Loading...

Loading...
کتب
۴۶۶ احادیث
صبی بن معبد رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں ایک نصرانی بدوی تھا تو میں مسلمان ہو گیا اور جہاد کا حریص تھا، مجھے پتہ لگا کہ حج و عمرہ دونوں مجھ پر فرض ہیں، تو میں اپنے خاندان کے ایک شخص کے پاس آیا جسے ھریم بن عبداللہ کہا جاتا تھا، میں نے اس سے پوچھا ( کیا کریں ) تو اس نے کہا: دونوں ایک ساتھ کر لو۔ پھر جو ہدی ( قربانی ) بھی تمہیں میسر ہو اسے ذبح کر ڈالو، تو میں نے ( حج و عمرہ ) دونوں کا احرام باندھ لیا، پھر جب میں عذیب ۱؎ پہنچا، تو وہاں مجھے سلمان بن ربیعہ اور زید بن صوحان ملے، میں اس وقت حج و عمرہ دونوں کے نام سے لبیک پکار رہا تھا ۲؎ ان دونوں میں سے ایک نے دوسرے سے کہا: یہ شخص اپنے اونٹ سے زیادہ سمجھدار نہیں، ( یہ سن کر ) میں عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور میں نے اُن سے کہا: امیر المؤمنین! میں مسلمان ہو گیا ہوں، اور میں جہاد کا حریص ہوں، اور میں نے حج و عمرہ دونوں کو اپنے اوپر فرض پایا، تو میں ہریم بن عبداللہ کے پاس آیا، اور میں نے ان سے کہا: حج و عمرہ دونوں مجھ پر فرض ہیں، انہوں نے کہا: دونوں ایک ساتھ کر ڈالو، اور جو جانور تمہیں میسر ہو اس کی قربانی کر لو، تو میں نے دونوں کا احرام باندھ لیا، جب میں عذیب پہنچا تو مجھے سلمان بن ربیعہ اور زید بن صوحان ملے، تو ان میں سے ایک دوسرے سے کہنے لگا: یہ اپنے اونٹ سے زیادہ سمجھ دار نہیں ہے، اس پر عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: تمہیں اپنے نبی کی سنت کی توفیق ملی ہے ۳؎۔
اخبرنا اسحاق بن ابراهيم، قال انبانا جرير، عن منصور، عن ابي وايل، قال قال الصبى بن معبد كنت اعرابيا نصرانيا فاسلمت فكنت حريصا على الجهاد فوجدت الحج والعمرة مكتوبين على فاتيت رجلا من عشيرتي يقال له هذيم بن عبد الله فسالته فقال اجمعهما ثم اذبح ما استيسر من الهدى فاهللت بهما فلما اتيت العذيب لقيني سلمان بن ربيعة وزيد بن صوحان وانا اهل بهما فقال احدهما للاخر ما هذا بافقه من بعيره . فاتيت عمر فقلت يا امير المومنين اني اسلمت وانا حريص على الجهاد واني وجدت الحج والعمرة مكتوبين على فاتيت هذيم بن عبد الله فقلت يا هناه اني وجدت الحج والعمرة مكتوبين على . فقال اجمعهما ثم اذبح ما استيسر من الهدى فاهللت بهما فلما اتينا العذيب لقيني سلمان بن ربيعة وزيد بن صوحان فقال احدهما للاخر ما هذا بافقه من بعيره . فقال عمر هديت لسنة نبيك صلى الله عليه وسلم
ابووائل شقیق کہتے ہیں کہ ہمیں صبی بن معبد رضی اللہ عنہ مجھ نے خبر دی پھر راوی نے اسی کے مثل بیان کی اس میں ہے کہ میں عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا، اور میں نے انہیں پورا واقعہ سنایا، مگر ان میں اس کے قول «یا ھناہ» کا ذکر نہیں ہے۔
اخبرنا اسحاق بن ابراهيم، قال انبانا مصعب بن المقدام، عن زايدة، عن منصور، عن شقيق، قال انبانا الصبى، فذكر مثله قال فاتيت عمر فقصصت عليه القصة الا قوله يا هناه
شقیق بن سلمہ ابووائل نامی ایک عراقی سے روایت ہے کہ بنی تغلب کا ایک شخص جسے صبی بن معبد کہا جاتا تھا اور وہ نصرانی تھا مسلمان ہو گیا، تو وہ اپنے حج کے شروع ہی میں حج اور عمرے دونوں کا ایک ساتھ تلبیہ پکارتے ہوئے چلا تو وہ اسی طرح کا تلبیہ پکارتا سلمان بن ربیعہ اور زید بن صوحان کے پاس سے گزرا، تو ان دونوں میں سے ایک نے کہا: تم تو اپنے اونٹ سے بھی زیادہ گمراہ ہے، صبی نے کہا: تو برابر یہ بات میرے دل میں رہی یہاں تک میری ملاقات عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے ہوئی تو میں نے ان سے اس بات کا ذکر کیا تو انہوں نے کہا: تمہیں اپنے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کی ہدایت و توفیق ملی ہے۔ شقیق ( جو اس حدیث کے راوی ہیں ) کہتے ہیں: میں اور مسروق بن اجدع دونوں صبی بن معبد رضی اللہ عنہ کے پاس آیا جایا کرتے تھے اور ان سے تبادلہ خیالات کرتے رہتے تھے تو میں اور مسروق بن اجدع دونوں متعدد بار ان کے پاس گئے۔
اخبرنا عمران بن يزيد، قال انبانا شعيب، - يعني ابن اسحاق - قال انبانا ابن جريج، ح واخبرني ابراهيم بن الحسن، قال حدثنا حجاج، قال قال ابن جريج اخبرني حسن بن مسلم، عن مجاهد، وغيره، عن رجل، من اهل العراق يقال له شقيق بن سلمة ابو وايل ان رجلا من بني تغلب يقال له الصبى بن معبد وكان نصرانيا فاسلم فاقبل في اول ما حج فلبى بحج وعمرة جميعا فهو كذلك يلبي بهما جميعا فمر على سلمان بن ربيعة وزيد بن صوحان فقال احدهما لانت اضل من جملك هذا . فقال الصبى فلم يزل في نفسي حتى لقيت عمر بن الخطاب فذكرت ذلك له فقال هديت لسنة نبيك صلى الله عليه وسلم . قال شقيق وكنت اختلف انا ومسروق بن الاجدع الى الصبى بن معبد نستذكره فلقد اختلفنا اليه مرارا انا ومسروق بن الاجدع
مروان بن حکم سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں عثمان کے پاس بیٹھا تھا کہ انہوں نے علی کو عمرہ و حج دونوں کا تلبیہ پکارتے ہوئے سنا تو کہا: کیا ہم اس سے روکے نہیں جاتے تھے۔ انہوں نے کہا: کیونکہ نہیں، لیکن میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ان دونوں ( حج و عمرہ ) کا ایک ساتھ تلبیہ پکارتے ہوئے سنا ہے، تو میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قول کو آپ کے قول کے لیے نہیں چھوڑ سکتا۔
اخبرني عمران بن يزيد، قال حدثنا عيسى، - وهو ابن يونس - قال حدثنا الاعمش، عن مسلم البطين، عن علي بن حسين، عن مروان بن الحكم، قال كنت جالسا عند عثمان فسمع عليا، يلبي بعمرة وحجة فقال الم تكن تنهى عن هذا قال بلى ولكني سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يلبي بهما جميعا فلم ادع قول رسول الله صلى الله عليه وسلم لقولك
مروان سے روایت ہے کہ عثمان رضی اللہ عنہ نے متعہ سے اور اس بات سے کہ آدمی حج و عمرہ دونوں کو ایک ساتھ جمع کرے منع کیا تو علی نے حج و عمرہ دونوں کا ایک ساتھ تلبیہ پکارا، عثمان رضی اللہ عنہ نے کہا: کیا تم اسے کر رہے ہو؟ اور حال یہ ہے کہ میں اس سے منع کر رہا ہوں، اس پر علی رضی اللہ عنہ نے کہا: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کو کسی بھی شخص کے کہنے سے نہیں چھوڑ سکتا۔
اخبرنا اسحاق بن ابراهيم، قال انبانا ابو عامر، قال حدثنا شعبة، عن الحكم، قال سمعت علي بن حسين، يحدث عن مروان، ان عثمان، نهى عن المتعة، وان يجمع الرجل بين الحج والعمرة فقال علي لبيك بحجة وعمرة معا . فقال عثمان اتفعلها وانا انهى عنها فقال علي لم اكن لادع سنة رسول الله صلى الله عليه وسلم لاحد من الناس
اس سند سے بھی شعبہ سے اسی کے مثل مروی ہے۔
اخبرنا اسحاق بن ابراهيم، قال انبانا النضر، عن شعبة، بهذا الاسناد مثله
براء بن عازب رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ میں علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھا جس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں یمن کا حاکم بنایا، پھر جب وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، علی رضی اللہ عنہ نے کہا: تو میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، تو آپ نے مجھ سے پوچھا: ”تم نے کیسے کیا ہے؟“ یعنی کس چیز کا تلبیہ پکارا ہے، میں نے کہا: میں نے آپ کا تلبیہ پکارا ہے ( یعنی آپ کے احرام کے مطابق احرام باندھا ہے ) ، آپ نے فرمایا: ”میں تو ہدی ساتھ لایا ہوں، اور میں نے قِران کیا ہے“، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب سے فرمایا: ”اگر مجھے پہلے وہ باتیں معلوم ہوئی ہوتیں جواب معلوم ہوئی ہیں تو میں بھی ویسے ہی کرتا جیسے تم نے کیا ہے ۱؎ لیکن میں ہدی ساتھ لایا ہوں، اور میں نے حج قِران کا احرام باندھ رکھا ہے“۔
اخبرني معاوية بن صالح، قال حدثني يحيى بن معين، قال حدثنا حجاج، قال حدثنا يونس، عن ابي اسحاق، عن البراء، قال كنت مع علي بن ابي طالب حين امره رسول الله صلى الله عليه وسلم على اليمن فلما قدم على النبي صلى الله عليه وسلم قال علي فاتيت رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال لي رسول الله صلى الله عليه وسلم " كيف صنعت " . قلت اهللت باهلالك . قال " فاني سقت الهدى وقرنت " . قال وقال صلى الله عليه وسلم لاصحابه " لو استقبلت من امري ما استدبرت لفعلت كما فعلتم ولكني سقت الهدى وقرنت
مطرف کہتے ہیں کہ مجھ سے عمران بن حصین رضی اللہ عنہما نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حج و عمرہ دونوں کو ایک ساتھ جمع کیا پھر اس سے پہلے کہ آپ اس سے منع فرماتے یا اس کے حرام ہونے کے سلسلے میں آپ پر کوئی آیت اترتی آپ کی وفات ہو گئی۔
اخبرنا محمد بن عبد الاعلى الصنعاني، قال حدثنا خالد، قال حدثنا شعبة، قال حدثني حميد بن هلال، قال سمعت مطرفا، يقول قال لي عمران بن حصين جمع رسول الله صلى الله عليه وسلم بين حج وعمرة ثم توفي قبل ان ينهى عنها وقبل ان ينزل القران بتحريمه
عمران رضی الله عنہ سے روایت کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حج اور عمرہ دونوں کو ایک ساتھ جمع کیا پھر اس سلسلے میں کوئی آیت نازل نہیں ہوئی اور نہ ہی ان دونوں کو جمع کرنے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے روکا، لیکن ایک شخص نے ان دونوں کے بارے میں اپنی رائے سے جو چاہا کہا ۱؎۔
اخبرنا عمرو بن علي، قال حدثنا خالد، قال حدثنا شعبة، عن قتادة، عن مطرف، عن عمران، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم جمع بين حج وعمرة ثم لم ينزل فيها كتاب ولم ينه عنهما النبي صلى الله عليه وسلم قال فيهما رجل برايه ما شاء
مطرف بن عبداللہ کہتے ہیں کہ مجھ سے عمران بن حصین رضی اللہ عنہما نے کہا کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ( حج ) تمتع کیا، ابوعبدالرحمٰن ( نسائی ) کہتے ہیں کہ اسماعیل بن مسلم نام کے تین لوگ ہیں، یہ اسماعیل بن مسلم ( جو اس حدیث کے ایک راوی ہیں ) انہیں تینوں میں سے ایک ہیں، ان سے روایت کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے اور ( دوسرے ) اسماعیل بن مسلم ایک شیخ ہیں جو ابوالطفیل سے روایت کرتے ہیں ان سے بھی حدیث لینے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ اور تیسرے اسماعیل بن مسلم ہیں جو زہری اور حسن سے روایت کرتے ہیں یہ متروک الحدیث ہیں۔
اخبرنا ابو داود، قال حدثنا مسلم بن ابراهيم، قال حدثنا اسماعيل بن مسلم، قال حدثنا محمد بن واسع، عن مطرف بن عبد الله، قال قال لي عمران بن حصين تمتعنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم . قال ابو عبد الرحمن اسماعيل بن مسلم ثلاثة هذا احدهم لا باس به واسماعيل بن مسلم شيخ يروي عن ابي الطفيل لا باس به واسماعيل بن مسلم يروي عن الزهري والحسن متروك الحديث
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو «لبيك عمرة وحجا لبيك عمرة وحجا» کہتے سنا ہے۔
اخبرنا مجاهد بن موسى، عن هشيم، عن يحيى، وعبد العزيز بن صهيب، وحميد الطويل، ح وانبانا يعقوب بن ابراهيم، قال انبانا هشيم، قال انبانا عبد العزيز بن صهيب، وحميد الطويل، ويحيى بن ابي اسحاق، كلهم عن انس، سمعوه يقول سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " لبيك عمرة وحجا لبيك عمرة وحجا
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ( حج و عمرہ ) دونوں کا تلبیہ پکارتے ہوئے سنا۔
اخبرنا هناد بن السري، عن ابي الاحوص، عن ابي اسحاق، عن ابي اسماء، عن انس، قال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يلبي بهما
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو حج و عمرہ دونوں کا ایک ساتھ تلبیہ پکارتے ہوئے سنا ہے تو میں نے اسے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے بیان کیا، تو انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف حج کا تلبیہ پکارا تھا، پھر میری ملاقات انس سے ہوئی تو میں نے ان سے ابن عمر رضی اللہ عنہما کی بات بیان کی، اس پر انس رضی اللہ عنہ نے کہا: تم لوگ ہمیں بچہ ہی سمجھتے ہو، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک ساتھ «لبيك عمرة وحجا» کہتے ہوئے سنا ہے۔
اخبرنا يعقوب بن ابراهيم، قال حدثنا هشيم، قال حدثنا حميد الطويل، قال انبانا بكر بن عبد الله المزني، قال سمعت انسا، يحدث قال سمعت النبي صلى الله عليه وسلم يلبي بالعمرة والحج جميعا فحدثت بذلك ابن عمر فقال لبى بالحج وحده . فلقيت انسا فحدثته بقول ابن عمر فقال انس ما تعدونا الا صبيانا سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " لبيك عمرة وحجا معا
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع میں تمتع کیا ۱؎ یعنی پہلے عمرہ کیا پھر حج کیا اور ہدی بھیجی، بلکہ اپنے ساتھ ذوالحلیفہ سے ہدی لے گئے ( وہاں ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے عمرہ کا تلبیہ پکارا پھر حج کا تلبیہ پکارا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ لوگوں نے بھی تمتع کیا، یعنی عمرے کا احرام باندھا پھر حج کا۔ البتہ ان میں کچھ ایسے لوگ بھی تھے جنہوں نے ہدی بھیجی اور اپنے ساتھ بھی لیے گئے، اور کچھ لوگ ایسے تھے جو ہدی نہیں لے گئے تھے۔ تو جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ پہنچ گئے تو آپ نے لوگوں سے فرمایا: ”جو لوگ اپنے ساتھ ہدی لے کر آئے ہیں وہ جب تک حج پورا نہ کر لیں کسی بھی چیز سے جو ان پر حرام ہیں حلال نہ ہو ) اور جو ہدی ساتھ لے کر نہیں آئے ہیں تو وہ خانہ کعبہ کا طواف کریں اور صفا و مروہ کی سعی کریں، اور بال کتروائیں اور احرام کھول ڈالیں۔ پھر ( اٹھویں ذی الحجہ کو ) حج کا احرام باندھے پھر ہدی دے اور جسے ہدی میسر نہ ہو تو وہ حج میں تین دن روزے رکھے، اور سات دن اپنے گھر واپس پہنچ جائیں تب رکھیں“، چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ پہنچ کر طواف کیا، اور سب سے پہلے حجر اسود کا بوسہ لیا پھر سات پھیروں میں سے پہلے تین پھیروں میں دوڑ کر چلے ۲؎، باقی چار پھیرے عام رفتار سے چلے۔ پھر جس وقت بیت اللہ کا طواف پورا کر لیا، تو مقام ابراہیم کے پاس دو رکعتیں پڑھیں پھر سلام پھیرا۔ اور نماز سے فارغ ہو کر صفا آئے اور صفا اور مروہ کے درمیان سات پھیرے کیے۔ پھر جو چیزیں حرام ہو گئی تھیں ان میں سے کسی چیز سے بھی حلال نہیں ہوئے یہاں تک کہ اپنے حج کو مکمل کیا اور یوم النحر ( دسویں ذی الحجہ ) کو اپنے ہدی کی نحر کی ( جانور ذبح کئے ) اور منیٰ سے لوٹ کر مکہ آئے، پھر خانہ کعبہ کا طواف کیا پھر جو چیزیں حرام ہو گئی تھیں ان سب سے حلال ہو گئے، اور لوگوں میں سے جو ہدی ( کا جانور ) لے کر گئے تھے، انہوں نے بھی ویسے ہی کیا جیسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا۔
اخبرنا محمد بن عبد الله بن المبارك المخرمي، قال حدثنا حجين بن المثنى، قال حدثنا الليث، عن عقيل، عن ابن شهاب، عن سالم بن عبد الله، ان عبد الله بن عمر، رضى الله عنهما قال تمتع رسول الله صلى الله عليه وسلم في حجة الوداع بالعمرة الى الحج واهدى وساق معه الهدى بذي الحليفة وبدا رسول الله صلى الله عليه وسلم فاهل بالعمرة ثم اهل بالحج وتمتع الناس مع رسول الله صلى الله عليه وسلم بالعمرة الى الحج فكان من الناس من اهدى فساق الهدى ومنهم من لم يهد فلما قدم رسول الله صلى الله عليه وسلم مكة قال للناس " من كان منكم اهدى فانه لا يحل من شىء حرم منه حتى يقضي حجه ومن لم يكن اهدى فليطف بالبيت وبالصفا والمروة وليقصر وليحلل ثم ليهل بالحج ثم ليهد ومن لم يجد هديا فليصم ثلاثة ايام في الحج وسبعة اذا رجع الى اهله " . فطاف رسول الله صلى الله عليه وسلم حين قدم مكة واستلم الركن اول شىء ثم خب ثلاثة اطواف من السبع ومشى اربعة اطواف ثم ركع حين قضى طوافه بالبيت فصلى عند المقام ركعتين ثم سلم فانصرف فاتى الصفا فطاف بالصفا والمروة سبعة اطواف ثم لم يحل من شىء حرم منه حتى قضى حجه ونحر هديه يوم النحر وافاض فطاف بالبيت ثم حل من كل شىء حرم منه وفعل مثل ما فعل رسول الله صلى الله عليه وسلم من اهدى وساق الهدى من الناس
سعید بن مسیب کہتے ہیں علی اور عثمان رضی اللہ عنہما نے حج کیا تو جب ہم راستے میں تھے تو عثمان رضی اللہ عنہ نے تمتع سے منع کیا، علی رضی اللہ عنہ نے کہا: جب تم لوگ انہیں دیکھو کہ وہ ( عثمان ) کوچ کر گئے ہیں تو تم لوگ بھی کوچ کرو، علی رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھیوں نے عمرہ کا تلبیہ پکارا ( یعنی تمتع کیا ) تو عثمان رضی اللہ عنہ نے انہیں منع نہیں کیا، علی رضی اللہ عنہ نے کہا: کیا مجھے یہ اطلاع نہیں دی گئی ہے کہ آپ تمتع سے روکتے ہیں؟ انہوں نے کہا: کیوں نہیں ( صحیح اطلاع دی ہے ) تو علی رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: کیا آپ نے سنا نہیں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تمتع کیا ہے؟ انہوں نے کہا: کیوں نہیں، ضرور سنا ہے ۱؎۔
اخبرنا عمرو بن علي، قال حدثنا يحيى بن سعيد، قال حدثنا عبد الرحمن بن حرملة، قال سمعت سعيد بن المسيب، يقول حج علي وعثمان فلما كنا ببعض الطريق نهى عثمان عن التمتع فقال علي اذا رايتموه قد ارتحل فارتحلوا . فلبى علي واصحابه بالعمرة فلم ينههم عثمان فقال علي الم اخبر انك تنهى عن التمتع قال بلى . قال له علي الم تسمع رسول الله صلى الله عليه وسلم تمتع قال بلى
محمد بن عبداللہ بن حارث بن عبدالمطلب کہتے ہیں کہ انہوں نے سعد بن ابی وقاص اور ضحاک بن قیس رضی اللہ عنہما کو جس سال معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما نے حج کیا تمتع کا یعنی عمر رضی اللہ عنہ کے بعد حج کرنے کا ذکر کرتے سنا، ضحاک رضی اللہ عنہ نے کہا: اسے وہی کرے گا، جو اللہ کے حکم سے ناواقف ہو گا، اس پر سعد رضی اللہ عنہ نے کہا: میرے بھتیجے! بری بات ہے، جو تم نے کہی، تو ضحاک رضی اللہ عنہ نے کہا: عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے تو اس سے روکا ہے اس پر سعد رضی اللہ عنہ نے کہا: اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا ہے اور آپ کے ساتھ ہم لوگوں نے بھی کیا ہے۔
اخبرنا قتيبة، عن مالك، عن ابن شهاب، عن محمد بن عبد الله بن الحارث بن نوفل بن الحارث بن عبد المطلب، انه حدثه انه، سمع سعد بن ابي وقاص، والضحاك بن قيس، - عام حج معاوية بن ابي سفيان - وهما يذكران التمتع بالعمرة الى الحج فقال الضحاك لا يصنع ذلك الا من جهل امر الله تعالى . فقال سعد بيسما قلت يا ابن اخي . قال الضحاك فان عمر بن الخطاب نهى عن ذلك . قال سعد قد صنعها رسول الله صلى الله عليه وسلم وصنعناها معه
ابوموسیٰ اشعری رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ وہ تمتع کا فتویٰ دیتے تھے، تو ایک شخص نے ان سے کہا: آپ اپنے بعض فتاوے کو ملتوی رکھیں ۱؎ آپ کو امیر المؤمنین ( عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ ) نے اس کے بعد حج کے سلسلے میں جو نیا حکم جاری کیا ہے وہ معلوم نہیں، یہاں تک کہ میں ان سے ملا، اور میں نے ان سے پوچھا، تو عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: مجھے معلوم ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا کیا ہے، لیکن میں یہ اچھا نہیں سمجھتا کہ لوگ «اراک» میں اپنی بیویوں سے ہمبستر ہوں، پھر وہ صبح ہی حج کے لیے اس حال میں نکلیں کہ ان کے سروں سے پانی ٹپک رہا ہو۔
اخبرنا محمد بن المثنى، ومحمد بن بشار، - واللفظ له - قالا حدثنا محمد، قال حدثنا شعبة، عن الحكم، عن عمارة بن عمير، عن ابراهيم بن ابي موسى، عن ابي موسى، انه كان يفتي بالمتعة فقال له رجل رويدك ببعض فتياك فانك لا تدري ما احدث امير المومنين في النسك بعد . حتى لقيته فسالته فقال عمر قد علمت ان النبي صلى الله عليه وسلم قد فعله ولكن كرهت ان يظلوا معرسين بهن في الاراك ثم يروحوا بالحج تقطر رءوسهم
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ میں نے عمر رضی اللہ عنہ کو کہتے ہوئے سنا: قسم اللہ کی! میں تمہیں متعہ سے یعنی حج میں عمرہ کرنے سے روک رہا ہوں، حالانکہ وہ کتاب اللہ میں موجود ہے، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کیا ہے۔
اخبرنا محمد بن علي بن الحسن بن شقيق، قال انبانا ابي قال، انبانا ابو حمزة، عن مطرف، عن سلمة بن كهيل، عن طاوس، عن ابن عباس، قال سمعت عمر، يقول والله اني لانهاكم عن المتعة، وانها، لفي كتاب الله ولقد فعلها رسول الله صلى الله عليه وسلم يعني العمرة في الحج
طاؤس کہتے ہیں کہ معاویہ رضی اللہ عنہ نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے کہا: کیا آپ کو معلوم ہے کہ مروہ کے پاس میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بال کترے تھے ( میں یہ اس لیے بیان کر رہا ہوں تاکہ ) ابن عباس رضی اللہ عنہما یہ نہ کہہ سکیں کہ یہ معاویہ ہیں جو لوگوں کو تمتع سے روکتے ہیں حالانکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تمتع کیا ہے ۱؎۔
اخبرنا عبد الله بن محمد بن عبد الرحمن، قال حدثنا سفيان، عن هشام بن حجير، عن طاوس، قال قال معاوية لابن عباس اعلمت اني قصرت من راس رسول الله صلى الله عليه وسلم عند المروة قال لا . يقول ابن عباس هذا معاوية ينهى الناس عن المتعة وقد تمتع النبي صلى الله عليه وسلم
ابوموسیٰ اشعری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، آپ بطحاء میں تھے۔ آپ نے فرمایا: ”تم نے کس چیز کا تلبیہ پکارا ہے؟“ میں نے عرض کیا: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے تلبیہ پر تلبیہ پکارا ہے، پوچھا: ”کیا تم کوئی ہدی لے کر آئے ہو“، میں نے کہا: نہیں، آپ نے فرمایا: خانہ کعبہ کا طواف کرو اور صفا و مروہ کے درمیان سعی کرو پھر احرام کھول کر حلال ہو جاؤ“، تو میں نے خانہ کعبہ کا طواف کیا، صفا و مروہ کے درمیان سعی کی، پھر میں اپنے خاندان کی ایک عورت کے پاس آیا تو اس نے میرے بالوں میں کنگھی کی اور میرا سر دھویا۔ چنانچہ میں ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما کی خلافت میں لوگوں کو اسی کا فتویٰ دیتا رہا۔ ( ایک بار ایسا ہوا کہ ) میں حج کے موسم میں کھڑا تھا کہ یکایک ایک شخص میرے پاس آ کر کہنے لگا: آپ اس چیز کو نہیں جانتے جو امیر المؤمنین نے حج کے سلسلے میں نیا حکم دیا ہے؟ تو میں نے کہا: لوگو! میں نے جس کسی کو بھی کوئی فتویٰ دیا ہو وہ اس پر عمل کرنے میں ذرا توقف کرے، کیونکہ امیر المؤمنین تمہارے پاس آنے والے ہیں، تو وہ جو فرمائیں اس کی پیروی کرو۔ تو جب وہ آئے تو میں نے کہا: امیر المؤمنین! یہ کیا ہے جو حج کے سلسلے میں آپ نے نئی بدعت نکالی ہے؟ انہوں نے کہا: اگر ہم کتاب اللہ پر عمل کریں تو اللہ عزوجل نے فرمایا ہے: «وأتموا الحج والعمرة لله» اور اگر ہم اپنے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کی پیروی کریں، تو آپ حلال نہیں ہوئے جب تک کہ آپ نے ہدی کی قربانی نہیں کر لی۔
اخبرنا محمد بن المثنى، عن عبد الرحمن، قال حدثنا سفيان، عن قيس، وهو ابن مسلم عن طارق بن شهاب، عن ابي موسى، قال قدمت على رسول الله صلى الله عليه وسلم وهو بالبطحاء فقال " بما اهللت " . قلت اهللت باهلال النبي صلى الله عليه وسلم . قال " هل سقت من هدى " . قلت لا . قال " فطف بالبيت وبالصفا والمروة ثم حل " . فطفت بالبيت وبالصفا والمروة ثم اتيت امراة من قومي فمشطتني وغسلت راسي فكنت افتي الناس بذلك في امارة ابي بكر وامارة عمر واني لقايم بالموسم اذ جاءني رجل فقال انك لا تدري ما احدث امير المومنين في شان النسك . قلت يا ايها الناس من كنا افتيناه بشىء فليتيد فان امير المومنين قادم عليكم فايتموا به فلما قدم قلت يا امير المومنين ما هذا الذي احدثت في شان النسك قال ان ناخذ بكتاب الله عز وجل فان الله عز وجل قال { واتموا الحج والعمرة لله } وان ناخذ بسنة نبينا صلى الله عليه وسلم فان نبينا صلى الله عليه وسلم لم يحل حتى نحر الهدى