Loading...

Loading...
کتب
۴۶۶ احادیث
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ ایک شخص احرام باندھے ہوئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آیا، تو وہ اپنے اونٹ پر سے گر پڑا تو اسے کچل ڈالا گیا اور وہ مر گیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے پانی اور بیر کی پتی سے غسل دو، اور اسے اس کے یہی دونوں ( احرام کے ) کپڑے پہنا دو، اور اس کا سر نہ ڈھانپو کیونکہ وہ قیامت کے دن لبیک پکارتا ہوا آئے گا“۔
اخبرنا عمران بن يزيد، قال حدثنا شعيب بن اسحاق، قال اخبرني ابن جريج، قال اخبرني عمرو بن دينار، ان سعيد بن جبير، اخبره ان ابن عباس اخبره قال اقبل رجل حراما مع رسول الله صلى الله عليه وسلم فخر من فوق بعيره فوقص وقصا فمات فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اغسلوه بماء وسدر والبسوه ثوبيه ولا تخمروا راسه فانه ياتي يوم القيامة يلبي
نافع سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عبداللہ اور سالم بن عبداللہ بن عمر دونوں نے انہیں خبر دی کہ ان دونوں نے جب حجاج بن یوسف کے لشکر نے ابن زبیر رضی اللہ عنہما پر چڑھائی کی تو ان کے قتل کئے جانے سے پہلے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے بات کی ان دونوں نے کہا: امسال آپ حج کے لیے نہ جائیں تو کوئی نقصان نہیں، ہمیں اندیشہ ہے کہ ہمارے اور بیت اللہ کے درمیان کوئی رکاوٹ نہ کھڑی کر دی جائے، تو انہوں نے کہا: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے، تو کفار قریش بیت اللہ تک پہنچنے میں حائل ہو گئے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( وہیں ) اپنی ہدی کا نحر کر لیا اور سر منڈا لیا ( اور حلال ہو گئے ) سنو! میں تمہیں گواہ بنا کر کہتا ہوں کہ میں نے عمرہ ( اپنے اوپر ) واجب کر لیا ہے۔ ان شاءاللہ میں جاؤں گا اگر مجھے بیت اللہ تک پہنچنے سے نہ روکا گیا تو میں طواف کروں گا، اور اگر میرے اور بیت اللہ کے درمیان کوئی رکاوٹ پیش آ گئی تو میں وہی کروں گا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا اور میں آپ کے ساتھ تھا۔ پھر وہ تھوڑی دیر چلتے رہے۔ پھر کہنے لگے بلاشبہ حج و عمرہ دونوں کا معاملہ ایک جیسا ہے، میں تمہیں گواہ بنا کر کہتا ہوں کہ میں نے عمرہ کے ساتھ حج بھی اپنے اوپر واجب کر لیا ہے۔ چنانچہ انہوں نے حج و عمرہ دونوں میں سے کسی سے بھی احرام نہیں کھولا۔ یہاں تک کہ یوم النحر ( دسویں ذی الحجہ ) کو احرام کھولا، اور ہدی کی قربانی کی۔
اخبرنا محمد بن عبد الله بن يزيد المقري، قال حدثنا ابي قال، حدثنا جويرية، عن نافع، ان عبد الله بن عبد الله، وسالم بن عبد الله، اخبراه انهما، كلما عبد الله بن عمر لما نزل الجيش بابن الزبير قبل ان يقتل فقالا لا يضرك ان لا تحج العام انا نخاف ان يحال بينك وبين البيت . قال خرجنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم فحال كفار قريش دون البيت فنحر رسول الله صلى الله عليه وسلم هديه وحلق راسه واشهدكم اني قد اوجبت عمرة ان شاء الله انطلق فان خلي بيني وبين البيت طفت وان حيل بيني وبين البيت فعلت ما فعل رسول الله صلى الله عليه وسلم وانا معه . ثم سار ساعة ثم قال فانما شانهما واحد اشهدكم اني قد اوجبت حجة مع عمرتي . فلم يحلل منهما حتى احل يوم النحر واهدى
حجاج بن عمرو انصاری رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا کہ ”جو شخص لنگڑا ہو جائے، یا جس کی کوئی ہڈی ٹوٹ جائے، تو وہ حلال ہو جائے گا، ( اس کا احرام کھل جائے گا ) اور اس پر دوسرا حج ہو گا“، ( عکرمہ کہتے ہیں ) میں نے عبداللہ بن عباس اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہم سے اس کے متعلق پوچھا، تو ان دونوں نے کہا کہ انہوں ( یعنی حجاج انصاری ) نے سچ کہا۔
اخبرنا حميد بن مسعدة البصري، قال حدثنا سفيان، - وهو ابن حبيب - عن الحجاج الصواف، عن يحيى بن ابي كثير، عن عكرمة، عن الحجاج بن عمرو الانصاري، انه سمع رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " من عرج او كسر فقد حل وعليه حجة اخرى " . فسالت ابن عباس وابا هريرة عن ذلك فقالا صدق
حجاج بن عمرو رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس کی ہڈی ٹوٹ گئی، یا جو لنگڑا ہو گیا تو وہ حلال ہو گیا، اور اس پر دوسرا حج ہے“ ( عکرمہ کہتے ہیں ) میں نے ابن عباس اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہم سے پوچھا، تو ان دونوں نے کہا، انہوں ( حجاج انصاری ) نے سچ کہا ہے۔ اور شعیب اپنی روایت میں «وعليه حجة أخرى» ”ان پر دوسرا حج ہے“ کے بجائے «وعليه الحج من قابل» ”آئندہ سال ان پر حج ہے“ کہا ہے۔
اخبرنا شعيب بن يوسف، ومحمد بن المثنى، قالا حدثنا يحيى بن سعيد، عن حجاج بن الصواف، قال حدثنا يحيى بن ابي كثير، عن عكرمة، عن الحجاج بن عمرو، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " من كسر او عرج فقد حل وعليه حجة اخرى " . وسالت ابن عباس وابا هريرة فقالا صدق . وقال شعيب في حديثه وعليه الحج من قابل
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ذی طویٰ میں اترتے اور وہیں رات گزارتے، پھر صبح کی نماز پڑھ کر مکہ میں داخل ہوتے، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نماز پڑھنے کی جگہ ایک سخت ٹیلے پر تھی نہ کہ مسجد میں جو وہاں بنائی گئی ہے، بلکہ اس مسجد سے نیچے ایک ٹھوس کھردرے ٹیلے پر ہے۔
اخبرنا عبدة بن عبد الله، قال انبانا سويد، قال حدثنا زهير، قال حدثنا موسى بن عقبة، قال حدثني نافع، ان عبد الله بن عمر، حدثه ان رسول الله صلى الله عليه وسلم كان ينزل بذي طوى يبيت به حتى يصلي صلاة الصبح حين يقدم الى مكة ومصلى رسول الله صلى الله عليه وسلم ذلك على اكمة غليظة ليس في المسجد الذي بني ثم ولكن اسفل من ذلك على اكمة خشنة غليظة
محرش کعبی رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رات میں جعرانہ ۲؎ سے نکلے جس وقت آپ عمرہ کرنے کے لیے چلے پھر آپ رات ہی میں جعرانہ واپس آ گئے اور جعرانہ میں اس طرح صبح کی گویا آپ نے رات وہیں گزاری ہے یہاں تک کہ جب سورج ڈھل گیا تو آپ جعرانہ سے چل کر بطن سرف پہنچے، سرف سے مدینہ کی راہ لی۔
اخبرني عمران بن يزيد، عن شعيب، قال حدثنا ابن جريج، قال اخبرني مزاحم بن ابي مزاحم، عن عبد العزيز بن عبد الله، عن محرش الكعبي، ان النبي صلى الله عليه وسلم خرج ليلا من الجعرانة حين مشى معتمرا فاصبح بالجعرانة كبايت حتى اذا زالت الشمس خرج عن الجعرانة في بطن سرف حتى جامع الطريق طريق المدينة من سرف
محرش کعبی رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جعرانہ سے رات میں نکلے گویا آپ کھری چاندی کے ڈلے ہوں ( یعنی آپ کا رنگ سفید چاندی کی طرح چمکدار تھا ) آپ نے عمرہ کیا، پھر آپ نے جعرانہ ہی میں صبح کی جیسے آپ نے وہیں رات گزاری ہو۔
اخبرنا هناد بن السري، عن سفيان، عن اسماعيل بن امية، عن مزاحم، عن عبد العزيز بن عبد الله بن خالد بن اسيد، عن محرش الكعبي، ان النبي صلى الله عليه وسلم خرج من الجعرانة ليلا كانه سبيكة فضة فاعتمر ثم اصبح بها كبايت
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں ثنیہ علیا سے داخل ہوئے جو کہ بطحاء میں ہے، اور ثنیہ سفلی سے واپس نکلے۔
اخبرنا عمرو بن علي، قال حدثنا يحيى، قال حدثنا عبيد الله، قال حدثني نافع، عن ابن عمر، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم دخل مكة من الثنية العليا التي بالبطحاء وخرج من الثنية السفلى
جابر رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں ( یعنی فتح مکہ کے دن ) سفید جھنڈا لیے ہوئے داخل ہوئے۔
اخبرنا اسحاق بن ابراهيم، قال انبانا يحيى بن ادم، قال حدثنا شريك، عن عمار الدهني، عن ابي الزبير، عن جابر، رضى الله عنه ان النبي صلى الله عليه وسلم دخل مكة ولواوه ابيض
انس رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ( فتح مکہ کے موقع پر ) خود پہنے ہوئے مکہ میں داخل ہوئے، تو آپ سے کہا گیا کہ ابن خطل کعبہ کے پردوں سے لپٹا ہوا ہے، تو آپ نے فرمایا: ”اسے قتل کر دو“ ۱؎۔
اخبرنا قتيبة، قال حدثنا مالك، عن ابن شهاب، عن انس، ان النبي صلى الله عليه وسلم دخل مكة وعليه المغفر فقيل ابن خطل متعلق باستار الكعبة . فقال " اقتلوه
انس بن مالک رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فتح مکہ کے سال مکہ میں داخل ہوئے اور آپ کے سر پر خود تھا۔
اخبرنا عبيد الله بن فضالة بن ابراهيم، قال حدثنا عبد الله بن الزبير، قال حدثنا سفيان، قال حدثني مالك، عن الزهري، عن انس، ان النبي صلى الله عليه وسلم دخل مكة عام الفتح وعلى راسه المغفر
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فتح مکہ کے دن مکہ میں داخل ہوئے، آپ کے سر پر کالی پگڑی تھی، اور آپ بغیر احرام کے تھے ۱؎۔
اخبرنا قتيبة، قال حدثنا معاوية بن عمار، قال حدثني ابو الزبير المكي، عن جابر بن عبد الله، ان النبي صلى الله عليه وسلم دخل يوم فتح مكة وعليه عمامة سوداء بغير احرام
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب چار ذی الحجہ کی صبح کو حج کا تلبیہ پکارتے ہوئے مکہ آئے، تو آپ نے انہیں حکم دیا کہ ( عمرہ کر کے ) احرام کھول ڈالیں۔
اخبرنا محمد بن معمر، قال حدثنا حبان، قال حدثنا وهيب، قال حدثنا ايوب، عن ابي العالية البراء، عن ابن عباس، قال قدم رسول الله صلى الله عليه وسلم واصحابه لصبح رابعة وهم يلبون بالحج فامرهم رسول الله صلى الله عليه وسلم ان يحلوا
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم چار ذی الحجہ کو ( مکہ ) آئے، آپ نے حج کا احرام باندھ رکھا تھا، تو آپ نے صبح کی نماز بطحاء میں پڑھی، اور فرمایا: ”جو اسے عمرہ بنانا چاہے وہ بنا لے“ ( یعنی طواف کر کے احرام کھول دے، اور حلال ہو جائے ) ۔
اخبرنا محمد بن بشار، عن يحيى بن كثير ابو غسان، قال حدثنا شعبة، عن ايوب، عن ابي العالية البراء، عن ابن عباس، قال قدم رسول الله صلى الله عليه وسلم لاربع مضين من ذي الحجة وقد اهل بالحج فصلى الصبح بالبطحاء وقال " من شاء ان يجعلها عمرة فليفعل
جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم چار ذی الحجہ کی صبح کو مکہ آئے۔
اخبرنا عمران بن يزيد، قال انبانا شعيب، عن ابن جريج، قال عطاء قال جابر قدم النبي صلى الله عليه وسلم مكة صبيحة رابعة مضت من ذي الحجة
انس بن مالک رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم عمرہ قضاء میں مکہ میں داخل ہوئے اور عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ آپ کے آگے آگے چل رہے تھے، وہ کہہ رہے تھے: «خلوا بني الكفار عن سبيله اليوم نضربكم على تنزيله ضربا يزيل الهام عن مقيله ويذهل الخليل عن خليله» ”اے کافروں کی اولاد! ان کے راستے سے ہٹ جاؤ ( کوئی مزاحمت اور کوئی رکاوٹ نہ ڈالو ) ، ورنہ آج ہم ان پر نازل شدہ حکم کے مطابق تمہیں ایسی مار ماریں گے جو سروں کو ان کی خواب گاہوں سے جدا کر دے گی اور دوست کو اپنے دوست سے غافل کر دے گی، تو عمر رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: ابن رواحہ! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اور اللہ عزوجل کے حرم میں تم شعر پڑھتے ہو؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”چھوڑو ان کو ( پڑھنے دو ) کیونکہ یہ ان پر تیر سے زیادہ اثرانداز ہیں“۔
اخبرنا ابو عاصم، خشيش بن اصرم قال حدثنا عبد الرزاق، قال حدثنا جعفر بن سليمان، قال حدثنا ثابت، عن انس، ان النبي صلى الله عليه وسلم دخل مكة في عمرة القضاء وعبد الله بن رواحة يمشي بين يديه وهو يقول خلوا بني الكفار عن سبيله اليوم نضربكم على تنزيله ضربا يزيل الهام عن مقيله ويذهل الخليل عن خليله فقال له عمر يا ابن رواحة بين يدى رسول الله صلى الله عليه وسلم وفي حرم الله عز وجل تقول الشعر قال النبي صلى الله عليه وسلم " خل عنه فلهو اسرع فيهم من نضح النبل
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ فتح مکہ کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ وہ شہر ہے جسے اللہ تعالیٰ نے اسی دن سے محترم قرار دیا ہے جس دن اس نے آسمان اور زمین کو پیدا کیا، لہٰذا یہ اللہ کی حرمت کی سبب سے قیامت تک حرمت والا رہے گا، نہ اس کے کانٹے کاٹے جائیں گے، نہ اس کے شکار بدکائے جائیں گے، نہ وہاں کی کوئی گری پڑی چیز اٹھائے گا سوائے اس شخص کے جو اس کی پہچان کرائے اور نہ وہاں کی ہری شاخ کاٹی جائے گی“، اس پر ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: اللہ کے رسول! سوائے اذخر کے ۱؎ تو آپ نے ایک بات کہی جس کا مفہوم ہے سوائے اذخر کے۔
اخبرنا محمد بن قدامة، عن جرير، عن منصور، عن مجاهد، عن طاوس، عن ابن عباس، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم يوم الفتح " هذا البلد حرمه الله يوم خلق السموات والارض فهو حرام بحرمة الله الى يوم القيامة لا يعضد شوكه ولا ينفر صيده ولا يلتقط لقطته الا من عرفها ولا يختلى خلاه " . قال العباس يا رسول الله الا الاذخر . فذكر كلمة معناها " الا الاذخر
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے دن فرمایا: ”یہ شہر ( مکہ ) حرام ہے اور اسے اللہ عزوجل نے حرام قرار دیا ہے، اس میں لڑائی مجھ سے پہلے کسی کے لیے بھی جائز نہیں ہوئی۔ صرف میرے لیے ذرا سی دیر کے لیے جائز کی گئی، لہٰذا یہ اللہ عزوجل کے حرام قرار دینے کی وجہ سے حرام ( محترم و مقدس ) ہے“۔
اخبرنا محمد بن رافع، قال حدثنا يحيى بن ادم، قال حدثنا مفضل، عن منصور، عن مجاهد، عن طاوس، عن ابن عباس، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم يوم فتح مكة " ان هذا البلد حرام حرمه الله عز وجل لم يحل فيه القتال لاحد قبلي واحل لي ساعة من نهار فهو حرام بحرمة الله عز وجل
ابوشریح سے روایت ہے کہ انہوں نے عمرو بن سعید سے کہا، اور وہ ( عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما پر حملہ کے لیے ) مکہ پر چڑھائی کے لیے فوج بھیج رہے تھے، امیر ( محترم ) ! آپ مجھے اجازت دیجئیے کہ میں آپ سے ایک ایسی بات بیان کروں جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے دوسرے دن کہی تھی اور جسے میرے دونوں کانوں نے سنی ہے میرے دل نے یاد رکھا ہے اور میری دونوں آنکھوں نے دیکھا ہے جس وقت آپ نے اسے زبان سے ادا کیا ہے آپ نے اللہ کی حمد و ثنا بیان کی پھر فرمایا: ”مکہ کو اللہ نے حرام کیا ہے، اسے لوگوں نے حرام قرار نہیں دیا ہے، اور آدمی کے لیے جو اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہو جائز نہیں کہ اس میں خونریزی کرے، یا یہاں کا کوئی درخت کاٹے۔ اگر کوئی اس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قتال کی وجہ سے اس کی رخصت دے تو اس سے کہو: یہ اجازت اللہ تعالیٰ نے تمہیں نہیں دی ہے صرف اپنے رسول کو دی تھی، دن کے ایک تھوڑے سے حصہ میں، اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس کی اجازت دی، پھر اس کی حرمت آج اسی طرح واپس لوٹ آئی جیسے کل تھی، اور چاہیئے کہ جو موجود ہے وہ غائب کو یہ بات پہنچا دے“۔
اخبرنا قتيبة، قال حدثنا الليث، عن سعيد بن ابي سعيد، عن ابي شريح، انه قال لعمرو بن سعيد وهو يبعث البعوث الى مكة ايذن لي ايها الامير احدثك قولا قام به رسول الله صلى الله عليه وسلم الغد من يوم الفتح سمعته اذناى ووعاه قلبي وابصرته عيناى حين تكلم به حمد الله واثنى عليه ثم قال " ان مكة حرمها الله ولم يحرمها الناس ولا يحل لامري يومن بالله واليوم الاخر ان يسفك بها دما ولا يعضد بها شجرا فان ترخص احد لقتال رسول الله صلى الله عليه وسلم فيها فقولوا له ان الله اذن لرسوله ولم ياذن لكم وانما اذن لي فيها ساعة من نهار وقد عادت حرمتها اليوم كحرمتها بالامس وليبلغ الشاهد الغايب
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس گھر سے یعنی بیت اللہ سے لڑنے ایک لشکر آئے گا ۱؎ تو اسے بیداء میں دھنسا دیا جائے گا“۔
اخبرنا عمران بن بكار، قال حدثنا بشر، اخبرني ابي، عن الزهري، اخبرني سحيم، انه سمع ابا هريرة، يقول قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " يغزو هذا البيت جيش فيخسف بهم بالبيداء