Loading...

Loading...
کتب
۳۴۵ احادیث
بنی عامر بن صعصعہ کی اولاد میں سے مطرف نامی ایک شخص کہتے ہیں کہ عثمان بن ابی العاص رضی اللہ عنہ نے ان کے لیے دودھ منگوایا تاکہ وہ انہیں پلائیں تو مطرف نے کہا: میں تو روزے سے ہوں۔ تو عثمان رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے: ”روزہ ڈھال ہے جس طرح کہ لڑائی کے موقع پر تم میں سے کسی کے پاس ڈھال ہوتی ہے“۔
اخبرنا قتيبة، قال حدثنا الليث، عن يزيد بن ابي حبيب، عن سعيد بن ابي هند، ان مطرفا، - رجل من بني عامر بن صعصعة - حدثه ان عثمان بن ابي العاص دعا له بلبن ليسقيه فقال مطرف اني صايم فقال عثمان سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " الصيام جنة كجنة احدكم من القتال
مطرف کہتے ہیں کہ میں عثمان بن ابی العاص رضی اللہ عنہ کے پاس آیا تو انہوں نے ( میری ضیافت کے لیے ) دودھ منگوایا، تو میں نے کہا: میں روزے سے ہوں، تو انہوں نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے: ”روزہ آگ سے بچاؤ کے لیے کی ڈھال ہے جس طرح کہ تم میں سے کسی کے پاس لڑائی میں دشمن کے وار سے بچاؤ کے لیے ڈھال ہوتی ہے“۔
اخبرنا علي بن الحسين، قال حدثنا ابن ابي عدي، عن ابن اسحاق، عن سعيد بن ابي هند، عن مطرف، قال دخلت على عثمان بن ابي العاص فدعا بلبن فقلت اني صايم . فقال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " الصوم جنة من النار كجنة احدكم من القتال
سعید بن ابی ہند کہتے ہیں کہ مطرف عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس آئے۔ آگے راوی نے اس طرح کی روایت بیان کی، یہ روایت مرسل ہے۔
اخبرني زكريا بن يحيى، قال حدثنا ابو مصعب، عن المغيرة، عن عبد الله بن سعيد بن ابي هند، عن محمد بن اسحاق، عن سعيد بن ابي هند، قال دخل مطرف على عثمان نحوه مرسل
ابوعبیدہ عامر بن عبداللہ الجراح رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ”روزہ ڈھال ہے جب تک کہ وہ اسے ( جھوٹ و غیبت وغیرہ کے ذریعہ ) پھاڑ نہ دے“۔
اخبرنا يحيى بن حبيب بن عربي، قال حدثنا حماد، قال حدثنا واصل، عن بشار بن ابي سيف، عن الوليد بن عبد الرحمن، عن عياض بن غطيف، قال ابو عبيدة سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " الصوم جنة ما لم يخرقها
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”روزہ جہنم کی آگ سے بچنے کے لیے ڈھال ہے، جو شخص روزہ دار ہو کر صبح کرے تو وہ اس دن جہالت و نادانی کی کوئی بات نہ کرے، اور اگر کوئی شخص اس کے ساتھ جہالت و نادانی کی بات کرنے لگے تو اسے گالی نہ دے، برا بھلا نہ کہے۔ اس کے لیے مناسب ہو گا کہ وہ اس سے کہے، ( بھائی ) میں روزے سے ہوں، ( میں تم سے لڑائی جھگڑا نہیں کر سکتا ) قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کی جان ہے، روزہ دار کے منہ کی بو مشک کی بو سے بھی زیادہ پاکیزہ ہے“۔
اخبرنا محمد بن يزيد الادمي، قال حدثنا معن، عن خارجة بن سليمان، عن يزيد بن رومان، عن عروة، عن عايشة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " الصيام جنة من النار فمن اصبح صايما فلا يجهل يوميذ وان امرو جهل عليه فلا يشتمه ولا يسبه وليقل اني صايم والذي نفس محمد بيده لخلوف فم الصايم اطيب عند الله من ريح المسك
ابوعبیدہ بن الجراح رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ روزہ ڈھال ہے جب تک کہ وہ اسے پھاڑ نہ دے۔
اخبرنا محمد بن حاتم، قال انبانا حبان، قال انبانا عبد الله، عن مسعر، عن الوليد بن ابي مالك، قال حدثنا اصحابنا، عن ابي عبيدة، قال الصيام جنة ما لم يخرقها
سہل بن سعد ساعدی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”روزہ دار کے لیے جنت میں ایک دروازہ ہے جسے ریان کہا جاتا ہے، روزہ دار کے سوا کوئی اور اس دروازے سے داخل نہیں ہو گا، اور جب آخری روزہ دار دروازہ کے اندر پہنچ جائے گا تو دروازہ بند کر دیا جائے گا، جو وہاں پہنچ جائے گا وہ پئے گا اور جو پئے گا، وہ پھر کبھی پیاسا نہ ہو گا“۔
اخبرنا علي بن حجر، قال انبانا سعيد بن عبد الرحمن، عن ابي حازم، عن سهل بن سعد، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " للصايمين باب في الجنة يقال له الريان لا يدخل فيه احد غيرهم فاذا دخل اخرهم اغلق من دخل فيه شرب ومن شرب لم يظما ابدا
سہل رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ جنت میں ایک دروازہ ہے جسے ریان کہا جاتا ہے، قیامت کے دن پکار کر کہا جائے گا، روزہ دارو! کہاں ہو؟ کیا تمہیں ریان کی طرف آنے کی رغبت ہے؟ جو شخص اس میں داخل ہو گا، اور ( اس کے چشمے ( ریان ) کا پانی پئے گا ) وہ پھر کبھی پیاسا نہ ہو گا، جب وہ داخل ہو جائیں گے تو وہ بند کر دیا جائے گا۔ اس دروازے سے روزہ دار کے سوا کوئی اور داخل نہ ہو گا۔
اخبرنا قتيبة، قال حدثنا يعقوب، عن ابي حازم، قال حدثني سهل، ان في الجنة، بابا يقال له الريان يقال يوم القيامة اين الصايمون هل لكم الى الريان من دخله لم يظما ابدا فاذا دخلوا اغلق عليهم فلم يدخل فيه احد غيرهم
ابوہریرہ رضی الله عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص اللہ کی راہ میں جوڑا دے گا ۱؎ اسے جنت میں بلا کر پکارا جائے گا، اے اللہ کے بندے! یہ تیری نیکی ہے، تو جو شخص نمازی ہو گا وہ صلاۃ کے دروازے سے بلایا جائے گا، اور جو مجاہدین میں سے ہو گا وہ جہاد والے دروازہ سے بلایا جائے گا، اور جو صدقہ دینے والوں میں سے ہو گا وہ صدقہ والے دروازے سے بلایا جائے گا، اور جو روزہ داروں میں سے ہو گا وہ باب ریان سے بلایا جائے گا۔ ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کسی کے لیے ضرورت تو ۲؎ نہیں کہ وہ ان سبھی دروازوں سے بلایا جائے، لیکن کیا کوئی ان سبھی دروازوں سے بھی بلایا جائے گا؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں اور مجھے امید ہے کہ تم انہیں لوگوں میں سے ہو گے“۔
اخبرنا احمد بن عمرو بن السرح، والحارث بن مسكين، قراءة عليه وانا اسمع، عن ابن وهب، قال اخبرني مالك، ويونس، عن ابن شهاب، عن حميد بن عبد الرحمن، عن ابي هريرة، عن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " من انفق زوجين في سبيل الله عز وجل نودي في الجنة يا عبد الله هذا خير فمن كان من اهل الصلاة يدعى من باب الصلاة ومن كان من اهل الجهاد يدعى من باب الجهاد ومن كان من اهل الصدقة يدعى من باب الصدقة ومن كان من اهل الصيام دعي من باب الريان " . قال ابو بكر الصديق يا رسول الله ما على احد يدعى من تلك الابواب من ضرورة فهل يدعى احد من تلك الابواب كلها قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " نعم وارجو ان تكون منهم
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے، اور ہم سب نوجوان تھے۔ ہم ( جوانی کے جوش میں ) کسی چیز پر قابو نہیں رکھ پاتے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے نوجوانوں کی جماعت! تم اپنے اوپر شادی کرنے کو لازم پکڑو کیونکہ یہ نظر کو نیچی اور شرمگاہ کو محفوظ رکھنے کا ذریعہ ہے، اور جو نہ کر سکتا ہو ( یعنی نان، نفقے کا بوجھ نہ اٹھا سکتا ہو ) وہ اپنے اوپر روزہ لازم کر لے کیونکہ یہ اس کے لیے بمنزلہ خصی بنا دینے کے ہے“۔
اخبرنا محمود بن غيلان، قال حدثنا ابو احمد، قال حدثنا سفيان، عن الاعمش، عن عمارة بن عمير، عن عبد الرحمن بن يزيد، عن عبد الله، قال خرجنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم ونحن شباب لا نقدر على شىء قال " يا معشر الشباب عليكم بالباءة فانه اغض للبصر واحصن للفرج ومن لم يستطع فعليه بالصوم فانه له وجاء
علقمہ سے روایت ہے کہ ابن مسعود ( رضی اللہ عنہ ) ، عثمان ( رضی اللہ عنہ ) سے عرفات میں ملے، تو وہ انہیں لے کر تنہائی میں چلے گئے اور ان سے باتیں کیں، عثمان رضی اللہ عنہ نے ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے کہا: کیا آپ کو کسی دوشیزہ کی خواہش ہے کہ میں آپ کی اس سے شادی کرا دوں؟ تو عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے علقمہ کو بھی بلا لیا ( آ جاؤ کوئی خاص بات نہیں ہے اور جب وہ آ گئے ) تو انہوں نے عثمان رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ”جو شخص تم میں سے نان و نفقہ کی طاقت رکھے اسے چاہیئے کہ وہ شادی کر لے کیونکہ یہ چیز نگاہ کو نیچی رکھنے اور شرمگاہ کو محفوظ رکھنے کا بہترین ذریعہ ہے، اور جو طاقت نہ رکھے، تو اسے چاہیئے کہ روزہ رکھے کیونکہ روزہ اس کے لیے «وجاء» ہے“ ( یعنی وہ اسے خصی بنا دے گا، اس کی شہوت کو توڑ دے گا ) ۔
اخبرنا بشر بن خالد، قال حدثنا محمد بن جعفر، عن شعبة، عن سليمان، عن ابراهيم، عن علقمة، ان ابن مسعود، لقي عثمان بعرفات فخلا به فحدثه وان، عثمان قال لابن مسعود هل لك في فتاة ازوجكها فدعا عبد الله علقمة فحدثه ان النبي صلى الله عليه وسلم قال " من استطاع منكم الباءة فليتزوج فانه اغض للبصر واحصن للفرج ومن لم يستطع فليصم فان الصوم له وجاء
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص تم میں سے نان و نفقہ کی طاقت رکھے، تو وہ شادی کر لے اور جو نہ رکھے، وہ اپنے اوپر روزہ لازم کر لے، کیونکہ یہ اس کی شہوت کو توڑ دے گا“۔
اخبرنا هارون بن اسحاق، قال حدثنا المحاربي، عن الاعمش، عن ابراهيم، عن علقمة، والاسود، عن عبد الله، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من استطاع منكم الباءة فليتزوج ومن لم يجد فعليه بالصوم فانه له وجاء
عبدالرحمٰن بن یزید سے روایت ہے کہ ہم عبداللہ ( عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ) کے پاس آئے اور ہمارے ساتھ علقمہ، اسود اور ایک جماعت تھی، تو انہوں نے ہم سے ایک حدیث بیان کی، اور میں سمجھتا ہوں کہ انہوں نے لوگوں کے سامنے وہ حدیث میرے ہی لیے بیان کی تھی کیونکہ میں ان لوگوں میں سب سے زیادہ نوعمر تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے نوجوانوں کی جماعت! جو تم میں بیوی کے نان و نفقہ کی طاقت رکھتا ہو وہ نکاح کر لے، کیونکہ یہ نگاہ کو نیچی اور شرمگاہ کو محفوظ رکھنے والی ہے“۔ علی بن ہاشم ( راوی ) کہتے ہیں کہ اعمش سے ابراہیم والی روایت کے بارے میں پوچھا گیا، سائل نے پوچھا: «عن إبراهيم عن علقمة عن عبداللہ» اسی کے مثل مروی ہے، اعمش نے کہا: ہاں۔
اخبرني هلال بن العلاء بن هلال، قال حدثنا ابي قال، حدثنا علي بن هاشم، عن الاعمش، عن عمارة، عن عبد الرحمن بن يزيد، قال دخلنا على عبد الله ومعنا علقمة والاسود وجماعة فحدثنا بحديث ما رايته حدث به القوم الا من اجلي لاني كنت احدثهم سنا قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " يا معشر الشباب من استطاع منكم الباءة فليتزوج فانه اغض للبصر واحصن للفرج " . قال علي وسيل الاعمش عن حديث ابراهيم فقال عن ابراهيم عن علقمة عن عبد الله مثله قال نعم
علقمہ کہتے ہیں میں ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھا اور وہ عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس تھے تو ثمان رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم چند نوجوانوں کے پاس سے گزرے تو آپ نے فرمایا: ”تم میں سے جو شخص وسعت والا ہو وہ شادی کر لے۔ کیونکہ یہ چیز نگاہ کو نیچی اور شرمگاہ کو محفوظ رکھنے والی ہے، اور جو شخص ایسا نہ ہو تو روزہ اس کی شہوت کو کچل دینے کا ذریعہ ہے“۔ ابوعبدالرحمٰن ( نسائی ) کہتے ہیں: سند میں مذکور ابومعشر کا نام زیاد بن کلیب ہے، وہ ثقہ ہیں اور وہ ابراہیم ( نخعی ) کے تلامذہ میں سے ہیں، اور ان سے منصور، مغیرہ اور شعبہ نے روایت کی ہے۔ اور ( ایک دوسرے ) ابومعشر جو مدنی ہیں ان کا نام نجیح ( نجیح بن عبدالرحمٰن سندی ) ہے، وہ ضعیف ہیں، اور ضعف کے ساتھ اختلاط کا شکار ہو گئے تھے ان کے یہاں کچھ منکر احادیث بھی ہیں جن میں سے ایک وہ ہے جو انہوں نے محمد بن عمرو سے، انہوں نے ابوسلمہ سے، ابوسلمہ نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے، اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا: ”مشرق و مغرب کے درمیان جو ہے وہ قبلہ ہے“ ۱؎۔ نیز اسی میں سے ایک حدیث وہ ہے جو انہوں نے ہشام بن عروہ سے، ہشام نے اپنے والد عروہ سے، عروہ نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے، اور عائشہ رضی اللہ عنہا نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”گوشت چھری سے نہ کاٹو بلکہ نوچ نوچ کر کھاؤ“ ۲؎۔
اخبرنا عمرو بن زرارة، قال انبانا اسماعيل، قال حدثنا يونس، عن ابي معشر، عن ابراهيم، عن علقمة، قال كنت مع ابن مسعود وهو عند عثمان فقال عثمان خرج رسول الله صلى الله عليه وسلم على فتية فقال " من كان منكم ذا طول فليتزوج فانه اغض للبصر واحصن للفرج ومن لا فالصوم له وجاء " . قال ابو عبد الرحمن ابو معشر هذا اسمه زياد بن كليب وهو ثقة وهو صاحب ابراهيم روى عنه منصور ومغيرة وشعبة وابو معشر المدني اسمه نجيح وهو ضعيف ومع ضعفه ايضا كان قد اختلط عنده احاديث مناكير منها محمد بن عمرو عن ابي سلمة عن ابي هريرة عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " ما بين المشرق والمغرب قبلة " . ومنها هشام بن عروة عن ابيه عن عايشة عن النبي صلى الله عليه وسلم " لا تقطعوا اللحم بالسكين ولكن انهسوا نهسا
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے اللہ کی راہ ( یعنی جہاد یا اس کے سفر ) میں ایک دن کا روزہ رکھا، اللہ تعالیٰ اسے اس دن کے بدلے جہنم سے ستر سال کی دوری پر کر دے گا“۔
اخبرنا يونس بن عبد الاعلى، قال اخبرني انس، عن سهيل بن ابي صالح، عن ابيه، عن ابي هريرة، عن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " من صام يوما في سبيل الله عز وجل زحزح الله وجهه عن النار بذلك اليوم سبعين خريفا
ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے اللہ کی راہ میں ایک دن روزہ رکھا اللہ تعالیٰ اس دن کے بدلے اس کے اور جہنم کی آگ کے درمیان ستر سال کی دوری کر دے گا“۔
اخبرنا داود بن سليمان بن حفص، قال حدثنا ابو معاوية الضرير، عن سهيل، عن المقبري، عن ابي سعيد الخدري، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من صام يوما في سبيل الله باعد الله بينه وبين النار بذلك اليوم سبعين خريفا
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے اللہ کی راہ میں ایک دن روزہ رکھا اللہ عزوجل اسے جہنم سے ستر سال کی دوری پر کر دے گا“۔
اخبرنا ابراهيم بن يعقوب، قال حدثنا ابن ابي مريم، قال حدثنا سعيد بن عبد الرحمن، قال اخبرني سهيل، عن ابيه، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من صام يوما في سبيل الله باعد الله عز وجل وجهه عن النار سبعين خريفا
ابو سعید خدری رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے اللہ کی راہ میں ایک دن روزہ رکھا اللہ تعالیٰ اسے جہنم سے ستر سال کی دوری پر کر دے گا“۔
اخبرنا محمد بن بشار، قال حدثنا محمد، قال حدثنا شعبة، عن سهيل، عن صفوان، عن ابي سعيد، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " من صام يوما في سبيل الله عز وجل باعد الله وجهه من جهنم سبعين عاما
ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”جس شخص نے بھی اللہ عزوجل کی راہ میں ایک دن کا روزہ رکھا، اللہ عزوجل اس دن کے بدلے اسے جہنم سے ستر سال کی دوری پر کر دے گا“۔
اخبرنا محمد بن عبد الله بن عبد الحكم، عن شعيب، قال انبانا الليث، عن ابن الهاد، عن سهيل، عن ابن ابي عياش، عن ابي سعيد، انه سمع رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " ما من عبد يصوم يوما في سبيل الله عز وجل الا بعد الله عز وجل بذلك اليوم وجهه عن النار سبعين خريفا
ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے اللہ کی راہ میں ایک دن روزہ رکھا، اللہ اسے جہنم سے ستر سال کی دوری پر کر دے گا“۔
اخبرنا الحسن بن قزعة، عن حميد بن الاسود، قال حدثنا سهيل، عن النعمان بن ابي عياش، قال سمعت ابا سعيد الخدري، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من صام يوما في سبيل الله عز وجل باعده الله عن النار سبعين خريفا