تلبیہ پکارا اور ظہر کے وقت احرام باندھا، اور حج کا تلبیہ پکارا۔
اخبرنا عبيد الله بن سعيد، قال حدثنا معاذ، قال حدثنا ابي، عن قتادة، عن ابي حسان الاعرج، عن ابن عباس، ان نبي الله صلى الله عليه وسلم لما اتى ذا الحليفة اشعر الهدى في جانب السنام الايمن ثم اماط عنه الدم وقلده نعلين ثم ركب ناقته فلما استوت به البيداء لبى واحرم عند الظهر واهل بالحج
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قربانی کے اونٹوں کے ہار میں نے اپنے ہاتھوں سے بٹے، پھر آپ نے اسے ان کے گلوں میں لٹکایا، اور ان کا اشعار کیا، اور بیت اللہ کی طرف ان کا رخ کر کے روانہ فرمایا، اور خود آپ مقیم رہے اور کوئی چیز جو آپ کے لیے حلال تھی آپ پر حرام نہیں ہوئی۔
اخبرنا احمد بن حرب، قال حدثنا قاسم، - وهو ابن يزيد - قال حدثنا افلح، عن القاسم بن محمد، عن عايشة، قالت فتلت قلايد بدن رسول الله صلى الله عليه وسلم بيدى ثم قلدها واشعرها ووجهها الى البيت وبعث بها واقام فما حرم عليه شىء كان له حلالا
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قربانی کے اونٹوں کے ہار بٹے ( جو آپ نے پہنائے ) پھر آپ محرم نہیں ہوئے، اور نہ آپ نے کپڑوں میں سے کوئی چیز پہننی چھوڑی۔
اخبرنا قتيبة، قال حدثنا الليث، عن عبد الرحمن بن القاسم، عن ابيه، عن عايشة، قالت فتلت قلايد بدن رسول الله صلى الله عليه وسلم ثم لم يحرم ولم يترك شييا من الثياب
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدی کی بکریوں کے ہار بٹتی تھی ( جو قربانی کے لیے مکہ بھیجی جاتی تھیں ) ۔
اخبرنا اسماعيل بن مسعود، قال حدثنا خالد، قال حدثنا شعبة، عن منصور، قال سمعت ابراهيم، عن الاسود، عن عايشة، قالت كنت افتل قلايد هدى رسول الله صلى الله عليه وسلم غنما
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بکریوں کو بطور ہدی ( مکہ ) بھیجتے تھے۔
اخبرنا اسماعيل بن مسعود، قال حدثنا خالد، قال حدثنا شعبة، عن سليمان، عن ابراهيم، عن الاسود، عن عايشة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم كان يهدي الغنم
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بار بکریوں کی ہدی بھیجی اور آپ نے ان کے گلوں میں ہار لٹکایا۔
اخبرنا هناد بن السري، عن ابي معاوية، عن الاعمش، عن ابراهيم، عن الاسود، عن عايشة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم اهدى مرة غنما وقلدها
اخبرنا محمد بن بشار، قال حدثنا عبد الرحمن، قال حدثنا سفيان، عن الاعمش، عن ابراهيم، عن الاسود، عن عايشة، قالت كنت افتل قلايد هدى رسول الله صلى الله عليه وسلم غنما ثم لا يحرم
اخبرنا محمد بن بشار، قال حدثنا عبد الرحمن، قال حدثنا سفيان، عن منصور، عن ابراهيم، عن الاسود، عن عايشة، قالت كنت افتل قلايد هدى رسول الله صلى الله عليه وسلم غنما ثم لا يحرم
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ ہم بکری کے گلے میں ہار ڈالتے تھے پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اسے ( مکہ ) بھیجتے تھے، اس حال میں کہ آپ حلال رہتے تھے، کسی چیز کو اپنے اوپر حرام نہیں کرتے تھے۔
اخبرنا الحسين بن عيسى، - ثقة - قال حدثنا عبد الصمد بن عبد الوارث، قال حدثني ابي، عن محمد بن جحادة، ح وانبانا عبد الوارث بن عبد الصمد بن عبد الوارث، قال حدثني ابو معمر، قال حدثنا عبد الوارث، قال انبانا محمد بن جحادة، عن الحكم، عن ابراهيم، عن الاسود، عن عايشة، قالت كنا نقلد الشاة فيرسل بها رسول الله صلى الله عليه وسلم حلالا لم يحرم من شىء
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب ذوالحلیفہ پہنچے تو ہدی کے داہنی کوہان کی جانب اشعار کیا، پھر اس کا خون صاف کیا، پھر اس کے گلے میں دو جوتے ڈالے، پھر اپنی اونٹنی پر سوار ہوئے تو جب وہ بیداء میں آپ لے کر پورے طور پر کھڑی ہو گئی تو آپ نے حج کا احرام باندھا اور ظہر کے وقت احرام باندھا، اور حج کا تلبیہ پکارا۔
اخبرنا يعقوب بن ابراهيم، قال حدثنا ابن علية، قال حدثنا هشام الدستوايي، عن قتادة، عن ابي حسان الاعرج، عن ابن عباس، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم لما اتى ذا الحليفة اشعر الهدى من جانب السنام الايمن ثم اماط عنه الدم ثم قلده نعلين ثم ركب ناقته فلما استوت به البيداء احرم بالحج واحرم عند الظهر واهل بالحج
جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہدی بھیجی تو سب لوگ مدینہ میں موجود تھے تو جس نے چاہا احرام باندھا اور جس نے چاہا نہیں باندھا ۱؎۔
اخبرنا قتيبة، قال حدثنا الليث، عن ابي الزبير، عن جابر، انهم كانوا اذا كانوا حاضرين مع رسول الله صلى الله عليه وسلم بالمدينة بعث بالهدى فمن شاء احرم ومن شاء ترك
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدی کے ہار اپنے ہاتھوں سے بٹتی تھی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ہاتھ سے اسے ہدی کے گلے میں ڈالتے تھے اور اسے میرے والد کے ساتھ بھیجتے تھے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کسی بھی ایسی چیز کا استعمال ترک نہیں کرتے تھے جسے اللہ تعالیٰ نے آپ کے لیے حلال کر رکھی ہے یہاں تک کہ ہدی کو نحر کرتے۔
اخبرنا اسحاق بن منصور، قال حدثنا عبد الرحمن، عن مالك، عن عبد الله بن ابي بكر، عن عمرة، عن عايشة، قالت كنت افتل قلايد هدى رسول الله صلى الله عليه وسلم بيدى ثم يقلدها رسول الله صلى الله عليه وسلم بيده ثم يبعث بها مع ابي فلا يدع رسول الله صلى الله عليه وسلم شييا احله الله عز وجل له حتى ينحر الهدى
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدی کے ہار بٹتی تھی پھر آپ کسی چیز سے پرہیز نہیں کرتے تھے جس سے محرم پرہیز کرتا ہے۔
اخبرنا اسحاق بن ابراهيم، وقتيبة، عن سفيان، عن الزهري، عن عروة، عن عايشة، قالت كنت افتل قلايد هدى رسول الله صلى الله عليه وسلم ثم لا يجتنب شييا مما يجتنبه المحرم
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدی کے ہار بٹتی تھی تو آپ کسی چیز سے پرہیز نہیں کرتے تھے، اور ہم نہیں جانتے کہ حج سے ( حاجی کو ) بیت اللہ کے طواف ۱؎ کے علاوہ بھی کوئی چیز حلال کرتی ہے۔
اخبرنا عبد الله بن محمد بن عبد الرحمن، قال حدثنا سفيان، قال سمعت عبد الرحمن بن القاسم، يحدث عن ابيه، قال قالت عايشة كنت افتل قلايد هدى رسول الله صلى الله عليه وسلم فلا يجتنب شييا ولا نعلم الحج يحله الا الطواف بالبيت
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قربانی کے جانور کے ہار بٹتی تھی، وہ ہار پہنا کر روانہ کر دیئے جاتے، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مقیم ہی رہتے اور اپنی بیویوں سے پرہیز نہیں کرتے۔
اخبرنا قتيبة، قال حدثنا ابو الاحوص، عن ابي اسحاق، عن الاسود، عن عايشة، قالت ان كنت لافتل قلايد هدى رسول الله صلى الله عليه وسلم ويخرج بالهدى مقلدا ورسول الله صلى الله عليه وسلم مقيم ما يمتنع من نسايه
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ میں نے اپنے آپ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدی کی بکریوں کے ہار بٹتے دیکھا، آپ انہیں پہنا کر بھیج دیتے تھے، پھر ہمارے درمیان حلال شخص کی حیثیت سے رہتے تھے ( کسی چیز سے پرہیز نہیں کرتے تھے ) ۔
اخبرنا محمد بن قدامة، قال حدثنا جرير، عن منصور، عن ابراهيم، عن الاسود، عن عايشة، قالت لقد رايتني افتل قلايد هدى رسول الله صلى الله عليه وسلم من الغنم فيبعث بها ثم يقيم فينا حلالا
جابر رضی الله عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ساتھ حج میں ہدی لے کر گئے۔
اخبرنا عمران بن يزيد، قال انبانا شعيب بن اسحاق، قال انبانا ابن جريج، قال اخبرني جعفر بن محمد، عن ابيه، سمعه يحدث، عن جابر، انه سمعه يحدث، ان النبي صلى الله عليه وسلم ساق هديا في حجه