Loading...

Loading...
کتب
۴۶۶ احادیث
مطرف کہتے ہیں کہ مجھ سے عمران بن حصین رضی اللہ عنہما نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( حج ) تمتع کیا، اور ہم نے بھی آپ کے ساتھ ( حج ) تمتع کیا ( لیکن ) کہنے والے نے اس سلسلے میں اپنی رائے سے کہا ۱؎۔
اخبرني ابراهيم بن يعقوب، قال حدثنا عثمان بن عمر، قال حدثنا اسماعيل بن مسلم، عن محمد بن واسع، عن مطرف، قال قال لي عمران بن حصين ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قد تمتع وتمتعنا معه قال فيها قايل برايه
ابو جعفر محمد بن علی باقر کہتے ہیں کہ ہم جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کے پاس آئے، اور ہم نے ان سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حج کے متعلق پوچھا، تو انہوں نے ہم سے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نو سال تک مدینہ میں رہے پھر لوگوں میں اعلان کیا گیا کہ امسال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حج کو جانے والے ہیں، تو بہت سارے لوگ مدینہ آ گئے، سب یہ چاہتے تھے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء کریں اور وہی کریں جو آپ کرتے ہیں۔ تو جب ذی قعدہ کے پانچ دن باقی رہ گئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حج کے لیے نکلے اور ہم بھی آپ کے ساتھ نکلے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے درمیان تھے آپ پر قرآن اتر رہا تھا اور آپ اس کی تاویل ( تفسیر ) جانتے تھے اور جو چیز بھی آپ نے کی ہم نے بھی کی۔ چنانچہ ہم نکلے ہمارے پیش نظر صرف حج تھا۔
اخبرنا يعقوب بن ابراهيم، قال حدثنا يحيى بن سعيد، قال حدثنا جعفر بن محمد، قال حدثني ابي قال، اتينا جابر بن عبد الله فسالناه عن حجة النبي، صلى الله عليه وسلم فحدثنا ان رسول الله صلى الله عليه وسلم مكث بالمدينة تسع حجج ثم اذن في الناس ان رسول الله صلى الله عليه وسلم في حاج هذا العام فنزل المدينة بشر كثير كلهم يلتمس ان ياتم برسول الله صلى الله عليه وسلم ويفعل ما يفعل فخرج رسول الله صلى الله عليه وسلم لخمس بقين من ذي القعدة وخرجنا معه قال جابر ورسول الله صلى الله عليه وسلم بين اظهرنا عليه ينزل القران وهو يعرف تاويله وما عمل به من شىء عملنا فخرجنا لا ننوي الا الحج
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ ہم نکلے ہمارے پیش نظر صرف حج تھا۔ جب ہم سرف میں پہنچے تو میں حائضہ ہو گئی، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس آئے اور میں رو رہی تھی، آپ نے پوچھا: ”کیا تجھے حیض آ گیا ہے“ میں نے کہا: جی ہاں، آپ نے فرمایا: ”یہ تو ایسی چیز ہے جسے اللہ تعالیٰ نے آدم زادیوں ( عورتوں ) پر لکھ دی ہے، تم وہ سب کام کرو جو احرام باندھنے والے کرتے ہیں، البتہ بیت اللہ طواف نہ کرنا“۔
اخبرنا محمد بن عبد الله بن يزيد، والحارث بن مسكين، قراءة عليه وانا اسمع، - واللفظ لمحمد - قالا حدثنا سفيان، عن عبد الرحمن بن القاسم، عن ابيه، عن عايشة، قالت خرجنا لا ننوي الا الحج فلما كنا بسرف حضت فدخل على رسول الله صلى الله عليه وسلم وانا ابكي فقال " احضت " . قلت نعم . قال " ان هذا شىء كتبه الله عز وجل على بنات ادم فاقضي ما يقضي المحرم غير ان لا تطوفي بالبيت
ابوموسیٰ اشعری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں یمن سے آیا، اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بطحاء میں جہاں کہ آپ نے حج کیا تھا اونٹ بٹھائے ہوئے تھے، آپ نے ( مجھ سے ) پوچھا: ”کیا تم نے حج کا ارادہ کیا ہے؟“ میں نے کہا: جی ہاں، آپ نے پوچھا: ”تم نے کیسے کہا؟“ انہوں نے کہا: میں نے یوں کہا: «لبيك بإهلال كإهلال النبي صلى اللہ عليه وسلم» ”میں حاضر ہوں اس تلبیہ کے ساتھ جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا تلبیہ ہے“ آپ نے فرمایا: ”بیت اللہ کا طواف کر لو، اور صفا و مروہ کے درمیان سعی کر لو، پھر احرام کھول کر حلال ہو جاؤ“، میں نے ایسے ہی کیا، پھر میں ایک عورت کے پاس آیا، اس نے میرے سر سے جوئیں نکالیں۔ تو میں اسی کے مطابق لوگوں کو فتویٰ دینے لگا یہاں تک کہ عمر رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں مجھ سے ایک شخص کہنے لگا: ابوموسیٰ! تم اپنے بعض فتوے دینے بند کر دو، کیونکہ تمہیں معلوم نہیں ہے کہ تمہارے بعد امیر المؤمنین نے حج کے سلسلے میں کیا نیا حکم جاری کیا ہے۔ ( یہ سن کر ) ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے کہا: لوگو! جس کو بھی میں نے فتویٰ دیا ہو وہ توقف کرے کیونکہ امیر المؤمنین تمہارے پاس آنے والے ہیں ( وہ جیسا بتائیں ) ان کی پیروی کرو۔ ( اور جب عمر رضی اللہ عنہ کے سامنے یہ بات آئی تو ) انہوں نے کہا: اگر ہم اللہ کی کتاب ( قرآن ) کو لیں تو وہ ( حج اور عمرہ کو ) پورا کرنے کا حکم دے رہی ہے اور اگر ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کو لیں تو آپ کی سنت یہ رہی ہے کہ آپ نے اپنا احرام نہیں کھولا جب تک کہ ہدی اپنے ٹھکانے پر نہیں پہنچ گئی۔
اخبرنا محمد بن عبد الاعلى، قال حدثنا خالد، قال حدثنا شعبة، قال اخبرني قيس بن مسلم، قال سمعت طارق بن شهاب، قال قال ابو موسى اقبلت من اليمن والنبي صلى الله عليه وسلم منيخ بالبطحاء حيث حج فقال " احججت " . قلت نعم . قال " كيف قلت " . قال قلت لبيك باهلال كاهلال النبي صلى الله عليه وسلم قال " فطف بالبيت وبالصفا والمروة واحل " . ففعلت ثم اتيت امراة ففلت راسي فجعلت افتي الناس بذلك حتى كان في خلافة عمر فقال له رجل يا ابا موسى رويدك بعض فتياك فانك لا تدري ما احدث امير المومنين في النسك بعدك . قال ابو موسى يا ايها الناس من كنا افتيناه فليتيد فان امير المومنين قادم عليكم فايتموا به . وقال عمر ان ناخذ بكتاب الله فانه يامرنا بالتمام وان ناخذ بسنة النبي صلى الله عليه وسلم فان النبي صلى الله عليه وسلم لم يحل حتى بلغ الهدى محله
جعفر بن محمد باقر کہتے ہیں کہ ہم جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کے پاس آئے اور ان سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حج کے متعلق پوچھا، تو انہوں نے ہم سے بیان کیا کہ علی رضی اللہ عنہ یمن سے ہدی لے کر آئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ سے ہدی لے کر گئے۔ آپ نے علی رضی اللہ عنہ سے پوچھا: ”تم نے کس چیز کا تلبیہ پکارا ہے؟“ انہوں نے کہا: میں نے یوں کہا ہے: اے اللہ! میں اسی چیز کا تلبیہ پکارتا ہوں جس کا تلبیہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پکارا ہے۔ اور میرے ساتھ ہدی بھی ہے۔ آپ نے فرمایا: ”تو تم احرام نہ کھولو“ ( جب تک کہ حج سے فارغ نہ ہو جاؤ ) ۔
اخبرنا محمد بن المثنى، قال حدثنا يحيى بن سعيد، عن جعفر بن محمد، قال حدثنا ابي قال، اتينا جابر بن عبد الله فسالناه عن حجة النبي، صلى الله عليه وسلم فحدثنا ان عليا قدم من اليمن بهدى وساق رسول الله صلى الله عليه وسلم من المدينة هديا قال لعلي " بما اهللت " . قال قلت اللهم اني اهل بما اهل به رسول الله صلى الله عليه وسلم ومعي الهدى . قال " فلا تحل
جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ علی رضی اللہ عنہ زکاۃ کی وصولی کا کام کر کے آئے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا: ”علی! تم نے کس چیز کا تلبیہ پکارا ہے؟“ انہوں نے کہا: جس چیز کا رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے پکارا ہے، تو آپ نے فرمایا: ”ہدی دو اور احرام باندھے رہو جیسا کہ تم اس وقت باندھے ہو“، جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: علی رضی اللہ عنہ بھی اپنے لیے ہدی لے کر آئے تھے۔
اخبرني عمران بن يزيد، قال حدثنا شعيب، عن ابن جريج، قال عطاء قال جابر قدم علي من سعايته فقال له النبي صلى الله عليه وسلم " بما اهللت يا علي " . قال بما اهل به النبي صلى الله عليه وسلم . قال " فاهد وامكث حراما كما انت " . قال واهدى علي له هديا
براء بن عازب رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ میں علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھا جس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں یمن کا گورنر ( امیر ) بنایا تو مجھے ان کے ساتھ کئی اوقیے ملے جب علی رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، میں نے تو فاطمہ رضی اللہ عنہا کو دیکھا کہ انہوں نے گھر میں خوشبو پھیلا رکھی ہے، تو میں گھر سے نکل کر باہر آ گیا، تو انہوں نے مجھ سے کہا: آپ کو کیا ہوا ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب کو حکم دیا تو انہوں نے اپنے احرام کھول دیا، میں نے کہا: میں نے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے تلبیہ کی طرح تلبیہ پکارا ہے، تو میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، آپ نے مجھ سے پوچھا: ”تو تم نے کیسے کیا ہے؟“ میں نے کہا: میں نے آپ کی طرح تلبیہ پکارا ہے، آپ نے فرمایا: ”میں تو ہدی ساتھ لایا ہوں اور میں نے قران کیا ہے“۔
اخبرني احمد بن محمد بن جعفر، قال حدثني يحيى بن معين، قال حدثنا حجاج، قال حدثنا يونس بن ابي اسحاق، عن ابي اسحاق، عن البراء، قال كنت مع علي حين امره النبي صلى الله عليه وسلم على اليمن فاصبت معه اواقي فلما قدم علي على النبي صلى الله عليه وسلم قال علي وجدت فاطمة قد نضحت البيت بنضوح قال فتخطيته فقالت لي ما لك فان رسول الله صلى الله عليه وسلم قد امر اصحابه فاحلوا قال قلت اني اهللت باهلال النبي صلى الله عليه وسلم . قال فاتيت النبي صلى الله عليه وسلم فقال لي " كيف صنعت " . قلت اني اهللت بما اهللت . قال " فاني قد سقت الهدى وقرنت
نافع سے روایت ہے کہ جس سال حجاج بن یوسف نے عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما پر چڑھائی کی، ابن عمر رضی اللہ عنہما نے حج کا ارادہ کیا تو ان سے کہا گیا کہ ان کے درمیان جنگ ہونے والی ہے، مجھے ڈر ہے کہ وہ لوگ آپ کو ( حج سے ) روک دیں گے تو انہوں نے کہا: ( اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ) تمہارے لیے اللہ کے رسول کی زندگی میں بہترین نمونہ ہے۔ اگر ایسی صورت حال پیش آئی تو میں ویسے ہی کروں گا جیسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا تھا ۱؎ میں تمہیں گواہ بنا کر کہتا ہوں کہ میں نے عمرہ واجب کر لیا ہے پھر چلے، جب بیداء کے پاس پہنچے تو کہا: حج و عمرہ دونوں تو ایک ہی ہیں، میں تم لوگوں کو گواہ بنا کر کہتا ہوں کہ میں نے عمرہ کے ساتھ حج بھی اپنے اوپر واجب کر لیا ہے، اور ہدی بھی ساتھ لے لی جسے قدید میں خریدا تھا پھر کچھ راستے دونوں ( حج و عمرہ ) کا تلبیہ پکارتے ہوئے چلے یہاں تک کہ مکہ آ گئے، تو بیت اللہ کا طواف کیا اور صفا و مروہ کی سعی کی اس سے زیادہ کچھ نہ کیا، نہ قربانی کی، نہ سر منڈایا، نہ بال کتروائے، اور نہ ان چیزوں سے حلال ہوئے جو اس کی وجہ سے ان پر حرام ہوئی تھیں یہاں تک کہ جب ذی الحجہ کی دسویں تاریخ آئی تو انہوں نے نحر کیا ( قربانی کیا ) سر منڈوایا اور یہ خیال کیا کہ پہلے ہی طواف سے حج و عمرہ دونوں کا طواف ہو گیا ہے۔ اور ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا ہی کیا تھا۔
اخبرنا قتيبة، قال حدثنا الليث، عن نافع، ان ابن عمر، اراد الحج عام نزل الحجاج بابن الزبير فقيل له انه كاين بينهم قتال وانا اخاف ان يصدوك . قال لقد كان لكم في رسول الله اسوة حسنة اذا اصنع كما صنع رسول الله صلى الله عليه وسلم اني ا��هدكم اني قد اوجبت عمرة . ثم خرج حتى اذا كان بظاهر البيداء قال ما شان الحج والعمرة الا واحد اشهدكم اني قد اوجبت حجا مع عمرتي . واهدى هديا اشتراه بقديد ثم انطلق يهل بهما جميعا حتى قدم مكة فطاف بالبيت وبالصفا والمروة ولم يزد على ذلك ولم ينحر ولم يحلق ولم يقصر ولم يحل من شىء حرم منه حتى كان يوم النحر فنحر وحلق فراى ان قد قضى طواف الحج والعمرة بطوافه الاول وقال ابن عمر كذلك فعل رسول الله صلى الله عليه وسلم
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تلبیہ پکارتے سنا، آپ کہہ رہے تھے: «لبيك اللہم لبيك لبيك لا شريك لك لبيك إن الحمد والنعمة لك والملك لا شريك لك» ”حاضر ہوں تیری خدمت میں اے رب! حاضر ہوں، حاضر ہوں، تیرا کوئی شریک و ساجھی دار نہیں، حاضر ہوں میں، تمام تعریفیں تجھی کو سزاوار ہیں اور تمام نعمتیں تیری ہی عطا کردہ ہیں، تیری ہی سلطنت ہے، تیرا کوئی ساجھی و شریک نہیں“ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے تھی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ذوالحلیفہ میں دو رکعت نماز پڑھی، پھر جب اونٹنی آپ کو مسجد ذوالحلیفہ کے پاس لے کر پوری طرح کھڑی ہوئی تو آپ نے ان کلمات کو بلند آواز سے کہا۔
اخبرنا عيسى بن ابراهيم، قال حدثنا ابن وهب، قال اخبرني يونس، عن ابن شهاب، قال ان سالما اخبرني ان اباه قال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يهل يقول " لبيك اللهم لبيك لبيك لا شريك لك لبيك ان الحمد والنعمة لك والملك لا شريك لك " . وان عبد الله بن عمر كان يقول كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يركع بذي الحليفة ركعتين ثم اذا استوت به الناقة قايمة عند مسجد ذي الحليفة اهل بهولاء الكلمات
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تلبیہ یوں کہتے «لبيك اللہم لبيك لبيك لا شريك لك لبيك إن الحمد والنعمة لك والملك لا شريك لك» ۔
اخبرنا احمد بن عبد الله بن الحكم، قال حدثنا محمد بن جعفر، قال حدثنا شعبة، قال سمعت زيدا، وابا، بكر ابنى محمد بن زيد انهما سمعا نافعا، يحدث عن عبد الله بن عمر، عن النبي صلى الله عليه وسلم انه كان يقول " لبيك اللهم لبيك لبيك لا شريك لك لبيك ان الحمد والنعمة لك والملك لا شريك لك
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا تلبیہ یہ تھا «لبيك اللہم لبيك لبيك لا شريك لك لبيك إن الحمد والنعمة لك والملك لا شريك لك» ۔
اخبرنا قتيبة بن سعيد، عن مالك، عن نافع، عن عبد الله بن عمر، قال تلبية رسول الله صلى الله عليه وسلم " لبيك اللهم لبيك لبيك لا شريك لك لبيك ان الحمد والنعمة لك والملك لا شريك لك
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا تلبیہ یوں تھا: «لبيك اللہم لبيك لبيك لا شريك لك لبيك إن الحمد والنعمة لك والملك لا شريك لك» اور اس میں ابن عمر رضی اللہ عنہما نے اتنا اضافہ کیا ہے: «لبيك لبيك وسعديك والخير في يديك والرغباء إليك والعمل» یعنی ”میں حاضر ہوں، تیری خدمت میں، میری سعادت ہے تیرے پاس آنے میں، بھلائی تیرے ہی ہاتھ میں ہے، رغبت تیری ہی طرف ہے، اور عمل بھی تیرے ہی لیے ہے“۔
اخبرنا يعقوب بن ابراهيم، قال حدثنا هشيم، قال انبانا ابو بشر، عن عبيد الله بن عبد الله بن عمر، عن ابيه، قال كانت تلبية رسول الله صلى الله عليه وسلم " لبيك اللهم لبيك لبيك لا شريك لك لبيك ان الحمد والنعمة لك والملك لا شريك لك " . وزاد فيه ابن عمر لبيك لبيك وسعديك والخير في يديك والرغباء اليك والعمل
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا تلبیہ یوں تھا: «لبيك اللہم لبيك لبيك لا شريك لك لبيك إن الحمد والنعمة لك» ۔
اخبرنا احمد بن عبدة، قال حدثنا حماد بن زيد، عن ابان بن تغلب، عن ابي اسحاق، عن عبد الرحمن بن يزيد، عن عبد الله بن مسعود، قال كان من تلبية النبي صلى الله عليه وسلم " لبيك اللهم لبيك لبيك لا شريك لك لبيك ان الحمد والنعمة لك
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے تلبیہ میں «لبيك إله الحق» بھی تھا۔ ابوعبدالرحمٰن نسائی کہتے ہیں: میں نہیں جانتا کہ عبدالعزیز کے علاوہ اس حدیث کو کسی نے بواسطہ عبداللہ بن فضل مسند قرار دیا ہے، اسماعیل بن امیہ نے اسے عبداللہ بن فضل سے مرسلاً روایت کیا ہے۔
اخبرنا قتيبة، قال حدثنا حميد بن عبد الرحمن، عن عبد العزيز بن ابي سلمة، عن عبد الله بن الفضل، عن الاعرج، عن ابي هريرة، قال كان من تلبية النبي صلى الله عليه وسلم " لبيك اله الحق " . قال ابو عبد الرحمن لا اعلم احدا اسند هذا عن عبد الله بن الفضل الا عبد العزيز رواه اسماعيل بن امية عنه مرسلا
سائب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرے پاس جبرائیل آئے اور انہوں نے مجھ سے کہا: محمد! آپ اپنے اصحاب کو حکم دیجئیے کہ وہ تلبیہ میں اپنی آواز بلند کریں“۔
اخبرنا اسحاق بن ابراهيم، قال انبانا سفيان، عن عبد الله بن ابي بكر، عن عبد الملك بن ابي بكر، عن خلاد بن السايب، عن ابيه، عن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " جاءني جبريل فقال لي يا محمد مر اصحابك ان يرفعوا اصواتهم بالتلبية
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز کے بعد تلبیہ پکارنا شروع کیا۔
اخبرنا قتيبة، قال حدثنا عبد السلام، عن خصيف، عن سعيد بن جبير، عن ابن عباس، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم اهل في دبر الصلاة
انس رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیداء میں ظہر کی نماز پڑھی پھر سوار ہوئے اور بیداء کے پہاڑ پر چڑھے، اور حج و عمرہ دونوں کا تلبیہ پکارا جس وقت ظہر پڑھ لی۔
اخبرنا اسحاق بن ابراهيم، انبانا النضر، قال حدثنا اشعث، عن الحسن، عن انس، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم صلى الظهر بالبيداء ثم ركب وصعد جبل البيداء واهل بالحج والعمرة حين صلى الظهر
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حج کے سلسلے میں جابر رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ جب آپ ذوالحلیفہ آئے تو آپ نے ( ظہر کی ) نماز پڑھی، اور آپ خاموش رہے یہاں تک کہ بیداء آئے۔
اخبرني عمران بن يزيد، قال انبانا شعيب، قال اخبرني ابن جريج، قال سمعت جعفر بن محمد، يحدث عن ابيه، عن جابر، في حجة النبي صلى الله عليه وسلم فلما اتى ذا الحليفة صلى وهو صامت حتى اتى البيداء
سالم سے روایت ہے کہ انہوں نے اپنے والد عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو کہتے سنا: تمہارا یہ بیداء وہی ہے جس کے تعلق سے تم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف غلط بات منسوب کرتے ہو ۱؎ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( بیداء سے نہیں ) ذوالحلیفہ کی مسجد ہی سے تلبیہ پکارا ہے ۲؎۔
اخبرنا قتيبة، عن مالك، عن موسى بن عقبة، عن سالم، انه سمع اباه، يقول بيداوكم هذه التي تكذبون فيها على رسول الله صلى الله عليه وسلم ما اهل رسول الله صلى الله عليه وسلم الا من مسجد ذي الحليفة
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو وہ ذوالحلیفہ میں اپنی سواری پر سوار ہوتے دیکھا، پھر جب اونٹنی ( آپ کو لے کر ) پورے طور پر کھڑی ہو گئی تو آپ نے تلبیہ پکارا۔
اخبرنا عيسى بن ابراهيم، عن ابن وهب، قال اخبرني يونس، عن ابن شهاب، ان سالم بن عبد الله، اخبره ان عبد الله بن عمر قال رايت رسول الله صلى الله عليه وسلم يركب راحلته بذي الحليفة ثم يهل حين تستوي به قايمة