Loading...

Loading...
کتب
۴۶۶ احادیث
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں: گویا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مانگ میں خوشبو کی چمک دیکھ رہی ہوں، اور آپ لبیک پکار رہے ہیں۔
اخبرنا هناد بن السري، عن ابي معاوية، عن الاعمش، عن ابراهيم، عن الاسود، عن عايشة، قالت كاني انظر الى وبيص الطيب في مفارق رسول الله صلى الله عليه وسلم وهو يهل
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب احرام باندھنے کا ارادہ کرتے ( ہناد کی روایت میں ہے جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم احرام باندھنے کا ارادہ کرتے ) تو اچھے سے اچھا عطر جو آپ کو میسر ہوتا لگاتے یہاں تک کہ میں اس کی چمک آپ کے سر اور داڑھی میں دیکھتی۔ امام نسائی کہتے ہیں: اس بات پر ابواسحاق کی اسرائیل نے متابعت کی ہے انہوں نے اسے «عن عبدالرحمٰن بن الأسود عن أبيه عن عائشة» “ کے طریق سے روایت کیا ہے۔
اخبرنا قتيبة، وهناد بن السري، عن ابي الاحوص، عن ابي اسحاق، عن الاسود، عن عايشة، قالت كان النبي صلى الله عليه وسلم وقال هناد كان رسول الله صلى الله عليه وسلم اذا اراد ان يحرم ادهن باطيب ما يجده حتى ارى وبيصه في راسه ولحيته . تابعه اسراييل على هذا الكلام وقال عن عبد الرحمن بن الاسود عن ابيه عن عايشة
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اچھی سے اچھی خوشبو جو مجھے میسر ہوتی لگاتی تھی یہاں تک کہ احرام سے پہلے میں آپ کے سر اور داڑھی میں خوشبو کی چمک دیکھتی تھی۔
اخبرنا عبدة بن عبد الله، قال انبانا يحيى بن ادم، عن اسراييل، عن ابي اسحاق، عن عبد الرحمن بن الاسود، عن ابيه، عن عايشة، قالت كنت اطيب رسول الله صلى الله عليه وسلم باطيب ما كنت اجد من الطيب حتى ارى وبيص الطيب في راسه ولحيته قبل ان يحرم
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مانگوں میں خوشبو کی چمک تین دن بعد ( بھی ) دیکھی ہے۔
اخبرنا عمران بن يزيد، قال حدثنا سفيان، عن عطاء بن السايب، عن ابراهيم، عن الاسود، عن عايشة، قالت لقد رايت وبيص الطيب في مفارق رسول الله صلى الله عليه وسلم بعد ثلاث
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مانگ میں تین دن بعد ( بھی ) خوشبو کی چمک دیکھتی تھی۔
اخبرنا علي بن حجر، قال انبانا شريك، عن ابي اسحاق، عن الاسود، عن عايشة، قالت كنت ارى وبيص الطيب في مفرق رسول الله صلى الله عليه وسلم بعد ثلاث
محمد بن منتشر کہتے ہیں کہ میں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے احرام کے وقت خوشبو کے متعلق پوچھا، تو انہوں نے کہا: تارکول لگا لینا میرے نزدیک اس سے زیادہ بہتر ہے۔ تو میں نے اس بات کا ذکر عائشہ رضی اللہ عنہا سے کیا، تو انہوں نے کہا: اللہ تعالیٰ ابوعبدالرحمٰن پر رحم فرمائے، میں خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خوشبو لگاتی تھی، پھر آپ اپنی بیویوں کا چکر لگاتے، پھر آپ اس حال میں صبح کرتے تو آپ کے جسم سے خوشبو پھوٹ رہی ہوتی۔
اخبرنا حميد بن مسعدة، عن بشر، - يعني ابن المفضل - قال حدثنا شعبة، عن ابراهيم بن محمد بن المنتشر، عن ابيه، قال سالت ابن عمر عن الطيب، عند الاحرام فقال لان اطلي بالقطران احب الى من ذلك . فذكرت ذلك لعايشة فقالت يرحم الله ابا عبد الرحمن لقد كنت اطيب رسول الله صلى الله عليه وسلم فيطوف في نسايه ثم يصبح ينضح طيبا
محمد بن منتشر کہتے ہیں کہ میں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما کو کہتے ہوئے سنا کہ مجھ پر تار کول مل دیا جائے تو یہ مجھے اس سے زیادہ پسند ہے کہ میں احرام کی حالت میں صبح کروں اور میرے جسم سے خوشبو بکھر رہی ہو۔ تو میں عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس گیا، اور میں نے انہیں ان کی بات بتائی تو انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خوشبو لگائی پھر آپ اپنی بیویوں کے پاس پھرے، آپ نے صبح کیا اس حال میں کہ آپ محرم تھے۔
اخبرنا هناد بن السري، عن وكيع، عن مسعر، وسفيان، عن ابراهيم بن محمد بن المنتشر، عن ابيه، قال سمعت ابن عمر، يقول لان اصبح مطليا بقطران احب الى من ان اصبح محرما انضح طيبا . فدخلت على عايشة فاخبرتها بقوله فقالت طيبت رسول الله صلى الله عليه وسلم فطاف في نسايه ثم اصبح محرما
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا ہے کہ آدمی ( حالت احرام میں ) زعفران لگا۔
اخبرنا اسحاق بن ابراهيم، عن اسماعيل، عن عبد العزيز، عن انس، قال نهى النبي صلى الله عليه وسلم ان يتزعفر الرجل
انس بن مالک رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا ہے کہ آدمی ( حالت احرام میں ) زعفران لگائے۔
اخبرني كثير بن عبيد، عن بقية، عن شعبة، قال حدثني اسماعيل بن ابراهيم، قال حدثني عبد العزيز بن صهيب، عن انس بن مالك، قال نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن التزعفر
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زعفران استعمال کرنے سے روکا ہے۔ حماد ( جو اس حدیث کے راوی ہیں ) کہتے ہیں: یعنی مردوں کے لیے ممانعت ہے۔
اخبرنا قتيبة، قال حدثنا حماد، عن عبد العزيز، عن انس، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم نهى عن التزعفر . قال حماد يعني للرجال
یعلیٰ بن امیہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص عمرہ کا احرام باندھے ہوئے، سلے ہوئے کپڑے پہنے ہوئے اور خلوق لگائے ہوئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، وہ عمرہ کا احرام باندھے اور سلے ہوئے کپڑے پہنے ہوئے تھا، اور خلوق میں لت پت تھا، تو اس نے عرض کیا: میں نے عمرے کا احرام باندھ رکھا ہے تو میں کیا کروں؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہی کرو جو حج میں کرتے ہو“، اس نے کہا: میں ( حج میں ) اس سے بچتا تھا، اور اسے دھو ڈالتا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو تم حج میں کرتے تھے وہی اپنے عمرہ میں بھی کرو“۔
اخبرنا محمد بن منصور، قال حدثنا سفيان، عن عمرو، عن عطاء، عن صفوان بن يعلى، عن ابيه، ان رجلا، اتى النبي صلى الله عليه وسلم وقد اهل بعمرة وعليه مقطعات وهو متضمخ بخلوق فقال اهللت بعمرة فما اصنع فقال النبي صلى الله عليه وسلم " ما كنت صانعا في حجك " . قال كنت اتقي هذا واغسله . فقال " ما كنت صانعا في حجك فاصنعه في عمرتك
یعلیٰ بن امیہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، اور آپ جعرانہ میں تھے، وہ جبہ پہنے ہوئے تھا، اور اپنی داڑھی اور سر کو ( زعفران سے ) پیلا کیے ہوئے تھا۔ اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں نے عمرے کا احرام باندھ رکھا ہے اور میں جس طرح ہوں آپ مجھے دیکھ رہے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جبہ اتار دو اور زردی اپنے سے دھو ڈالو، اور جو حج میں کرتے ہو وہی اپنے عمرہ میں بھی کرو“۔
اخبرني محمد بن اسماعيل بن ابراهيم، قال حدثنا وهب بن جرير، قال حدثنا ابي قال، سمعت قيس بن سعد، يحدث عن عطاء، عن صفوان بن يعلى، عن ابيه، قال اتى رسول الله صلى الله عليه وسلم رجل وهو بالجعرانة وعليه جبة وهو مصفر لحيته وراسه فقال يا رسول الله اني احرمت بعمرة وانا كما ترى فقال " انزع عنك الجبة واغسل عنك الصفرة وما كنت صانعا في حجتك فاصنعه في عمرتك
عثمان رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے محرم کے بارے میں فرمایا: ”جب اس کے سر میں درد ہو یا آنکھیں دکھیں تو ایلوا کا لیپ کر لے“ ۱؎۔
اخبرنا قتيبة، قال حدثنا سفيان، عن ايوب بن موسى، عن نبيه بن وهب، عن ابان بن عثمان، عن ابيه، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم في المحرم " اذا اشتكى راسه وعينيه ان يضمدهما بصبر
محمد الباقر کہتے ہیں کہ ہم جابر ( جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما ) کے پاس آئے، اور ان سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حج کے متعلق پوچھا تو انہوں نے ہم سے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر مجھے پہلے معلوم ہو گیا ہوتا جو اب معلوم ہوا تو میں ہدی ( کا جانور ) لے کر نہ آتا اور اسے عمرہ میں تبدیل کر دیتا ( اور طواف و سعی کر کے احرام کھول دیتا ) تو جس کے پاس ہدی نہ ہو وہ احرام کھول ڈالے، اور اسے عمرہ قرار دے لے“ ( اسی موقع پر ) علی رضی اللہ عنہ یمن سے ہدی ( کے اونٹ ) لے کر آئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ سے لے کر گئے۔ اور فاطمہ رضی اللہ عنہا نے جب رنگین کپڑے پہن لیے اور سرمہ لگا لیا علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں تو غصہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے فتویٰ پوچھنے گیا۔ میں نے کہا: اللہ کے رسول! فاطمہ نے تو رنگین کپڑے پہن رکھے ہیں اور سرمہ لگا رکھا ہے اور کہتی ہیں: میرے ابا جان صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اس کا حکم دیا ہے؟، آپ نے فرمایا: ”اس نے سچ کہا، اس نے، سچ کہا، میں نے ہی اسے حکم دیا ہے“۔
اخبرنا محمد بن المثنى، قال حدثنا يحيى بن سعيد، عن جعفر بن محمد، قال حدثني ابي قال، اتينا جابرا فسالناه عن حجة النبي، صلى الله عليه وسلم فحدثنا ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " لو استقبلت من امري ما استدبرت لم اسق الهدى وجعلتها عمرة فمن لم يكن معه هدى فليحلل وليجعلها عمرة " . وقدم علي رضى الله عنه من اليمن بهدى وساق رسول الله صلى الله عليه وسلم من المدينة هديا واذا فاطمة قد لبست ثيابا صبيغا واكتحلت . قال فانطلقت محرشا استفتي رسول الله صلى الله عليه وسلم فقلت يا رسول الله ان فاطمة لبست ثيابا صبيغا واكتحلت وقالت امرني به ابي صلى الله عليه وسلم . قال " صدقت صدقت صدقت انا امرتها
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ ایک شخص اپنی سواری سے گر پڑا تو سواری نے اسے کچل کر ہلاک کر دیا۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے پانی اور بیر کے پتوں سے غسل دو، اور اسے دو کپڑوں میں کفنایا جائے، اور اس کا سر اور چہرہ کھلا رکھا جائے کیونکہ وہ قیامت کے دن لبیک کہتا ہوا اٹھایا جائے گا“۔
اخبرنا محمد بن بشار، قال حدثنا محمد، قال حدثنا شعبة، قال سمعت ابا بشر، يحدث عن سعيد بن جبير، عن ابن عباس، ان رجلا، وقع عن راحلته، فاقعصته فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اغسلوه بماء وسدر ويكفن في ثوبين خارجا راسه ووجهه فانه يبعث يوم القيامة ملبيا
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ ایک شخص ( حالت احرام میں ) مر گیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے پانی اور بیر کے پتے سے غسل دو اور اسے اس کے کپڑوں ہی میں کفنا دو، اور اس کے سر اور چہرے کونہ ڈھانپو کیونکہ قیامت کے دن وہ لبیک کہتا ہوا اٹھایا جائے گا۔“
اخبرنا عبدة بن عبد الله الصفار، قال حدثنا ابو داود، - يعني الحفري - عن سفيان، عن عمرو بن دينار، عن سعيد بن جبير، عن ابن عباس، قال مات رجل فقال النبي صلى الله عليه وسلم " اغسلوه بماء وسدر وكفنوه في ثيابه ولا تخمروا وجهه وراسه فانه يبعث يوم القيامة ملبيا
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حج افراد کیا ۱؎۔
اخبرنا عبيد الله بن سعيد، واسحاق بن منصور، عن عبد الرحمن، عن مالك، عن عبد الرحمن بن القاسم، عن ابيه، عن عايشة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم افرد الحج
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حج کے لیے لبیک پکارا۔
اخبرنا قتيبة، عن مالك، عن ابي الاسود، محمد بن عبد الرحمن عن عروة بن الزبير، عن عايشة، قالت اهل رسول الله صلى الله عليه وسلم بالحج
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اس حال میں نکلے کہ ( چند دنوں کے بعد ) ہم ذی الحجہ کا چاند دیکھنے ہی والے تھے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو حج کا احرام باندھنا چاہے حج کا احرام باندھ لے، اور جو عمرہ کا احرام باندھنا چاہے عمرہ کا احرام باندھ لے“ ۱؎۔
اخبرنا يحيى بن حبيب بن عربي، عن حماد، عن هشام، عن ابيه، عن عايشة، قالت خرجنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم موافين لهلال ذي الحجة فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من شاء ان يهل بحج فليهل ومن شاء ان يهل بعمرة فليهل بعمرة
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے اور ہمارے پیش نظر صرف حج تھا۔
اخبرنا محمد بن اسماعيل الطبراني ابو بكر، قال حدثنا احمد بن محمد بن حنبل، قال حدثنا يحيى بن سعيد، قال حدثنا شعبة، حدثني منصور، وسليمان، عن ابراهيم، عن الاسود، عن عايشة، قالت خرجنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم لا نرى الا انه الحج