احادیث
#2732
سنن نسائی - The Pilgrimage (Hajj)
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع میں تمتع کیا ۱؎ یعنی پہلے عمرہ کیا پھر حج کیا اور ہدی بھیجی، بلکہ اپنے ساتھ ذوالحلیفہ سے ہدی لے گئے ( وہاں ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے عمرہ کا تلبیہ پکارا پھر حج کا تلبیہ پکارا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ لوگوں نے بھی تمتع کیا، یعنی عمرے کا احرام باندھا پھر حج کا۔ البتہ ان میں کچھ ایسے لوگ بھی تھے جنہوں نے ہدی بھیجی اور اپنے ساتھ بھی لیے گئے، اور کچھ لوگ ایسے تھے جو ہدی نہیں لے گئے تھے۔ تو جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ پہنچ گئے تو آپ نے لوگوں سے فرمایا: ”جو لوگ اپنے ساتھ ہدی لے کر آئے ہیں وہ جب تک حج پورا نہ کر لیں کسی بھی چیز سے جو ان پر حرام ہیں حلال نہ ہو ) اور جو ہدی ساتھ لے کر نہیں آئے ہیں تو وہ خانہ کعبہ کا طواف کریں اور صفا و مروہ کی سعی کریں، اور بال کتروائیں اور احرام کھول ڈالیں۔ پھر ( اٹھویں ذی الحجہ کو ) حج کا احرام باندھے پھر ہدی دے اور جسے ہدی میسر نہ ہو تو وہ حج میں تین دن روزے رکھے، اور سات دن اپنے گھر واپس پہنچ جائیں تب رکھیں“، چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ پہنچ کر طواف کیا، اور سب سے پہلے حجر اسود کا بوسہ لیا پھر سات پھیروں میں سے پہلے تین پھیروں میں دوڑ کر چلے ۲؎، باقی چار پھیرے عام رفتار سے چلے۔ پھر جس وقت بیت اللہ کا طواف پورا کر لیا، تو مقام ابراہیم کے پاس دو رکعتیں پڑھیں پھر سلام پھیرا۔ اور نماز سے فارغ ہو کر صفا آئے اور صفا اور مروہ کے درمیان سات پھیرے کیے۔ پھر جو چیزیں حرام ہو گئی تھیں ان میں سے کسی چیز سے بھی حلال نہیں ہوئے یہاں تک کہ اپنے حج کو مکمل کیا اور یوم النحر ( دسویں ذی الحجہ ) کو اپنے ہدی کی نحر کی ( جانور ذبح کئے ) اور منیٰ سے لوٹ کر مکہ آئے، پھر خانہ کعبہ کا طواف کیا پھر جو چیزیں حرام ہو گئی تھیں ان سب سے حلال ہو گئے، اور لوگوں میں سے جو ہدی ( کا جانور ) لے کر گئے تھے، انہوں نے بھی ویسے ہی کیا جیسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا۔
اخبرنا محمد بن عبد الله بن المبارك المخرمي، قال حدثنا حجين بن المثنى، قال حدثنا الليث، عن عقيل، عن ابن شهاب، عن سالم بن عبد الله، ان عبد الله بن عمر، رضى الله عنهما قال تمتع رسول الله صلى الله عليه وسلم في حجة الوداع بالعمرة الى الحج واهدى وساق معه الهدى بذي الحليفة وبدا رسول الله صلى الله عليه وسلم فاهل بالعمرة ثم اهل بالحج وتمتع الناس مع رسول الله صلى الله عليه وسلم بالعمرة الى الحج فكان من الناس من اهدى فساق الهدى ومنهم من لم يهد فلما قدم رسول الله صلى الله عليه وسلم مكة قال للناس " من كان منكم اهدى فانه لا يحل من شىء حرم منه حتى يقضي حجه ومن لم يكن اهدى فليطف بالبيت وبالصفا والمروة وليقصر وليحلل ثم ليهل بالحج ثم ليهد ومن لم يجد هديا فليصم ثلاثة ايام في الحج وسبعة اذا رجع الى اهله " . فطاف رسول الله صلى الله عليه وسلم حين قدم مكة واستلم الركن اول شىء ثم خب ثلاثة اطواف من السبع ومشى اربعة اطواف ثم ركع حين قضى طوافه بالبيت فصلى عند المقام ركعتين ثم سلم فانصرف فاتى الصفا فطاف بالصفا والمروة سبعة اطواف ثم لم يحل من شىء حرم منه حتى قضى حجه ونحر هديه يوم النحر وافاض فطاف بالبيت ثم حل من كل شىء حرم منه وفعل مثل ما فعل رسول الله صلى الله عليه وسلم من اهدى وساق الهدى من الناس
Metadata
- Edition
- سنن نسائی
- Book
- The Pilgrimage (Hajj)
- Hadith Index
- #2732
- Book Index
- 114
Grades
- Abu GhuddahShadh
- Al-AlbaniShadh
- Zubair Ali ZaiSahih
