Loading...

Loading...
کتب
۴۶۶ احادیث
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حالت احرام میں نکاح کیا۔
اخبرنا عمرو بن علي، قال حدثنا يحيى، قال حدثنا ابن جريج، قال حدثنا عمرو بن دينار، ان ابا الشعثاء، حدثه عن ابن عباس، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم نكح حراما
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میمونہ رضی اللہ عنہا سے نکاح کیا اور دونوں محرم تھے۔
اخبرني ابراهيم بن يونس بن محمد، قال حدثنا ابي قال، حدثنا حماد بن سلمة، عن حميد، عن مجاهد، عن ابن عباس، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم تزوج ميمونة وهما محرمان
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میمونہ رضی اللہ عنہا سے نکاح کیا اور آپ محرم تھے۔
اخبرنا محمد بن اسحاق الصاغاني، قال حدثنا احمد بن اسحاق، قال حدثنا حماد بن سلمة، عن حميد، عن عكرمة، عن ابن عباس، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم تزوج ميمونة وهو محرم
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میمونہ رضی اللہ عنہا سے نکاح کیا اور آپ احرام باندھے ہوئے تھے۔
اخبرني شعيب بن شعيب بن اسحاق، وصفوان بن عمرو الحمصي، قالا حدثنا ابو المغيرة، قال حدثنا الاوزاعي، عن عطاء بن ابي رباح، عن ابن عباس، ان النبي صلى الله عليه وسلم تزوج ميمونة وهو محرم
عثمان بن عفان رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”محرم نہ اپنا نکاح کرے، نہ شادی کا پیغام بھیجے اور نہ ہی کسی دوسرے کا نکاح کرائے“۔
اخبرنا قتيبة، عن مالك، عن نافع، عن نبيه بن وهب، ان ابان بن عثمان، قال سمعت عثمان بن عفان، يقول قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لا ينكح المحرم ولا يخطب ولا ينكح
عثمان رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا: ”محرم اپنا نکاح کرے یا کسی دوسرے کا نکاح کرائے، یا کسی کو شادی کا پیغام بھیجے“۔
اخبرنا عبيد الله بن سعيد، قال حدثنا يحيى، عن مالك، اخبرني نافع، عن نبيه بن وهب، عن ابان بن عثمان، عن ابيه، عن النبي صلى الله عليه وسلم انه نهى ان ينكح المحرم او ينكح او يخطب
نبیہ بن وہب کہتے ہیں کہ عمر بن عبیداللہ بن معمر نے ابان بن عثمان کے پاس کسی کو یہ سوال کرنے کے لیے بھیجا کہ کیا محرم نکاح کر سکتا ہے؟ تو ابان نے کہا کہ عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے بیان کیا ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”محرم نہ نکاح کرے، اور نہ نکاح کا پیغام بھیجے“۔
اخبرنا محمد بن عبد الله بن يزيد، عن سفيان، عن ايوب بن موسى، عن نبيه بن وهب، قال ارسل عمر بن عبيد الله بن معمر الى ابان بن عثمان يساله اينكح المحرم فقال ابان ان عثمان بن عفان حدث ان النبي صلى الله عليه وسلم قال " لا ينكح المحرم ولا يخطب
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پچھنا لگوایا، اور آپ احرام باندھے ہوئے تھے۔
اخبرنا قتيبة، قال حدثنا الليث، عن ابي الزبير، عن عطاء، عن ابن عباس، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم احتجم وهو محرم
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پچھنا لگوایا اور آپ محرم تھے۔
اخبرنا قتيبة، قال حدثنا سفيان، عن عمرو، عن طاوس، وعطاء، عن ابن عباس، ان النبي صلى الله عليه وسلم احتجم وهو محرم
عطاء کہتے ہیں کہ میں نے ابن عباس رضی الله عنہما کو کہتے سنا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پچھنا لگوایا اور آپ احرام باندھے ہوئے تھے، اس کے بعد انہوں نے یہ کہا کہ طاؤس نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پچھنا لگوایا، اور آپ محرم تھے۔
اخبرنا محمد بن منصور، عن سفيان، قال انبانا عمرو بن دينار، قال سمعت عطاء، قال سمعت ابن عباس، يقول احتجم النبي صلى الله عليه وسلم وهو محرم . ثم قال بعد اخبرني طاوس عن ابن عباس يقول احتجم النبي صلى الله عليه وسلم وهو محرم
جابر رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک تکلیف کے باعث جو آپ کو لاحق تھی پچھنا لگوایا اور آپ محرم تھے۔
اخبرنا محمد بن عبد الله بن المبارك، قال حدثنا ابو الوليد، قال حدثنا يزيد بن ابراهيم، قال حدثنا ابو الزبير، عن جابر، ان النبي صلى الله عليه وسلم احتجم وهو محرم من وثء كان به
انس رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پاؤں کے اوپری حصہ پر اس تکلیف کی وجہ سے جو آپ کو تھی پچھنا لگوایا اور آپ محرم تھے۔
اخبرنا اسحاق بن ابراهيم، قال انبانا عبد الرزاق، قال حدثنا معمر، عن قتادة، عن انس، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم احتجم وهو محرم على ظهر القدم من وثء كان به
عبداللہ بن بحینہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ کے راستہ میں لحی جمل میں اپنے سر کے بیچ میں پچھنا لگوایا، اور آپ محرم تھے۔
اخبرني هلال بن بشر، قال حدثنا محمد بن خالد، - وهو ابن عثمة - قال حدثنا سليمان بن بلال، قال قال علقمة بن ابي علقمة انه سمع الاعرج، قال سمعت عبد الله ابن بحينة، يحدث ان رسول الله صلى الله عليه وسلم احتجم وسط راسه وهو محرم بلحى جمل من طريق مكة
کعب بن عجرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ وہ احرام باندھے ہوئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے، تو ان کے سر کے جوئیں انہیں تکلیف دینے لگیں۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں سر منڈا لینے کا حکم دیا اور فرمایا: ” ( اس کے کفارہ کے طور پر ) تین دن کے روزے رکھو، یا چھ مسکینوں کوفی مسکین دو دو مد کے حساب سے کھانا کھلاؤ، یا ایک بکری ذبح کرو، ان تینوں میں سے جو بھی کر لو گے تمہاری طرف سے کافی ہو جائے گا“۔
اخبرنا محمد بن سلمة، والحارث بن مسكين، قراءة عليه وانا اسمع، عن ابن القاسم، قال حدثني مالك، عن عبد الكريم بن مالك الجزري، عن مجاهد، عن عبد الرحمن بن ابي ليلى، عن كعب بن عجرة، انه كان مع رسول الله صلى الله عليه وسلم محرما فاذاه القمل في راسه فامره رسول الله صلى الله عليه وسلم ان يحلق راسه وقال " صم ثلاثة ايام او اطعم ستة مساكين مدين مدين او انسك شاة اى ذلك فعلت اجزا عنك
کعب بن عجرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عمرہ کا احرام باندھا تو میرے سر میں جوئیں بہت ہو گئیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی خبر پہنچی تو آپ میرے پاس تشریف لائے، اس وقت میں اپنے ساتھیوں کے لیے کھانا پکا رہا تھا، تو آپ نے اپنی انگلی سے میرا سر چھوا اور فرمایا: ”جاؤ، سر منڈا لو اور چھ مسکینوں پر صدقہ کر دو“۔
اخبرني احمد بن سعيد الرباطي، قال انبانا عبد الرحمن بن عبد الله، - وهو الدشتكي - قال انبانا عمرو، - وهو ابن ابي قيس - عن الزبير، - وهو ابن عدي - عن ابي وايل، عن كعب بن عجرة، قال احرمت فكثر قمل راسي فبلغ ذلك النبي صلى الله عليه وسلم فاتاني وانا اطبخ قدرا لاصحابي فمس راسي باصبعه فقال " انطلق فاحلقه وتصدق على ستة مساكين
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا، اس کی اونٹنی نے گرا کر اس کی گردن توڑ دی، اور وہ محرم تھا تو وہ مر گیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے پانی اور بیری کے پتے سے غسل دو اور اسے اس کے ( احرام کے ) دونوں کپڑوں ہی میں کفنا دو، نہ اسے خوشبو لگاؤ، اور نہ اس کا سر ڈھانپو کیونکہ وہ قیامت کے دن لبیک پکارتا ہوا اٹھایا جائے گا“۔
اخبرنا يعقوب بن ابراهيم، قال حدثنا هشيم، قال انبانا ابو بشر، عن سعيد بن جبير، عن ابن عباس، ان رجلا، كان مع النبي صلى الله عليه وسلم فوقصته ناقته وهو محرم فمات فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اغسلوه بماء وسدر وكفنوه في ثوبيه ولا تمسوه بطيب ولا تخمروا راسه فانه يبعث يوم القيامة ملبيا
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ ایک محرم اپنی اونٹنی سے گر گیا، تو اس کی گردن ٹوٹ گئی، ذکر کیا گیا کہ وہ مر گیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے پانی اور بیر کی پتی سے غسل دو، اور دو کپڑوں ہی میں اسے کفنا دو“، اس کے بعد یہ بھی فرمایا: ”اس کا سر کفن سے باہر رہے“، فرمایا: ”اور اسے کوئی خوشبو نہ لگانا کیونکہ وہ قیامت کے دن تلبیہ پکارتا ہوا اٹھایا جائے گا“۔ شعبہ ( جو اس حدیث کے راوی ہیں ) کہتے ہیں: میں نے ان سے ( یعنی اپنے استاد ابوبشر سے ) دس سال بعد پوچھا تو انہوں نے یہ حدیث اسی طرح بیان کی جیسے پہلے کی تھی البتہ انہوں نے ( اس بار اتنا مزید ) کہا کہ ”اس کا منہ اور سر نہ ڈھانپو“۔
اخبرنا محمد بن عبد الاعلى، قال حدثنا خالد، قال حدثنا شعبة، عن ابي بشر، عن سعيد بن جبير، عن ابن عباس، ان رجلا، محرما صرع عن ناقته، فاوقص ذكر انه قد مات فقال النبي صلى الله عليه وسلم " اغسلوه بماء وسدر وكفنوه في ثوبين " . ثم قال على اثره " خارجا راسه " . قال " ولا تمسوه طيبا فانه يبعث يوم القيامة ملبيا " . قال شعبة فسالته بعد عشر سنين فجاء بالحديث كما كان يجيء به الا انه قال " ولا تخمروا وجهه وراسه
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ ایک شخص عرفہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کھڑا تھا کہ وہ اپنی سواری سے گر گیا اور اس کی اونٹنی نے اسے کچل کر ہلاک کر دیا۔ ( راوی کو شک ہے کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے «فأقعصه» ( مذکر کے صیغہ کے ساتھ ) کہا یا «فأقعصته» ( مونث کے صیغہ کے ساتھ ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے پانی اور بیر کی پتی سے غسل دو، اور اسے اس کے دونوں کپڑوں ہی میں کفنا دو، نہ اسے خوشبو لگاؤ، اور نہ اس کے سر کو ڈھانپو، اس لیے کہ اللہ عزوجل اسے قیامت کے دن لبیک پکارتا ہوا اٹھائے گا“۔
اخبرنا قتيبة، قال حدثنا حماد، عن ايوب، عن سعيد بن جبير، عن ابن عباس، قال بينا رجل واقف بعرفة مع رسول الله صلى الله عليه وسلم اذ وقع من راحلته فاقعصه - او قال فاقعصته - فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اغسلوه بماء وسدر وكفنوه في ثوبين ولا تحنطوه ولا تخمروا راسه فان الله عز وجل يبعثه يوم القيامة ملبيا
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ ایک محرم شخص کو اس کی اونٹنی نے گرا کر اس کی گردن توڑ دی اور اسے ہلاک کر دیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لایا گیا تو آپ نے فرمایا: ”اسے نہلاؤ، اور کفناؤ، ( لیکن ) اس کا سر نہ ڈھانپنا اور نہ اسے خوشبو لگانا کیونکہ وہ ( قیامت کے دن ) لبیک پکارتا ہوا اٹھایا جائے گا“۔
اخبرني محمد بن قدامة، قال حدثنا جرير، عن منصور، عن الحكم، عن سعيد بن جبير، عن ابن عباس، قال وقصت رجلا محرما ناقته فقتلته فاتي رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال " اغسلوه وكفنوه ولا تغطوا راسه ولا تقربوه طيبا فانه يبعث يهل
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج کر رہا تھا کہ اس کے اونٹ نے اسے گرا دیا جس سے وہ مر گیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے غسل دیا جائے، اور دونوں کپڑوں ہی میں اسے کفنا دیا جائے، اور اس کا سر اور چہرہ نہ ڈھانپا جائے، کیونکہ وہ قیامت کے دن لبیک پکارتا ہوا اٹھے گا“۔
اخبرنا محمد بن معاوية، قال حدثنا خلف، - يعني ابن خليفة - عن ابي بشر، عن سعيد بن جبير، عن ابن عباس، ان رجلا، كان حاجا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم وانه لفظه بعيره فمات فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " يغسل ويكفن في ثوبين ولا يغطى راسه ووجهه فانه يقوم يوم القيامة ملبيا