Loading...

Loading...
کتب
۴۶۶ احادیث
عبداللہ بن سائب کہتے ہیں کہ وہ ابن عباس رضی اللہ عنہما کو ( جب بڑھاپے سے ان کی بینائی جاتی رہی تھی ) سہارا دے کر لے جاتے اور لے کر خانہ کعبہ کے انہیں تیسرے کونے میں جو اس رکن کے قریب ہے جو حجر اسود سے متصل ہے اور بیت اللہ کے دروازے سے بھی قریب ہے کھڑا کر دیتے تھے تو ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے: کیا تمہیں نہیں بتایا گیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہیں نماز پڑھتے تھے، وہ کہتے: جی ہاں، بتایا گیا، تو وہ آگے بڑھتے اور نماز پڑھتے۔
اخبرنا عمرو بن علي، قال حدثنا يحيى، قال حدثنا السايب بن عمر، قال حدثني محمد بن عبد الله بن السايب، عن ابيه، انه كان يقود ابن عباس ويقيمه عند الشقة الثالثة مما يلي الركن الذي يلي الحجر مما يلي الباب فقال ابن عباس اما انبيت ان رسول الله صلى الله عليه وسلم كان يصلي ها هنا فيقول نعم فيتقدم فيصلي
عبداللہ بن عبید بن عمیر سے روایت ہے کہ ایک شخص نے ( عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے ) نے کہا: ابوعبدالرحمٰن ( کیا بات ہے ) میں آپ کو صرف انہیں دونوں رکنوں کو ( یعنی رکن یمانی اور حجر اسود کو ) بوسہ لیتے دیکھتا ہوں؟ تو انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: ”ان کے چھونے سے گناہ جھڑتے ہیں“ اور میں نے آپ کو یہ بھی فرماتے سنا ہے: ”جس نے سات بار طواف کیا تو یہ ایک غلام آزاد کرنے کے برابر ہے“۔
حدثنا ابو عبد الرحمن، احمد بن شعيب من لفظه قال انبانا قتيبة، قال حدثنا حماد، عن عطاء، عن عبد الله بن عبيد بن عمير، ان رجلا، قال يا ابا عبد الرحمن ما اراك تستلم الا هذين الركنين قال اني سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " ان مسحهما يحطان الخطيية " . وسمعته يقول " من طاف سبعا فهو كعدل رقبة
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم طواف کرتے ہوئے ایک ایسے شخص کے پاس سے گزرے جس کی ناک میں نکیل ڈال کر ایک آدمی اسے کھینچے لیے جا رہا تھا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے نکیل کاٹ دی، پھر اسے حکم دیا کہ وہ اس کا ہاتھ پکڑ کر لے جائے۔
اخبرنا يوسف بن سعيد، قال حدثنا حجاج، عن ابن جريج، قال اخبرني سليمان الاحول، ان طاوسا، اخبره عن ابن عباس، ان النبي صلى الله عليه وسلم مر وهو يطوف بالكعبة بانسان يقوده انسان بخزامة في انفه فقطعه النبي صلى الله عليه وسلم بيده ثم امره ان يقوده بيده
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک ایسے شخص کے پاس سے گزرے جسے ایک آدمی ایک ایسی چیز سے ( باندھ کر ) کھینچے لیے جا رہا تھا جسے اس نے نذر میں ذکر کیا تھا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے لے کر کاٹ دیا، فرمایا: ”یہ نذر ہے“ ۱؎۔
اخبرنا محمد بن عبد الاعلى، قال حدثنا خالد، قال حدثنا ابن جريج، قال حدثني سليمان الاحول، عن طاوس، عن ابن عباس، قال مر رسول الله صلى الله عليه وسلم برجل يقوده رجل بشىء ذكره في نذر فتناوله النبي صلى الله عليه وسلم فقطعه قال انه نذر
طاؤس سے روایت ہے کہ ایک شخص جس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو پایا ہے، کہتے ہیں: ”بیت اللہ کا طواف نماز ہے تو ( دوران طواف ) باتیں کم کرو“۔ ( ابوعبدالرحمٰن نسائی کہتے ہیں ) اس حدیث کے الفاظ یوسف ( یوسف بن سعید ) کے ہیں۔ حنظلہ بن ابی سفیان نے ان کی یعنی حسن ۱؎ مخالفت کی ہے۔
اخبرنا يوسف بن سعيد، قال حدثنا حجاج، عن ابن جريج، قال اخبرني الحسن بن مسلم، ح والحارث بن مسكين قراءة عليه وانا اسمع، عن ابن وهب، اخبرني ابن جريج، عن الحسن بن مسلم، عن طاوس، عن رجل، ادرك النبي صلى الله عليه وسلم قال " الطواف بالبيت صلاة فاقلوا من الكلام " . اللفظ ليوسف . خالفه حنظلة بن ابي سفيان
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ طواف کے دوران باتیں کم کرو کیونکہ تم نماز میں ہو۔
اخبرنا محمد بن سليمان، قال انبانا السيناني، عن حنظلة بن ابي سفيان، عن طاوس، قال قال عبد الله بن عمر اقلوا الكلام في الطواف فانما انتم في الصلاة
جبیر بن مطعم رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے بنی عبد مناف! تم اس گھر کے طواف کرنے سے، اور اس میں نماز پڑھنے سے کسی کو نہ روکو، رات اور دن کے جس حصہ میں وہ چاہے“۔
اخبرنا عبد الله بن محمد بن عبد الرحمن، قال حدثنا سفيان، قال حدثنا ابو الزبير، عن عبد الله بن باباه، عن جبير بن مطعم، ان النبي صلى الله عليه وسلم قال " يا بني عبد مناف لا تمنعن احدا طاف بهذا البيت وصلى اى ساعة شاء من ليل او نهار
ام المؤمنین ام سلمہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے شکایت کی کہ میں بیمار ہوں۔ آپ نے فرمایا: ”لوگوں کے پیچھے سوار ہو کر طواف کر لو“، تو میں نے طواف کیا، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیت اللہ کے پہلو میں نماز پڑھ رہے تھے، اور آپ «الطور * وكتاب مسطور» پڑھ رہے تھے۔
اخبرنا محمد بن سلمة، والحارث بن مسكين، قراءة عليه وانا اسمع، عن ابن القاسم، قال حدثني مالك، عن محمد بن عبد الرحمن بن نوفل، عن عروة، عن زينب بنت ابي سلمة، عن ام سلمة، قالت شكوت الى رسول الله صلى الله عليه وسلم اني اشتكي فقال " طوفي من وراء الناس وانت راكبة " . فطفت ورسول الله صلى الله عليه وسلم يصلي الى جنب البيت يقرا ب { الطور * وكتاب مسطور}
ام المؤمنین ام سلمہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں نے تو واپسی کا طواف نہیں کیا ہے۔ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب نماز کھڑی کر دی جائے، تو تم اپنے اونٹ پر لوگوں کے پیچھے سے طواف کر لو“۔ عبدالرحمٰن ( نسائی ) کہتے ہیں: عروہ کا ام سلمہ رضی اللہ عنہما سے سماع نہیں ہے۔
اخبرنا محمد بن ادم، عن عبدة، عن هشام بن عروة، عن ابيه، عن ام سلمة، قالت يا رسول الله والله ما طفت طواف الخروج . فقال النبي صلى الله عليه وسلم " اذا اقيمت الصلاة فطوفي على بعيرك من وراء الناس " . عروة لم يسمعه من ام سلمة
ام المؤمنین ام سلمہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ وہ مکہ آئیں، اور وہ بیمار تھیں، تو انہوں نے اس کا ذکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا، تو آپ نے فرمایا ”سوار ہو کر نمازیوں کے پیچھے سے طواف کر لو“، تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سنا آپ کعبہ کے پاس «والطور» پڑھ رہے تھے۔
اخبرنا عبيد الله بن سعيد، قال حدثنا عبد الرحمن، عن مالك، عن ابي الاسود، عن عروة، عن زينب بنت ام سلمة، عن ام سلمة، انها قدمت مكة وهي مريضة فذكرت ذلك لرسول الله صلى الله عليه وسلم فقال " طوفي من وراء المصلين وانت راكبة " . قالت فسمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم وهو عند الكعبة يقرا { والطور}
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع میں اونٹ پر سوار ہو کر کعبہ کے گرد طواف کیا، آپ اپنی خمدار چھڑی سے حجر اسود کا استلام ( چھونا ) کر رہے تھے۔
اخبرني عمرو بن عثمان، قال حدثنا شعيب، - وهو ابن اسحاق - عن هشام بن عروة، عن ابيه، عن عايشة، قالت طاف رسول الله صلى الله عليه وسلم في حجة الوداع حول الكعبة على بعير يستلم الركن بمحجنه
وبرہ کہتے ہیں کہ میں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے سنا اس حال میں کہ ایک شخص نے ان سے پوچھا کہ میں نے حج کا احرام باندھ رکھا ہے، تو کیا میں بیت اللہ کا طواف کروں؟ تمہیں کیا چیز روک رہی ہے؟ اس نے کہا: میں نے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کو اس سے روکتے دیکھا ہے ۱؎، لیکن آپ ہمیں ان سے زیادہ پسند ہیں انہوں نے کہا: ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا آپ نے حج کا احرام باندھا پھر بیت اللہ کا طواف کیا اور صفا و مروہ کے درمیان سعی کی۔
اخبرنا عبدة بن عبد الله، قال حدثنا سويد، - وهو ابن عمرو الكلبي - عن زهير، قال حدثنا بيان، ان وبرة، حدثه قال سمعت عبد الله بن عمر، وساله، رجل اطوف بالبيت وقد احرمت بالحج قال وما يمنعك قال رايت عبد الله بن عباس ينهى عن ذلك وانت اعجب الينا منه . قال راينا رسول الله صلى الله عليه وسلم احرم بالحج فطاف بالبيت وسعى بين الصفا والمروة
عمرو کہتے ہیں کہ میں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے سنا، اور ہم نے ان سے ایک شخص کے بارے میں پوچھا جو عمرہ کی نیت کر کے آیا، اور اس نے بیت اللہ کا طواف کیا، لیکن صفا و مروہ کے درمیان سعی نہیں کی۔ کیا وہ اپنی بیوی کے پاس آ سکتا ہے انہوں نے جواب دیا، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ مکرمہ آئے تو آپ نے بیت اللہ کے سات پھیرے کیے، اور مقام ابراہیم کے پیچھے دو رکعت نماز پڑھی اور صفا و مروہ کے درمیان سعی کی، اور تمہارے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں بہترین نمونہ ہے ۱؎۔
اخبرنا محمد بن منصور، قال حدثنا سفيان، عن عمرو، قال سمعت ابن عمر، وسالناه، عن رجل، قدم معتمرا فطاف بالبيت ولم يطف بين الصفا والمروة اياتي اهله قال لما قدم رسول الله صلى الله عليه وسلم فطاف سبعا وصلى خلف المقام ركعتين وطاف بين الصفا والمروة وقد كان لكم في رسول الله اسوة حسنة
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نکلے اور ہم بھی آپ کے ساتھ نکلے۔ جب ذوالحلیفہ پہنچے تو آپ نے ظہر پڑھی، پھر اپنی سواری پر سوار ہوئے اور جب وہ بیداء میں آپ کو لے کر سیدھی کھڑی ہوئی تو آپ نے حج و عمرہ دونوں کا ایک ساتھ تلبیہ پکارا، ہم نے بھی آپ کے ساتھ تلبیہ پکارا پھر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ آئے، اور ہم نے طواف کر لیا تو آپ نے لوگوں کو حکم دیا کہ وہ احرام کھول کر حلال ہو جائیں۔ تو لوگ ڈرے ( کہ یہ کیا بات ہوئی کہ خود تو آپ نے احرام نہیں کھولا ہے، اور ہمیں کھول ڈالنے کا حکم دے رہے ہیں ) تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”اگر ہمارے ساتھ ہدی نہ ہوتی تو میں بھی احرام کھول ڈالتا“، تو سب لوگ ( احرام کھول کر ) حلال ہو گئے یہاں تک کہ بیویوں کے لیے بھی حلال ہو گئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قربانی کے دن ( یعنی دسویں ذی الحجہ ) تک حلال نہیں ہوئے اور نہ ہی آپ نے بال کتروائے۔
اخبرنا احمد بن الازهر، قال حدثنا محمد بن عبد الله الانصاري، قال حدثنا اشعث، عن الحسن، عن انس، قال خرج رسول الله صلى الله عليه وسلم وخرجنا معه فلما بلغ ذا الحليفة صلى الظهر ثم ركب راحلته فلما استوت به على البيداء اهل بالحج والعمرة جميعا فاهللنا معه فلما قدم رسول الله صلى الله عليه وسلم مكة وطفنا امر الناس ان يحلوا فهاب القوم فقال لهم رسول الله صلى الله عليه وسلم " لولا ان معي الهدى لاحللت " . فحل القوم حتى حلوا الى النساء ولم يحل رسول الله صلى الله عليه وسلم ولم يقصر الى يوم النحر
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے حج و عمرہ کو ایک ساتھ ملایا، اور ( ان دونوں کے لیے ) ایک ہی طواف کیا، اور کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اسی طرح کرتے دیکھا ہے۔
اخبرنا محمد بن منصور، قال حدثنا سفيان، عن ايوب بن موسى، عن نافع، عن ابن عمر، قرن الحج والعمرة فطاف طوافا واحدا وقال هكذا رايت رسول الله صلى الله عليه وسلم يفعله
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ وہ نکلے تو جب وہ ذوالحلیفہ آئے تو انہوں نے عمرے کا احرام باندھا، پھر تھوڑی دیر چلے، پھر وہ ڈرے کہ بیت اللہ تک پہنچنے سے پہلے ہی انہیں روک نہ دیا جائے تو انہوں نے کہا: اگر مجھے روک دیا گیا تو میں ویسے ہی کروں گا جیسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا تھا۔ انہوں نے کہا: قسم اللہ کی! حج کی راہ بھی وہی ہے جو عمرہ کی ہے، میں تم لوگوں کو گواہ بناتا ہوں کہ میں نے اپنے عمرہ کے ساتھ حج بھی اپنے اوپر واجب کر لیا ہے، پھر وہ چلے یہاں تک کہ وہ قدید آئے، اور وہاں سے ہدی ( قربانی کا جانور ) خریدا، پھر مکہ آئے۔ اور بیت اللہ کے سات پھیرے کیے اور صفا و مروہ کے درمیان سعی کی اور کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اسی طرح کرتے دیکھا ہے۔
اخبرنا علي بن ميمون الرقي، قال حدثنا سفيان، عن ايوب السختياني، وايوب بن موسى، واسماعيل بن امية، وعبيد الله بن عمر، عن نافع، قال خرج عبد الله بن عمر فلما اتى ذا الحليفة اهل بالعمرة فسار قليلا فخشي ان يصد عن البيت فقال ان صددت صنعت كما صنع رسول الله صلى الله عليه وسلم قال والله ما سبيل الحج الا سبيل العمرة اشهدكم اني قد اوجبت مع عمرتي حجا . فسار حتى اتى قديدا فاشترى منها هديا ثم قدم مكة فطاف بالبيت سبعا وبين الصفا والمروة وقال هكذا رايت رسول الله صلى الله عليه وسلم فعل
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ہی طواف کیا۔
اخبرنا يعقوب بن ابراهيم، عن عبد الرحمن بن مهدي، اخبرني هاني بن ايوب، عن طاوس، عن جابر بن عبد الله، ان النبي صلى الله عليه وسلم طاف طوافا واحدا
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”حجر اسود جنت کا پتھر ہے“۔
اخبرني ابراهيم بن يعقوب، قال حدثنا موسى بن داود، عن حماد بن سلمة، عن عطاء بن السايب، عن سعيد بن جبير، عن ابن عباس، ان النبي صلى الله عليه وسلم قال " الحجر الاسود من الجنة
سوید بن غفلہ سے روایت ہے کہ عمر رضی اللہ عنہما نے ( حجر اسود ) کا بوسہ لیا، اور اس سے چمٹے، اور کہا: میں نے ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم کو تجھ پر مہربان دیکھا ہے۔
اخبرنا محمود بن غيلان، قال حدثنا وكيع، قال حدثنا سفيان، عن ابراهيم بن عبد الاعلى، عن سويد بن غفلة، ان عمر، قبل الحجر والتزمه وقال رايت ابا القاسم صلى الله عليه وسلم بك حفيا
عابس بن ربیعہ کہتے ہیں کہ میں نے عمر رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ وہ حجر اسود کے پاس آئے اور کہا: میں جانتا ہوں کہ تو پتھر ہے اور اگر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تجھے بوسہ لیتے ہوئے نہ دیکھا ہوتا تو میں تجھے بوسہ نہ لیتا، پھر وہ اس سے قریب ہوئے، اور اسے بوسہ لیا۔
اخبرنا اسحاق بن ابراهيم، قال انبانا عيسى بن يونس، وجرير، عن الاعمش، عن ابراهيم، عن عابس بن ربيعة، قال رايت عمر جاء الى الحجر فقال اني لاعلم انك حجر ولولا اني رايت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقبلك ما قبلتك . ثم دنا منه فقبله