Loading...

Loading...
کتب
۴۶۶ احادیث
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس گھر پر لشکر کشی سے لوگ باز نہ آئیں گے یہاں تک کہ ان میں سے کوئی لشکر دھنسا دیا جائے گا“۔
اخبرنا محمد بن ادريس ابو حاتم الرازي، قال حدثنا عمر بن حفص بن غياث، قال حدثنا ابي، عن مسعر، قال اخبرني طلحة بن مصرف، عن ابي مسلم الاغر، عن ابي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " لا تنتهي البعوث عن غزو هذا البيت حتى يخسف بجيش منهم
ام المؤمنین حفصہ بنت عمر رضی الله عنہما کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس حرم کی طرف ایک لشکر بھیجا جائے گا تو جب وہ سر زمین بیداء میں ہو گا تو ان کے شروع سے لے کر آخر تک سبھی لوگ دھنسا دئیے جائیں گے، درمیان کا بھی کوئی نہ بچے گا“، میں نے کہا: بتائیے اگر ان میں مسلمان بھی ہوں تو بھی؟ آپ نے فرمایا: ”ان کے لیے قبریں ہوں گی“ ( اور اعمال صالحہ کی بنا پر اہل ایمان کو ان قبروں میں عذاب نہیں ہو گا ) ۔
اخبرني محمد بن داود المصيصي، قال حدثنا يحيى بن محمد بن سابق، قال حدثنا ابو اسامة، قال حدثنا عبد السلام، عن الدالاني، عن عمرو بن مرة، عن سالم بن ابي الجعد، عن اخيه، قال حدثني ابن ابي ربيعة، عن حفصة بنت عمر، قالت قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " يبعث جند الى هذا الحرم فاذا كانوا ببيداء من الارض خسف باولهم واخرهم ولم ينج اوسطهم " . قلت ارايت ان كان فيهم مومنون قال " تكون لهم قبورا
عبداللہ بن صفوان کہتے ہیں کہ مجھ سے ام المؤمنین حفصہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ”ایک لشکر اس گھر پر حملہ کرنا چاہے گا، اس کا قصد کرے گا یہاں تک کہ جب وہ سر زمین بیداء میں پہنچے گا، تو اس کا درمیانی حصہ دھنسا دیا جائے گا ( ان کو دھنستا دیکھ کر ) لشکر کا ابتدائی و آخری حصہ چیخ و پکار کرنے لگے گا، تو وہ بھی سب کے سب دھنسا دیے جائیں گے، اور کوئی نہیں بچے گا، سوائے ایک بھاگے ہوئے شخص کے جو ان کے متعلق خبر دے گا“، ایک شخص نے ان ( امیہ بن صفوان ) سے کہا کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ تم نے اپنے دادا کی طرف جھوٹی بات منسوب نہیں کی ہے، اور انہوں نے حفصہ رضی اللہ عنہا کی طرف جھوٹی بات کی نسبت نہیں کی ہے، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ حفصہ رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف جھوٹی بات کی نسبت نہیں کی ہے۔
اخبرنا الحسين بن عيسى، قال حدثنا سفيان، عن امية بن صفوان بن عبد الله بن صفوان، سمع جده، يقول حدثتني حفصة، انه قال صلى الله عليه وسلم " ليومن هذا البيت جيش يغزونه حتى اذا كانوا ببيداء من الارض خسف باوسطهم فينادي اولهم واخرهم فيخسف بهم جميعا ولا ينجو الا الشريد الذي يخبر عنهم " . فقال له رجل اشهد عليك انك ما كذبت على جدك واشهد على جدك انه ما كذب على حفصة واشهد على حفصة انها لم تكذب على النبي صلى الله عليه وسلم
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پانچ موذی جانور ہیں جو حرم اور حرم سے باہر مارے جا سکتے ہیں: کوا، چیل، کاٹ کھانے والا کتا، بچھو، اور چوہیا“۔
اخبرنا اسحاق بن ابراهيم، قال انبانا وكيع، قال حدثنا هشام بن عروة، عن ابيه، عن عايشة، عن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " خمس فواسق يقتلن في الحل والحرم الغراب والحداة والكلب العقور والعقرب والفارة
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پانچ موذی جانور ہیں جو حرم اور حرم سے باہر دونوں جگہوں میں مارے جا سکتے ہیں۔ سانپ، کاٹ کھانے والا کتا، چتکبرا کوا، چیل اور چوہیا“۔
اخبرنا اسحاق بن ابراهيم، قال حدثنا النضر بن شميل، قا�� انبانا شعبة، عن قتادة، سمعت سعيد بن المسيب، يحدث عن عايشة، عن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " خمس فواسق يقتلن في الحل والحرم الحية والكلب العقور والغراب الابقع والحداة والفارة
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ منیٰ کی مسجد خیف میں تھے یہاں تک کہ سورۃ ”والمرسلات عرفاً“ نازل ہوئی، اتنے میں ایک سانپ نکلا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے مارو“ تو ہم مارنے کے لیے جلدی سے لپکے، لیکن وہ اپنی سوراخ میں گھس گیا۔
اخبرنا احمد بن سليمان، قال حدثنا يحيى بن ادم، عن حفص بن غياث، عن الاعمش، عن ابراهيم، عن الاسود، عن عبد الله، قال كنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم بالخيف من منى حتى نزلت { والمرسلات عرفا } فخرجت حية فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اقتلوها " . فابتدرناها فدخلت في جحرها
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ہم عرفہ کی رات جو عرفہ کے دن سے پہلے ہوتی ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے، اچانک سانپ کی سرسراہٹ محسوس ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے مارو“ لیکن وہ ایک سوراخ کے شگاف میں داخل ہو گیا تو ہم نے اس میں ایک لکڑی گھسیڑ دی، اور سوراخ کا کچھ حصہ ہم نے اکھیڑ دیا، پھر ہم نے کھجور کی شاخ لی اور اس میں آگ بھڑکا دی، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے اسے تمہارے شر سے اور تمہیں اس کے شر سے بچا لیا“۔
اخبرنا عمرو بن علي، قال حدثنا يحيى، قال حدثنا ابن جريج، اخبرني ابو الزبير، عن مجاهد، عن ابي عبيدة، عن ابيه، قال كنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم ليلة عرفة التي قبل يوم عرفة فاذا حس الحية فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اقتلوها " . فدخلت شق جحر فادخلنا عودا فقلعنا بعض الجحر فاخذنا سعفة فاضرمنا فيها نارا فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " وقاها الله شركم ووقاكم شرها
ام شریک رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں گرگٹ کو مارنے کا حکم دیا ہے۔
اخبرنا محمد بن عبد الله بن يزيد المقري، قال حدثنا سفيان، قال حدثني عبد الحميد بن جبير بن شيبة، عن سعيد بن المسيب، عن ام شريك، قالت امرني رسول الله صلى الله عليه وسلم بقتل الاوزاغ
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”گرگٹ چھوٹا فاسق ( موذی ) ہے“۔
اخبرنا وهب بن بيان، قال حدثنا ابن وهب، قال اخبرني مالك، ويونس، عن ابن شهاب، عن عروة، عن عايشة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " الوزغ الفويسق
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پانچ جانور ہیں جو سب کے سب فاسق ( موذی ) ہیں حرم اور حرم سے باہر دونوں جگ ہوں میں مارے جا سکتے ہیں: کاٹ کھانے والا کتا، کوا، چیل، بچھو اور چوہیا“۔
اخبرني عبد الرحمن بن خالد الرقي القطان، قال حدثنا حجاج، قال ابن جريج اخبرني ابان بن صالح، عن ابن شهاب، ان عروة، اخبره ان عايشة قالت قال النبي صلى الله عليه وسلم " خمس من الدواب كلهن فاسق يقتلن في الحل والحرم الكلب العقور والغراب والحداة والعقرب والفارة
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جانوروں میں پانچ ایسے ہیں جو سب کے سب فاسق ( موذی ) ہیں وہ حرم میں ( بھی ) مارے جا سکتے ہیں: کوا، چیل، کاٹ کھانے والا کتا، چوہیا اور بچھو“۔
اخبرنا يونس بن عبد الاعلى، قال انبانا ابن وهب، قال اخبرني يونس، عن ابن شهاب، عن عروة، ان عايشة، قالت قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " خمس من الدواب كلها فاسق يقتلن في الحرم الغراب والحداة والكلب العقور والفارة والعقرب
ام المؤمنین حفصہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پانچ جانور ایسے ہیں جن کے مارنے والے پر کوئی گناہ نہیں: بچھو، کوا، چیل، چوہیا اور کاٹ کھانے والا کتا“۔
اخبرنا عيسى بن ابراهيم، قال حدثنا ابن وهب، قال اخبرني يونس، عن ابن شهاب، ان سالم بن عبد الله، اخبره ان عبد الله بن عمر قال قالت حفصة زوج النبي صلى الله عليه وسلم قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " خمس من الدواب لا حرج على من قتلهن العقرب والغراب والحداة والفارة والكلب العقور
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پانچ فاسق ( موذی ) جانور ہیں انہیں حرم اور حرم کے باہر دونوں جگ ہوں میں مارا جا سکتا ہے: چیل، کوا، چوہیا، بچھو اور کاٹ کھانے والا کتا“۔ عبدالرزاق کہتے ہیں کہ ہمارے بعض اصحاب نے ذکر کیا ہے کہ معمر اس سند کا ذکر یوں کرتے ہیں: «عن الزهري عن سالم عن أبيه وعن عروة عن عائشة أن النبي صلى اللہ عليه وسلم» ۔
اخبرنا اسحاق بن ابراهيم، قال حدثنا عبد الرزاق، قال انبانا معمر، عن الزهري، عن عروة، عن عايشة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " خمس فواسق يقتلن في الحل والحرم الحداة والغراب والفارة والعقرب والكلب العقور " . قال عبد الرزاق وذكر بعض اصحابنا ان معمرا كان يذكره عن الزهري عن سالم عن ابيه وعن عروة عن عايشة ان النبي صلى الله عليه وسلم
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پانچ جانور فاسق ( موذی ) ہیں انہیں حرم میں ( بھی ) مارا جا سکتا ہے ( وہ ہیں ) : بچھو، چوہیا، کوا، کاٹ کھانے والا کتا اور چیل“۔
اخبرنا احمد بن عبدة، قال انبانا حماد، قال حدثنا هشام، - وهو ابن عروة - عن ابيه، عن عايشة، قالت قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " خمس فواسق يقتلن في الحرم العقرب والفارة والغراب والكلب العقور والحداة
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ مکہ ہے جس کی حرمت اللہ تعالیٰ نے اسی دن قائم کر دی تھی جس دن اس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا، یہ نہ مجھ سے پہلے کسی کے لیے حلال ہوا، نہ میرے بعد کسی کے لیے حلال ہو گا، صرف میرے لیے دن کے ایک حصہ میں حلال کیا گیا اور وہ یہی گھڑی ہے اور یہ اب اللہ تعالیٰ کے حرام کر دینے کی وجہ سے قیامت تک حرام رہے گا، نہ اس کی تازہ گھاس کاٹی جائے گی، نہ اس کے درخت کاٹے جائیں گے، نہ اس کے شکار بدکائے جائیں گے، نہ اس کی کوئی گری پڑی چیز حلال ہو گی، مگر اس شخص کے لیے جو اس کی تشہیر کرنے والا ہو“، یہ سنا تو ابن عباس رضی اللہ عنہما اٹھے، وہ ایک تجربہ کار شخص تھے اور کہنے لگے سوائے اذخر کے، کیونکہ وہ ہمارے گھروں اور قبروں میں کام آتی ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سوائے اذخر کے“۔
اخبرنا سعيد بن عبد الرحمن، قال حدثنا سفيان، عن عمرو، عن عكرمة، عن ابن عباس، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " هذه مكة حرمها الله عز وجل يوم خلق السموات والارض لم تحل لاحد قبلي ولا لاحد بعدي وانما احلت لي ساعة من نهار وهي ساعتي هذه حرام بحرام الله الى يوم القيامة لا يختلى خلاها ولا يعضد شجرها ولا ينفر صيدها ولا تحل لقطتها الا لمنشد " . فقام العباس وكان رجلا مجربا فقال الا الاذخر فانه لبيوتنا وقبورنا . فقال " الا الاذخر
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب عمرہ قضاء کے موقع پر مکہ میں داخل ہوئے اور ابن رواحہ آپ کے آگے تھے اور کہہ رہے تھے: «خلوا بني الكفار عن سبيله اليوم نضربكم على تأويله ضربا يزيل الهام عن مقيله ويذهل الخليل عن خليله» ”اے کافروں کی اولاد! ان کے راستے سے ہٹ جاؤ، ۱؎ ان کے اشارے پر آج ہم تمہیں ایسی مار ماریں گے جو تمہارے سروں کو گردنوں سے اڑا دے گی اور دوست کو اس کے دوست سے غافل کر دے گی“، عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: ابن رواحہ رضی اللہ عنہ! تم اللہ کے حرم میں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ایسے شعر پڑھتے ہو؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”چھوڑو انہیں ( پڑھنے دو ) قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، ان کے یہ اشعار کفار پر تیر لگنے سے بھی زیادہ سخت ہیں“۔
اخبرنا محمد بن عبد الملك بن زنجويه، قال حدثنا عبد الرزاق، قال حدثنا جعفر بن سليمان، عن ثابت، عن انس، قال دخل النبي صلى الله عليه وسلم مكة في عمرة القضاء وابن رواحة بين يديه يقول خلوا بني الكفار عن سبيله اليوم نضربكم على تاويله ضربا يزيل الهام عن مقيله ويذهل الخليل عن خليله قال عمر يا ابن رواحة في حرم الله وبين يدى رسول الله صلى الله عليه وسلم تقول هذا الشعر فقال النبي صلى الله عليه وسلم " خل عنه فوالذي نفسي بيده لكلامه اشد عليهم من وقع النبل
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب مکہ مکرمہ تشریف لائے تو بنی ہاشم کے چھوٹے بچوں نے آپ کا استقبال کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک کو اپنے آگے بٹھا لیا، اور دوسرے کو اپنے پیچھے۔
اخبرنا قتيبة، قال حدثنا يزيد، - وهو ابن زريع - عن خالد الحذاء، عن عكرمة، عن ابن عباس، ان النبي صلى الله عليه وسلم لما قدم مكة استقبله اغيلمة بني هاشم - قال - فحمل واحدا بين يديه واخر خلفه
مہاجر مکی کہتے ہیں کہ جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے اس شخص کے بارے میں پوچھا گیا جو بیت اللہ کو دیکھے، تو کیا وہ اپنے دونوں ہاتھ اٹھائے؟ انہوں نے کہا: میں نہیں سمجھتا کہ یہود کے سوا کوئی ایسا کرتا ہے۔ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج کیا، تو ہم ایسا نہیں کرتے تھے۔
اخبرنا محمد بن بشار، قال حدثنا محمد، قال حدثنا شعبة، قال سمعت ابا قزعة الباهلي، يحدث عن المهاجر المكي، قال سيل جابر بن عبد الله عن الرجل، يرى البيت ايرفع يديه قال ما كنت اظن احدا يفعل هذا الا اليهود حججنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم فلم نكن نفعله
عبدالرحمٰن بن طارق کی والدہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب دار یعلیٰ کے مکان میں آ جاتے ۱؎ تو قبلہ کی طرف منہ کرتے، اور دعا کرتے۔
اخبرنا عمرو بن علي، قال حدثنا ابو عاصم، قال حدثنا ابن جريج، قال حدثني عبيد الله بن ابي يزيد، ان عبد الرحمن بن طارق بن علقمة، اخبره عن امه، ان النبي صلى الله عليه وسلم كان اذا جاء مكانا في دار يعلى استقبل القبلة ودعا
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے: ”میری مسجد میں ایک نماز دوسری مسجدوں کی ہزار نمازوں سے افضل ہے سوائے مسجد الحرام کے“ ۱؎۔ ابوعبدالرحمٰن نسائی کہتے ہیں: میں نہیں جانتا کہ اس حدیث کو موسیٰ جہنی کے سوا کسی اور نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کیا ہے اور ابن جریج وغیرہ نے ان کی مخالفت کی ہے ۲؎۔
اخبرنا عمرو بن علي، ومحمد بن المثنى، قالا حدثنا يحيى بن سعيد، عن موسى بن عبد الله الجهني، قال سمعت نافعا، يقول حدثنا عبد الله بن عمر، قال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " صلاة في مسجدي افضل من الف صلاة فيما سواه من المساجد الا المسجد الحرام " . قال ابو عبد الرحمن لا اعلم احدا روى هذا الحديث عن نافع عن عبد الله بن عمر غير موسى الجهني . وخالفه ابن جريج وغيره