Loading...

Loading...
کتب
۳۴۵ احادیث
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بلال رات ہی میں اذان دیتے ہیں، تاکہ وہ تم میں سونے والوں کو ہوشیار کر دیں، ( تہجد پڑھنے یا سحری کھانے کے لیے ) اور تہجد پڑھنے والوں کو ( گھر ) لوٹا دیں، اور فجر اس طرح ظاہر نہیں ہوتی“، انہوں اپنی ہتھیلی سے اشارہ کیا، ”بلکہ فجر اس طرح ظاہر ہوتی ہے“ انہوں نے اپنی دونوں شہادت کی انگلیوں سے اشارہ کیا۔
اخبرنا عمرو بن علي، قال حدثنا يحيى، قال حدثنا التيمي، عن ابي عثمان، عن ابن مسعود، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " ان بلالا يوذن بليل لينبه نايمكم ويرجع قايمكم وليس الفجر ان يقول هكذا " . واشار بكفه " ولكن الفجر ان يقول هكذا " . واشار بالسبابتين
سمرہ بن جندب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بلال کی اذان تمہیں ہرگز دھوکہ میں نہ ڈالے، اور نہ یہ سفیدی یہاں تک کہ فجر کی روشنی اس طرح اور اس طرح“، یعنی چوڑائی میں پھوٹ پڑے۔ ابوداؤد ( طیالسی ) کہتے ہیں: ( شعبہ ) نے اپنے دونوں ہاتھ دائیں بائیں بڑھا کر پھیلائے۔
اخبرنا محمود بن غيلان، قال حدثنا ابو داود، قال حدثنا شعبة، انبانا سوادة بن حنظلة، قال سمعت سمرة، يقول قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لا يغرنكم اذان بلال ولا هذا البياض حتى ينفجر الفجر هكذا وهكذا " . يعني معترضا . قال ابو داود وبسط بيديه يمينا وشمالا مادا يديه
ابوہریرہ رضی الله عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”رمضان کا مہینہ ( شروع ہونے ) سے پہلے تم روزہ نہ رکھو، سوائے اس آدمی کے جو کسی خاص دن روزہ رکھتا ہو، اور ( اتفاق سے ) وہ دن رمضان کے روزہ سے پہلے آ پڑے“۔
اخبرنا اسحاق بن ابراهيم، قال انبانا الوليد، عن الاوزاعي، عن يحيى، عن ابي سلمة، عن ابي هريرة، عن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " لا تقدموا قبل الشهر بصيام الا رجل كان يصوم صياما اتى ذلك اليوم على صيامه
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ماہ رمضان سے ایک دن یا دو دن پہلے کوئی روزہ نہ رکھے، البتہ جو اس سے پہلے ( اس دن ) روزہ رکھتا رہا ہو تو وہ رکھے“ ۱؎۔
اخبرني عمران بن يزيد بن خالد، قال حدثنا محمد بن شعيب، قال انبانا الاوزاعي، عن يحيى، قال حدثني ابو سلمة، قال اخبرني ابو هريرة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " لا يتقدمن احد الشهر بيوم ولا يومين الا احد كان يصوم صياما قبله فليصمه
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” ( رمضان ) سے ایک دن یا دو دن پہلے روزہ مت رکھو، البتہ سوائے اس کے کہ یہ اس دن آ پڑے جس دن تم میں کا کوئی ( پہلے سے ) روزہ رکھتا رہا ہو“۔ ابوعبدالرحمٰن ( نسائی ) کہتے ہیں: یہ سند غلط ہے۔
اخبرنا محمد بن العلاء، قال حدثنا ابو خالد، عن محمد بن عمرو، عن ابي سلمة، عن ابن عباس، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لا تتقدموا الشهر بصيام يوم ولا يومين الا ان يوافق ذلك يوما كان يصومه احدكم " . قال ابو عبد الرحمن هذا خطا
ام المؤمنین ام سلمہ رضی الله عنہا کہتی ہیں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کبھی لگاتار دو مہینہ روزے رکھتے نہیں دیکھا، البتہ آپ شعبان کو رمضان سے ملا دیتے تھے ۱؎۔
اخبرنا شعيب بن يوسف، ومحمد بن بشار، - واللفظ له - قالا حدثنا عبد الرحمن، قال حدثنا سفيان، عن منصور، عن سالم، عن ابي سلمة، عن ام سلمة، قالت ما رايت رسول الله صلى الله عليه وسلم يصوم شهرين متتابعين الا انه كان يصل شعبان برمضان
ام المؤمنین ام سلمہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم شعبان کو رمضان سے ملا دیتے تھے۔
اخبرنا اسحاق بن ابراهيم، قال انبانا النضر، قال انبانا شعبة، عن توبة العنبري، عن محمد بن ابراهيم، عن ابي سلمة، عن ام سلمة، قالت كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يصل شعبان برمضان
ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن بن عوف کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے روزوں کے متعلق سوال کیا، تو انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ( پے در پے اتنے ) روزے رکھتے کہ ہم سمجھتے ( اب ) آپ روزہ رکھنا بند نہیں کریں گے، اور ( پھر ) اتنے دنوں تک بغیر روزے کے رہتے کہ ہم سمجھتے ( اب ) آپ روزے نہیں رکھیں گے، اور آپ ( پورے ) شعبان میں یا شعبان کے اکثر دنوں میں روزے رکھتے تھے۔
اخبرنا الربيع بن سليمان، قال حدثنا ابن وهب، قال اخبرني اسامة بن زيد، ان محمد بن ابراهيم، حدثه عن ابي سلمة بن عبد الرحمن، انه سال عايشة عن صيام، رسول الله صلى الله عليه وسلم فقالت كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يصوم حتى نقول لا يفطر ويفطر حتى نقول لا يصوم وكان يصوم شعبان او عامة شعبان
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں ہم ( ازواج مطہرات ) میں سے کوئی رمضان میں ( حیض کی وجہ سے ) روزہ نہیں رکھتی تو اس کی قضاء نہیں کر پاتی یہاں تک کہ شعبان آ جاتا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کسی مہینے میں اتنے روزے نہیں رکھتے جتنا شعبان میں رکھتے تھے، آپ چند دن چھوڑ کر پورے ماہ روزے رکھتے، بلکہ ( بسا اوقات ) پورے ( ہی ) ماہ روزے رکھتے۔
اخبرنا احمد بن سعد بن الحكم، قال حدثنا عمي، قال حدثنا نافع بن يزيد، ان ابن الهاد، حدثه ان محمد بن ابراهيم حدثه عن ابي سلمة، - يعني ابن عبد الرحمن - عن عايشة، قالت لقد كانت احدانا تفطر في رمضان فما تقدر على ان تقضي حتى يدخل شعبان وما كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يصوم في شهر ما يصوم في شعبان كان يصومه كله الا قليلا بل كان يصومه كله
ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن بن عوف کہتے ہیں کہ میں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا، میں نے کہا: مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے روزوں کے بارے میں بتائیے؟ تو انہوں نے کہا: آپ ( اس تسلسل سے ) روزے رکھتے کہ ہم سمجھتے اب آپ روزے ہی رکھتے رہیں گے، اور آپ ( اس تسلسل سے ) بلا روزے کے رہتے کہ ہم سمجھتے ( اب ) آپ بغیر روزے ہی کے رہیں گے، آپ کسی مہینے میں شعبان سے زیادہ روزے نہیں رکھتے، سوائے چند دنوں چھوڑ کے آپ پورے شعبان ہی روزے رکھتے۔
اخبرنا محمد بن عبد الله بن يزيد، قال حدثنا سفيان، عن عبد الله بن ابي لبيد، عن ابي سلمة، قال سالت عايشة فقلت اخبريني عن صيام، رسول الله صلى الله عليه وسلم قالت كان يصوم حتى نقول قد صام ويفطر حتى نقول قد افطر ولم يكن يصوم شهرا اكثر من شعبان كان يصوم شعبان الا قليلا كان يصوم شعبان كله
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سال کے کسی مہینے میں شعبان سے زیادہ روزے نہیں رکھتے تھے، آپ ( تقریباً ) پورے شعبان ہی روزے رکھتے تھے۔
اخبرنا اسحاق بن ابراهيم، قال انبانا معاذ بن هشام، قال حدثني ابي، عن يحيى بن ابي كثير، قال حدثني ابو سلمة بن عبد الرحمن، عن عايشة، قالت لم يكن رسول الله صلى الله عليه وسلم في شهر من السنة اكثر صياما منه في شعبان كان يصوم شعبان كله
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم شعبان میں روزہ رکھتے تھے۔
اخبرنا احمد بن سليمان، قال حدثنا ابو داود، عن سفيان، عن منصور، عن خالد بن سعد، عن عايشة، قالت كان النبي صلى الله عليه وسلم يصوم شعبان
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ میں نہیں جانتی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی ایک ہی رات میں سارا قرآن پڑھا ہو، یا پوری رات صبح تک قیام کیا ہو، یا رمضان کے علاوہ کسی مہینے کے پورے روزے رکھے ہوں۔
اخبرنا هارون بن اسحاق، عن عبدة، عن سعيد، عن قتادة، عن زرارة بن اوفى، عن سعد بن هشام، عن عايشة، قالت لا اعلم رسول الله صلى الله عليه وسلم قرا القران كله في ليلة ولا قام ليلة حتى الصباح ولا صام شهرا كاملا قط غير رمضان
عبداللہ بن شقیق کہتے ہیں میں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے روزوں کے متعلق پوچھا: ( تو ) انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ( اس تسلسل سے ) روزے رکھتے کہ ہم سمجھتے ( اب ) آپ روزے ( ہی ) رکھتے رہیں گے، اور ( کبھی آپ اس تسلسل سے ) بغیر روزے کے رہتے کہ ہم سمجھتے ( اب ) آپ بغیر روزے کے رہیں گے، اور آپ جب سے مدینہ آئے کبھی آپ نے پورے مہینے روزے نہیں رکھے سوائے اس کے کہ وہ رمضان ہو۔
اخبرنا محمد بن احمد بن ابي يوسف الصيدلاني، - حراني - قال حدثنا محمد بن سلمة، عن هشام، عن ابن سيرين، عن عبد الله بن شقيق، عن عايشة، قال سالتها عن صيام، رسول الله صلى الله عليه وسلم قالت كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يصوم حتى نقول قد صام ويفطر حتى نقول قد افطر ولم يصم شهرا تاما منذ اتى المدينة الا ان يكون رمضان
عبداللہ بن شقیق کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے سوال کیا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صلاۃ الضحیٰ ( چاشت کی نماز ) پڑھتے تھے؟ انہوں نے کہا: نہیں، الا یہ کہ سفر سے ( لوٹ کر ) آتے، ( پھر ) میں نے سوال کیا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کبھی پورے ماہ روزے رکھتے تھے؟ تو انہوں نے کہا: نہیں، میں نہیں جانتی کہ آپ نے رمضان کے علاوہ کبھی پورے ماہ کے روزے رکھے ہوں، اور اور نہ ایسا ہی ہوتا کہ آپ پورے ماہ بغیر روزے کے رہے ہوں، کچھ نہ کچھ روزے ضرور رکھتے یہاں تک کہ آپ وفات پا گئے۔
اخبرنا اسماعيل بن مسعود، قال انبانا خالد، - وهو ابن الحارث - عن كهمس، عن عبد الله بن شقيق، قال قلت لعايشة اكان رسول الله صلى الله عليه وسلم يصلي صلاة الضحى قالت لا الا ان يجيء من مغيبه . قلت هل كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يصوم شهرا كله قالت لا ما علمت صام شهرا كله الا رمضان ولا افطر حتى يصوم منه حتى مضى لسبيله
عبداللہ بن شقیق کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صلاۃ الضحیٰ ( چاشت کی نماز ) پڑھتے تھے؟ انہوں نے کہا: نہیں، الا یہ کہ سفر سے ( لوٹ کر ) آتے، پھر میں نے پوچھا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا رمضان کے علاوہ کوئی متعین روزہ تھا؟ تو انہوں نے کہا: اللہ کی قسم آپ نے سوائے رمضان کے کسی خاص مہینے کے روزے نہیں رکھے حتیٰ کہ آپ نے وفات پا لی، اور نہ ہی پورے ماہ بغیر روزے کے رہے، کچھ نہ کچھ روزے اس میں ضرور رکھتے۔
اخبرنا ابو الاشعث، عن يزيد، - وهو ابن زريع - قال حدثنا الجريري، عن عبد الله بن شقيق، قال قلت لعايشة اكان رسول الله صلى الله عليه وسلم يصلي صلاة الضحى قالت لا الا ان يجيء من مغيبه . قلت هل كان رسول الله صلى الله عليه وسلم له صوم معلوم سوى رمضان قالت والله ان صام شهرا معلوما سوى رمضان حتى مضى لوجهه ولا افطر حتى يصوم منه
جبیر بن نفیر سے روایت ہے کہ ایک شخص نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روزوں کے متعلق پوچھا: تو انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پورے شعبان روزے رکھتے، اور دو شنبہ ( پیر ) اور جمعرات کے روزے کا اہتمام فرماتے۔
اخبرني عمرو بن عثمان، عن بقية، قال حدثنا بحير، عن خالد، عن جبير بن نفير، ان رجلا، سال عايشة عن الصيام، فقالت ان رسول الله صلى الله عليه وسلم كان يصوم شعبان كله ويتحرى صيام الاثنين والخميس
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم شعبان اور رمضان میں روزے رکھتے، اور پیر اور جمعرات کے روزے کا خاص خیال رکھتے۔
اخبرنا عمرو بن علي، قال حدثنا عبد الله بن داود، قال حدثنا ثور، عن خالد بن معدان، عن ربيعة الجرشي، عن عايشة، قالت كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يصوم شعبان ورمضان ويتحرى الاثنين والخميس
صلہ بن زفر کہتے ہیں: ہم عمار رضی الله عنہ کے پاس تھے کہ ایک بھنی ہوئی بکری لائی گئی، تو انہوں نے کہا: آؤ تم لوگ بھی کھاؤ، تو لوگوں میں سے ایک شخص الگ ہٹ گیا، اور اس نے کہا: میں روزے سے ہوں، تو عمار رضی اللہ عنہ نے کہا: جس نے شک والے دن روزہ رکھا اس نے ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی کی۔
اخبرنا عبد الله بن سعيد الاشج، عن ابي خالد، عن عمرو بن قيس، عن ابي اسحاق، عن صلة، قال كنا عند عمار فاتي بشاة مصلية فقال كلوا . فتنحى بعض القوم قال اني صايم . فقال عمار من صام اليوم الذي يشك فيه فقد عصى ابا القاسم صلى الله عليه وسلم
سماک کہتے ہیں: میں عکرمہ کے پاس ایک ایسے دن میں آیا جس کے بارے میں شک تھا کہ یہ رمضان کا ہے یا شعبان کا، وہ روٹی سبزی، اور دودھ کھا رہے تھے، انہوں نے مجھ سے کہا: آؤ کھاؤ، تو میں نے کہا: میں روزے سے ہوں، تو انہوں نے کہا: اللہ کی قسم! تم ضرور روزہ توڑو گے، تو میں نے دو مرتبہ سبحان اللہ کہا، اور جب میں نے دیکھا کہ وہ قسم پہ قسم کھائے جا رہے ہیں اور ان شاءاللہ نہیں کہہ رہے ہیں تو میں آگے بڑھا، اور میں نے کہا: اب لائیے جو آپ کے پاس ہے، انہوں نے کہا: میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما کو کہتے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ”روزہ رکھو ( چاند ) دیکھ کر، اور افطار کرو ( چاند ) دیکھ کر، اور اگر تمہارے اور چاند کے بیچ کوئی بدلی یا سیاہی حائل ہو جائے تو شعبان کی تیس کی گنتی پوری کرو، اور ایک دن پہلے روزہ رکھ کر مہینے کا استقبال مت کرو، اور نہ رمضان کو شعبان کے کسی دن سے ملاؤ“۔
اخبرنا قتيبة، قال حدثنا ابن ابي عدي، عن ابي يونس، عن سماك، قال دخلت على عكرمة في يوم قد اشكل من رمضان هو ام من شعبان وهو ياكل خبزا وبقلا ولبنا فقال لي هلم . فقلت اني صايم . قال وحلف بالله لتفطرن قلت سبحان الله مرتين فلما رايته يحلف لا يستثني تقدمت قلت هات الان ما عندك قال سمعت ابن عباس يقول قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " صوموا لرويته وافطروا لرويته فان حال بينكم وبينه سحابة او ظلمة فاكملوا العدة عدة شعبان ولا تستقبلوا الشهر استقبالا ولا تصلوا رمضان بيوم من شعبان