Loading...

Loading...
کتب
۴۶۶ احادیث
ام المؤمنین میمونہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ”میری اس مسجد میں ایک نماز اور مسجدوں کی ہزار نمازوں سے افضل ہے، سوائے مسجد الحرام کے“۔
اخبرنا اسحاق بن ابراهيم، ومحمد بن رافع، قال اسحاق انبانا وقال، محمد حدثنا عبد الرزاق، قال حدثنا ابن جريج، قال سمعت نافعا، يقول حدثنا ابراهيم بن عبد الله بن معبد بن عباس، حدثه ان ميمونة زوج النبي صلى الله عليه وسلم قالت سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " صلاة في مسجدي هذا افضل من الف صلاة فيما سواه من المساجد الا المسجد الكعبة
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میری اس مسجد میں ایک نماز کعبہ کے علاوہ دوسری مساجد کی ایک ہزار نمازوں سے افضل ہے“۔
اخبرنا عمرو بن علي، قال حدثنا محمد، قال حدثنا شعبة، عن سعد بن ابراهيم، قال سمعت ابا سلمة، قال سالت الاغر عن هذا الحديث، فحدث الاغر، انه سمع ابا هريرة، يحدث ان النبي صلى الله عليه وسلم قال " صلاة في مسجدي هذا افضل من الف صلاة فيما سواه من المساجد الا الكعبة
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم نے نہیں دیکھا کہ تمہاری قوم نے جس وقت کعبہ کو بنایا تو ان لوگوں نے ابراہیم علیہ السلام کی بنیاد میں کمی کر دی“ تو میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ ابراہیم علیہ السلام کی بنیاد پر اسے کیوں نہیں بنا دیتے؟ آپ نے فرمایا: ”اگر تمہاری قوم زمانہ کفر سے قریب نہ ہوتی ۱؎“ ( تو میں ایسا کر ڈالتا ) ۲؎ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: اگر عائشہ رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایسی بات سنی ہے تو میں سمجھتا ہوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حطیم سے قریب کے دونوں رکن ( رکن شامی و عراقی ) کو بوسہ نہ لینے کی وجہ یہی ہے کہ خانہ کعبہ کی ( اس جانب سے ) ابراہیم علیہ السلام کی بنیاد پر تکمیل نہیں ہوئی ہے۔
اخبرنا محمد بن سلمة، والحارث بن مسكين، قراءة عليه وانا اسمع، عن ابن القاسم، قال حدثني مالك، عن ابن شهاب، عن سالم بن عبد الله، ان عبد الله بن محمد بن ابي بكر الصديق، اخبر عبد الله بن عمر، عن عايشة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " الم ترى ان قومك حين بنوا الكعبة اقتصروا عن قواعد ابراهيم عليه السلام " . فقلت يا رسول الله الا تردها على قواعد ابراهيم عليه السلام قال " لولا حدثان قومك بالكفر " . فقال عبد الله بن عمر لين كانت عايشة سمعت هذا من رسول الله صلى الله عليه وسلم ما ارى ترك استلام الركنين اللذين يليان الحجر الا ان البيت لم يتمم على قواعد ابراهيم عليه السلام
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تمہاری قوم کا زمانہ کفر سے قریب نہ ہوتا تو میں خانہ کعبہ کو ڈھا دیتا، اور اسے ( پھر سے ) ابراہیم علیہ السلام کی بنیاد پر تعمیر کرتا، اور سامنے کے مقابل میں پیچھے بھی ایک دروازہ کر دیتا، قریش نے جب خانہ کعبہ کی تعمیر کی تو اسے گھٹا دیا“۔
اخبرنا اسحاق بن ابراهيم، قال انبانا عبدة، وابو معاوية قالا حدثنا هشام بن عروة، عن ابيه، عن عايشة، قالت قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لولا حداثة عهد قومك بالكفر لنقضت البيت فبنيته على اساس ابراهيم عليه السلام وجعلت له خلفا فان قريشا لما بنت البيت استقصرت
ام المؤمنین (عائشہ) رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر میری قوم ( اور محمد بن عبدالاعلی کی روایت میں تیری قوم ) جاہلیت کے زمانہ سے قریب نہ ہوتی تو میں کعبہ کو ڈھا دیتا اور اس میں دو دروازے کر دیتا“، تو جب عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما وہاں کے حکمراں ہوئے تو انہوں نے ( رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خواہش کے مطابق ) کعبہ میں دو دروازے کر دئیے ۱؎۔
اخبرنا اسماعيل بن مسعود، ومحمد بن عبد الاعلى، عن خالد، عن شعبة، عن ابي اسحاق، عن الاسود، ان ام المومنين، قالت ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " لولا ان قومي - وفي حديث محمد قومك - حديث عهد بجاهلية لهدمت الكعبة وجعلت لها بابين " . فلما ملك ابن الزبير جعل لها بابين
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”اگر تیری قوم کا زمانہ جاہلیت سے قریب نہ ہوتا تو میں کعبہ کو گرا دیے جانے کا حکم دیتا، اور جو حصہ اس سے نکال دیا گیا ہے اسے اس میں داخل کر دیتا، اور اسے زمین کے برابر کر دیتا، اور اس میں دو دروازے بنا دیتا، ایک دروازہ مشرقی جانب اور ایک مغربی جانب، کیونکہ وہ اس کی تعمیر سے عاجز رہے تو میں اسے ابراہیم علیہ السلام کی بنیاد پر پہنچا دیتا“۔ راوی کہتے ہیں: اسی چیز نے عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کو اسے منہدم کرنے پر آمادہ کیا۔ یزید ( راوی حدیث ) کہتے ہیں: میں موجود تھا جس وقت ابن زبیر رضی اللہ عنہما نے اسے گرا کر دوبارہ بنایا، اور حطیم کو اس میں شامل کیا۔ اور میں نے ابراہیم علیہ السلام کی بنیاد کے پتھر دیکھے، وہ پتھر اونٹ کی کوہان کی طرح تھے، ایک دوسرے میں پیوست۔
اخبرنا عبد الرحمن بن محمد بن سلام، قال حدثنا يزيد بن هارون، قال انبانا جرير بن حازم، قال حدثنا يزيد بن رومان، عن عروة، عن عايشة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال لها " يا عايشة لولا ان قومك حديث عهد بجاهلية لامرت بالبيت فهدم فادخلت فيه ما اخرج منه والزقته بالارض وجعلت له بابين بابا شرقيا وبابا غربيا فانهم قد عجزوا عن بنايه فبلغت به اساس ابراهيم عليه السلام " . قال فذلك الذي حمل ابن الزبير على هدمه . قال يزيد وقد شهدت ابن الزبير حين هدمه وبناه وادخل فيه من الحجر وقد رايت اساس ابراهيم عليه السلام حجارة كاسنمة الابل متلاحكة
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: خانہ کعبہ کو دو چھوٹی پنڈلیوں والے حبشی ویران کریں گے ۱؎۔
اخبرنا قتيبة، قال حدثنا سفيان، عن زياد بن سعد، عن الزهري، عن سعيد بن المسيب، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " يخرب الكعبة ذو السويقتين من الحبشة
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ وہ کعبہ کے پاس پہنچے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ، بلال اور اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما اندر داخل ہو چکے تھے، اور ( ان کے اندر جاتے ہی ) عثمان بن طلحہ رضی اللہ عنہ نے دروازہ بند دیا۔ تو وہ لوگ کچھ دیر تک اندر رہے، پھر انہوں نے دروازہ کھولا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نکلے ( اور آپ کے نکلتے ہی ) میں سیڑھیاں چڑھ کر اندر گیا، تو میں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہاں نماز پڑھی ہے؟ لوگوں نے بتایا، یہاں، اور میں ان لوگوں سے یہ پوچھنا بھول گیا کہ آپ نے بیت اللہ میں کتنی رکعتیں پڑھیں؟۔
اخبرنا محمد بن عبد الاعلى، قال حدثنا خالد، قال حدثنا ابن عون، عن نافع، عن عبد الله بن عمر، انه انتهى الى الكعبة وقد دخلها النبي صلى الله عليه وسلم وبلال واسامة بن زيد واجاف عليهم عثمان بن طلحة الباب فمكثوا فيها مليا ثم فتح الباب فخرج النبي صلى الله عليه وسلم وركبت الدرجة ودخلت البيت فقلت اين صلى النبي صلى الله عليه وسلم قالوا ها هنا . ونسيت ان اسالهم كم صلى النبي صلى الله عليه وسلم في البيت
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خانہ کعبہ کے اندر داخل ہوئے، اور آپ کے ساتھ فضل بن عباس، اسامہ بن زید، عثمان بن طلحہ اور بلال رضی اللہ عنہم بھی تھے۔ انہوں نے دروازہ بند کر لیا، اور جب تک اللہ تعالیٰ نے چاہا آپ اس میں رہے، پھر باہر آئے، تو سب سے پہلے میری جس سے ملاقات ہوئی وہ بلال رضی اللہ عنہ تھے۔ میں نے کہا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کہاں نماز پڑھی؟ انہوں نے کہا: دونوں ستونوں کے درمیان۔
اخبرنا يعقوب بن ابراهيم، قال حدثنا هشيم، قال انبانا ابن عون، عن نافع، عن ابن عمر، قال دخل رسول الله صلى الله عليه وسلم البيت ومعه الفضل بن عباس واسامة بن زيد وعثمان بن طلحة وبلال فاجافوا عليهم الباب فمكث فيه ما شاء الله ثم خرج . قال ابن عمر كان اول من لقيت بلالا قلت اين صلى النبي صلى الله عليه وسلم قال ما بين الاسطوانتين
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خانہ کعبہ کے اندر داخل ہوئے، آپ کے نکلنے کا وقت نزدیک آیا تو میرے دل میں کچھ خیال آیا تو میں چلا اور جلدی سے آیا، تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نکلتے ہوئے پایا۔ میں نے بلال رضی اللہ عنہ سے پوچھا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کعبہ میں نماز پڑھی ہے؟ انہوں نے کہا: جی ہاں، دو رکعتیں، دونوں ستونوں کے درمیان۔
اخبرنا عمرو بن علي، قال حدثنا يحيى، قال حدثنا السايب بن عمر، قال حدثني ابن ابي مليكة، ان ابن عمر، قال دخل رسول الله صلى الله عليه وسلم الكعبة ودنا خروجه ووجدت شييا فذهبت وجيت سريعا فوجدت رسول الله صلى الله عليه وسلم خارجا فسالت بلالا اصلى رسول الله صلى الله عليه وسلم في الكعبة قال نعم ركعتين بين الساريتين
مجاہد کہتے ہیں کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس ان کے گھر آ کر ان سے کہا گیا کہ ( دیکھئیے ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ( ابھی ابھی ) کعبہ کے اندر گئے ہیں۔ ( ابن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں ) تو میں آیا وہاں پہنچ کر دیکھتا ہوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نکل چکے ہیں، اور بلال رضی اللہ عنہ دروازے پر کھڑے ہیں۔ میں نے پوچھا: بلال! کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کعبہ کے اندر نماز پڑھی ہے؟ انہوں نے کہا: جی ہاں، میں نے پوچھا: کہاں؟ انہوں نے کہا: ان دونوں ستونوں کے درمیان دو رکعتیں آپ نے پڑھیں۔ پھر آپ وہاں سے نکلے، اور کعبہ رخ ہو کر دو رکعتیں پڑھیں۔
اخبرنا احمد بن سليمان، قال حدثنا ابو نعيم، قال حدثنا سيف بن سليمان، قال سمعت مجاهدا، يقول اتي ابن عمر في منزله فقيل هذا رسول الله صلى الله عليه وسلم قد دخل الكعبة فاقبلت فاجد رسول الله صلى الله عليه وسلم قد خرج واجد بلالا على الباب قايما فقلت يا بلال اصلى رسول الله صلى الله عليه وسلم في الكعبة قال نعم . قلت اين قال ما بين هاتين الاسطوانتين ركعتين ثم خرج فصلى ركعتين في وجه الكعبة
اسامہ بن زید رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کعبہ میں داخل ہوئے، تو اس کے کناروں میں آپ نے تسبیح پڑھی اور تکبیر کہی اور نماز نہیں پڑھی ۱؎، پھر آپ باہر نکلے، اور مقام ابراہیم کے پیچھے آپ نے دو رکعتیں پڑھیں، پھر فرمایا: ”یہ قبلہ ہے“۔
اخبرنا حاجب بن سليمان المنبجي، عن ابن ابي رواد، قال حدثنا ابن جريج، عن عطاء، عن اسامة بن زيد، قال دخل رسول الله صلى الله عليه وسلم الكعبة فسبح في نواحيها وكبر ولم يصل ثم خرج فصلى خلف المقام ركعتين ثم قال " هذه القبلة
عبداللہ بن زبیر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کو کہتے سنا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر لوگوں کا زمانہ کفر سے قریب نہ ہوتا اور میرے پاس اسے ٹھوس اور مستحکم بنانے کے لیے اخراجات کی کمی نہ ہوتی تو میں حطیم میں سے پانچ ہاتھ خانہ کعبہ میں ضرور شامل کر دیتا اور اس میں ایک دروازہ بنا دیتا جس سے لوگ اندر جاتے اور ایک دروازہ جس سے لوگ باہر آتے“۔
اخبرنا هناد بن السري، عن ابن ابي زايدة، قال حدثنا ابن ابي سليمان، عن عطاء، قال ابن الزبير سمعت عايشة، تقول ان النبي صلى الله عليه وسلم قال " لولا ان الناس حديث عهدهم بكفر وليس عندي من النفقة ما يقوي على بنايه لكنت ادخلت فيه من الحجر خمسة اذرع وجعلت له بابا يدخل الناس منه وبابا يخرجون منه
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا میں بیت اللہ کے اندر داخل نہ ہوں؟ آپ نے فرمایا: ”حطیم میں چلی جاؤ، وہ بھی بیت اللہ کا حصہ ہے“۔
اخبرنا احمد بن سعيد الرباطي، قال حدثنا وهب بن جرير، قال حدثنا قرة بن خالد، عن عبد الحميد بن جبير، عن عمته، صفية بنت شيبة قالت حدثتنا عايشة، قالت قلت يا رسول الله الا ادخل البيت قال " ادخلي الحجر فانه من البيت
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ میں چاہتی تھی کہ میں بیت اللہ کے اندر داخل ہوں، اور اس میں نماز پڑھوں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا ہاتھ پکڑ اور مجھے حطیم کے اندر کر دیا، پھر فرمایا: ”جب تم بیت اللہ کے اندر جا کر نماز پڑھنا چاہو تو یہاں آ کر پڑھ لیا کرو، یہ بھی بیت اللہ کا ایک ٹکڑا ہے۔ لیکن تمہاری قوم نے بناتے وقت اتنا کم کر کے بنایا“ ۱؎۔
اخبرنا اسحاق بن ابراهيم، قال انبانا عبد العزيز بن محمد، قال حدثنا علقمة بن ابي علقمة، عن امه، عن عايشة، قالت كنت احب ان ادخل، البيت فاصلي فيه فاخذ رسول الله صلى الله عليه وسلم بيدي فادخلني الحجر فقال " اذا اردت دخول البيت فصلي ها هنا فانما هو قطعة من البيت ولكن قومك اقتصروا حيث بنوه
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کعبہ کے اندر نماز نہیں پڑھی، لیکن اس کے گوشوں میں تکبیر کہی۔ ( یہ ابن عباس رضی اللہ عنہما کے اپنے علم کی بنا پر ہے، کیونکہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ خانہ کعبہ کے اندر نہیں گئے تھے ) ۔
اخبرنا قتيبة، قال حدثنا حماد، عن عمرو، ان ابن عباس، قال لم يصل النبي صلى الله عليه وسلم في الكعبة ولكنه كبر في نواحيه
اسامہ بن زید رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ وہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خانہ کعبہ کے اندر گئے، تو آپ نے بلال کو حکم دیا، انہوں نے دروازہ بند کر دیا۔ اس وقت خانہ کعبہ چھ ستونوں پر قائم تھا، جب آپ اندر بڑھتے گئے یہاں تک کہ ان دونوں ستونوں کے درمیان پہنچ گئے جو کعبہ کے دروازے کے متصل ہیں، تو بیٹھے، اور اللہ کی حمد و ثنا بیان کی، اور اس سے خیر کا سوال کیا اور مغفرت طلب کی، پھر کھڑے ہوئے یہاں تک کہ کعبہ کی پشت کی طرف آئے جو سامنے تھی، اس پر اپنا چہرہ اور رخسار رکھا، اور اللہ کی حمد و ثنا بیان کی، اور اس سے خیر کا سوال کیا، اور مغفرت طلب کی۔ پھر کعبہ کے ستونوں میں سے ہر ستون کے پاس آئے اور اس کی طرف منہ کر کے تکبیر، تہلیل، تسبیح کی، اور اللہ کی ثنا بیان کی، خیر کا سوال کیا اور گناہوں سے مغفرت طلب کی، پھر باہر آئے، اور کعبہ کی طرف رخ کر کے دو رکعت نماز پڑھی، پھر پلٹے تو فرمایا: ”یہی قبلہ ہے یہی قبلہ ہے“۔
اخبرنا يعقوب بن ابراهيم، قال حدثنا يحيى، قال حدثنا عبد الملك بن ابي سليمان، قال حدثنا عطاء، عن اسامة بن زيد، انه دخل هو ورسول الله صلى الله عليه وسلم البيت فامر بلالا فاجاف الباب - والبيت اذ ذاك على ستة اعمدة - فمضى حتى اذا كان بين الاسطوانتين اللتين تليان باب الكعبة جلس فحمد الله واثنى عليه وساله واستغفره ثم قام حتى اتى ما استقبل من دبر الكعبة فوضع وجهه وخده عليه وحمد الله واثنى عليه وساله واستغفره ثم انصرف الى كل ركن من اركان الكعبة فاستقبله بالتكبير والتهليل والتسبيح والثناء على الله والمسالة والاستغفار ثم خرج فصلى ركعتين مستقبل وجه الكعبة ثم انصرف فقال " هذه القبلة هذه القبلة
اسامہ بن زید رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ خانہ کعبہ کے اندر گیا۔ آپ بیٹھے پھر آپ نے اللہ کی حمد و ثنا اور تکبیر و تہلیل کی، پھر آپ بیت اللہ کے اس حصہ کی طرف جھکے جو آپ کے سامنے تھا، اور آپ نے اس پر اپنا سینہ، رخسار اور اپنے دونوں ہاتھ رکھے، پھر تکبیر و تہلیل کی، اور دعا مانگی، آپ نے اسی طرح خانہ کعبہ کے سبھی ستونوں پر کیا، پھر باہر نکلے دروازے کے پاس آئے، اور قبلہ رخ ہو کر فرمایا: ”یہی قبلہ ہے یہی قبلہ ہے ۱؎“۔
اخبرنا يعقوب بن ابراهيم، قال حدثنا هشيم، قال انبانا عبد الملك، عن عطاء، عن اسامة بن زيد، قال دخلت مع رسول الله صلى الله عليه وسلم البيت فجلس فحمد الله واثنى عليه وكبر وهلل ثم مال الى ما بين يديه من البيت فوضع صدره عليه وخده ويديه ثم كبر وهلل ودعا فعل ذلك بالاركان كلها ثم خرج فاقبل على القبلة وهو على الباب فقال " هذه القبلة هذه القبلة
اسامہ بن زید رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خانہ کعبہ سے باہر آئے، اور کعبہ کے سامنے آپ نے دو رکعتیں پڑھیں، پھر فرمایا: ”یہی قبلہ ہے“۔
اخبرنا اسماعيل بن مسعود، قال حدثنا خالد، عن عبد الملك، عن عطاء، عن اسامة، قال خرج رسول الله صلى الله عليه وسلم من البيت صلى ركعتين في قبل الكعبة ثم قال " هذه القبلة
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ مجھے اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما نے خبر دی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کعبہ کے اندر گئے اور اس کے سبھی گوشوں میں ( جا جا کر ) دعا کی، اور اس میں نماز نہیں پڑھی یہاں تک کہ آپ اس سے باہر آ گئے، اور باہر آ کر آپ نے کعبہ کے سامنے دو رکعتیں پڑھیں۔
اخبرنا ابو عاصم، خشيش بن اصرم النسايي قال حدثنا عبد الرزاق، قال انبانا ابن جريج، عن عطاء، قال سمعت ابن عباس، يقول اخبرني اسامة بن زيد، ان النبي صلى الله عليه وسلم دخل البيت فدعا في نواحيه كلها ولم يصل فيه حتى خرج منه فلما خرج ركع ركعتين في قبل الكعبة