Loading...

Loading...
کتب
۴۶۶ احادیث
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ ایک شخص نے پوچھا: اللہ کے رسول! میرے والد انتقال کر گئے اور انہوں نے حج نہیں کیا، کیا میں ان کی طرف سے حج کر لوں؟ آپ نے فرمایا: ”کیا خیال ہے اگر تمہارے والد پر کچھ قرض ہوتا تو تم ادا کرتے؟“ اس نے کہا: ہاں ( میں ادا کرتا ) تو آپ نے فرمایا: ”تو اللہ تعالیٰ کا قرض ادا کئے جانے کا زیادہ مستحق ہے“۔
اخبرنا ابو عاصم، خشيش بن اصرم النسايي عن عبد الرزاق، قال انبانا معمر، عن الحكم بن ابان، عن عكرمة، عن ابن عباس، قال قال رجل يا رسول الله ان ابي مات ولم يحج افاحج عنه قال " ارايت لو كان على ابيك دين اكنت قاضيه " . قال نعم . قال " فدين الله احق
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: میرے باپ کو ( فریضہ ) حج نے اس حال میں پایا کہ وہ بہت بوڑھے ہو چکے ہیں اپنی سواری پر ٹک نہیں سکتے، اگر میں انہیں سواری پر بٹھا کر باندھ دوں تو ڈرتا ہوں کہ کہیں مر نہ جائیں۔ کیا میں ان کی طرف سے حج کر لوں؟ آپ نے فرمایا: ”تمہارا کیا خیال ہے اگر ان پر قرض ہوتا تو اسے ادا کرتے، تو وہ کافی ہو جاتا“؟ اس نے کہا: ہاں ( کافی ہو جاتا ) آپ نے فرمایا: ”پھر اپنے باپ کی طرف سے حج کرو“۔
اخبرنا مجاهد بن موسى، عن هشيم، عن يحيى بن ابي اسحاق، عن سليمان بن يسار، عن عبد الله بن عباس، ان رجلا، سال النبي صلى الله عليه وسلم ان ابي ادركه الحج وهو شيخ كبير لا يثبت على راحلته فان شددته خشيت ان يموت افاحج عنه قال " ارايت لو كان عليه دين فقضيته اكان مجزيا " . قال نعم . قال " فحج عن ابيك
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ فضل بن عباس رضی اللہ عنہما رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے سواری پر تھے، تو قبیلہ خثعم کی ایک عورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک مسئلہ پوچھنے آئی، تو فضل اسے دیکھنے لگے، اور وہ فضل کو دیکھنے لگی، اور آپ فضل کا چہرہ دوسری طرف پھیرنے لگے، تو اس عورت نے پوچھا: اللہ کے رسول! اپنے بندوں پر اللہ کے عائد کردہ فریضہ حج نے میرے باپ کو اس حال میں پایا: انتہائی بوڑھے ہو چکے ہیں، سواری پر ٹک نہیں سکتے، کیا میں ان کی طرف سے حج کر لوں؟ آپ نے فرمایا: ”ہاں کر لو“، یہ واقعہ حجۃ الوداع کا ہے۔
اخبرنا محمد بن سلمة، والحارث بن مسكين، قراءة عليه وانا اسمع، عن ابن القاسم، قال حدثني مالك، عن ابن شهاب، عن سليمان بن يسار، عن عبد الله بن عباس، قال كان الفضل بن عباس رديف رسول الله صلى الله عليه وسلم فجاءته امراة من خثعم تستفتيه وجعل الفضل ينظر اليها وتنظر اليه وجعل رسول الله صلى الله عليه وسلم يصرف وجه الفضل الى الشق الاخر فقالت يا رسول الله ان فريضة الله في الحج على عباده ادركت ابي شيخا كبيرا لا يستطيع ان يثبت على الراحلة افاحج عنه قال " نعم " . وذلك في حجة الوداع
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ حجۃ الوداع کے موقع پر قبیلہ خثعم کی ایک عورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس مسئلہ پوچھنے آئی اور فضل بن عباس رضی اللہ عنہما رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے اونٹ پر سوار تھے، اس عورت نے عرض کیا: اللہ کے رسول! اپنے بندوں پر عائد کردہ اللہ کے فریضہ حج نے میرے والد کو اس حال میں پایا کہ وہ بہت بوڑھے ہو چکے ہیں وہ سواری پر سیدھے نہیں رہ سکتے، تو کیا اگر میں ان کی طرف سے حج کروں تو ان کی طرف سے پورا ہو جائے گا؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں ہو جائے گا“، تو فضل بن عباس رضی اللہ عنہما اسے مڑ کر دیکھنے لگے، وہ ایک خوبصورت عورت تھی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فضل بن عباس کو پکڑ کر ان کا چہرہ دوسری جانب پھیر دیا۔
اخبرنا ابو داود، قال حدثنا يعقوب بن ابراهيم، قال حدثنا ابي، عن صالح بن كيسان، عن ابن شهاب، ان سليمان بن يسار، اخبره ان ابن عباس اخبره ان امراة من خثعم استفتت رسول الله صلى الله عليه وسلم في حجة الوداع والفضل بن عباس رديف رسول الله صلى الله عليه وسلم فقالت يا رسول الله ان فريضة الله في الحج على عباده ادركت ابي شيخا كبيرا لا يستوي على الراحلة فهل يقضي عنه ان احج عنه فقال لها رسول الله صلى الله عليه وسلم " نعم " . فاخذ الفضل بن عباس يلتفت اليها وكانت امراة حسناء واخذ رسول الله صلى الله عليه وسلم الفضل فحول وجهه من الشق الاخر
فضل بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے سواری پر سوار تھے تو آپ کے پاس ایک شخص آیا اور اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میری ماں بہت بوڑھی ہو چکی ہیں، اگر میں انہیں سواری پر چڑھا دوں تو وہ بیٹھی نہیں رہ سکتیں، اور اگر میں انہیں ( سواری پر بٹھا کر ) باندھ دوں تو ڈرتا ہوں کہ کہیں ان کی جان نہ لے بیٹھوں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا خیال ہے اگر تمہاری ماں پر قرض ہوتا تو تم اسے ادا کرتے؟“ اس نے کہا: جی ہاں ( میں ادا کرتا ) آپ نے فرمایا: ”تو تم اپنی ماں کی جانب سے حج کرو“۔
اخبرنا احمد بن سليمان، قال حدثنا يزيد، - وهو ابن هارون - قال انبانا هشام، عن محمد، عن يحيى بن ابي اسحاق، عن سليمان بن يسار، عن الفضل بن عباس، انه كان رديف النبي صلى الله عليه وسلم فجاءه رجل فقال يا رسول الله ان امي عجوز كبيرة وان حملتها لم تستمسك وان ربطتها خشيت ان اقتلها . فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ارايت لو كان على امك دين اكنت قاضيه " . قال نعم . قال " فحج عن امك
عبداللہ بن زبیر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص سے فرمایا: ”تم اپنے باپ کا بڑے بیٹے ہو تو تم ان کی طرف سے حج کرو“۔
اخبرنا يعقوب بن ابراهيم الدورقي، قال حدثنا عبد الرحمن، عن سفيان، عن منصور، عن مجاهد، عن يوسف، عن ابن الزبير، ان النبي صلى الله عليه وسلم قال لرجل " انت اكبر ولد ابيك فحج عنه
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ ایک عورت نے اپنے بچے کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اٹھایا اور پوچھا: اللہ کے رسول! کیا اس کا بھی حج ہے؟ آپ نے فرمایا: ”ہاں ( اس کا بھی حج ہے ) اور تمہیں اس کا اجر ملے گا“ ۱؎۔
اخبرنا محمد بن المثنى، قال حدثنا يحيى، قال حدثنا سفيان، عن محمد بن عقبة، عن كريب، عن ابن عباس، ان امراة، رفعت صبيا لها الى رسول الله صلى الله عليه وسلم قالت يا رسول الله الهذا حج قال " نعم ولك اجر
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ ایک عورت نے اپنے بچے کو ہودج سے اوپر اٹھایا اور کہنے لگی: اللہ کے رسول! کیا اس کا بھی حج ہے؟ آپ نے فرمایا: ”ہاں ( اس کا بھی حج ہے ) اور تمہیں اس کا اجر ملے گا۔“
اخبرنا محمود بن غيلان، قال حدثنا بشر بن السري، قال حدثنا سفيان، عن محمد بن عقبة، عن كريب، عن ابن عباس، قال رفعت امراة صبيا لها من هودج فقالت يا رسول الله الهذا حج قال " نعم ولك اجر
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ ایک عورت نے ایک بچے کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اٹھایا اور پوچھنے لگی: کیا اس کا بھی حج ہے؟ آپ نے فرمایا: ”ہاں ( اس کا بھی حج ہے ) اور تمہیں اس کا اجر ملے گا“۔
اخبرنا عمرو بن منصور، قال حدثنا ابو نعيم، قال حدثنا سفيان، عن ابراهيم بن عقبة، عن كريب، عن ابن عباس، قال رفعت امراة الى النبي صلى الله عليه وسلم صبيا فقالت الهذا حج قال " نعم ولك اجر
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم چلے جب روحاء پہنچے تو کچھ لوگوں سے ملے تو آپ نے پوچھا: ”تم کون لوگ ہو؟“ ان لوگوں نے کہا: ہم مسلمان ہیں، پھر ان لوگوں نے پوچھا: آپ کون ہیں؟ لوگوں نے بتایا: ”آپ اللہ کے رسول ہیں“، یہ سن کر ایک عورت نے کجاوے سے ایک بچے کو نکالا، اور پوچھنے لگی: کیا اس کے لیے حج ہے؟ آپ نے فرمایا: ”ہاں اور ثواب تمہیں ملے گا“۔
اخبرنا عبد الله بن محمد بن عبد الرحمن، قال حدثنا سفيان، قال حدثنا ابراهيم بن عقبة، ح وحدثنا الحارث بن مسكين، قراءة عليه وانا اسمع، - واللفظ له - عن سفيان، عن ابراهيم بن عقبة، عن كريب، عن ابن عباس، قال صدر رسول الله صلى الله عليه وسلم فلما كان بالروحاء لقي قوما فقال " من انتم " . قالوا المسلمون . قالوا من انتم قالوا رسول الله . قال فاخرجت امراة صبيا من المحفة فقالت الهذا حج قال " نعم ولك اجر
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک عورت کے پاس سے گزرے وہ پردے میں تھی اور اس کے ساتھ ایک چھوٹا بچہ تھا، اس نے کہا: کیا اس کے لیے حج ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں، اور ثواب تمہیں ملے گا“۔
اخبرنا سليمان بن داود بن حماد بن سعد ابن اخي، رشدين بن سعد ابو الربيع والحارث بن مسكين قراءة عليه وانا اسمع، عن ابن وهب، قال اخبرني مالك بن انس، عن ابراهيم بن عقبة، عن كريب، عن ابن عباس، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم مر بامراة وهي في خدرها معها صبي فقالت الهذا حج قال " نعم ولك اجر
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ ذی قعدہ کی پانچ تاریخیں رہ گئی تھیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ( مدینہ سے ) سے نکلے، ہمارے پیش نظر صرف حج تھا، یہاں تک کہ جب ہم مکہ کے قریب پہنچے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں کو جن کے پاس ہدی ( قربانی کا جانور ) نہیں تھا حکم دیا کہ وہ طواف کر چکیں تو احرام کھول دیں۔
اخبرنا هناد بن السري، عن ابن ابي زايدة، قال حدثنا يحيى بن سعيد، قال اخبرتني عمرة، انها سمعت عايشة، تقول خرجنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم لخمس بقين من ذي القعدة لا نرى الا الحج حتى اذا دنونا من مكة امر رسول الله صلى الله عليه وسلم من لم يكن معه هدى اذا طاف بالبيت ان يحل
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مدینے والے ذوالحلیفہ سے تلبیہ پکاریں، اور اہل شام حجفہ سے اور نجد والے قرن المنازل سے“۔ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ مجھے یہ اطلاع بھی ملی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یمن والے یلملم سے تلبیہ پکاریں“۔
اخبرنا قتيبة، عن مالك، عن نافع، عن عبد الله بن عمر، اخبره ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " يهل اهل المدينة من ذي الحليفة واهل الشام من الجحفة واهل نجد من قرن " . قال عبد الله وبلغني ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " ويهل اهل اليمن من يلملم
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ ایک شخص مسجد ( نبوی ) میں کھڑا ہوا اور پوچھنے لگا: اللہ کے رسول! آپ ہمیں کہاں سے تلبیہ پکارنے کا حکم دیتے ہیں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اہل مدینہ ذوالحلیفہ سے تلبیہ پکاریں گے، اور اہل شام حجفہ سے اور اہل نجد قرن سے۔ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ لوگوں کا خیال ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( یہ بھی ) فرمایا: ”اہل یمن یلملم سے تلبیہ پکاریں گے“، ابن عمر رضی اللہ عنہما کہتے تھے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اسے نہیں سنا ہے۔
اخبرنا قتيبة، قال حدثنا الليث بن سعد، قال حدثنا نافع، عن عبد الله بن عمر، ان رجلا، قام في المسجد فقال يا رسول الله من اين تامرنا ان نهل قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " يهل اهل المدينة من ذي الحليفة ويهل اهل الشام من الجحفة ويهل اهل نجد من قرن " . قال ابن عمر ويزعمون ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " ويهل اهل اليمن من يلملم " . وكان ابن عمر يقول لم افقه هذا من رسول الله صلى الله عليه وسلم
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اہل مدینہ کے لیے ذوالحلیفہ کو۔ اہل شام و مصر کے لیے حجفہ کو، اہل عراق کے لیے ذات عرق کو، اور اہل یمن کے لیے یلملم کو میقات مقرر کی ہے۔
اخبرنا عمرو بن منصور، قال حدثنا هشام بن بهرام، قال حدثنا المعافى، عن افلح بن حميد، عن القاسم، عن عايشة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم وقت لاهل المدينة ذا الحليفة ولاهل الشام ومصر الجحفة ولاهل العراق ذات عرق ولاهل اليمن يلملم
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل مدینہ کے لیے ذوالحلیفہ کو، اہل شام کے لیے جحفہ کو، اہل نجد کے لیے قرن کو اور اہل یمن کے لیے یلملم کو میقات مقرر کی اور فرمایا: ”یہ یہاں کے لوگوں کی میقات ہیں اور ان تمام لوگوں کی بھی جو یہاں سے ہو کر گزریں چاہے جہاں کہیں کے بھی رہنے والے ہوں۔ اور جو لوگ ان میقاتوں کے اندر کے رہنے والے ہیں تو ان کی میقات وہیں سے ہے جہاں سے وہ چلیں یہاں تک کہ مکہ والوں کی میقات مکہ ہے“۔
اخبرنا الربيع بن سليمان، صاحب الشافعي قال حدثنا يحيى بن حسان، قال حدثنا وهيب، وحماد بن زيد، عن عبد الله بن طاوس، عن ابيه، عن ابن عباس، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم وقت لاهل المدينة ذا الحليفة ولاهل الشام الجحفة ولاهل نجد قرنا ولاهل اليمن يلملم وقال " هن لهن ولكل ات اتى عليهن من غيرهن فمن كان اهله دون الميقات حيث ينشي حتى ياتي ذلك على اهل مكة
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مدینہ والے ذوالحلیفہ سے تلبیہ پکاریں گے، شام والے حجفہ سے، اور نجد والے قرن ( المنازل ) سے“، اور میں نے تو نہیں سنا ہے لیکن مجھ سے ذکر کیا گیا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اور یمن والے یلملم سے تلبیہ پکاریں گے“۔
اخبرنا قتيبة، قال حدثنا سفيان، عن الزهري، عن سالم، عن ابيه، ان النبي صلى الله عليه وسلم قال " يهل اهل المدينة من ذي الحليفة واهل الشام من الجحفة واهل نجد من قرن " . وذكر لي ولم اسمع انه قال " ويهل اهل اليمن من يلملم
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ والوں کے لیے ذوالحلیفہ کو میقات مقرر کیا، اور شام و مصر والوں کے لیے حجفہ کو، اور عراق والوں کے لیے ذات عرق کو، اور نجد والوں کے لیے قرن ( المنازل ) کو، اور یمن والوں کے لیے یلملم کو۔
اخبرني محمد بن عبد الله بن عمار الموصلي، قال حدثنا ابو هاشم، محمد بن علي عن المعافى، عن افلح بن حميد، عن القاسم، عن عايشة، قالت وقت رسول الله صلى الله عليه وسلم لاهل المدينة ذا الحليفة ولاهل الشام ومصر الجحفة ولاهل العراق ذات عرق ولاهل نجد قرنا ولاهل اليمن يلملم
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ والوں کے لیے ذوالحلیفہ کو میقات مقرر کیا، اور شام والوں کے لیے جحفہ، اور نجد والوں کے لیے قرن ( قرن المنازل ) کو، اور یمن والوں کے لیے یلملم کو اور فرمایا: ”یہ سب یہاں کے رہنے والوں کے میقات ہیں، اور ان لوگوں کے میقات بھی جو حج کا ارادہ رکھتے ہوں اور ان پر سے ہو کر گزریں۔ اور جو لوگ اس میقات کے اندر رہتے ہوں تو وہ جہاں سے شروع کریں وہیں سے وہیں سے تلبیہ پکاریں یہاں تک کہ یہی حکم مکہ والوں کو بھی پہنچے گا“۔
اخبرنا يعقوب بن ابراهيم الدورقي، عن محمد بن جعفر، قال حدثنا معمر، قال اخبرني عبد الله بن طاوس، عن ابيه، عن ابن عباس، قال وقت رسول الله صلى الله عليه وسلم لاهل المدينة ذا الحليفة ولاهل الشام الجحفة ولاهل نجد قرنا ولاهل اليمن يلملم قال " هن لهم ولمن اتى عليهن ممن سواهن لمن اراد الحج والعمرة ومن كان دون ذلك من حيث بدا حتى يبلغ ذلك اهل مكة
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ والوں کے لیے ذوالحلیفہ کو میقات مقرر کیا، اور شام والوں کے لیے جحفہ کو اور یمن والوں کے لیے یلملم کو، اور نجد والوں کے لیے قرن المنازل کو۔ یہ جگہیں یہاں کے لوگوں کے لیے میقات ہیں اور ان کے علاوہ لوگوں کے لیے بھی جو ان پر سے ہو کر گزریں، اور حج و عمرہ کا ارادہ رکھنے والوں میں سے ہوں اور جو لوگ ان جگہوں کے اندر رہتے ہوں تو وہ اپنے گھر ہی سے تلبیہ پکاریں یہاں تک کہ مکہ والے مکہ ہی سے تلبیہ پکاریں گے“۔
اخبرنا قتيبة، قال حدثنا حماد، عن عمرو، عن طاوس، عن ابن عباس، ان النبي صلى الله عليه وسلم وقت لاهل المدينة ذا الحليفة ولاهل الشام الجحفة ولاهل اليمن يلملم ولاهل نجد قرنا فهن لهم ولمن اتى عليهن من غير اهلهن ممن كان يريد الحج والعمرة فمن كان دونهن فمن اهله حتى ان اهل مكة يهلون منها