Loading...

Loading...
کتب
۳۴۵ احادیث
ابوہریرہ رضی الله عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کہتے تھے: ”سنو! رمضان کے مہینہ سے ایک یا دو روز پہلے روزہ مت رکھو، البتہ جو شخص پہلے سے روزہ رکھتا رہا ہو تو وہ رکھے“۔
اخبرنا عبد الملك بن شعيب بن الليث بن سعد، قال اخبرني ابي، عن جدي، قال اخبرني شعيب بن اسحاق، عن الاوزاعي، وابن ابي عروبة، عن يحيى بن ابي كثير، عن ابي سلمة، عن ابي هريرة، عن رسول الله صلى الله عليه وسلم انه كان يقول " الا لا تقدموا الشهر بيوم او اثنين الا رجل كان يصوم صياما فليصمه
(تابعی) سعید بن مسیب کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے رمضان میں ( رات کو ) ایمان کے ساتھ اور ثواب چاہنے کے لیے قیام اللیل کیا، یعنی نماز تراویح پڑھی اس کے پچھلے گناہ بخش دئیے جائیں گے“۔
اخبرنا محمد بن عبد الله بن عبد الحكم، عن شعيب، عن الليث، قال انبانا خالد، عن ابن ابي هلال، عن ابن شهاب، عن سعيد بن المسيب، عن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " من قام رمضان ايمانا واحتسابا غفر له ما تقدم من ذنبه
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کو بغیر کوئی تاکیدی حکم دئیے رمضان ( کی راتوں میں ) قیام کی ترغیب دیتے، آپ فرماتے: ”جس نے رمضان میں ( رات کو ) ایمان کے ساتھ اور ثواب چاہنے کے لیے قیام کیا، یعنی نماز تراویح پڑھی اس کے پچھلے گناہ بخش دئیے جائیں گے“۔
اخبرنا محمد بن جبلة، قال حدثنا المعافى، قال حدثنا موسى، عن اسحاق بن راشد، عن الزهري، قال اخبرني عروة بن الزبير، ان عايشة، زوج النبي صلى الله عليه وسلم اخبرته ان رسول الله صلى الله عليه وسلم كان يرغب الناس في قيام رمضان من غير ان يامرهم بعزيمة امر فيه فيقول " من قام رمضان ايمانا واحتسابا غفر له ما تقدم من ذنبه
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آدھی رات کو نکلے، اور آپ نے مسجد میں نماز پڑھائی۔ راوی نے پوری حدیث بیان کی، اس میں یہ بھی تھا کہ انہوں نے کہا: ـ آپ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کو بغیر کوئی تاکیدی حکم دیئے رمضان ( کی راتوں میں ) قیام یعنی صلاۃ تراویح پڑھنے کی ترغیب دیتے، اور فرماتے: ”جس نے شب قدر میں ایمان کے ساتھ اور ثواب چاہنے کے لیے قیام کیا، یعنی صلاۃ تراویح پڑھی اس کے پچھلے گناہ بخش دئیے جائیں گے“، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وفات پا گئے، اور معاملہ اسی پر قائم رہا ۱؎۔
اخبرنا زكريا بن يحيى، قال انبانا اسحاق، قال انبانا عبد الله بن الحارث، عن يونس الايلي، عن الزهري، قال اخبرني عروة بن الزبير، ان عايشة، اخبرته ان رسول الله صلى الله عليه وسلم خرج في جوف الليل يصلي في المسجد فصلى بالناس وساق الحديث وفيه قالت فكان يرغبهم في قيام رمضان من غير ان يامرهم بعزيمة ويقول " من قام ليلة القدر ايمانا واحتسابا غفر له ما تقدم من ذنبه " . قال فتوفي رسول الله صلى الله عليه وسلم والامر على ذلك
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو رمضان کے بارے میں فرماتے سنا: ”جس نے اس میں ایمان کے ساتھ اور ثواب کی نیت سے قیام کیا، یعنی صلاۃ تراویح پڑھی اس کے پچھلے گناہ بخش دئیے جائیں گے“۔
اخبرنا الربيع بن سليمان، قال حدثنا ابن وهب، قال اخبرني يونس، عن ابن شهاب، قال اخبرني ابو سلمة بن عبد الرحمن، ان ابا هريرة، قال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول في رمضان " من قامه ايمانا واحتسابا غفر له ما تقدم من ذنبه
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آدھی رات کو نکلے تو مسجد میں نماز پڑھی۔ راوی نے پوری حدیث بیان کی، اس میں ہے: اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں بغیر تاکیدی حکم دیئے رمضان میں قیام اللیل کرنے یعنی تہجد پڑھنے کی ترغیب دلاتے تھے، اور فرماتے تھے: ”جس نے ایمان کے ساتھ اور ثواب کی نیت سے رمضان میں قیام اللیل کیا یعنی تراویح پڑھی تو اس کے پچھلے گناہ بخش دئیے جائیں گے“۔
اخبرني محمد بن خالد، قال حدثنا بشر بن شعيب، عن ابيه، عن الزهري، قال اخبرني عروة بن الزبير، ان عايشة، اخبرته ان رسول الله صلى الله عليه وسلم خرج من جوف الليل فصلى في المسجد وساق الحديث وقال فيه وكان رسول الله صلى الله عليه وسلم يرغبهم في قيام رمضان من غير ان يامرهم بعزيمة امر فيه فيقول " من قام رمضان ايمانا واحتسابا غفر له ما تقدم من ذنبه
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو رمضان کے متعلق فرماتے سنا: ”جس نے اس میں ایمان کے ساتھ اور ثواب کی نیت سے قیام اللیل کی، یعنی تہجد پڑھی تو اس کے پچھلے گناہ بخش دئیے جائیں گے“۔
اخبرنا محمد بن خالد، قال حدثنا بشر بن شعيب، عن ابيه، عن الزهري، قال حدثنا ابو سلمة بن عبد الرحمن، ان ابا هريرة، قال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول لرمضان " من قامه ايمانا واحتسابا غفر له ما تقدم من ذنبه
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے رمضان میں ایمان کے ساتھ ثواب کی نیت سے قیام اللیل کیا یعنی تہجد پڑھی اس کے پچھلے گناہ بخش دئیے جائیں گے“۔
اخبرنا ابو داود، قال حدثنا يعقوب بن ابراهيم، قال حدثنا ابي، عن صالح، عن ابن شهاب، ان ابا سلمة، اخبره ان ابا هريرة قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من قام رمضان ايمانا واحتسابا غفر له ما تقدم من ذنبه
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کو بغیر کوئی تاکیدی حکم دئیے، رمضان میں قیام اللیل کی ترغیب دلاتے تھے، ( اور ) فرماتے: ”جس نے ایمان کے ساتھ ثواب کی نیت سے رمضان میں قیام اللیل کی، یعنی نماز تراویح پڑھی اس کے پچھلے گناہ بخش دئیے جائیں گے“۔
اخبرنا نوح بن حبيب، قال حدثنا عبد الرزاق، قال انبانا معمر، عن الزهري، عن ابي سلمة، عن ابي هريرة، قال كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يرغب في قيام رمضان من غير ان يامرهم بعزيمة قال " من قام رمضان ايمانا واحتسابا غفر له ما تقدم من ذنبه
اخبرنا قتيبة، عن مالك، عن ابن شهاب، عن حميد بن عبد الرحمن، عن ابي هريرة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " من قام رمضان ايمانا واحتسابا غفر له ما تقدم من ذنبه
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے رمضان میں ایمان کے ساتھ ثواب کی نیت سے قیام اللیل کیا، یعنی نماز تراویح پڑھی اس کے پچھلے گناہ بخش دئیے جائیں“۔
اخبرنا محمد بن سلمة، قال حدثنا ابن القاسم، عن مالك، قال حدثني ابن شهاب، عن حميد بن عبد الرحمن، عن ابي هريرة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " من قام رمضان ايمانا واحتسابا غفر له ما تقدم من ذنبه
اخبرني محمد بن اسماعيل، قال حدثنا عبد الله بن محمد بن اسماء، قال حدثنا جويرية، عن مالك، قال الزهري اخبرني ابو سلمة بن عبد الرحمن، وحميد بن عبد الرحمن، عن ابي هريرة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " من قام رمضان ايمانا واحتسابا غفر له ما تقدم من ذنبه
ابوہریرہ رضی الله عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے رمضان میں روزے رکھے، ( اور قتیبہ کی روایت میں ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے رمضان کے مہینہ میں ایمان کے ساتھ ثواب کی نیت سے قیام اللیل کیا، یعنی نماز تراویح پڑھی، اس کے پچھلے گناہ بخش دئیے جائیں گے، اور جو شب قدر میں ایمان کے ساتھ ثواب کی نیت سے قیام اللیل کیا، یعنی نماز تراویح پڑھی، اس کے ( بھی ) پچھلے گناہ بخش دئیے جائیں گے“۔
اخبرنا قتيبة، ومحمد بن عبد الله بن يزيد، قالا حدثنا سفيان، عن الزهري، عن ابي سلمة، عن ابي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " من صام رمضان " . وفي حديث قتيبة ان النبي صلى الله عليه وسلم قال " من قام شهر رمضان ايمانا واحتسابا غفر له ما تقدم من ذنبه ومن قام ليلة القدر ايمانا واحتسابا غفر له ما تقدم من ذنبه
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے رمضان میں ایمان کے ساتھ ثواب کی نیت سے روزہ رکھا تو اس کے پچھلے گناہ بخش دئیے جائیں گے“۔
اخبرنا قتيبة، قال حدثنا سفيان، عن الزهري، عن ابي سلمة، عن ابي هريرة، ان النبي صلى الله عليه وسلم قال " من صام رمضان ايمانا واحتسابا غفر له ما تقدم من ذنبه
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے رمضان میں ایمان کے ساتھ ثواب کی نیت سے روزہ رکھا، اس کے پچھلے گناہ بخش دئیے جائیں گے“۔
اخبرنا اسحاق بن ابراهيم، قال حدثنا سفيان، عن الزهري، عن ابي سلمة، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من صام رمضان ايمانا واحتسابا غفر له ما تقدم من ذنبه
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے رمضان میں ایمان کے ساتھ ثواب کی نیت سے روزہ رکھا، اس کے پچھلے گناہ بخش دئیے جائیں گے“۔
اخبرنا علي بن المنذر، قال حدثنا ابن فضيل، قال حدثنا يحيى بن سعيد، عن ابي سلمة، عن ابي هريرة، رضى الله عنه قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من صام رمضان ايمانا واحتسابا غفر له ما تقدم من ذنبه
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے رمضان میں ایمان کے ساتھ ثواب کی نیت سے قیام کرے گا، اس کے پچھلے گناہ بخش دئیے جائیں گے، اور جو شب قدر میں ایمان کے ساتھ ثواب کی نیت سے قیام کرے گا اس کے ( بھی ) پچھلے گناہ بخش دئیے جائیں گے“۔
اخبرني محمد بن عبد الاعلى، ومحمد بن هشام، وابو الاشعث، - واللفظ له - قالوا حدثنا خالد، قال حدثنا هشام، عن يحيى بن ابي كثير، عن ابي سلمة بن عبد الرحمن، قال حدثني ابو هريرة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " من قام رمضان ايمانا واحتسابا غفر له ما تقدم من ذنبه ومن قام ليلة القدر ايمانا واحتسابا غفر له ما تقدم من ذنبه
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے رمضان کے مہینہ میں ایمان کے ساتھ ثواب کی نیت سے قیام اللیل کیا، یعنی نماز تراویح پڑھی، اس کے پچھلے گناہ بخش دیے جائیں گے، اور جو شب قدر میں ایمان کے ساتھ ثواب کی نیت سے ( عبادت پر ) کمربستہ ہو گا اس کے ( بھی ) پچھلے گناہ بخش دئیے جائیں گے“۔
اخبرني محمود بن خالد، عن مروان، انبانا معاوية بن سلام، عن يحيى بن ابي كثير، عن ابي سلمة، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من قام شهر رمضان ايمانا واحتسابا غفر له ما تقدم من ذنبه ومن قام ليلة القدر ايمانا واحتسابا غفر له ما تقدم من ذنبه
نصر بن علی کہتے ہیں: مجھ سے نضر بن شیبان نے بیان کیا کہ وہ ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن سے ملے، تو ان سے انہوں نے کہا: آپ نے ماہ رمضان کے سلسلے میں جو سب سے افضل قابل ذکر چیز سنی ہوا سے بیان کیجئے تو ابوسلمہ نے کہا: مجھ سے عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہوئے بیان کیا کہ آپ نے ماہ رمضان کا ذکر کیا تو اسے تمام مہینوں میں افضل قرار دیا اور فرمایا: ”جس نے رمضان میں ایمان کے ساتھ ثواب کی نیت سے قیام اللیل کیا، یعنی نماز تراویح پڑھی، تو وہ اپنے گناہوں سے ایسے ہی نکل جائے گا جیسے اس کی ماں نے اسے آج ہی جنا ہو“۔ ابوعبدالرحمٰن ( نسائی ) کہتے ہیں: یہ غلط ہے «أبوسلمة حدثني عبدالرحمٰن» کے بجائے صحیح «أبوسلمة عن أبي هريرة» ہے۔
اخبرنا اسحاق بن ابراهيم، قال حدثنا الفضل بن دكين، قال حدثنا نصر بن علي، قال حدثني النضر بن شيبان، انه لقي ابا سلمة بن عبد الرحمن فقال له حدثني بافضل، شىء سمعته يذكر، في شهر رمضان . فقال ابو سلمة حدثني عبد الرحمن بن عوف، عن رسول الله صلى الله عليه وسلم انه ذكر شهر رمضان ففضله على الشهور وقال " من قام رمضان ايمانا واحتسابا خرج من ذنوبه كيوم ولدته امه " . قال ابو عبد الرحمن هذا خطا والصواب ابو سلمة عن ابي هريرة
اس سند سے بھی ابوسلمہ سے اسی کے مثل حدیث مروی ہے اس میں «من صامه وقامه إيمانا واحتسابا» ہے۔
اخبرنا اسحاق بن ابراهيم، قال انبانا النضر بن شميل، قال انبانا القاسم بن الفضل، قال حدثنا النضر بن شيبان، عن ابي سلمة، فذكر مثله وقال " من صامه وقامه ايمانا واحتسابا