Loading...

Loading...
کتب
۴۶۶ احادیث
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کے سامنے خطبہ دیا تو فرمایا: ”اللہ عزوجل نے تم پر حج فرض کیا ہے“ ایک شخص نے پوچھا: کیا ہر سال؟ آپ خاموش رہے یہاں تک اس نے اسے تین بار دہرایا تو آپ نے فرمایا: ”اگر میں کہہ دیتا ہاں، تو وہ واجب ہو جاتا، اور اگر واجب ہو جاتا تو تم اسے ادا نہ کر پاتے، تم مجھے میرے حال پر چھوڑے رہو جب تک کہ میں تمہیں تمہارے حال پر چھوڑے رکھوں ۱؎، تم سے پہلے لوگ بکثرت سوال کرنے اور اپنے انبیاء سے اختلاف کرنے کے سبب ہلاک ہوئے، جب میں تمہیں کسی بات کا حکم دوں تو جہاں تک تم سے ہو سکے اس پر عمل کرو۔ اور جب کسی چیز سے روکوں تو اس سے باز آ جاؤ“۔
اخبرنا محمد بن عبد الله بن المبارك المخرمي، قال حدثنا ابو هشام، - واسمه المغيرة بن سلمة - قال حدثنا الربيع بن مسلم، قال حدثنا محمد بن زياد، عن ابي هريرة، قال خطب رسول الله صلى الله عليه وسلم الناس فقال " ان الله عز وجل قد فرض عليكم الحج " . فقال رجل في كل عام فسكت عنه حتى اعاده ثلاثا فقال " لو قلت نعم لوجبت ولو وجبت ما قمتم بها ذروني ما تركتكم فانما هلك من كان قبلكم بكثرة سوالهم واختلافهم على انبيايهم فاذا امرتكم بالشىء فخذوا به ما استطعتم واذا نهيتكم عن شىء فاجتنبوه
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور فرمایا: ”بیشک اللہ تعالیٰ نے تم پر حج فرض کیا ہے“، تو اقرع بن حابس تمیمی رضی اللہ عنہ نے پوچھا: ہر سال؟ اللہ کے رسول! آپ خاموش رہے، پھر آپ نے بعد میں فرمایا: ”اگر میں ہاں کہہ دیتا تو ہر سال ( حج ) فرض ہو جاتا، پھر نہ تم سنتے اور نہ اطاعت کرتے، لیکن حج ایک بار ہی ہے“۔
اخبرنا محمد بن يحيى بن عبد الله النيسابوري، قال حدثنا سعيد بن ابي مريم، قال انبانا موسى بن سلمة، قال حدثني عبد الجليل بن حميد، عن ابن شهاب، عن ابي سنان الدولي، عن ابن عباس، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قام فقال " ان الله تعالى كتب عليكم الحج " . فقال الاقرع بن حابس التميمي كل عام يا رسول الله فسكت فقال " لو قلت نعم لوجبت ثم اذا لا تسمعون ولا تطيعون ولكنه حجة واحدة
ابورزین رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میرے والد بوڑھے ہیں، نہ حج کر سکتے ہیں نہ عمرہ اور نہ سفر؟ آپ نے فرمایا: ”اپنے والد کی طرف سے تم حج و عمرہ کر لو“ ۱؎۔
اخبرنا محمد بن عبد الاعلى، قال حدثنا خالد، قال حدثنا شعبة، قال سمعت النعمان بن سالم، قال سمعت عمرو بن اوس، يحدث عن ابي رزين، انه قال يا رسول الله ان ابي شيخ كبير لا يستطيع الحج ولا العمرة ولا الظعن . قال " فحج عن ابيك واعتمر
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مبرور و مقبول حج کا بدلہ جنت کے سوا اور کچھ نہیں اور ایک عمرہ دوسرے عمرہ کے درمیان تک کے گناہوں کا کفارہ ہے“۔
اخبرنا عبدة بن عبد الله الصفار البصري، قال حدثنا سويد، - وهو ابن عمرو الكلبي - عن زهير، قال حدثنا سهيل، عن سمى، عن ابي صالح، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " الحجة المبرورة ليس لها جزاء الا الجنة والعمرة الى العمرة كفارة لما بينهما
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”حج مبرور ( مقبول ) کا ثواب جنت کے سوا اور کچھ نہیں ہے“، اس سے آگے پہلے کی حدیث کے مثل ہے، مگر فرق یہ ہے کہ اس میں «كفارة لما بينهما» کے بجائے «تكفر ما بينهما» کا لفظ آیا ہے۔
اخبرنا عمرو بن منصور، قال حدثنا حجاج، قال حدثنا شعبة، قال اخبرني سهيل، عن سمى، عن ابي صالح، عن ابي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " الحجة المبرورة ليس لها ثواب الا الجنة " . مثله سواء الا انه قال " تكفر ما بينهما
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: اللہ کے رسول! اعمال میں سب سے افضل عمل کون سا ہے؟ آپ نے فرمایا: ”اللہ پر ایمان لانا“، اس نے پوچھا: پھر کون سا؟ آپ نے فرمایا: ”اللہ کی راہ میں جہاد کرنا“، اس نے پوچھا: پھر کون سا عمل؟ آپ نے فرمایا: ”پھر حج مبرور ( مقبول ) “ ۱؎۔
اخبرنا محمد بن رافع، قال حدثنا عبد الرزاق، قال انبانا معمر، عن الزهري، عن ابن المسيب، عن ابي هريرة، قال سال رجل النبي صلى الله عليه وسلم فقال يا رسول الله اى الاعمال افضل قال " الايمان بالله " . قال ثم ماذا قال " الجهاد في سبيل الله " . قال ثم ماذا قال " ثم الحج المبرور
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کے وفد میں تین لوگ ہیں: ایک غازی، دوسرا حاجی اور تیسرا عمرہ کرنے والا“۔
اخبرنا عيسى بن ابراهيم بن مثرود، قال حدثنا ابن وهب، عن مخرمة، عن ابيه، قال سمعت سهيل بن ابي صالح، قال سمعت ابي يقول، سمعت ابا هريرة، يقول قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " وفد الله ثلاثة الغازي والحاج والمعتمر
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بوڑھے، بچے، کمزور اور عورت کا جہاد حج اور عمرہ ہے“۔
اخبرني محمد بن عبد الله بن عبد الحكم، عن شعيب، عن الليث، قال حدثنا خالد، عن ابن ابي هلال، عن يزيد بن عبد الله، عن محمد بن ابراهيم، عن ابي سلمة، عن ابي هريرة، عن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " جهاد الكبير والصغير والضعيف والمراة الحج والعمرة
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے اس گھر ( یعنی خانہ کعبہ ) کا حج کیا، نہ بیہودہ بکا ۱؎ اور نہ ہی کوئی گناہ کیا، تو وہ اس طرح ( پاک و صاف ہو کر ) ۲؎ لوٹے گا جس طرح وہ اس وقت تھا جب اس کی ماں نے اسے جنا تھا“۔
اخبرنا ابو عمار الحسين بن حريث المروزي، قال حدثنا الفضيل، - وهو ابن عياض - عن منصور، عن ابي حازم، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من حج هذا البيت فلم يرفث ولم يفسق رجع كما ولدته امه
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا ہم نکل کر آپ کے ساتھ جہاد نہ کریں کیونکہ میں قرآن میں جہاد سے زیادہ افضل کوئی عمل نہیں دیکھتی؟ آپ نے فرمایا: ”نہیں، لیکن ( تمہارے لیے ) سب سے بہتر اور کامیاب جہاد بیت اللہ کا حج مبرور ( مقبول ) ہے“۔
اخبرنا اسحاق بن ابراهيم، قال انبانا جرير، عن حبيب، - وهو ابن ابي عمرة - عن عايشة بنت طلحة، قالت اخبرتني ام المومنين، عايشة قالت قلت يا رسول الله الا نخرج فنجاهد معك فاني لا ارى عملا في القران افضل من الجهاد . قال " لا ولكن احسن الجهاد واجمله حج البيت حج مبرور
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک عمرہ دوسرے عمرے کے درمیان کے گناہوں کا کفارہ ہے ۱؎، اور حج مبرور کا بدلہ جنت کے سوا کچھ نہیں“۔
اخبرنا قتيبة بن سعيد، عن مالك، عن سمى، عن ابي صالح، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " العمرة الى العمرة كفارة لما بينهما والحج المبرور ليس له جزاء الا الجنة
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”حج و عمرہ ایک ساتھ کرو، کیونکہ یہ دونوں فقر اور گناہ کو اسی طرح دور کرتے ہیں جس طرح بھٹی لوہے کی میل کو دور کر دیتی ہے“۔
اخبرنا ابو داود، قال حدثنا ابو عتاب، قال حدثنا عزرة بن ثابت، عن عمرو بن دينار، قال قال ابن عباس قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " تابعوا بين الحج والعمرة فانهما ينفيان الفقر والذنوب كما ينفي الكير خبث الحديد
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”حج و عمرہ ایک ساتھ کرو، کیونکہ یہ دونوں فقر اور گناہ کو اسی طرح دور کر دیتے ہیں جس طرح بھٹی لوہے، اور سونے چاندی کے میل کچیل کو دور کر دیتی ہے۔ اور حج مبرور کا ثواب جنت کے سوا اور کچھ نہیں ہے“۔
اخبرنا محمد بن يحيى بن ايوب، قال حدثنا سليمان بن حيان ابو خالد، عن عمرو بن قيس، عن عاصم، عن شقيق، عن عبد الله، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " تابعوا بين الحج والعمرة فانهما ينفيان الفقر والذنوب كما ينفي الكير خبث الحديد والذهب والفضة وليس للحج المبرور ثواب دون الجنة
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ ایک عورت نے حج کی نذر مانی، پھر ( حج کئے بغیر ) مر گئی، اس کا بھائی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، اور آپ سے اس بارے میں مسئلہ پوچھا تو آپ فرمایا: ”بتاؤ اگر تمہاری بہن پر قرض ہوتا تو کیا تم ادا کرتے؟“ اس نے کہا: ہاں میں ادا کرتا، آپ نے فرمایا: ”تو اللہ کا قرض ادا کرو وہ تو اور بھی ادائیگی کا زیادہ مستحق ہے“۔
اخبرنا محمد بن بشار، قال حدثنا محمد، قال حدثنا شعبة، عن ابي بشر، قال سمعت سعيد بن جبير، يحدث عن ابن عباس، ان امراة، نذرت ان تحج، فماتت فاتى اخوها النبي صلى الله عليه وسلم فساله عن ذلك فقال " ارايت لو كان على اختك دين اكنت قاضيه " . قال نعم . قال " فاقضوا الله فهو احق بالوفاء
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ ایک عورت نے سنان بن سلمہ جہنی رضی اللہ عنہ سے کہا کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھیں کہ میری ماں مر گئی ہے اور اس نے حج نہیں کیا ہے تو کیا میں اس کی طرف سے حج کروں تو اسے کافی ہو گا؟ آپ نے فرمایا: ”ہاں، اگر اس کی ماں پر قرض ہوتا اور وہ اس کی جانب سے ادا کرتی تو کیا یہ اس کی طرف سے کافی نہ ہو جاتا؟ لہٰذا اسے اپنی ماں کی طرف سے حج کرنا چاہیئے“۔
اخبرنا عمران بن موسى، قال حدثنا عبد الوارث، قال حدثنا ابو التياح، قال حدثني موسى بن سلمة الهذلي، ان ابن عباس، قال امرت امراة سنان بن سلمة الجهني ان يسال، رسول الله صلى الله عليه وسلم ان امها ماتت ولم تحج افيجزي عن امها ان تحج عنها قال " نعم لو كان على امها دين فقضته عنها الم يكن يجزي عنها فلتحج عن امها
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ ایک عورت نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنے والد کے بارے میں جو مر گئے تھے اور حج نہیں کیا تھا پوچھا: آپ نے فرمایا: ”تم اپنے والد کی طرف سے حج کر لو“۔
اخبرني عثمان بن عبد الله، قال حدثنا علي بن حكيم الاودي، قال حدثنا حميد بن عبد الرحمن الرواسي، قال حدثنا حماد بن زيد، عن ايوب السختياني، عن الزهري، عن سليمان بن يسار، عن ابن عباس، ان امراة، سالت النبي صلى الله عليه وسلم عن ابيها مات ولم يحج قال " حجي عن ابيك
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ قبیلہ خثعم کی ایک عورت نے مزدلفہ ( یعنی دسویں ذی الحجہ ) کی صبح کی کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: اللہ کے رسول! حج کے سلسلہ میں اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر جو فریضہ عائد کیا ہے اس نے میرے والد کو اس حال میں پایا کہ وہ بہت بوڑھے ہیں، سواری پر ٹک نہیں سکتے، کیا میں ان کی طرف سے حج کر لوں؟ آپ نے فرمایا: ”ہاں ( کر لو ) “۔
اخبرنا قتيبة، قال حدثنا سفيان، عن الزهري، عن سليمان بن يسار، عن ابن عباس، ان امراة، من خثعم سالت النبي صلى الله عليه وسلم غداة جمع فقالت يا رسول الله فريضة الله في الحج على عباده ادركت ابي شيخا كبيرا لا يستمسك على الرحل افاحج عنه قال " نعم
اس سند سے بھی ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اسی کے مثل مروی ہے۔
اخبرنا سعيد بن عبد الرحمن ابو عبيد الله المخزومي، قال حدثنا سفيان، عن ابن طاوس، عن ابيه، عن ابن عباس، مثله
ابورزین عقیلی رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میرے والد بہت بوڑھے ہیں، نہ وہ حج و عمرہ کرنے کی طاقت رکھتے ہیں، اور نہ ہی سواری پر چڑھ سکتے ہیں، آپ نے فرمایا: ”تم اپنے والد کی طرف سے حج و عمرہ کر لو“۔
اخبرنا اسحاق بن ابراهيم، قال انبانا وكيع، قال حدثنا شعبة، عن النعمان بن سالم، عن عمرو بن اوس، عن ابي رزين العقيلي، انه قال يا رسول الله ان ابي شيخ كبير لا يستطيع الحج ولا العمرة والظعن . قال " حج عن ابيك واعتمر
عبداللہ بن زبیر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ قبیلہ خثعم کا ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور عرض کیا: میرے والد بہت بوڑھے ہیں وہ سواری پر چڑھ نہیں سکتے، اور حج کا فریضہ ان پر عائد ہو چکا ہے، میں ان کی طرف سے حج کر لوں تو کیا وہ ان کی طرف سے ادا ہو جائے گا؟ آپ نے فرمایا: ”کیا تم ان کے بڑے بیٹے ہو؟“ اس نے کہا: جی ہاں ( میں ان کا بڑا بیٹا ہوں ) آپ نے فرمایا: ”تمہارا کیا خیال ہے اگر ان پر قرض ہوتا تو تم اسے ادا کرتے؟“ اس نے کہا: ہاں ( میں ادا کرتا ) آپ نے فرمایا: ”تو تم ان کی طرف سے حج ادا کرو“۔
اخبرنا اسحاق بن ابراهيم، قال انبانا جرير، عن منصور، عن مجاهد، عن يوسف بن الزبير، عن عبد الله بن الزبير، قال جاء رجل من خثعم الى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال ان ابي شيخ كبير لا يستطيع الركوب وادركته فريضة الله في الحج فهل يجزي ان احج عنه قال " انت اكبر ولده " . قال نعم . قال " ارايت لو كان عليه دين اكنت تقضيه " . قال نعم . قال " فحج عنه