Loading...

Loading...
کتب
۴۶۶ احادیث
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ذوالحلیفہ کے شروع ہونے کی جگہ میں رات گزاری اور اس کی مسجد میں نماز پڑھی۔
اخبرنا عيسى بن ابراهيم بن مثرود، عن ابن وهب، قال اخبرني يونس، قال ابن شهاب اخبرني عبيد الله بن عبد الله بن عمر، ان اباه، قال بات رسول الله صلى الله عليه وسلم بذي الحليفة ببيداء وصلى في مسجدها
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خواب میں آیا گیا اور آپ ذوالحلیفہ کے پڑاؤ کی جگہ میں تھے اور کہا گیا کہ آپ بابرکت بطحاء میں ہیں۔
اخبرنا عبدة بن عبد الله، عن سويد، عن زهير، عن موسى بن عقبة، عن سالم بن عبد الله، عن عبد الله بن عمر، عن رسول الله صلى الله عليه وسلم انه وهو في المعرس بذي الحليفة اتي فقيل له انك ببطحاء مباركة
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بطحاء میں اپنا اونٹ بٹھایا جو ذوالحلیفہ میں ہے اور اسی جگہ آپ نے نماز پڑھی۔
اخبرنا محمد بن سلمة، والحارث بن مسكين، قراءة عليه وانا اسمع، عن ابن القاسم، قال حدثني مالك، عن نافع، عن ابن عمر، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم اناخ بالبطحاء التي بذي الحليفة وصلى بها
انس بن مالک رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر کی نماز بیداء میں پڑھی، پھر سوار ہوئے اور بیداء پہاڑ پر چڑھے، اور ظہر کی نماز پڑھ کر حج و عمرے کا احرام باندھا۔
اخبرنا اسحاق بن ابراهيم، قال حدثنا النضر، - وهو ابن شميل - قال حدثنا اشعث، - وهو ابن عبد الملك - عن الحسن، عن انس بن مالك، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم صلى الظهر بالبيداء ثم ركب وصعد جبل البيداء فاهل بالحج والعمرة حين صلى الظهر
اسماء بنت عمیس رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ انہوں نے محمد بن ابی بکر صدیق کو بیداء میں جنا تو ابوبکر رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بات کا ذکر کیا تو آپ نے فرمایا: ”ان سے کہو کہ غسل کر لیں پھر لبیک پکاریں“۔
اخبرنا محمد بن سلمة، والحارث بن مسكين، قراءة عليه وانا اسمع، - واللفظ له - عن ابن القاسم، قال حدثني مالك، عن عبد الرحمن بن القاسم، عن ابيه، عن اسماء بنت عميس، انها ولدت محمد بن ابي بكر الصديق بالبيداء فذكر ابو بكر ذلك لرسول الله صلى الله عليه وسلم فقال " مرها فلتغتسل ثم لتهل
ابوبکر صدیق رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ حجۃ الوداع کے موقع پر وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج کے لیے نکلے اور ان کے ساتھ ان کی اہلیہ اسماء بنت عمیس خثعمیہ رضی اللہ عنہا بھی تھیں۔ جب وہ لوگ ذوالحلیفہ میں پہنچے تو وہاں اسماء نے محمد بن ابوبکر کو جنا۔ تو ابوبکر رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، اور آپ کو اس بات کی خبر دی، تو انہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ وہ اسے حکم دیں کہ وہ غسل کر لیں پھر حج کا احرام باندھ لیں، اور وہ سب کام کریں جو دوسرے حاجی کرتے ہیں سوائے اس کے کہ وہ بیت اللہ کا طواف نہ کریں۔
اخبرني احمد بن فضالة بن ابراهيم النسايي، قال حدثنا خالد بن مخلد، قال حدثني سليمان بن بلال، قال حدثني يحيى، - وهو ابن سعيد الانصاري - قال سمعت القاسم بن محمد، يحدث عن ابيه، عن ابي بكر، انه خرج حاجا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم حجة الوداع ومعه امراته اسماء بنت عميس الخثعمية فلما كانوا بذي الحليفة ولدت اسماء محمد بن ابي بكر فاتى ابو بكر النبي صلى الله عليه وسلم فاخبره فامره رسول الله صلى الله عليه وسلم ان يامرها ان تغتسل ثم تهل بالحج وتصنع ما يصنع الناس الا انها لا تطوف بالبيت
عبداللہ بن عباس اور مسور بن مخرمہ رضی الله عنہم سے روایت ہے کہ ان دونوں کے درمیان مقام ابواء میں ( محرم کے سر دھونے اور نہ دھونے کے بارے میں ) اختلاف ہو گیا۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: محرم اپنا سر دھوئے گا اور مسور نے کہا: نہیں دھوئے گا۔ تو ابن عباس رضی اللہ عنہما نے مجھے ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ کے پاس بھیجا کہ میں ان سے اس بارے میں سوال کروں، چنانچہ میں گیا تو وہ مجھے کنویں کی دونوں لکڑیوں کے درمیان غسل کرتے ہوئے ملے اور وہ کپڑے سے پردہ کئے ہوئے تھے، میں نے انہیں سلام کیا اور کہا: مجھے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے آپ کے پاس بھیجا ہے کہ میں آپ سے سوال کروں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حالت احرام میں اپنا سر کس طرح دھوتے تھے ۱؎۔ ( یہ سن کر ) ابوایوب رضی اللہ عنہ نے اپنا ہاتھ کپڑے پر رکھا، اور اسے جھکایا یہاں تک کہ ان کا سر دکھائی دینے لگا، پھر ایک شخص سے جو پانی ڈالتا تھا کہا: سر پر پانی ڈالو، پھر انہوں نے اپنے دونوں ہاتھوں سے اپنے سر کو حرکت دی، ( صورت یہ رہی کہ ) کہ دونوں ہاتھ کو آگے لائے اور پیچھے لے گئے، اور کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسا ہی کرتے دیکھا ہے۔
اخبرنا قتيبة بن سعيد، عن مالك، عن زيد بن اسلم، عن ابراهيم بن عبد الله بن حنين، عن ابيه، عن عبد الله بن عباس، والمسور بن مخرمة، انهما اختلفا بالابواء فقال ابن عباس يغسل المحرم راسه . وقال المسور لا يغسل راسه . فارسلني ابن عباس الى ابي ايوب الانصاري اساله عن ذلك فوجدته يغتسل بين قرنى البير وهو مستتر بثوب فسلمت عليه وقلت ارسلني اليك عبد الله بن عباس اسالك كيف كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يغسل راسه وهو محرم فوضع ابو ايوب يده على الثوب فطاطاه حتى بدا راسه ثم قال لانسان يصب على راسه ثم حرك راسه بيديه فاقبل بهما وادبر وقال هكذا رايت رسول الله صلى الله عليه وسلم يفعل
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا ہے کہ محرم زعفران اور ورس میں رنگے ہوئے کپڑے پہننے۔
اخبرنا محمد بن سلمة، والحارث بن مسكين، قراءة عليه وانا اسمع، عن ابن القاسم، قال حدثني مالك، عن عبد الله بن دينار، عن ابن عمر، قال نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم ان يلبس المحرم ثوبا مصبوغا بزعفران او بورس
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا کہ محرم کون سے کپڑے پہنے؟ آپ نے فرمایا: ”محرم قمیص ( کرتا ) ٹوپی، پائجامہ، عمامہ ( پگڑی ) اور ورس اور زعفران لگا کپڑا نہ پہنے ۱؎، اور موزے نہ پہنے اور اگر جوتے میسر نہ ہوں تو چاہیئے کہ دونوں موزوں کو کاٹ ڈالے یہاں تک کہ انہیں ٹخنوں سے نیچے کر لے“ ۲؎۔
اخبرنا محمد بن منصور، عن سفيان، عن الزهري، عن سالم، عن ابيه، قال سيل رسول الله صلى الله عليه وسلم ما يلبس المحرم من الثياب قال " لا يلبس القميص ولا البرنس ولا السراويل ولا العمامة ولا ثوبا مسه ورس ولا زعفران ولا خفين الا لمن لا يجد نعلين فان لم يجد نعلين فليقطعهما حتى يكونا اسفل من الكعبين
یعلیٰ بن امیہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کاش میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی نازل ہوتے ہوئے دیکھتا، پھر اتفاق ایسا ہوا کہ ہم جعرانہ میں تھے، اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے خیمے میں تھے کہ آپ پر وحی نازل ہونے لگی، تو عمر رضی اللہ عنہ نے مجھے اشارہ کیا کہ آؤ دیکھ لو۔ میں نے اپنا سر خیمہ میں داخل کیا تو کیا دیکھتا ہوں کہ آپ کے پاس ایک شخص آیا ہوا ہے وہ جبہ میں عمرہ کا احرام باندھے ہوئے تھا، اور خوشبو سے لت پت تھا اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ ایسے شخص کے بارے میں کیا فرماتے ہیں جس نے جبہ پہنے ہوئے احرام باندھ رکھا ہے کہ یکایک آپ پر وحی اترنے لگی، اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خراٹے لینے لگے۔ پھر آپ کی یہ کیفیت جاتی رہی، تو آپ نے فرمایا: ”وہ شخص کہاں ہے جس نے ابھی مجھ سے ( مسئلہ ) پوچھا تھا“ تو وہ شخص حاضر کیا گیا، آپ نے ( اس سے ) فرمایا: ”رہا جبہ تو اسے اتار ڈالو، اور رہی خوشبو تو اسے دھو ڈالو پھر نئے سرے سے احرام باندھو۔ ابوعبدالرحمٰن نسائی کہتے ہیں کہ ”نئے سرے سے احرام باندھ“ کا یہ فقرہ نوح بن حبیب کے سوا کسی اور نے روایت کیا ہو یہ میرے علم میں نہیں اور میں اسے محفوظ نہیں سمجھتا، واللہ سبحانہ وتعالیٰ اعلم۔
اخبرنا نوح بن حبيب القومسي، قال حدثنا يحيى بن سعيد، قال حدثنا ابن جريج، قال حدثني عطاء، عن صفوان بن يعلى بن امية، عن ابيه، انه قال ليتني ارى رسول الله صلى الله عليه وسلم وهو ينزل عليه فبينا نحن بالجعرانة والنبي صلى الله عليه وسلم في قبة فاتاه الوحى فاشار الى عمر ان تعال فادخلت راسي القبة فاتاه رجل قد احرم في جبة بعمرة متضمخ بطيب فقال يا رسول الله ما تقول في رجل قد احرم في جبة اذ انزل عليه الوحى فجعل النبي صلى الله عليه وسلم يغط لذلك فسري عنه فقال " اين الرجل الذي سالني انفا " . فاتي بالرجل فقال " اما الجبة فاخلعها واما الطيب فاغسله ثم احدث احراما " . قال ابو عبد الرحمن " ثم احدث احراما " . ما اعلم احدا قاله غير نوح بن حبيب ولا احسبه محفوظا والله سبحانه وتعالى اعلم
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: محرم کون سے کپڑے پہنے؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم نہ قمیص پہنو نہ عمامے نہ پائجامے، نہ ٹوپیاں اور نہ موزے البتہ اگر کسی کو جوتے نہ مل پائیں تو موزے پہن لے، اور انہیں کاٹ کر ٹخنوں سے نیچے سے کر لے، اور نہ کوئی ایسا کپڑا پہنو جس میں زعفران یا ورس لگی ہو“۔
اخبرنا قتيبة، عن مالك، عن نافع، عن عبد الله بن عمر، ان رجلا، سال رسول الله صلى الله عليه وسلم ما يلبس المحرم من الثياب فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لا تلبسوا القمص ولا العمايم ولا السراويلات ولا البرانس ولا الخفاف الا احد لا يجد نعلين فليلبس خفين وليقطعهما اسفل من الكعبين ولا تلبسوا شييا مسه الزعفران ولا الورس
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ ایک شخص نے عرض کیا: اللہ کے رسول! جب ہم احرام باندھ لیں تو کون سے کپڑے پہنیں؟ آپ نے فرمایا: ”نہ قمیص پہنو، ( عمرو بن علی نے دوسری بار قمیص کے بجائے جمع کے صیغے کے ساتھ قمص کہا ) نہ عمامے، نہ پائجامے اور نہ موزے، البتہ اگر کسی کے پاس جوتے نہ ہوں تو موزوں کو کاٹ کر ٹخنوں سے نیچے کر لے، اور نہ ایسا کپڑا جس میں ورس اور زعفران لگی ہو“۔
اخبرنا عمرو بن علي، قال حدثنا يحيى، قال حدثنا عبيد الله، قال حدثني نافع، عن ابن عمر، ان رجلا، قال يا رسول الله ما نلبس من الثياب اذا احرمنا قال " لا تلبسوا القميص " . وقال عمرو مرة اخرى " القمص ولا العمايم ولا السراويلات ولا الخفين الا ان لا يكون لاحدكم نعلان فليقطعهما اسفل من الكعبين ولا ثوبا مسه ورس ولا زعفران
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خطبہ دیتے ہوئے سنا آپ فرما رہے تھے: ”پائجامہ اس شخص کے لیے ہے جسے تہبند میسر نہ ہو، اور موزہ اس شخص کے لیے ہے جسے جوتے میسر نہ ہوں“۔
اخبرنا قتيبة، قال حدثنا حماد، عن عمرو، عن جابر بن زيد، عن ابن عباس، قال سمعت النبي صلى الله عليه وسلم يخطب وهو يقول " السراويل لمن لا يجد الازار والخفين لمن لا يجد النعلين " . للمحرم
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ جو شخص ( احرام کے موقع پر ) تہبند نہ پائے تو وہ پائجامہ پہن لے اور جو جوتے نہ پائے تو وہ موزے پہن لے۔
اخبرني ايوب بن محمد الوزان، قال حدثنا اسماعيل، عن ايوب، عن عمرو بن دينار، عن جابر بن زيد، عن ابن عباس، قال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " من لم يجد ازارا فليلبس سراويل ومن لم يجد نعلين فليلبس خفين
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ ایک شخص کھڑا ہوا اور اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ ہمیں احرام میں کس طرح کے کپڑے پہننے کا حکم دیتے ہیں؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہ قمیص پہنو، نہ پائجامے، نہ عمامہ، نہ ٹوپیاں سوائے اس کے کہ کسی کے پاس جوتے موجود نہ ہوں تو وہ ایسے موزے پہنے جو ٹخنوں سے نیچے ہوں، اور کوئی ایسا کپڑا نہ پہنو جس میں زعفران یا ورس لگے ہوں اور محرم عورت نہ نقاب پہنے اور نہ ہی دستانے“۔
اخبرنا قتيبة، قال حدثنا الليث، عن نافع، عن ابن عمر، قال قام رجل فقال يا رسول الله ماذا تامرنا ان نلبس من الثياب في الاحرام فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لا تلبسوا القميص ولا السراويلات ولا العمايم ولا البرانس ولا الخفاف الا ان يكون احد ليست له نعلان فليلبس الخفين ما اسفل من الكعبين ولا تلبسوا شييا من الثياب مسه الزعفران ولا الورس ولا تنتقب المراة الحرام ولا تلبس القفازين
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: محرم کون سے کپڑے پہنے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہ قمیص پہنو، نہ عمامہ، نہ پائجامے پہنو، نہ ٹوپیاں، اور نہ موزے پہنو، البتہ اگر کسی کو جوتے میسر نہ ہوں تو موزے پہن لے، اور انہیں کاٹ کر ٹخنوں سے نیچے کر لے، اور نہ کوئی ایسا کپڑا پہنو جس میں زعفران یا ورس لگی ہو“۔
اخبرنا قتيبة، عن مالك، عن نافع، عن عبد الله بن عمر، ان رجلا، سال رسول الله صلى الله عليه وسلم ما يلبس المحرم من الثياب فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لا تلبسوا القميص ولا العمايم ولا السراويلات ولا البرانس ولا الخفاف الا احد لا يجد نعلين فليلبس خفين وليقطعهما اسفل من الكعبين ولا تلبسوا شييا مسه الزعفران ولا الورس
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا: جب ہم احرام باندھیں تو کون سے کپڑے پہنیں؟ آپ نے فرمایا: نہ قمیص پہنو، نہ پائجامے، نہ عمامے، نہ ٹوپیاں، نہ موزے، البتہ کسی کے پاس جوتے نہ ہوں تو وہ ایسے موزے پہنے جو ٹخنوں سے نیچے ہو، اور نہ کوئی ایسا کپڑا پہنو جس میں ورس زعفران لگے ہوں۔
اخبرني محمد بن اسماعيل بن ابراهيم، وعمرو بن علي، قالا حدثنا يزيد، وهو ابن هارون قال حدثنا يحيى، - وهو ابن سعيد الانصاري - عن عمر بن نافع، عن ابيه، عن ابن عمر، ان رجلا، سال رسول الله صلى الله عليه وسلم ما نلبس من الثياب اذا احرمنا قال " لا تلبسوا القميص ولا السراويلات ولا العمايم ولا البرانس ولا الخفاف الا ان يكون احد ليست له نعلان فليلبس الخفين اسفل من الكعبين ولا تلبسوا من الثياب شييا مسه ورس ولا زعفران
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو آواز دی اور پوچھا: ہم جب محرم ہوں تو کیا پہنیں؟ آپ نے فرمایا ”نہ قمیص پہنو، نہ عمامہ ( پگڑی ) ، نہ پائجامہ، نہ ٹوپی اور نہ موزے البتہ جس کو جوتے میسر نہ ہو تو وہ موزے ٹخنوں سے نیچے پہنے اور اسے نیچے کر لے“۔
اخبرنا ابو الاشعث، قال حدثنا يزيد بن زريع، قال حدثنا ايوب، عن نافع، عن ابن عمر، قال نادى النبي صلى الله عليه وسلم رجل فقال ما نلبس اذا احرمنا قال " لا تلبس القميص ولا العمامة ولا السراويل ولا البرنس ولا الخفين الا ان لا تجد نعلين فان لم تجد النعلين فما دون الكعبين
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو آواز دی اور اس نے پوچھا: جب ہم محرم ہوں تو کیا پہنیں؟ تو آپ نے فرمایا: ”نہ قمیص پہنو، نہ عمامے ( پگڑیاں ) ، نہ ٹوپیاں، نہ پائجامے، نہ موزے البتہ اگر جوتے نہ ہوں تو ایسے موزے پہنو جو ٹخنوں سے نیچے ہوں، اور نہ ورس اور زعفران لگے ہوئے کپڑے پہنو“۔
اخبرنا ابو الاشعث، احمد بن المقدام قال حدثنا يزيد بن زريع، قال حدثنا ابن عون، عن نافع، عن ابن عمر، قال نادى النبي صلى الله عليه وسلم رجل فقال ما نلبس اذا احرمنا قال " لا تلبس القميص ولا العمايم ولا البرانس ولا السراويلات ولا الخفاف الا ان لا يكون نعال فان لم يكن نعال فخفين دون الكعبين ولا ثوبا مصبوغا بورس او زعفران او مسه ورس او زعفران
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: ”احرام میں نہ قمیص پہنو، نہ پائجامے، نہ عمامے ( پگڑیاں ) نہ ٹوپیاں، نہ موزے“۔
اخبرنا هناد بن السري، عن ابن ابي زايدة، قال انبانا عبيد الله بن عمر، عن نافع، عن ابن عمر، قال سمعت النبي صلى الله عليه وسلم يقول " لا تلبسوا في الاحرام القميص ولا السراويلات ولا العمايم ولا البرانس ولا الخفاف