Loading...

Loading...
کتب
۳۴۵ احادیث
نضر بن شیبان کہتے ہیں: میں نے ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن سے کہا کہ آپ مجھ سے ماہ رمضان کے متعلق کوئی ایسی بات بیان کریں جو آپ نے اپنے والد ( عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ ) سے سنی ہو، اور اسے آپ کے والد نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سنا ہو، آپ کے والد اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بیچ کوئی اور حائل نہ ہو۔ انہوں نے کہا: اچھا سنو! مجھ سے میرے والد نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیشک اللہ تبارک و تعالیٰ نے تم پر رمضان کے روزے فرض کیے ہیں، اور میں نے تمہارے لیے اس میں قیام کرنے کو سنت قرار دیا ہے اس میں جو شخص ایمان کے ساتھ ثواب کی نیت سے روزہ رکھے گا اور ( عبادت پر ) کمربستہ ہو گا تو وہ اپنے گناہوں سے ایسے نکل جائے گا جیسے اس کی ماں نے اسے آج ہی جنا ہو“۔
اخبرنا محمد بن عبد الله بن المبارك، قال حدثنا ابو هشام، قال حدثنا القاسم بن الفضل، قال حدثنا النضر بن شيبان، قال قلت لابي سلمة بن عبد الرحمن حدثني بشىء، سمعته من، ابيك سمعه ابوك، من رسول الله صلى الله عليه وسلم ليس بين ابيك وبين رسول الله صلى الله عليه وسلم احد في شهر رمضان . قال نعم حدثني ابي قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ان الله تبارك وتعالى فرض صيام رمضان عليكم وسننت لكم قيامه فمن صامه وقامه ايمانا واحتسابا خرج من ذنوبه كيوم ولدته امه
علی بن ابی طالب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تبارک و تعالیٰ کہتا ہے: روزہ میرے لیے ہے، اور میں ہی اس کا بدلہ دوں گا۔ اور روزے دار کے لیے دو خوشیاں ہیں: ایک جس وقت وہ روزہ کھولتا ہے، اور دوسری جس وقت وہ اپنے رب سے ملے گا، اور قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے۔ روزے دار کے منہ کی بو اللہ کے نزدیک مشک کی بو سے بھی زیادہ پاکیزہ ہے“۔
اخبرني هلال بن العلاء، قال حدثنا ابي قال، حدثنا عبيد الله، عن زيد، عن ابي اسحاق، عن عبد الله بن الحارث، عن علي بن ابي طالب، عن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " ان الله تبارك وتعالى يقول الصوم لي وانا اجزي به وللصايم فرحتان حين يفطر وحين يلقى ربه والذي نفسي بيده لخلوف فم الصايم اطيب عند الله من ريح المسك
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ عزوجل فرماتا ہے: روزہ خاص میرے لیے ہے اور میں ہی اس کا بدلہ دوں گا، اور روزے دار کے لیے دو خوشیاں ہیں: ایک وقت وہ اپنے رب سے ملے گا، اور دوسری خوشی وہ جو اسے روزہ کھولنے کے وقت حاصل ہوتی ہے۔ اور روزے دار کے منہ کی بو اللہ کے نزدیک مشک کی بو سے بھی زیادہ پاکیزہ ہے۔
اخبرنا محمد بن بشار، قال حدثنا محمد، قال حدثنا شعبة، عن ابي اسحاق، عن ابي الاحوص، قال عبد الله " قال الله عز وجل الصوم لي وانا اجزي به وللصايم فرحتان فرحة حين يلقى ربه وفرحة عند افطاره ولخلوف فم الصايم اطيب عند الله من ريح المسك
ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ کہتا ہے: روزہ میرے لیے ہے۔ اور میں ہی اس کا بدلہ دوں گا، اور روزہ دار کے لیے دو خوشیاں ہیں: ایک جب وہ افطار کرتا ہے تو خوش ہوتا ہے، اور ( دوسری ) جب وہ ( قیامت میں ) اللہ سے ملے گا اور وہ اسے بدلہ دے گا تو وہ خوش ہو گا، اور قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے، روزہ دار کے منہ کی بو اللہ کے نزدیک مشک کی بو سے بھی زیادہ پاکیزہ ہے“۔
اخبرنا علي بن حرب، قال حدثنا محمد بن فضيل، قال حدثنا ابو سنان، ضرار بن مرة عن ابي صالح، عن ابي سعيد، قال قال النبي صلى الله عليه وسلم " ان الله تبارك وتعالى يقول الصوم لي وانا اجزي به وللصايم فرحتان اذا افطر فرح واذا لقي الله فجزاه فرح والذي نفس محمد بيده لخلوف فم الصايم اطيب عند الله من ريح المسك
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” ( اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ) روزہ میرے لیے ہے، اور میں ہی اس کا بدلہ دوں گا، روزہ دار دو بار خوش ہوتا ہے: ایک اپنے روزے کو کھولنے کے وقت، اور دوسرے جس دن وہ اللہ سے ملے گا، اور روزہ دار کے منہ کی بو اللہ کے یہاں مشک کی بو سے بھی زیادہ پاکیزہ ہے“۔
اخبرنا سليمان بن داود، عن ابن وهب، قال اخبرني عمرو، ان المنذر بن عبيد، حدثه عن ابي صالح السمان، عن ابي هريرة، عن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " الصيام لي وانا اجزي به والصايم يفرح مرتين عند فطره ويوم يلقى الله وخلوف فم الصايم اطيب عند الله من ريح المسك
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ابن آدم جو بھی نیکی کرتا ہے ان اس کے لیے دس سے لے کر سات سو گنا تک بڑھا کر لکھی جاتی ہیں۔ اللہ عزوجل فرماتا ہے: سوائے روزے کے کیونکہ وہ میرے لیے ہے اور میں ہی اس کا بدلہ دوں گا، وہ اپنی شہوت اور اپنا کھانا پینا میری خاطر چھوڑتا ہے، روزہ ڈھال ہے، روزہ دار کے لیے دو خوشیاں ہیں۔ ایک خوشی اسے اپنے افطار کے وقت حاصل ہوتی ہے اور دوسری خوشی اسے اپنے رب سے ملنے کے وقت حاصل ہو گی، اور روزہ دار کے منہ کی بو اللہ کے نزدیک مشک کی بو سے زیادہ پاکیزہ ہے“۔
اخبرنا اسحاق بن ابراهيم، قال انبانا جرير، عن الاعمش، عن ابي صالح، عن ابي هريرة، عن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " ما من حسنة عملها ابن ادم الا كتب له عشر حسنات الى سبعماية ضعف قال الله عز وجل الا الصيام فانه لي وانا اجزي به يدع شهوته وطعامه من اجلي الصيام جنة للصايم فرحتان فرحة عند فطره وفرحة عند لقاء ربه ولخلوف فم الصايم اطيب عند الله من ريح المسك
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ابن آدم کا ہر عمل اس کے لیے ہے سوائے روزے کے، وہ میرے لیے ہے اور میں ہی اس کا بدلہ دوں گا، روزہ ڈھال ہے، جب تم میں سے کسی کے روزے کا دن ہو تو فحش گوئی نہ کرے، شور و شغب نہ کرے، اگر کوئی اسے گالی دے یا اس سے مار پیٹ کرے تو اس سے کہہ دے ( بھائی ) میں روزے سے ہوں، ( مار پیٹ گالی گلوچ کچھ نہیں کر سکتا ) اور قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے، روزہ دار کے منہ کی بو اللہ تعالیٰ کے یہاں قیامت کے دن مشک کی بو سے زیادہ پاکیزہ ہو گی، روزہ دار کے لیے دو خوشیاں ہیں جن سے وہ خوش ہوتا ہے: ایک جب وہ روزہ کھولتا ہے تو اپنے روزہ کھولنے سے خوش ہوتا ہے، اور دوسری جب وہ اپنے بزرگ و برتر رب سے ملے گا تو اپنے روزہ ( کا ثواب ) دیکھ کر خوش ہو گا“۔
اخبرني ابراهيم بن الحسن، عن حجاج، قال قال ابن جريج اخبرني عطاء، عن ابي صالح الزيات، انه سمع ابا هريرة، يقول قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " كل عمل ابن ادم له الا الصيام هو لي وانا اجزي به والصيام جنة اذا كان يوم صيام احدكم فلا يرفث ولا يصخب فان شاتمه احد او قاتله فليقل اني صايم والذي نفس محمد بيده لخلوف فم الصايم اطيب عند الله يوم القيامة من ريح المسك للصايم فرحتان يفرحهما اذا افطر فرح بفطره واذا لقي ربه عز وجل فرح بصومه
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ابن آدم کا ہر عمل اسی کے لیے ہوتا ہے سوائے روزے کے، وہ خالص میرے لیے ہے، اور میں خود ہی اسے اس کا بدلہ دوں گا، روزہ ڈھال ہے، تو جب تم میں سے کسی کے روزے کا دن ہو تو فحش اور لایعنی بات نہ کرے، اور نہ ہی شور و غل مچائے، اگر کوئی اس سے گالی گلوچ کرے یا اس کے ساتھ مار پیٹ کرے تو اس سے کہے: میں روزہ دار آدمی ہوں ( گالی گلوچ مار پیٹ نہیں کر سکتا ) قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے روزہ دار کے منہ کی بو اللہ کے نزدیک مشک کی بوسے زیادہ عمدہ ہے۔ یہ حدیث ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سعید بن مسیب نے روایت کی ہے ( جو آگے آ رہی ہے ) ۔
اخبرنا محمد بن حاتم، قال انبانا سويد، قال انبانا عبد الله، عن ابن جريج، قراءة عليه عن عطاء بن ابي رباح، قال اخبرني عطاء الزيات، انه سمع ابا هريرة، يقول قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " قال الله عز وجل كل عمل ابن ادم له الا الصيام هو لي وانا اجزي به الصيام جنة فاذا كان يوم صوم احدكم فلا يرفث ولا يصخب فان شاتمه احد او قاتله فليقل اني امرو صايم والذي نفس محمد بيده لخلوف فم الصايم اطيب عند الله من ريح المسك " . وقد روى هذا الحديث عن ابي هريرة سعيد بن المسيب
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: آدمی کا ہر عمل اسی کے لیے ہے، سوائے روزہ کے وہ میرے لیے ہے، اور میں خود ہی اس کا بدلہ دوں گا اور قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے، روزہ دار کے منہ کی بو اللہ کے نزدیک مشک کی بو سے بھی زیادہ پاکیزہ ہے“۔
اخبرنا الربيع بن سليمان، قال حدثنا ابن وهب، قال اخ��رني يونس، عن ابن شهاب، قال حدثني سعيد بن المسيب، ان ابا هريرة، قال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " قال الله عز وجل كل عمل ابن ادم له الا الصيام هو لي وانا اجزي به والذي نفس محمد بيده لخلفة فم الصايم اطيب عند الله من ريح المسك
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” ( اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ) ہر وہ نیکی جسے آدمی کرتا ہے تو اسے اس کے بدلے دس نیکیاں ملتی ہے، سوائے روزے کے، روزہ خاص میرے لیے ہے اور میں خود ہی اس کا بدلہ دوں گا“۔
اخبرنا احمد بن عيسى، قال حدثنا ابن وهب، عن عمرو، عن بكير، عن سعيد بن المسيب، عن ابي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " كل حسنة يعملها ابن ادم فله عشر امثالها الا الصيام لي وانا اجزي به
ابو امامہ رضی الله عنہ کہتے ہیں میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، اور آپ سے عرض کیا کہ مجھے کوئی ایسا حکم دیجئیے جسے میں آپ سے براہ راست اخذ کروں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنے اوپر روزہ لازم کر لو کیونکہ اس کے برابر کوئی ( عبادت ) نہیں ہے“ ۱؎۔
اخبرنا عمرو بن علي، عن عبد الرحمن، قال حدثنا مهدي بن ميمون، قال اخبرني محمد بن عبد الله بن ابي يعقوب، قال اخبرني رجاء بن حيوة، عن ابي امامة، قال اتيت رسول الله صلى الله عليه وسلم فقلت مرني بامر اخذه عنك . قال " عليك بالصوم فانه لا مثل له
ابوامامہ باہلی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! مجھے کسی ایسی چیز کا حکم دیجئیے جس سے اللہ تعالیٰ مجھے فائدہ پہنچائے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”روزے کو لازم پکڑو کیونکہ اس کے برابر کوئی ( عبادت ) نہیں ہے“۔
اخبرنا الربيع بن سليمان، قال انبانا ابن وهب، قال اخبرني جرير بن حازم، ان محمد بن عبد الله بن ابي يعقوب الضبي، حدثه عن رجاء بن حيوة، قال حدثنا ابو امامة الباهلي، قال قلت يا رسول الله مرني بامر ينفعني الله به . قال " عليك بالصيام فانه لا مثل له
ابوامامہ باہلی رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: کون سا عمل افضل ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”روزے کو لازم پکڑو کیونکہ اس کے برابر کوئی عمل نہیں ہے“۔
اخبرني عبد الله بن محمد الضعيف، - شيخ صالح والضعيف لقب لكثرة عبادته - قال اخبرنا يعقوب الحضرمي قال حدثنا شعبة عن محمد بن عبد الله بن ابي يعقوب عن ابي نصر عن رجاء بن حيوة عن ابي امامة انه سال رسول الله صلى الله عليه وسلم اى العمل افضل قال " عليك بالصوم فانه لا عدل له
ابوامامہ باہلی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! مجھے کسی کام کا حکم فرمایئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”روزے کو لازم پکڑو کیونکہ اس جیسا کوئی ( عمل ) نہیں ہے“۔ میں نے ( پھر ) عرض کیا: اللہ کے رسول! مجھے کسی کام کا حکم دیجئیے! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”روزے کو لازم پکڑو کیونکہ اس کے برابر کوئی عمل نہیں ہے“۔
اخبرنا يحيى بن محمد، - هو ابن السكن ابو عبيد الله - قال حدثنا يحيى بن كثير، قال حدثنا شعبة، عن محمد بن ابي يعقوب الضبي، عن ابي نصر الهلالي، عن رجاء بن حيوة، عن ابي امامة، قال قلت يا رسول الله مرني بعمل . قال " عليك بالصوم فانه لا عدل له " . قلت يا رسول الله مرني بعمل . قال " عليك بالصوم فانه لا عدل له
معاذ بن جبل رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”روزہ ڈھال ہے“۔
اخبرنا محمد بن اسماعيل بن سمرة، قال حدثنا المحاربي، عن فطر، اخبرني حبيب بن ابي ثابت، عن الحكم بن عتيبة، عن ميمون بن ابي شبيب، عن معاذ بن جبل، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " الصوم جنة
معاذ بن جبل رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”روزہ ڈھال ہے“ ۱؎۔
اخبرنا محمد بن المثنى، قال حدثنا يحيى بن حماد، قال حدثنا ابو عوانة، عن سليمان، عن حبيب بن ابي ثابت، والحكم، عن ميمون بن ابي شبيب، عن معاذ بن جبل، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " الصوم جنة
معاذ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”روزہ ڈھال ہے“۔
اخبرنا محمد بن المثنى، ومحمد بن بشار، قالا حدثنا محمد، قال حدثنا شعبة، عن الحكم، قال سمعت عروة بن النزال، يحدث عن معاذ، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " الصوم جنة
شعبہ کہتے ہیں کہ حکم نے مجھ سے کہا کہ میں نے یہ حدیث ان سے یعنی معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے چالیس سال پہلے سنی تھی، پھر حکم نے کہا نیز مجھ سے اسے میمون بن ابی شبیب نے بیان کیا انہوں نے معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔
اخبرني ابراهيم بن الحسن، عن حجاج، عن شعبة، قال لي الحكم سمعته منه، منذ اربعين سنة ثم قال الحكم وحدثني به ميمون بن ابي شبيب عن معاذ بن جبل
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”روزہ ڈھال ہے“۔
اخبرنا ابراهيم بن الحسن، عن حجاج، قال ابن جريج اخبرني عطاء، عن ابي صالح الزيات، انه سمع ابا هريرة، يقول قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " الصيام جنة
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ”روزہ ڈھال ہے“۔
واخبرنا محمد بن حاتم، انبانا سويد، قال انبانا عبد الله، عن ابن جريج، قراءة عن عطاء، قال انبانا عطاء الزيات، انه سمع ابا هريرة، يقول قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " الصيام جنة