Loading...

Loading...
کتب
۴۶۶ احادیث
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے سنا: ”جب کسی کو تہبند نہ ملے تو پائجامہ پہن لے، اور جب جوتیاں نہ پائے تو موزے پہن لے، اور انہیں کاٹ کر ٹخنوں سے نیچے کر لے“۔
اخبرنا اسماعيل بن مسعود، قال حدثنا يزيد بن زريع، قال انبانا ايوب، عن عمرو، عن جابر بن زيد، عن ابن عباس، قال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " اذا لم يجد ازارا فليلبس السراويل واذا لم يجد النعلين فليلبس الخفين وليقطعهما اسفل من الكعبين
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں آپ نے فرمایا: ”جب محرم جوتے نہ پائے تو موزے پہن لے، اور انہیں کاٹ کر ٹخنوں سے نیچے کر لے“۔
اخبرنا يعقوب بن ابراهيم، قال حدثنا هشيم، قال انبانا ابن عون، عن نافع، عن ابن عمر، رضى الله عنهما عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " اذا لم يجد المحرم النعلين فليلبس الخفين وليقطعهما اسفل من الكعبين
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ ایک شخص کھڑا ہوا اور اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! احرام میں آپ ہمیں کون سے کپڑے پہننے کا حکم دیتے ہیں؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہ قمیص پہنو، نہ پائجامے، نہ موزے، البتہ اگر کسی کے پاس جوتے نہ ہوں تو وہ ایسے موزے پہن لے جو ٹخنوں سے نیچے سے ہوں اور کوئی ایسا کپڑا نہ پہنے جس میں زعفران یا ورس لگا ہو، اور محرمہ عورت نہ نقاب پہنے، اور نہ دستانے“۔
اخبرنا سويد بن نصر، قال انبانا عبد الله بن المبارك، عن موسى بن عقبة، عن نافع، عن ابن عمر، ان رجلا، قام فقال يا رسول الله ماذا تامرنا ان نلبس من الثياب في الاحرام فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لا تلبسوا القمص ولا السراويلات ولا الخفاف الا ان يكون رجل له نعلان فليلبس الخفين اسفل من الكعبين ولا يلبس شييا من الثياب مسه الزعفران ولا الورس ولا تنتقب المراة الحرام ولا تلبس القفازين
ام المؤمنین حفصہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا بات ہے لوگوں نے احرام کھول دیا ہے اور آپ نے اپنے عمرہ کا احرام نہیں کھولا؟ آپ نے فرمایا: ”میں نے اپنے سر کی تلبید ۱؎، اور اپنے ہدی کی تقلید ۲؎ کر رکھی ہے، تو میں احرام نہیں کھولوں گا جب تک کہ حج سے فارغ نہ ہو جاؤں“۔
اخبرنا عبيد الله بن سعيد، قال حدثنا يحيى، عن عبيد الله، قال اخبرني نافع، عن عبد الله بن عمر، عن اخته، حفصة قالت قلت للنبي صلى الله عليه وسلم يا رسول الله ما شان الناس حلوا ولم تحل من عمرتك قال " اني لبدت راسي وقلدت هديي فلا احل حتى احل من الحج
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ بالوں کو جمائے ہوئے لبیک پکار رہے تھے۔
اخبرنا احمد بن عمرو بن السرح، والحارث بن مسكين، قراءة عليه وانا اسمع، واللفظ، له عن ابن وهب، اخبرني يونس، عن ابن شهاب، عن سالم، عن ابيه، قال رايت رسول الله صلى الله عليه وسلم يهل ملبدا
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو احرام باندھنے کے وقت جس وقت آپ نے احرام باندھنے کا ارادہ کیا اور احرام کھولنے کے وقت اس سے پہلے کہ آپ احرام کھولیں اپنے دونوں ہاتھوں سے خوشبو لگائی۔
اخبرنا قتيبة، قال حدثنا حماد، عن عمرو، عن سالم، عن عايشة، قالت طيبت رسول الله صلى الله عليه وسلم عند احرامه حين اراد ان يحرم وعند احلاله قبل ان يحل بيدى
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو آپ کے احرام کے لیے اس سے پہلے کہ آپ احرام باندھیں، اور آپ کے احرام کھولنے کے لیے اس سے پہلے کہ آپ طواف کریں خوشبو لگائی۔
اخبرنا قتيبة بن سعيد، عن مالك، عن عبد الرحمن بن القاسم، عن ابيه، عن عايشة، قالت طيبت رسول الله صلى الله عليه وسلم لاحرامه قبل ان يحرم ولحله قبل ان يطوف بالبيت
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو آپ کے احرام کے لیے اس سے پہلے کہ آپ احرام باندھیں اور آپ کے احرام کھولنے کے لیے جس وقت آپ نے احرام کھولا خوشبو لگائی۔
اخبرنا حسين بن منصور بن جعفر النيسابوري، قال انبانا عبد الله بن نمير، قال حدثنا يحيى بن سعيد، عن عبد الرحمن بن القاسم، عن ابيه، عن عايشة، قالت طيبت رسول الله صلى الله عليه وسلم لاحرامه قبل ان يحرم ولحله حين احل
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو آپ کے احرام کے لیے خوشبو لگائی جس وقت آپ نے احرام باندھا، اور آپ کے احرام کھولنے کے لیے خوشبو لگائی اس کے بعد کہ آپ نے جمرہ عقبہ کی رمی کر لی، اور اس سے پہلے کہ آپ بیت اللہ کا طواف کریں۔
اخبرنا سعيد بن عبد الرحمن ابو عبيد الله المخزومي، قال حدثنا سفيان، عن الزهري، عن عروة، عن عايشة، قالت طيبت رسول الله صلى الله عليه وسلم لحرمه حين احرم ولحله بعد ما رمى جمرة العقبة قبل ان يطوف بالبيت
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو آپ کے احرام کھولنے کے لیے خوشبو لگائی، اور آپ کے احرام باندھنے کے لیے خوشبو لگائی جو تمہاری اس خوشبو کے مشابہ نہیں تھی، یعنی یہ خوشبو دیرپا نہ تھی۔
اخبرنا عيسى بن محمد ابو عمير، عن ضمرة، عن الاوزاعي، عن الزهري، عن عروة، عن عايشة، قالت طيبت رسول الله صلى الله عليه وسلم لاحلاله وطيبته لاحرامه طيبا لا يشبه طيبكم هذا تعني ليس له بقاء
عروہ کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا سے پوچھا کہ آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کون سی خوشبو لگائی تھی؟ تو انہوں نے کہا: سب سے عمدہ خوشبو تھی جو آپ کے احرام باندھتے وقت اور احرام کھولتے وقت میں نے لگائی۔
اخبرنا محمد بن منصور، قال حدثنا سفيان، قال حدثنا عثمان بن عروة، عن ابيه، قال قلت لعايشة باى شىء طيبت رسول الله صلى الله عليه وسلم قالت باطيب الطيب عند حرمه وحله
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ مجھے جو اچھی سے اچھی خوشبو مل سکتی تھی وہی میں آپ کو احرام باندھتے وقت لگاتی تھی۔
اخبرنا احمد بن يحيى بن الوزير بن سليمان، قال انبانا شعيب بن الليث، عن ابيه، عن هشام بن عروة، عن عثمان بن عروة، عن عروة، عن عايشة، قالت كنت اطيب رسول الله صلى الله عليه وسلم عند احرامه باطيب ما اجد
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ میں رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو آپ کے احرام باندھتے اور کھولتے وقت اور جس وقت آپ بیت اللہ کی زیارت کا ارادہ کرتے بہترین خوشبو جو میں پا سکتی لگاتی تھی۔
اخبرنا احمد بن حرب، قال حدثنا ابن ادريس، عن يحيى بن سعيد، عن عبد الرحمن بن القاسم، عن ابيه، عن عايشة، قالت كنت اطيب رسول الله صلى الله عليه وسلم باطيب ما اجد لحرمه ولحله وحين يريد ان يزور البيت
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو احرام باندھنے سے پہلے اور ذی الحجہ کی دسویں تاریخ کو بیت اللہ کا طواف کرنے سے پہلے ایسی خوشبو لگائی جس میں مشک کی آمیزش تھی۔
اخبرنا يعقوب بن ابراهيم، قال حدثنا هشيم، قال انبانا منصور، عن عبد الرحمن بن القاسم، عن القاسم، قال قالت عايشة طيبت رسول الله صلى الله عليه وسلم قبل ان يحرم ويوم النحر قبل ان يطوف بالبيت بطيب فيه مسك
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں گویا کہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سر میں خوشبو کی چمک دیکھ رہی ہوں، اور آپ احرام باندھے ہوئے ہیں۔ احمد بن نصر نے اپنی روایت میں «وبيص الطيب في رأس رسول اللہ صلى اللہ عليه وسلم» کے بجائے «وبيص طيب المسك في مفرق رسول اللہ صلى اللہ عليه وسلم» ( رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مانگ میں مشک کی خوشبو کی چمک ) روایت کی ہے۔
اخبرنا احمد بن نصر، قال انبانا عبد الله بن الوليد، - يعني العدني - عن سفيان، ح وانبانا محمد بن عبد الله بن المبارك، قال انبانا اسحاق، - يعني الازرق - قال انبانا سفيان، عن الحسن بن عبيد الله، عن ابراهيم، عن الاسود، عن عايشة، قالت كاني انظر الى وبيص الطيب في راس رسول الله صلى الله عليه وسلم وهو محرم وقال احمد بن نصر في حديثه وبيص طيب المسك في مفرق رسول الله صلى الله عليه وسلم
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مانگ میں اس حال میں کہ آپ محرم ہوتے خوشبو کی چمک دیکھی جاتی تھی۔
اخبرنا محمود بن غيلان، قال حدثنا عبد الرزاق، قال انبانا سفيان، عن منصور، قال قال لي ابراهيم حدثني الاسود، عن عايشة، رضى الله عنها قالت لقد كان يرى وبيص الطيب في مفارق رسول الله صلى الله عليه وسلم وهو محرم
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں گویا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سر میں اس حال میں کہ آپ محرم ہیں خوشبو کی چمک دیکھ رہی ہوں۔
اخبرنا محمد بن قدامة، قال حدثنا جرير، عن منصور، عن ابراهيم، عن الاسود، عن عايشة، قالت كاني انظر الى وبيص الطيب في راس رسول الله صلى الله عليه وسلم وهو محرم
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بالوں کی جڑوں میں اس حال میں کہ آپ محرم ہوتے خوشبو کی چمک دیکھتی تھی۔
اخبرنا محمود بن غيلان، قال حدثنا ابو داود، قال انبانا شعبة، عن منصور، عن ابراهيم، عن الاسود، عن عايشة، قالت كنت انظر الى وبيص الطيب في اصول شعر رسول الله صلى الله عليه وسلم وهو محرم
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں: گویا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سر کی مانگ میں اس حال میں کہ آپ محرم ہوتے خوشبو کی چمک دیکھ رہی ہوں۔
اخبرنا حميد بن مسعدة، قال حدثنا بشر، - يعني ابن المفضل - قال حدثنا شعبة، عن الحكم، عن ابراهيم، عن الاسود، عن عايشة، قالت كاني انظر الى وبيص الطيب في مفرق راس رسول الله صلى الله عليه وسلم وهو محرم
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سر میں اس حال میں کہ آپ محرم خوشبو کی چمک دیکھی ہے۔
اخبرنا بشر بن خالد العسكري، قال انبانا محمد، - وهو ابن جعفر غندر - عن شعبة، عن سليمان، عن ابراهيم، عن الاسود، عن عايشة، قالت لقد رايت وبيص الطيب في راس رسول الله صلى الله عليه وسلم وهو محرم