Loading...

Loading...
کتب
۴۶۶ احادیث
صعب بن جثامہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ کو ایک نیل گائے ہدیہ کیا اور آپ ابواء یا ودان میں تھے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے انہیں واپس کر دیا۔ پھر جب آپ نے میرے چہرے پر جو کیفیت تھی دیکھی تو فرمایا: ”ہم نے صرف اس وجہ سے اسے تمہیں واپس کیا ہے کہ ہم احرام باندھے ہوئے ہیں“۔
اخبرنا قتيبة بن سعيد، عن مالك، عن ابن شهاب، عن عبيد الله بن عبد الله بن عتبة، عن عبد الله بن عباس، عن الصعب بن جثامة، انه اهدى لرسول الله صلى الله عليه وسلم حمار وحش وهو بالابواء او بودان فرده عليه رسول الله صلى الله عليه وسلم فلما راى رسول الله صلى الله عليه وسلم ما في وجهي قال " اما انه لم نرده عليك الا انا حرم
صعب بن جثامہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم آگے بڑھے یہاں تک کہ جب ودان پہنچے تو ایک نیل گائے دیکھا ( جسے کسی نے شکار کر کے پیش کیا تھا ) تو آپ نے اسے پیش کرنے والے کو لوٹا دیا، اور فرمایا: ”ہم احرام باندھے ہوئے ہیں، شکار نہیں کھا سکتے“۔
اخبرنا قتيبة، قال حدثنا حماد بن زيد، عن صالح بن كيسان، عن عبيد الله بن عبد الله، عن ابن عباس، عن الصعب بن جثامة، ان النبي صلى الله عليه وسلم اقبل حتى اذا كان بودان راى حمار وحش فرده عليه وقال " انا حرم لا ناكل الصيد
عطاء سے روایت ہے کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے کہا: آپ کو معلوم نہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو کسی شکار کا کوئی عضو ہدیہ بھیجا گیا، اور آپ محرم تھے تو آپ نے اسے قبول نہیں کیا، انہوں نے کہا: جی ہاں، ( ہمیں معلوم ہے ) ۔
اخبرنا احمد بن سليمان، قال حدثنا عفان، قال حدثنا حماد بن سلمة، قال انبانا قيس بن سعد، عن عطاء، ان ابن عباس، قال لزيد بن ارقم ما علمت ان النبي صلى الله عليه وسلم اهدي له عضو صيد وهو محرم فلم يقبله قال نعم
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ زید بن ارقم رضی اللہ عنہ آئے تو ابن عباس رضی اللہ عنہما نے انہیں یاد دلاتے ہوئے کہا کہ آپ نے مجھے شکار کے گوشت کے بارے میں جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہدیہ کیا گیا تھا اور آپ محرم تھے کیا بتایا تھا؟ انہوں نے کہا: جی ہاں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک شخص شکار کے گوشت کا ایک پارچہ ( عضو ) بطور ہدیہ دیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے لوٹا دیا اور فرمایا: ”ہم نہیں کھا سکتے، ہم احرام باندھے ہوئے ہیں“۔
اخبرني عمرو بن علي، قال سمعت يحيى، وسمعت ابا عاصم، قالا حدثنا ابن جريج، قال اخبرني الحسن بن مسلم، عن طاوس، عن ابن عباس، قال قدم زيد بن ارقم فقال له ابن عباس يستذكره كيف اخبرتني عن لحم، صيد اهدي لرسول الله صلى الله عليه وسلم وهو حرام قال نعم اهدى له رجل عضوا من لحم صيد فرده وقال " انا لا ناكل انا حرم
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ صعب بن جثامہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس نیل گائے کی ٹانگ بھیجی جس سے خون کے قطرے ٹپک رہے تھے، اور آپ احرام باندھے ہوئے مقام قدید میں تھے۔ تو آپ نے اسے انہیں واپس لوٹا دیا۔
اخبرنا محمد بن قدامة، قال حدثنا جرير، عن منصور، عن الحكم، عن سعيد بن جبير، عن ابن عباس، قال اهدى الصعب بن جثامة الى رسول الله صلى الله عليه وسلم رجل حمار وحش تقطر دما وهو محرم وهو بقديد فردها عليه
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ صعب بن جثامہ رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک نیل گائے ہدیہ میں بھیجا اور آپ احرام باندھے ہوئے تھے، تو آپ نے اسے انہیں واپس کر دیا۔
اخبرنا يوسف بن حماد المعني، قال حدثنا سفيان بن حبيب، عن شعبة، عن الحكم، وحبيب، - وهو ابن ابي ثابت - عن سعيد بن جبير، عن ابن عباس، ان الصعب بن جثامة، اهدى للنبي صلى الله عليه وسلم حمارا وهو محرم فرده عليه
عبداللہ بن ابی قتادہ کہتے ہیں کہ میرے والد صلح حدیبیہ کے سال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چلے تو ان کے ساتھیوں نے احرام باندھ لیا لیکن انہوں نے نہیں باندھا، ( ان کا بیان ہے ) کہ میں اپنے اصحاب کے ساتھ تھا کہ اسی دوران ہمارے اصحاب ایک دوسرے کی طرف دیکھ کر ہنسے، میں نے نظر اٹھائی تو اچانک ایک نیل گائے مجھے دکھائی پڑا، میں نے اسے نیزہ مارا اور ( اسے پکڑنے اور ذبح کرنے کے لیے ) ان سے مدد چاہی تو انہوں نے میری مدد کرنے سے انکار کیا پھر ہم سب نے اس کا گوشت کھایا، اور ہمیں ڈر ہوا کہ ہم کہیں لوٹ نہ لیے جائیں تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ساتھ پکڑنا چاہا کبھی میں اپنا گھوڑا تیز بھگاتا اور کبھی عام رفتار سے چلتا تو میری ملاقات کافی رات گئے قبیلہ غفار کے ایک شخص سے ہوئی میں نے اس سے پوچھا: تم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کہاں چھوڑا ہے؟ اس نے کہا: میں نے آپ کو مقام سقیا میں قیلولہ کرتے ہوئے چھوڑا ہے، چنانچہ میں جا کر آپ سے مل گیا، اور میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ کے صحابہ آپ کو سلام عرض کرتے ہیں اور آپ کے لیے اللہ کی رحمت کی دعا کرتے ہیں اور وہ ڈر رہے ہیں کہ وہ کہیں آپ سے پیچھے رہ جانے پر لوٹ نہ لیے جائیں، تو آپ ذرا ٹھہر کر ان کا انتظار کر لیجئیے تو آپ نے ان کا انتظار کیا۔ پھر میں نے آپ سے عرض کیا: اللہ کے رسول! ( راستے میں ) میں نے ایک نیل گائے کا شکار کیا اور میرے پاس اس کا کچھ گوشت موجود ہے، تو آپ نے لوگوں سے کہا: ”کھاؤ“ اور وہ لوگ احرام باندھے ہوئے تھے۔
اخبرنا محمد بن عبد الاعلى، قال حدثنا خالد، قال حدثنا هشام، عن يحيى بن ابي كثير، عن عبد الله بن ابي قتادة، قال انطلق ابي مع رسول الله صلى الله عليه وسلم عام الحديبية فاحرم اصحابه ولم يحرم فبينما انا مع اصحابي ضحك بعضهم الى بعض فنظرت فاذا حمار وحش فطعنته فاستعنتهم فابوا ان يعينوني فاكلنا من لحمه وخشينا ان نقتطع فطلبت رسول الله صلى الله عليه وسلم ارفع فرسي شاوا واسير شاوا فلقيت رجلا من غفار في جوف الليل فقلت اين تركت رسول الله صلى الله عليه وسلم قال تركته وهو قايل بالسقيا . فلحقته فقلت يا رسول الله ان اصحابك يقرءون عليك السلام ورحمة الله وانهم قد خشوا ان يقتطعوا دونك فانتظرهم فانتظرهم . فقلت يا رسول الله اني اصبت حمار وحش وعندي منه فقال للقوم " كلوا " . وهم محرمون
ابوقتادہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ وہ غزوہ حدیبیہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رہے، وہ کہتے ہیں کہ میرے علاوہ لوگوں نے عمرہ کا احرام باندھ رکھا ہے تھا۔ تو میں نے ( راستہ میں ) ایک نیل گائے کا شکار کیا اور اس کا گوشت اپنے ساتھیوں کو کھلایا، اور وہ محرم تھے، پھر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور آپ کو میں نے بتایا کہ ہمارے پاس اس کا کچھ گوشت بچا ہوا ہے، تو آپ نے ( لوگوں سے ) فرمایا: ”کھاؤ“، اور وہ لوگ احرام باندھے ہوئے تھے۔
اخبرني عبيد الله بن فضالة بن ابراهيم النسايي، قال انبانا محمد، - وهو ابن المبارك الصوري - قال حدثنا معاوية، - وهو ابن سلام - عن يحيى بن ابي كثير، قال اخبرني عبد الله بن ابي قتادة، ان اباه، اخبره انه، غزا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم غزوة الحديبية - قال - فاهلوا بعمرة غيري فاصطدت حمار وحش فاطعمت اصحابي منه وهم محرمون ثم اتيت رسول الله صلى الله عليه وسلم فانباته ان عندنا من لحمه فاضلة فقال " كلوه " . وهم محرمون
ابوقتادہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ابوقتادہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
اخبرنا محمود بن غيلان، قال حدثنا ابو داود، قال انبانا شعبة، قال اخبرني عثمان بن عبد الله بن موهب، قال سمعت عبد الله بن ابي قتادة، يحدث عن ابيه، انهم كانوا في مسير لهم بعضهم محرم وبعضهم ليس بمحرم - قال - فرايت حمار وحش فركبت فرسي واخذت الرمح فاستعنتهم فابوا ان يعينوني فاختلست سوطا من بعضهم فشددت على الحمار فاصبته فاكلوا منه فاشفقوا - قال - فسيل عن ذلك النبي صلى الله عليه وسلم فقال " هل اشرتم او اعنتم " . قالوا لا . قال " فكلوا
جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ”خشکی کا شکار تمہارے لیے حلال ہے جب تک کہ تم خود شکار نہ کرو، یا تمہارے لیے شکار نہ کیا جائے“۔ ابوعبدالرحمٰن نسائی کہتے ہیں: اس حدیث میں «عمرو بن ابی عمرو» قوی نہیں ہیں، گو امام مالک نے ان سے روایت کی ہے۔
اخبرنا قتيبة بن سعيد، قال حدثنا يعقوب، - وهو ابن عبد الرحمن - عن عمرو، عن المطلب، عن جابر، قال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " صيد البر لكم حلال ما لم تصيدوه او يصاد لكم " . قال ابو عبد الرحمن عمرو بن ابي عمرو ليس بالقوي في الحديث وان كان قد روى عنه مالك
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پانچ جانور ایسے ہیں جنہیں محرم کے مارنے میں کوئی حرج ( گناہ ) نہیں ہے۔ کوا، چیل، بچھو، چوہیا اور کٹ کھنا ( کاٹنے والا ) کتا“ ۱؎۔
اخبرنا قتيبة، عن مالك، عن نافع، عن ابن عمر، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " خمس ليس على المحرم في قتلهن جناح الغراب والحداة والعقرب والفارة والكلب العقور
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پانچ جانور ایسے ہیں جنہیں محرم مار سکتا ہے: سانپ، چوہیا، چیل، کوا اور کاٹ کھانے والا کتا“۔
اخبرنا عمرو بن علي، قال حدثنا يحيى، قال حدثنا شعبة، قال حدثنا قتادة، عن سعيد بن المسيب، عن عايشة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " خمس يقتلهن المحرم الحية والفارة والحداة والغراب الابقع والكلب العقور
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ
اخبرنا قتيبة بن سعيد، قال حدثنا الليث، عن نافع، عن ابن عمر، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم اذن في قتل خمس من الدواب للمحرم الغراب والحداة والفارة والكلب العقور والعقرب
تابعی سعید بن مسیب سے روایت ہے کہ ایک عورت ام المؤمنین عائشہ کے پاس آئی، اور ان کے ہاتھ میں لوہے کی پھلی لگی ہوئی لاٹھی تھی، اس عورت نے پوچھا: یہ کیا ہے؟ کہا: یہ ان چھپکلیوں ( کے مارنے ) کے لیے ہے۔ اس لیے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں بتایا ہے کہ ابراہیم علیہ السلام کی آگ کو اس جانور کے سوا سبھی جانور بجھاتے تھے اسی وجہ سے آپ نے ہمیں اسے مارنے کا حکم دیا ہے۔ اور گھروں میں رہنے والے سانپ کے مارنے سے روکا ہے سوائے دو دھاریوں والے، اور دم بریدہ سانپ کے کیونکہ یہ دونوں بصارت کو زائل کر دیتے ہیں، اور حاملہ عورت کا حمل گرا دیتے ہیں۔
اخبرني ابو بكر بن اسحاق، قال حدثنا ابراهيم بن محمد بن عرعرة، قال حدثنا معاذ بن هشام، قال حدثني ابي، عن قتادة، عن سعيد بن المسيب، ان امراة، دخلت على عايشة وبيدها عكاز فقالت ما هذا فقالت لهذه الوزغ لان نبي الله صلى الله عليه وسلم حدثنا " انه لم يكن شىء الا يطفي على ابراهيم عليه السلام الا هذه الدابة " . فامرنا بقتلها ونهى عن قتل الجنان الا ذا الطفيتين والابتر فانهما يطمسان البصر ويسقطان ما في بطون النساء
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پانچ جانور ایسے ہیں جنہیں احرام کی حالت میں مارنے پر یا جنہیں احرام کی حالت میں مارنے میں کوئی گناہ نہیں: چیل، چوہیا، کاٹ کھانے والا کتا، بچھو اور کوا“۔
اخبرنا عبيد الله بن سعيد ابو قدامة، قال حدثنا يحيى، عن عبيد الله، قال اخبرني نافع، عن ابن عمر، ان النبي صلى الله عليه وسلم قال " خمس من الدواب لا جناح على من قتلهن - او في قتلهن - وهو حرام الحداة والفارة والكلب العقور والعقرب والغراب
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ ایک شخص نے عرض کیا: اللہ کے رسول! جب ہم احرام باندھے ہوئے ہوں تو کون سے جانور مار سکتے ہیں؟ آپ نے فرمایا: ”پانچ جانور ہیں جن کے مارنے پر کوئی گناہ نہیں: چیل، کوا، چوہیا، بچھو اور کٹ کھنا ( کاٹنے والا ) کتا“۔
اخبرنا زياد بن ايوب، قال حدثنا ابن علية، قال انبانا ايوب، عن نافع، عن ابن عمر، قال قال رجل يا رسول الله ما نقتل من الدواب اذا احرمنا قال " خمس لا جناح على من قتلهن الحداة والغراب والفارة والعقرب والكلب العقور
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا گیا کہ محرم کن ( جانوروں ) کو قتل کر سکتا ہے؟ آپ نے فرمایا: ”وہ بچھو، چوہیا، چیل۔ کوا، اور کاٹ کھانے والے کتے کو قتل کر سکتا ہے“۔
اخبرنا يعقوب بن ابراهيم، قال حدثنا هشيم، قال حدثنا يحيى بن سعيد، عن نافع، عن ابن عمر، ان النبي صلى الله عليه وسلم سيل ما يقتل المحرم قال " يقتل العقرب والفويسقة والحداة والغراب والكلب العقور
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پانچ جانور ایسے ہیں جنہیں حرم میں اور حالت احرام میں مارنے میں کوئی گناہ نہیں ہے: چوہیا، چیل، کوا، بچھو اور کاٹ کھانے والا کتا“۔
اخبرنا محمد بن عبد الله بن يزيد المقري، قال حدثنا سفيان، عن الزهري، عن سالم، عن ابيه، قال قال النبي صلى الله عليه وسلم " خمس من الدواب لا جناح في قتلهن على من قتلهن في الحرم والاحرام الفارة والحداة والغراب والعقرب والكلب العقور
ابن ابی عمار کہتے ہیں کہ میں نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے بجو کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے مجھے اس کے کھانے کا حکم دیا، میں نے ان سے پوچھا: کیا وہ شکار ہے؟ کہا: ہاں، میں نے کہا: کیا آپ نے اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے؟ کہا: ہاں ( میں نے سنا ہے ) ۔
اخبرنا محمد بن منصور، قال حدثنا سفيان، قال حدثنا ابن جريج، عن عبد الله بن عبيد بن عمير، عن ابن ابي عمار، قال سالت جابر بن عبد الله عن الضبع، فامرني باكلها . قلت اصيد هي قال نعم . قلت اسمعته من رسول الله صلى الله عليه وسلم قال نعم
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے میمونہ رضی اللہ عنہا سے نکاح کیا اور آپ محرم تھے ۱؎۔
اخبرنا قتيبة، قال حدثنا داود، - وهو ابن عبد الرحمن العطار - عن عمرو، - وهو ابن دينار - قال سمعت ابا الشعثاء، يحدث عن ابن عباس، قال تزوج النبي صلى الله عليه وسلم ميمونة وهو محرم