Loading...

Loading...
کتب
۴۶۶ احادیث
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ وہ بتا رہے تھے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تلبیہ پکارا جس وقت آپ کی سواری آپ کو لے کر کھڑی ہوئی۔
اخبرنا عمران بن يزيد، قال انبانا شعيب، قال انبانا ابن جريج، قال اخبرني صالح بن كيسان، ح واخبرني محمد بن اسماعيل بن ابراهيم، قال حدثنا اسحاق يعني ابن يوسف، عن ابن جريج، عن صالح بن كيسان، عن نافع، عن ابن عمر، انه كان يخبر ان النبي صلى الله عليه وسلم اهل حين استوت به راحلته
عبید بن جریج کہتے ہیں کہ میں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے کہا کہ میں آپ کو دیکھا کہ جب اونٹنی آپ کو لے کر کھڑی ہوئی ہے تو آپ نے اس وقت تلبیہ پکارا، تو انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی وقت تلبیہ پکارا تھا جب آپ کی اونٹنی آپ کو لے کر سیدھی کھڑی ہوئی تھی۔
اخبرنا محمد بن العلاء، قال انبانا ابن ادريس، عن عبيد الله، وابن، جريج وابن اسحاق ومالك بن انس عن المقبري، عن عبيد بن جريج، قال قلت لابن عمر رايتك تهل اذا استوت بك ناقتك . قال ان رسول الله صلى الله عليه وسلم كان يهل اذا استوت به ناقته وانبعثت
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نو برس تک مدینہ میں رہے، اور حج نہیں کر سکے، پھر ( دسویں سال ) آپ نے لوگوں میں حج کا اعلان کیا تو کوئی بھی جو سواری سے یا پیدل آ سکتا تھا ایسا بچا ہو جو نہ آیا ہو، لوگ آپ کے ساتھ حج کو جانے کے لیے آتے گئے یہاں تک کہ آپ ذوالحلیفہ پہنچے تو وہاں اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہ نے محمد بن ابی بکر کو جنا، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اطلاع بھیجی کہ وہ کیا کریں۔ تو آپ نے فرمایا: ”تم غسل کر لو، اور کپڑے کا لنگوٹ باندھ لو، پھر لبیک پکارو“، تو انہوں نے ایسا ہی کیا۔ یہ حدیث ایک بڑی حدیث کا اختصار ہے۔
اخبرنا محمد بن عبد الله بن عبد الحكم، عن شعيب، انبانا الليث، عن ابن الهاد، عن جعفر بن محمد، عن ابيه، عن جابر بن عبد الله، قال اقام رسول الله صلى الله عليه وسلم تسع سنين لم يحج ثم اذن في الناس بالحج فلم يبق احد يقدر ان ياتي راكبا او راجلا الا قدم فتدارك الناس ليخرجوا معه حتى جاء ذا الحليفة فولدت اسماء بنت عميس محمد بن ابي بكر فارسلت الى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال " اغتسلي واستثفري بثوب ثم اهلي " . ففعلت مختصر
جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا نے محمد بن ابی بکر کو جنا تو انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھوایا کہ میں کیا کروں؟ تو آپ نے انہیں غسل کرنے، کپڑے کا لنگوٹ باندھنے، اور تلبیہ پکارنے کا حکم دیا۔
اخبرنا علي بن حجر، قال انبانا اسماعيل، - وهو ابن جعفر - قال حدثنا جعفر بن محمد، عن ابيه، عن جابر، رضى الله عنه قال نفست اسماء بنت عميس محمد بن ابي بكر فارسلت الى رسول الله صلى الله عليه وسلم تساله كيف تفعل فامرها ان تغتسل وتستثفر بثوبها وتهل
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ صرف حج کا تلبیہ پکارتے ہوئے آئے اور عائشہ رضی اللہ عنہا عمرہ کا تلبیہ پکارتی ہوئی آئیں۔ یہاں تک کہ جب ہم سرف ۱؎ پہنچے، تو وہ حائضہ ہو گئیں۔ اور اسی حالت میں رہیں یہاں تک کہ جب ہم ( مکہ ) پہنچ گئے اور ہم نے خانہ کعبہ کا طواف اور صفا و مروہ کی سعی کر لی، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا کہ ہم میں سے جس کے ساتھ ہدی نہ ہو وہ حلال ہو جائے۔ تو ہم نے پوچھا: کیا چیزیں ہم پر حلال ہوئیں ہیں؟ آپ نے فرمایا: ”ساری چیزیں حلال ہو گئی“ ( یہ سن کر ) ہم نے اپنی عورتوں سے جماع کیا، خوشبو لگائی، اور اپنے ( سلے ) کپڑے پہنے، اس وقت ہمارے اور عرفہ کے درمیان صرف چار راتیں باقی رہ گئیں تھیں، پھر ہم نے یوم الترویہ ( آٹھ ذی الحجہ ) کو حج کا تلبیہ پکارا، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئے تو انہیں روتا ہوا پایا۔ آپ نے پوچھا: ”کیا بات ہے“؟ انہوں نے کہا: بات یہ ہے کہ مجھے حیض آ گیا ہے، اور لوگ حلال ہو گئے ہیں اور میں حلال نہیں ہوئی اور ( ابھی تک ) میں نے خانہ کعبہ کا طواف نہیں کیا ہے ۲؎ اور لوگ اب حج کو جا رہے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ ایسی چیز ہے جسے اللہ تعالیٰ نے آدم زادیوں ( عورتوں ) کے لیے مقدر فرما دیا ہے، تم غسل کر لو، اور حج کا احرام باندھ لو تو انہوں نے ایسا ہی کیا“، اور وقوف کی جگ ہوں ( یعنی منیٰ، عرفات اور مزدلفہ میں وقوف کیا یہاں تک کہ جب وہ حیض سے پاک ہو گئیں تو انہوں نے بیت اللہ کا طواف کیا، صفا اور مروہ کی سعی کی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اب تم حج و عمرہ دونوں سے حلال ہو گئیں“، انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میرے دل میں یہ بات کھٹک رہی ہے کہ میں نے حج سے پہلے عمرے کا طواف نہیں کیا ہے؟ ( پھر عمرہ کیسے ہوا ) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( عائشہ رضی اللہ عنہا کے بھائی ) سے فرمایا: ”عبدالرحمٰن! تم انہیں لے جاؤ اور تنعیم سے عمرہ کروا لاؤ“، یہ واقعہ محصب میں ٹھہرنے والی رات کا ہے ۳؎۔
اخبرنا قتيبة، قال حدثنا الليث، عن ابي الزبير، عن جابر بن عبد الله، قال اقبلنا مهلين مع رسول الله صلى الله عليه وسلم بحج مفرد واقبلت عايشة مهلة بعمرة حتى اذا كنا بسرف عركت حتى اذا قدمنا طفنا بالكعبة وبالصفا والمروة فامرنا رسول الله صلى الله عليه وسلم ان يحل منا من لم يكن معه هدى قال فقلنا حل ماذا قال " الحل كله " . فواقعنا النساء وتطيبنا بالطيب ولبسنا ثيابنا وليس بيننا وبين عرفة الا اربع ليال ثم اهللنا يوم التروية ثم دخل رسول الله صلى الله عليه وسلم على عايشة فوجدها تبكي فقال " ما شانك " . فقالت شاني اني قد حضت وقد حل الناس ولم احلل ولم اطف بالبيت والناس يذهبون الى الحج الان . فقال " ان هذا امر كتبه الله على بنات ادم فاغتسلي ثم اهلي بالحج " . ففعلت . ووقفت المواقف حتى اذا طهرت طافت بالكعبة وبالصفا والمروة ثم قال " قد حللت من حجتك وعمرتك جميعا " . فقالت يا رسول الله اني اجد في نفسي اني لم اطف بالبيت حتى حججت . قال " فاذهب بها يا عبد الرحمن فاعمرها من التنعيم " . وذلك ليلة الحصبة
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ حجۃ الوداع میں ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے، تو ہم نے عمرہ کا تلبیہ پکارا، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس کے پاس ہدی ہو وہ حج و عمرہ دونوں کا تلبیہ پکارے، پھر احرام نہ کھولے جب تک کہ ان دونوں سے فارغ نہ ہو جائے“، تو میں مکہ آئی، اور میں حائضہ تھی تو میں نہ بیت اللہ کا طواف کر سکی اور نہ ہی صفا و مروہ کی سعی کر سکی، تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کی شکایت کی، تو آپ نے فرمایا: ”اپنا سر کھول دو، کنگھی کر لو اور حج کا احرام باندھ لو اور عمرہ کو جانے دو“، تو میں نے ایسا ہی کیا، پھر جب میں حج کر چکی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے عبدالرحمٰن بن ابی بکر کے ساتھ تنعیم بھیجا، تو میں نے عمرہ کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ تیرے عمرہ کی جگہ میں ہے“، تو جن لوگوں نے عمرے کا تلبیہ پکارا تھا انہوں نے بیت اللہ کا طواف کیا، اور صفا و مروہ کی سعی کی، پھر وہ حلال ہو گئے ( پھر منیٰ سے لوٹنے کے بعد انہوں نے ایک دوسرا طواف ۱؎ اپنے حج کا کیا، اور جن لوگوں نے حج و عمرہ دونوں کو جمع کیا تھا ( یعنی قران کیا تھا ) تو انہوں نے ایک ہی طواف کیا۔
اخبرنا محمد بن سلمة، والحارث بن مسكين، قراءة عليه وانا اسمع، - واللفظ له - عن ابن القاسم، قال حدثني مالك، عن ابن شهاب، عن عروة بن الزبير، عن عايشة، قالت خرجنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم في حجة الوداع فاهللنا بعمرة ثم قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من كان معه هدى فليهلل بالحج مع العمرة ثم لا يحل حتى يحل منهما جميعا " . فقدمت مكة وانا حايض فلم اطف بالبيت ولا بين الصفا والمروة فشكوت ذلك الى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال " انقضي راسك وامتشطي واهلي بالحج ودعي العمرة " . ففعلت فلما قضيت الحج ارسلني رسول الله صلى الله عليه وسلم مع عبد الرحمن بن ابي بكر الى التنعيم فاعتمرت قال " هذه مكان عمرتك " . فطاف الذين اهلوا بالعمرة بالبيت وبين الصفا والمروة ثم حلوا ثم طافوا طوافا اخر بعد ان رجعوا من منى لحجهم واما الذين جمعوا الحج والعمرة فانما طافوا طوافا واحدا
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ ضباعہ رضی اللہ عنہ نے حج کا ارادہ کیا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حکم دیا کہ وہ شرط کر لیں ۱؎ تو انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے ایسا ہی کیا۔
اخبرنا هارون بن عبد الله، قال حدثنا ابو داود، قال حدثنا حبيب، عن عمرو بن هرم، عن سعيد بن جبير، وعكرمة، عن ابن عباس، ان ضباعة، ارادت الحج فامرها النبي صلى الله عليه وسلم ان تشترط ففعلت عن امر رسول الله صلى الله عليه وسلم
ہلال بن خباب کہتے ہیں کہ میں نے سعید بن جبیر سے اس شخص کے بارے میں پوچھا جو مشروط حج کر رہا ہو تو انہوں نے کہا: یہ شرط بھی اس طرح ہے جیسے لوگوں کے درمیان اور شرطیں ہوتی ہیں ۲؎ تو میں نے ان سے ان کی یعنی عکرمہ کی حدیث بیان کی، تو انہوں نے مجھ سے بیان کیا کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ضباعہ بنت زبیر بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں اور عرض کیا: اللہ کے رسول! میں حج کرنا چاہتی ہوں، تو کیسے کہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کہو: «لبيك اللہم لبيك ومحلي من الأرض حيث تحبسني» ”حاضر ہوں، اے اللہ! حاضر ہوں، جہاں تو مجھے روک دے، وہیں میں حلال ہو جاؤں گی“، کیونکہ تو نے جو شرط کی ہے وہ تیرے رب کے اوپر ہے۔
اخبرني ابراهيم بن يعقوب، قال حدثنا ابو النعمان، قال حدثنا ثابت بن يزيد الاحول، قال حدثنا هلال بن خباب، قال سالت سعيد بن جبير عن الرجل، يحج يشترط قال الشرط بين الناس فحدثته حديثه - يعني عكرمة - فحدثني عن ابن عباس ان ضباعة بنت الزبير بن عبد المطلب اتت النبي صلى الله عليه وسلم فقالت يا رسول الله اني اريد الحج فكيف اقول قال " قولي لبيك اللهم لبيك ومحلي من الارض حيث تحبسني فان لك على ربك ما استثنيت
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ ضباعہ بنت زبیر رضی اللہ عنہما رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں اور عرض کیا: اللہ کے رسول! میں ایک بھاری بھر کم عورت ہوں اور میں حج کرنا چاہتی ہوں، آپ مجھے بتائیے، میں کس طرح تلبیہ پکاروں؟ آپ نے فرمایا: ”تم تلبیہ پکارو اور شرط لگا لو کہ ( اے اللہ ) تو جہاں مجھے روک دے گا وہیں حلال ہو جاؤں گی“۔
اخبرني عمران بن يزيد، قال انبانا شعيب، قال انبانا ابن جريج، قال انبانا ابو الزبير، انه سمع طاوسا، وعكرمة، يخبران عن ابن عباس، قال جاءت ضباعة بنت الزبير الى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقالت يا رسول الله اني امراة ثقيلة واني اريد الحج فكيف تامرني ان اهل قال " اهلي واشترطي ان محلي حيث حبستني
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ضباعہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئے، تو انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں بیمار ہوں اور میں حج کرنا چاہتی ہوں؟، آپ نے فرمایا: ”حج کرو اور شرط لگا لو کہ ( اے اللہ ) تو جہاں مجھے روک دے گا میں وہیں حلال ہو جاؤں گی“۔ اسحاق کہتے ہیں: میں نے ( اپنے استاد ) عبدالرزاق سے کہا: ہشام اور زہری دونوں عائشہ ہی سے روایت کرتے ہیں: انہوں نے کہا: ہاں ( ایسا ہی ہے ) ۔ ابوعبدالرحمٰن نسائی کہتے ہیں: میں نہیں جانتا کہ اس حدیث کو معمر کے سوا کسی اور نے بھی زہری سے مسنداً روایت کیا ہے۔ واللہ سبحانہ وتعالیٰ اعلم۔
اخبرنا اسحاق بن ابراهيم، قال انبانا عبد الرزاق، قال انبانا معمر، عن الزهري، عن عروة، عن عايشة، وعن هشام بن عروة، عن ابيه، عن عايشة، قالت دخل رسول الله صلى الله عليه وسلم على ضباعة فقالت يا رسول الله اني شاكية واني اريد الحج . فقال لها النبي صلى الله عليه وسلم " حجي واشترطي ان محلي حيث تحبسني " . قال اسحاق قلت لعبد الرزاق كلاهما عن عايشة هشام والزهري قال نعم . قال ابو عبد الرحمن لا اعلم احدا اسند هذا الحديث عن الزهري غير معمر والله سبحانه وتعالى اعلم
سالم بن عبداللہ کہتے ہیں کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما حج میں شرط لگانا پسند نہیں کرتے تھے، اور کہتے تھے: کیا تمہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ سنت کافی نہیں؟ اگر تم میں سے کوئی حج سے روک دیا گیا ہو تو ( اگر ممکن ہو تو ) کعبے کا طواف، اور صفا و مروہ کے درمیان سعی کر لے، پھر ہر چیز سے حلال ہو جائے، یہاں تک کہ آنے والے سال میں حج کرے اور ہدی دے، اور اگر ہدی میسر نہ ہو تو روزہ رکھے۔
اخبرنا احمد بن عمرو بن السرح، والحارث بن مسكين، قراءة عليه وانا اسمع، عن ابن وهب، قال اخبرني يونس، عن ابن شهاب، عن سالم، قال كان ابن عمر ينكر الاشتراط في الحج ويقول اليس حسبكم سنة رسول الله صلى الله عليه وسلم ان حبس احدكم عن الحج طاف بالبيت وبالصفا والمروة ثم حل من كل شىء حتى يحج عاما قابلا ويهدي ويصوم ان لم يجد هديا
سالم بن عبداللہ سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما حج میں شرط لگانا ناپسند کرتے تھے اور کہتے تھے: کیا تمہارے لیے تمہارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کافی نہیں ہے کہ آپ نے ( کبھی ) شرط نہیں لگائی۔ اگر تم میں سے کسی کو کوئی روکنے والی چیز روک دے تو اگر ممکن ہو سکے تو بیت اللہ کا طواف کرے، اور صفا اور مروہ کے درمیان سعی کرے، پھر سر منڈوائے یا کتروائے پھر احرام کھول دے اور اس پر آئیندہ سال کا حج ہو گا۔
اخبرنا اسحاق بن ابراهيم، قال انبانا عبد الرزاق، قال انبانا معمر، عن الزهري، عن سالم، عن ابيه، انه كان ينكر الاشتراط في الحج ويقول ما حسبكم سنة نبيكم صلى الله عليه وسلم انه لم يشترط فان حبس احدكم حابس فليات البيت فليطف به وبين الصفا والمروة ثم ليحلق او يقصر ثم ليحلل وعليه الحج من قابل
اخبرنا محمد بن عبد الاعلى، قال حدثنا محمد بن ثور، عن معمر، عن الزهري، عن عروة، عن المسور بن مخرمة، قال خرج رسول الله صلى الله عليه وسلم ح وانبانا يعقوب بن ابراهيم قال حدثنا يحيى بن سعيد قال حدثنا عبد الله بن المبارك قال حدثنا معمر عن الزهري عن عروة عن المسور بن مخرمة ومروان بن الحكم قالا خرج رسول الله صلى الله عليه وسلم زمن الحديبية في بضع عشرة ماية من اصحابه حتى اذا كانوا بذي الحليفة قلد الهدى واشعر واحرم بالعمرة . مختصر
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اونٹ کا اشعار کیا۔
اخبرنا عمرو بن علي، قال انبانا وكيع، قال حدثني افلح بن حميد، عن القاسم، عن عايشة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم اشعر بدنه
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اونٹ کا دائیں جانب سے اشعار کیا، اور خون کو اپنی انگلی سے صاف کیا، اور اس کا اشعار کیا۔
اخبرنا مجاهد بن موسى، عن هشيم، عن شعبة، عن قتادة، عن ابي حسان الاعرج، عن ابن عباس، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم اشعر بدنه من الجانب الايمن وسلت الدم عنها واشعرها
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب ذوالحلیفہ میں تھے تو آپ نے اپنے ( قربانی کے ) اونٹ کے متعلق حکم دیا تو اس کے کوہان کے دائیں جانب اشعار کیا گیا پھر آپ نے اس کا خون صاف کیا اور اس کے گلے میں دو جوتیاں لٹکائیں تو جب بیداء میں آپ کو لے کر وہ پورے طور پر کھڑی ہو گئی تو آپ نے لبیک پکارا۔
اخبرنا عمرو بن علي، قال حدثنا يحيى، قال حدثنا شعبة، عن قتادة، عن ابي حسان الاعرج، عن ابن عباس، ان النبي صلى الله عليه وسلم لما كان بذي الحليفة امر ببدنته فاشعر في سنامها من الشق الايمن ثم سلت عنها وقلدها نعلين فلما استوت به على البيداء اهل
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ سے ہدی ( قربانی کے جانور ) بھیجتے تھے تو میں آپ کی ہدی کے ہار بٹتی تھی پھر آپ ان چیزوں میں سے کسی چیز سے بھی اجتناب نہ کرتے تھے جن چیزوں سے محرم اجتناب کرتا ہے ۱؎۔
اخبرنا قتيبة، قال حدثنا الليث، عن ابن شهاب، عن عروة، وعمرة بنت عبد الرحمن، عن عايشة، انها قالت كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يهدي من المدينة فافتل قلايد هديه ثم لا يجتنب شييا مما يجتنبه المحرم
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہدی کے ہار ( قلادے ) بٹا کرتی تھی، آپ انہیں پہنا کر بھیجتے پھر آپ وہ سب کرتے جو غیر محرم کرتا ہے اس سے پہلے کہ ہدی اپنے مقام پر ( یعنی قربان گاہ پر ) پہنچے۔
اخبرنا الحسن بن محمد الزعفراني، قال انبانا يزيد، قال انبانا يحيى بن سعيد، عن عبد الرحمن بن القاسم، عن ابيه، عن عايشة، قالت كنت افتل قلايد هدى رسول الله صلى الله عليه وسلم فيبعث بها ثم ياتي ما ياتي الحلال قبل ان يبلغ الهدى محله
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدی کے ہار ( قلادے ) بٹتی تھی، پھر آپ مقیم ہوتے اور احرام نہیں باندھتے تھے۔
اخبرنا عمرو بن علي، قال حدثنا يحيى، قال حدثنا اسماعيل، قال حدثنا عامر، عن مسروق، عن عايشة، قالت ان كنت لافتل قلايد هدى رسول الله صلى الله عليه وسلم ثم يقيم ولا يحرم
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہدی کے ہار ( قلادے ) بٹتی تھی، آپ اسے اپنے ہدی کے جانور کو پہناتے تھے پھر اسے روانہ فرماتے تھے۔ اور آپ خود مقیم رہتے، اور جن چیزوں سے محرم بچتا ہے ان چیزوں سے آپ نہیں بچتے تھے۔
اخبرنا عبد الله بن محمد الضعيف، قال حدثنا ابو معاوية، قال حدثنا الاعمش، عن ابراهيم، عن الاسود، عن عايشة، قالت كنت افتل القلايد لهدى رسول الله صلى الله عليه وسلم فيقلد هديه ثم يبعث بها ثم يقيم لا يجتنب شييا مما يجتنبه المحرم