Loading...

Loading...
کتب
۴۶۶ احادیث
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو دیکھا کہ وہ قربانی کے اونٹ کو ہانک کر لے جا رہا ہے آپ نے فرمایا: ”اس پر سوار ہو جاؤ“، اس نے کہا: اللہ کے رسول! ہدی کا اونٹ ہے۔ آپ نے ( پھر ) فرمایا: ”سوار ہو جاؤ“، تمہارا، برا ہو، راوی کو شک ہے «ويلك» ”تمہارا برا ہو“ ۱؎ کا کلمہ آپ نے دوسری بار میں کہا یا تیسری بار میں۔
اخبرنا قتيبة، عن مالك، عن ابي الزناد، عن الاعرج، عن ابي هريرة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم راى رجلا يسوق بدنة قال " اركبها " . قال يا رسول الله انها بدنة قال " اركبها ويلك " . في الثانية او في الثالثة
انس رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو دیکھا کہ وہ قربانی کا اونٹ اپنے ساتھ ہانکے لیے جا رہا ہے، آپ نے فرمایا: ”اس پر سوار ہو جاؤ“، اس نے کہا: یہ قربانی کا اونٹ ہے، آپ نے ( پھر ) فرمایا: ”اس پر سوار ہو جاؤ“، اس نے کہا: یہ قربانی کا اونٹ ہے، آپ نے چوتھی مرتبہ فرمایا: ”سوار ہو جاؤ تیرا برا ہو“۔
اخبرنا اسحاق بن ابراهيم، قال انبانا عبدة بن سليمان، قال حدثنا سعيد، عن قتادة، عن انس، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم راى رجلا يسوق بدنة . فقال " اركبها " . قال انها بدنة . قال " اركبها " . قال انها بدنة قال في الرابعة " اركبها ويلك
انس رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو ہدی کا اونٹ لے جاتے دیکھا اور وہ تھک کر چور ہو چکا تھا آپ نے اس سے فرمایا: ”اس پر سوار ہو جاؤ“ وہ کہنے لگا ہدی کا اونٹ ہے، آپ نے فرمایا: ”وار ہو جاؤ اگرچہ وہ ہدی کا اونٹ ہو“۔
اخبرنا محمد بن المثنى، قال حدثنا خالد، قال حدثنا حميد، عن ثابت، عن انس، ان النبي صلى الله عليه وسلم راى رجلا يسوق بدنة وقد جهده المشى قال " اركبها " . قال انها بدنة . قال " اركبها وان كانت بدنة
ابو الزبیر کہتے ہیں کہ میں نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے سنا ان سے قربانی کے جانور پر سوار ہونے کے متعلق پوچھا جا رہا تھا تو انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ دستور کے مطابق اس کی سواری کر جب تم اس کے لیے مجبور کر دئیے جاؤ یہاں تک کہ دوسری سواری پا لو۔
اخبرنا عمرو بن علي، قال حدثنا يحيى، قال حدثنا ابن جريج، قال اخبرني ابو الزبير، قال سمعت جابر بن عبد الله، يسال عن ركوب البدنة، فقال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " اركبها بالمعروف اذا الجيت اليها حتى تجد ظهرا
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے، اور ہمارے پیش نظر صرف حج تھا، جب ہم مکہ آئے تو ہم نے بیت اللہ کا طواف کیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو لوگ ہدی لے کر نہیں آئے تھے انہیں احرام کھول دینے کا حکم دیا تو جو ہدی نہیں لائے تھے حلال ہو گئے، آپ کی بیویاں بھی ہدی لے کر نہیں آئیں تھیں تو وہ بھی حلال ہو گئیں، تو مجھے حیض آ گیا ( جس کی وجہ سے ) میں بیت اللہ کا طواف نہیں کر سکی، جب محصب کی رات آئی تو میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! لوگ حج و عمرہ دونوں کر کے اپنے گھروں کو واپس جائیں گے اور میں صرف حج کر کے لوٹوں گی، آپ نے پوچھا: ”کیا تم نے ان راتوں میں جن میں ہم مکہ آئے تھے طواف نہیں کیا تھا؟“ میں نے عرض کیا: نہیں، آپ نے فرمایا: ”تو تم اپنے بھائی کے ساتھ تنعیم جاؤ، وہاں عمرے کا تلبیہ پکارو، ( اور طواف وغیرہ کر کے ) واپس آ کر فلاں فلاں جگہ ہم سے ملو“۔
اخبرني محمد بن قدامة، عن جرير، عن منصور، عن ابراهيم، عن الاسود، عن عايشة، قالت خرجنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم ولا نرى الا الحج فلما قدمنا مكة طفنا بالبيت امر رسول الله صلى الله عليه وسلم من لم يكن ساق الهدى ان يحل فحل من لم يكن ساق الهدى ونساوه لم يسقن فاحللن . قالت عايشة فحضت فلم اطف بالبيت فلما كانت ليلة الحصبة قلت يا رسول الله يرجع الناس بعمرة وحجة وارجع انا بحجة . قال " اوما كنت طفت ليالي قدمنا مكة " . قلت لا . قال " فاذهبي مع اخيك الى التنعيم فاهلي بعمرة ثم موعدك مكان كذا وكذا
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے، ہمارے پیش نظر صرف حج تھا، تو جب ہم مکہ کے قریب پہنچے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جن کے ساتھ ہدی تھی انہیں اپنے احرام پر قائم رہنے کا حکم دیا، اور جن کے ساتھ ہدی نہیں تھی انہیں احرام کھول دینے کا حکم دیا۔
اخبرنا عمرو بن علي، قال حدثنا يحيى، عن يحيى، عن عمرة، عن عايشة، قالت خرجنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم لا نرى الا انه الحج فلما دنونا من مكة امر رسول الله صلى الله عليه وسلم من كان معه هدى ان يقيم على احرامه ومن لم يكن معه هدى ان يحل
جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب نے خالص حج کا احرام باندھا، اس کے ساتھ اور کسی چیز کی نیت نہ تھی۔ تو ہم ۴ ذی الحجہ کی صبح کو مکہ پہنچے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا ”احرام کھول ڈالو اور اسے ( حج کے بجائے ) عمرہ بنا لو“، تو آپ کو ہمارے متعلق یہ اطلاع پہنچی کہ ہم کہہ رہے ہیں کہ ہمارے اور عرفہ کے درمیان صرف پانچ دن باقی رہ گئے ہیں اور آپ نے ہمیں حکم دیا ہے کہ ہم اپنے احرام کھول کر حلال ہو جائیں تو ہم منیٰ کو جائیں گے، اور ہمارے ذکر سے منی ٹپک رہی ہو گی، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور آپ نے ہمیں خطبہ دیا اور فرمایا: ”جو بات تم لوگوں نے کہی ہے وہ مجھے معلوم ہو چکی ہے، میں تم سے زیادہ نیک اور تم سب سے زیادہ اللہ تعالیٰ سے ڈرنے والا ہوں، اگر میرے ساتھ ہدی نہ ہوتی تو میں بھی حلال ہو گیا ہوتا، اگر جو بات مجھے اب معلوم ہوئی ہے پہلے معلوم ہو گئی ہوتی تو میں ہدی ساتھ لے کر نہ آتا“۔ ( اسی دوران ) علی رضی اللہ عنہ یمن سے آئے، تو آپ نے ان سے پوچھا: ”تم نے کس چیز کا تلبیہ پکارا ہے؟“ انہوں نے کہا: جس کا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پکارا ہے، آپ نے فرمایا: ”تم ہدی دو اور احرام باندھے رہو، جس طرح تم ہو“۔ اور سراقہ بن مالک بن جعشم رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کے رسول! ہمیں بتائیے ہمارا یہ عمرہ اسی سال کے لیے ہے، یا ہمیشہ کے لیے؟ آپ نے فرمایا: ”ہمیشہ کے لیے ہے“۔
اخبرنا يعقوب بن ابراهيم، قال حدثنا ابن علية، عن ابن جريج، قال اخبرني عطاء، عن جابر، قال اهللنا اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم بالحج خالصا ليس معه غيره خالصا وحده فقدمنا مكة صبيحة رابعة مضت من ذي الحجة فامرنا النبي صلى الله عليه وسلم فقال " احلوا واجعلوها عمرة " . فبلغه عنا انا نقول لما لم يكن بيننا وبين عرفة الا خمس امرنا ان نحل فنروح الى منى ومذاكيرنا تقطر من المني فقام النبي صلى الله عليه وسلم فخطبنا فقال " قد بلغني الذي قلتم واني لابركم واتقاكم ولولا الهدى لحللت ولو استقبلت من امري ما استدبرت ما اهديت " . قال وقدم علي من اليمن فقال " بما اهللت " . قال بما اهل به النبي صلى الله عليه وسلم . قال " فاهد وامكث حراما كما انت " . قال وقال سراقة بن مالك بن جعشم يا رسول الله ارايت عمرتنا هذه لعامنا هذا او للابد قال " هي للابد
سراقہ بن مالک بن جعشم رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہمیں بتائیے کیا ہمارا یہ عمرہ ہمارے اسی سال کے لیے ہے یا ہمیشہ کے لیے ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ ہمیشہ کے لیے ہے“۔
اخبرنا محمد بن بشار، قال حدثنا محمد، قال حدثنا شعبة، عن عبد الملك، عن طاوس، عن سراقة بن مالك بن جعشم، انه قال يا رسول الله ارايت عمرتنا هذه لعامنا ام لابد قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " هي لابد
سراقہ بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حج تمتع کیا ۱؎ اور ہم سب نے بھی آپ کے ساتھ تمتع کیا۔ تو ہم نے عرض کیا: کیا یہ ہمارے لیے خاص ہے یا ہمیشہ کے لیے ہے؟ آپ نے فرمایا: ”نہیں، بلکہ یہ ہمیشہ کے لیے ہے“۔
اخبرنا هناد بن السري، عن عبدة، عن ابن ابي عروبة، عن مالك بن دينار، عن عطاء، قال قال سراقة تمتع رسول الله صلى الله عليه وسلم وتمتعنا معه فقلنا النا خاصة ام لابد قال " بل لابد
بلال رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا حج کو عمرہ میں تبدیل کر دینا صرف ہمارے ساتھ خاص ہے یا سب لوگوں کے لیے ہے؟ آپ نے فرمایا: ”نہیں، بلکہ ہم لوگوں کے لیے خاص ہے ۱؎“۔
اخبرنا اسحاق بن ابراهيم، قال انبانا عبد العزيز، - وهو الدراوردي - عن ربيعة بن ابي عبد الرحمن، عن الحارث بن بلال، عن ابيه، قال قلت يا رسول الله افسخ الحج لنا خاصة ام للناس عامة قال " بل لنا خاصة
ابوذر رضی الله عنہ سے حج کے متعہ کے سلسلہ میں روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ یہ ہمارے لیے رخصت تھی۔
اخبرنا عمرو بن يزيد، عن عبد الرحمن، قال حدثنا سفيان، عن الاعمش، وعياش العامري، عن ابراهيم التيمي، عن ابيه، عن ابي ذر، في متعة الحج قال كانت لنا رخصة
ابوذر رضی الله عنہ حج کے متعہ کے بارے میں کہتے ہیں کہ یہ تمہارے لیے نہیں ہے، اور نہ تمہارا اس سے کوئی واسطہ ہے، یہ رخصت صرف ہم اصحاب محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے تھی۔
اخبرنا محمد بن المثنى، ومحمد بن بشار، قالا حدثنا محمد، قال حدثنا شعبة، قال سمعت عبد الوارث بن ابي حنيفة، قال سمعت ابراهيم التيمي، يحدث عن ابيه، عن ابي ذر، قال في متعة الحج ليست لكم ولستم منها في شىء انما كانت رخصة لنا اصحاب محمد صلى الله عليه وسلم
ابوذر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ متعہ کی رخصت ہمارے لیے خاص تھی۔
اخبرنا بشر بن خالد، قال انبانا غندر، عن شعبة، عن سليمان، عن ابراهيم التيمي، عن ابيه، عن ابي ذر، قال كانت المتعة رخصة لنا
عبدالرحمٰن بن ابی الشعثاء کہتے ہیں کہ میں ابراہیم نخعی اور ابراہیم تیمی کے ساتھ تھا، تو میں نے کہا: میں نے اس سال حج اور عمرہ دونوں کو ایک ساتھ کرنے کا ارادہ کیا ہے۔ اس پر ابراہیم نے کہا: اگر تمہارے والد ہوتے تو ایسا ارادہ نہ کرتے، وہ کہتے ہیں: ابراہیم تیمی نے اپنے باپ کے واسطہ سے روایت بیان کی، اور انہوں نے ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ ابوذر رضی اللہ عنہ نے کہا: متعہ ہمارے لیے خاص تھا۔
اخبرنا محمد بن عبد الله بن المبارك، قال حدثنا يحيى بن ادم، قال حدثنا مفضل بن مهلهل، عن بيان، عن عبد الرحمن بن ابي الشعثاء، قال كنت مع ابراهيم النخعي وابراهيم التيمي فقلت لقد هممت ان اجمع العام الحج والعمرة . فقال ابراهيم لو كان ابوك لم يهم بذلك . قال وقال ابراهيم التيمي عن ابيه عن ابي ذر قال انما كانت المتعة لنا خاصة
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ ۔ ( زمانہ جاہلیت میں ) لوگ حج کے مہینوں میں عمرہ کر لینے کو زمین میں ایک بہت بڑا گناہ تصور کرتے تھے، اور محرم ( کے مہینے ) کو صفر کا ( مہینہ ) بنا لیتے تھے، اور کہتے تھے: جب اونٹ کی پیٹھ کا زخم اچھا ہو جائے، اور اس کے بال بڑھ جائیں اور صفر کا مہینہ گزر جائے یا کہا صفر کا مہینہ آ جائے تو عمرہ کرنے والے کے لیے عمرہ حلال ہو گیا چنانچہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب ذی الحجہ کی چار تاریخ کی صبح کو ( مکہ میں ) حج کا تلبیہ پکارتے ہوئے آئے تو آپ نے انہیں حکم دیا کہ اسے عمرہ بنا لیں، تو انہیں یہ بات بڑی گراں لگی ۱؎، چنانچہ لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کون کون سی چیزیں حلال ہوں گی؟ تو آپ نے فرمایا: ”احرام سے جتنی بھی چیزیں حرام ہوئی تھیں وہ ساری چیزیں حلال ہو جائیں گی“۔
اخبرنا عبد الاعلى بن واصل بن عبد الاعلى، قال حدثنا ابو اسامة، عن وهيب بن خالد، قال حدثنا عبد الله بن طاوس، عن ابيه، عن ابن عباس، قال كانوا يرون ان العمرة، في اشهر الحج من افجر الفجور في الارض ويجعلون المحرم صفر ويقولون اذا برا الدبر وعفا الوبر وانسلخ صفر - او قال دخل صفر - فقد حلت العمرة لمن اعتمر فقدم النبي صلى الله عليه وسلم واصحابه صبيحة رابعة مهلين بالحج فامرهم ان يجعلوها عمرة فتعاظم ذلك عندهم فقالوا يا رسول الله اى الحل قال " الحل كله
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عمرہ کا احرام باندھا اور آپ کے اصحاب نے حج کا، اور آپ نے جن کے ساتھ ہدی کے جانور نہیں تھے انہیں حکم دیا کہ وہ احرام کھول کر حلال ہو جائیں، تو جن کے ساتھ ہدی کے جانور نہیں تھے ان میں طلحہ بن عبیداللہ اور ایک اور شخص تھے، یہ دونوں احرام کھول کر حلال ہو گئے۔
اخبرنا محمد بن بشار، قال حدثنا محمد، قال حدثنا شعبة، عن مسلم، - وهو القري - قال سمعت ابن عباس، يقول اهل رسول الله صلى الله عليه وسلم بالعمرة واهل اصحابه بالحج وامر من لم يكن معه الهدى ان يحل وكان فيمن لم يكن معه الهدى طلحة بن عبيد الله ورجل اخر فاحلا
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ عمرہ ہے جس سے ہم نے فائدہ اٹھایا ہے، تو جس کے ساتھ ہدی نہ ہو وہ پورے طور پر حلال ہو جائے، کیونکہ عمرہ حج میں شامل ہو گیا ہے“۔
اخبرنا محمد بن بشار، قال حدثنا محمد، قال حدثنا شعبة، عن الحكم، عن مجاهد، عن ابن عباس، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " هذه عمرة استمتعناها فمن لم يكن عنده هدى فليحل الحل كله فقد دخلت العمرة في الحج
ابوقتادہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ وہ ( حج کے موقع پر ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے یہاں تک کہ وہ مکہ کے راستہ میں احرام باندھے ہوئے اپنے کچھ ساتھیوں کے ساتھ پیچھے رہ گئے، اور وہ خود محرم نہیں تھے ( وہاں ) انہوں نے ایک نیل گائے دیکھی، تو وہ اپنے گھوڑے پر جم کر بیٹھ گئے، پھر انہوں نے اپنے ساتھیوں سے درخواست کی وہ انہیں ان کا کوڑا دے دیں، تو ان لوگوں نے انکار کیا تو انہوں نے خود ہی لے لیا، پھر تیزی سے اس پر جھپٹے، اور اسے مار گرایا، تو اس میں سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعض اصحاب نے کھایا، اور بعض نے کھانے سے انکار کیا۔ پھر ان لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو پا لیا تو آپ سے اس بارے میں سوال کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ تو ایسی غذا ہے جسے اللہ عزوجل نے تمہیں کھلایا ہے“۔
اخبرنا قتيبة، عن مالك، عن ابي النضر، عن نافع، مولى ابي قتادة عن ابي قتادة، انه كان مع رسول الله صلى الله عليه وسلم حتى اذا كان ببعض طريق مكة تخلف مع اصحاب له محرمين وهو غير محرم وراى حمارا وحشيا فاستوى على فرسه ثم سال اصحابه ان يناولوه سوطه فابوا فسالهم رمحه فابوا فاخذه ثم شد على الحمار فقتله فاكل منه بعض اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم وابى بعضهم فادركوا رسول الله صلى الله عليه وسلم فسالوه عن ذلك فقال " انما هي طعمة اطعمكموها الله عز وجل
عبدالرحمٰن تیمی کہتے ہیں کہ ہم طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھے اور ہم احرام باندھے ہوئے تھے، تو انہیں ( شکار کی ہوئی ) ایک چڑیا ہدیہ کی گئی اور وہ سوئے ہوئے تھے تو ہم میں سے بعض نے کھایا اور بعض نے احتیاط برتی تو جب طلحہ رضی اللہ عنہ جاگے، تو انہوں نے کھانے والوں کی موافقت کی، اور کہا کہ ہم نے اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کھایا ہے۔
اخبرنا عمرو بن علي، قال حدثنا يحيى بن سعيد، قال حدثنا ابن جريج، قال حدثني محمد بن المنكدر، عن معاذ بن عبد الرحمن التيمي، عن ابيه، قال كنا مع طلحة بن عبيد الله ونحن محرمون فاهدي له طير وهو راقد فاكل بعضنا وتورع بعضنا فاستيقظ طلحة فوفق من اكله وقال اكلناه مع رسول الله صلى الله عليه وسلم
زید بن کعب بہزی رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نکلے، آپ مکہ کا ارادہ کر رہے تھے، اور احرام باندھے ہوئے تھے یہاں تک کہ جب آپ روحاء پہنچے تو اچانک ایک زخمی نیل گائے دکھائی پڑا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا گیا تو آپ نے فرمایا: ”اسے پڑا رہنے دو، ہو سکتا ہے اس کا مالک ( شکاری ) آ جائے“ ( اور اپنا شکار لے جائے ) اتنے میں بہزی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، اور وہی اس کے مالک ( شکاری ) تھے انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! یہ گور نیل گائے آپ کے پیش خدمت ہے ۱؎ آپ جس طرح چاہیں اسے استعمال کریں۔ تو رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوبکر رضی اللہ عنہ کو حکم دیا، تو انہوں نے اس کا گوشت تمام ساتھیوں میں تقسیم کر دیا، پھر آپ آگے بڑھے، جب اثایہ پہنچے جو رویثہ اور عرج کے درمیان ہے، تو کیا دیکھتے ہیں کہ ایک ہرن اپنا سر اپنے دونوں ہاتھوں اور پیروں کے درمیان کئے ہوئے ہے، ایک سایہ میں کھڑا ہے اس کے جسم میں ایک تیر پیوست ہے، تو ان کا ( یعنی بہزی کا ) گمان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو حکم دیا کہ وہ وہاں کھڑا ہو جائے تاکہ کوئی شخص اسے چھیڑنے نہ پائے یہاں تک کہ آپ ( مع اپنے اصحاب کے ) آگے بڑھ جائیں۔
اخبرنا محمد بن سلمة، والحارث بن مسكين، قراءة عليه وانا اسمع، - واللفظ له - عن ابن القاسم، قال حدثني مالك، عن يحيى بن سعيد، قال اخبرني محمد بن ابراهيم بن الحارث، عن عيسى بن طلحة، عن عمير بن سلمة الضمري، انه اخبره عن البهزي، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم خرج يريد مكة وهو محرم حتى اذا كانوا بالروحاء اذا حمار وحش عقير فذكر ذلك لرسول الله صلى الله عليه وسلم فقال " دعوه فانه يوشك ان ياتي صاحبه " . فجاء البهزي وهو صاحبه الى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال يا رسول الله صلى الله عليه وسلم شانكم بهذا الحمار . فامر رسول الله صلى الله عليه وسلم ابا بكر فقسمه بين الرفاق ثم مضى حتى اذا كان بالاثاية بين الرويثة والعرج اذا ظبى حاقف في ظل وفيه سهم فزعم ان رسول الله صلى الله عليه وسلم امر رجلا يقف عنده لا يريبه احد من الناس حتى يجاوزه