Loading...

Loading...
کتب
۳۴۵ احادیث
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سحری کھاؤ، کیونکہ سحری میں برکت ہے“۔
اخبرنا عبد الاعلى بن واصل بن عبد الاعلى، قال حدثنا يحيى بن ادم، عن سفيان، عن ابن ابي ليلى، عن عطاء، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " تسحروا فان في السحور بركة
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سحری کھاؤ، کیونکہ سحری میں برکت ہے“۔ ابوعبدالرحمٰن ( نسائی ) کہتے ہیں: یحییٰ بن سعید کی اس حدیث کی سند تو حسن ہے، مگر یہ منکر ہے، اور مجھے محمد بن فضیل کی طرف سے غلطی کا اندیشہ ہے ۱؎۔
اخبرنا زكريا بن يحيى، قال حدثنا ابو بكر بن خلاد، قال حدثنا محمد بن فضيل، قال حدثنا يحيى بن سعيد، عن ابي سلمة، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " تسحروا فان في السحور بركة " . قال ابو عبد الرحمن حديث يحيى بن سعيد هذا اسناده حسن وهو منكر واخاف ان يكون الغلط من محمد بن فضيل
زر حبیش کہتے ہیں کہ ہم نے حذیفہ رضی اللہ عنہ سے پوچھا: آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کس وقت سحری کھائی ہے؟ تو انہوں نے کہا: ( تقریباً ) دن ۱؎ مگر سورج ۲؎ نکلا نہیں تھا۔
اخبرنا محمد بن يحيى بن ايوب، قال انبانا وكيع، قال حدثنا سفيان، عن عاصم، عن زر، قال قلنا لحذيفة اى ساعة تسحرت مع رسول الله صلى الله عليه وسلم قال هو النهار الا ان الشمس لم تطلع
زر بن حبیش کہتے ہیں میں نے حذیفہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ سحری کھائی، پھر ہم نماز کے لیے نکلے، تو جب ہم مسجد پہنچے تو دو رکعت سنت پڑھی ہی تھی کہ نماز شروع ہو گئی، اور ان دونوں کے درمیان ذرا سا ہی وقفہ رہا۔
اخبرنا محمد بن بشار، قال حدثنا محمد، قال حدثنا شعبة، عن عدي، قال سمعت زر بن حبيش، قال تسحرت مع حذيفة ثم خرجنا الى الصلاة فلما اتينا المسجد صلينا ركعتين واقيمت الصلاة وليس بينهما الا هنيهة
صلہ بن زفر کہتے ہیں: میں نے حذیفہ رضی الله عنہ کے ساتھ سحری کھائی، پھر ہم مسجد کی طرف نکلے، اور ہم نے فجر کی دونوں رکعتیں پڑھیں، ( اتنے میں ) نماز کھڑی کر دی گئی تو ہم نے نماز پڑھی۔
اخبرنا عمرو بن علي، قال حدثنا محمد بن فضيل، قال حدثنا ابو يعفور، قال حدثنا ابراهيم، عن صلة بن زفر، قال تسحرت مع حذيفة ثم خرجنا الى المسجد فصلينا ركعتى الفجر ثم اقيمت الصلاة فصلينا
انس رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سحری کھائی، پھر ہم اٹھ کر نماز کے لیے گئے، انس کہتے ہیں: میں نے پوچھا: ان دونوں کے درمیان کتنا ( وقفہ ) تھا؟ تو انہوں نے کہا: اس قدر جتنے میں ایک آدمی پچاس آیتیں پڑھ لے۔
اخبرنا اسحاق بن ابراهيم، قال حدثنا وكيع، قال حدثنا هشام، عن قتادة، عن انس، عن زيد بن ثابت، قال تسحرنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم ثم قمنا الى الصلاة . قلت كم كان بينهما قال قدر ما يقرا الرجل خمسين اية
انس رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سحری کی، پھر ہم نماز کے لیے کھڑے ہوئے، میں نے پوچھا ( کہا جاتا کہ «قلت» کا قائل انس ہیں ۱؎ ) : ان دونوں کے درمیان کتنا ( وقفہ ) تھا؟ انہوں نے کہا: اس قدر کہ جتنے میں ایک آدمی پچاس آیتیں پڑھ لے۔
اخبرنا اسماعيل بن مسعود، قال حدثنا خالد، قال حدثنا هشام، قال حدثنا قتادة، عن انس، عن زيد بن ثابت، قال تسحرنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم ثم قمنا الى الصلاة . قلت زعم ان انسا القايل ما كان بين ذلك قال قدر ما يقرا الرجل خمسين اية
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور زید بن ثابت نے سحری کھائی، پھر وہ دونوں اٹھے، اور جا کر نماز فجر پڑھنی شروع کر دی۔ قتادہ کہتے ہیں: ہم نے انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا: ان دونوں کے ( سحری سے ) فارغ ہونے اور نماز شروع کرنے میں کتنا ( وقفہ ) تھا؟ تو انہوں نے کہا: اس قدر کہ جتنے میں ایک آدمی پچاس آیتیں پڑھ لے۔
اخبرنا ابو الاشعث، قال حدثنا خالد، قال حدثنا سعيد، عن قتادة، عن انس، رضى الله عنه قال تسحر رسول الله صلى الله عليه وسلم وزيد بن ثابت ثم قاما فدخلا في صلاة الصبح . فقلنا لانس كم كان بين فراغهما ودخولهما في الصلاة قال قدر ما يقرا الانسان خمسين اية
ابوعطیہ وادعی ہمدانی کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہا: ہم میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے دو آدمی ہیں ان دونوں میں سے ایک افطار میں جلدی کرتا ہے، اور سحری میں تاخیر، اور دوسرا افطار میں تاخیر کرتا ہے، اور سحری میں جلدی، انہوں نے پوچھا: ان دونوں میں کون ہے جو افطار میں جلدی کرتا ہے، اور سحری میں تاخیر؟ میں نے کہا: وہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ہیں، اس پر انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اسی طرح کرتے تھے۔
اخبرنا محمد بن عبد الاعلى، قال حدثنا خالد، قال حدثنا شعبة، عن سليمان، عن خيثمة، عن ابي عطية، قال قلت لعايشة فينا رجلان من اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم احدهما يعجل الافطار ويوخر السحور والاخر يوخر الافطار ويعجل السحور . قالت ايهما الذي يعجل الافطار ويوخر السحور قلت عبد الله بن مسعود . قالت هكذا كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يصنع
ابوعطیہ وادعی ہمدانی کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہا: ہم میں دو آدمی ہیں ان میں سے ایک افطار جلدی اور سحری تاخیر سے کرتے ہیں، اور دوسرے افطار تاخیر سے کرتے ہیں اور سحری جلدی، انہوں نے پوچھا: کون ہیں جو افطار میں جلدی اور سحری میں تاخیر کرتے ہیں؟ میں نے کہا: وہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ہیں انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایسا ہی کرتے تھے۔
اخبرنا محمد بن بشار، قال حدثنا عبد الرحمن، قال حدثنا سفيان، عن الاعمش، عن خيثمة، عن ابي عطية، قال قلت لعايشة فينا رجلان احدهما يعجل الافطار ويوخر السحور والاخر يوخر الفطر ويعجل السحور . قالت ايهما الذي يعجل الافطار ويوخر السحور قلت عبد الله بن مسعود . قالت هكذا كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يصنع
ابوعطیہ وادعی ہمدانی کہتے ہیں میں اور مسروق دونوں ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس گئے، مسروق نے ان سے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے دو شخص ہیں، یہ دونوں نیک کام میں کوتاہی نہیں کرتے، ( لیکن ) ان میں سے ایک نماز اور افطار دونوں میں تاخیر کرتے ہیں، اور دوسرے نماز اور افطار دونوں میں جلدی کرتے ہیں، ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے پوچھا: کون ہیں جو نماز اور افطار دونوں میں جلدی کرتے ہیں؟ مسروق نے کہا: وہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ہیں، تو عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایسا ہی کرتے ہیں۔
اخبرنا احمد بن سليمان، قال حدثنا حسين، عن زايدة، عن الاعمش، عن عمارة، عن ابي عطية، قال دخلت انا ومسروق، على عايشة فقال لها مسروق رجلان من اصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم كلاهما لا يالو عن الخير احدهما يوخر الصلاة والفطر والاخر يعجل الصلاة والفطر . فقالت عايشة ايهما الذي يعجل الصلاة والفطر قال مسروق عبد الله بن مسعود . فقالت عايشة هكذا كان يصنع رسول الله صلى الله عليه وسلم
ابوعطیہ وادعی ہمدانی کہتے ہیں میں اور مسروق دونوں ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس گئے، ہم نے ان سے کہا: ام المؤمنین! محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے دو آدمی ہیں، ان میں سے ایک افطار میں جلدی کرتے ہیں اور نماز میں بھی جلدی کرتے ہیں، اور دوسرے افطار میں تاخیر کرتے ہیں اور نماز میں بھی تاخیر کرتے ہیں، انہوں نے پوچھا: کون ہیں جو افطار میں جلدی کرتے اور نماز میں بھی جلدی کرتے ہیں؟ ہم نے کہا: وہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ہیں، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایسا ہی کرتے تھے۔ ( دوسرے شخص ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ تھے۔)
اخبرنا هناد بن السري، عن ابي معاوية، عن الاعمش، عن عمارة، عن ابي عطية، قال دخلت انا ومسروق، على عايشة فقلنا لها يا ام المومنين رجلان من اصحاب محمد صلى الله عليه وسلم احدهما يعجل الافطار ويعجل الصلاة والاخر يوخر الافطار ويوخر الصلاة . فقالت ايهما يعجل الافطار ويعجل الصلاة قلنا عبد الله بن مسعود . قالت هكذا كان يصنع رسول الله صلى الله عليه وسلم . والاخر ابو موسى رضى الله عنهما
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے ایک شخص کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، آپ اس وقت سحری کھا رہے تھے، آپ نے فرمایا: ”یہ برکت ہے جس سے اللہ تعالیٰ نے تمہیں دی ہے تو تم اسے مت چھوڑو“۔
اخبرنا اسحاق بن منصور، قال انبانا عبد الرحمن، قال حدثنا شعبة، عن عبد الحميد، صاحب الزيادي قال سمعت عبد الله بن الحارث، يحدث عن رجل، من اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم قال دخلت على النبي صلى الله عليه وسلم وهو يتسحر فقال " انها بركة اعطاكم الله اياها فلا تدعوه
عرباض بن ساریہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا: آپ رمضان کے مہینہ میں سحری کھانے کے لیے بلا رہے تھے، اور فرما رہے تھے: ”آؤ صبح کے مبارک کھانے پر“۔
اخبرنا شعيب بن يوسف، - بصري - قال حدثنا عبد الرحمن، عن معاوية بن صالح، عن يونس بن سيف، عن الحارث بن زياد، عن ابي رهم، عن العرباض بن سارية، قال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم وهو يدعو الى السحور في شهر رمضان وقال " هلموا الى الغداء المبارك
مقدام بن معد یکرب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم صبح کا کھانا ( سحری کو ) لازم پکڑو، کیونکہ یہ مبارک کھانا ہے“۔
اخبرنا سويد بن نصر، قال انبانا عبد الله، عن بقية بن الوليد، قال اخبرني بحير بن سعد، عن خالد بن معدان، عن المقدام بن معديكرب، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " عليكم بغداء السحور فانه هو الغداء المبارك
(تابعی) خالد بن معدان کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص سے کہا: ”صبح کے مبارک کھانے یعنی سحری کے لیے آؤ“۔
اخبرنا عمرو بن علي، قال حدثنا عبد الرحمن، قال حدثنا سفيان، عن ثور، عن خالد بن معدان، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم لرجل " هلم الى الغداء المبارك " . يعني السحور
عمرو بن العاص رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہمارے اور اہل کتاب کے صیام میں جو فرق ہے، ( وہ ہے ) سحری کھانا“۔
اخبرنا قتيبة، قال حدثنا الليث، عن موسى بن على، عن ابيه، عن ابي قيس، عن عمرو بن العاص، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ان فصل ما بين صيامنا وصيام اهل الكتاب اكلة السحور
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سحری کے وقت فرمایا: ”اے انس! میں روزہ رکھنا چاہتا ہوں، مجھے کچھ کھلاؤ“، تو میں کچھ کھجور اور ایک برتن میں پانی لے کر آپ کے پاس آیا، اور یہ بلال رضی اللہ عنہ کی اذان دینے کے بعد کا وقت تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے انس! کسی اور شخص کو تلاش کرو جو میرے ساتھ ( سحری ) کھائے“، تو میں نے زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کو بلایا، چنانچہ وہ آئے ( اور ) کہنے لگے: میں نے ستو کا ایک گھونٹ پی لیا ہے، اور میں روزہ رکھنا چاہتا ہوں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں ( بھی ) روزہ رکھنا چاہتا ہوں“، ( پھر ) زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے آپ کے ساتھ سحری کھائی، پھر آپ اٹھے، اور ( فجر کی ) دو رکعت ( سنت ) پڑھی، پھر آپ فرض نماز کے لیے نکل گئے۔
اخبرنا اسحاق بن ابراهيم، قال انبانا عبد الرزاق، قال انبانا معمر، عن قتادة، عن انس، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم وذلك عند السحور " يا انس اني اريد الصيام اطعمني شييا " . فاتيته بتمر واناء فيه ماء وذلك بعد ما اذن بلال فقال " يا انس انظر رجلا ياكل معي " . فدعوت زيد بن ثابت فجاء فقال اني قد شربت شربة سويق وانا اريد الصيام . فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " وانا اريد الصيام " . فتسحر معه ثم قام فصلى ركعتين ثم خرج الى الصلاة
براء بن عازب رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ ان میں سے کوئی جب شام کا کھانا کھانے سے پہلے سو جاتا تو رات بھر اور دوسرے دن سورج ڈوبنے تک اس کے لیے کھانا پینا جائز نہ ہوتا، یہاں تک کہ آیت کریمہ: «وكلوا واشربوا» سے لے کر «الخيط الأسود» ”تم کھاتے پیتے رہو یہاں تک کہ صبح کی سیاہ دھاری سے سفید دھاری نظر آنے لگے“ تک نازل ہوئی، یہ آیت ابوقیس بن عمرو رضی اللہ عنہ کے بارے میں نازل ہوئی، ( ہوا یہ کہ ) وہ مغرب بعد اپنے گھر آئے، وہ روزے سے تھے، انہوں نے ( گھر والوں سے ) پوچھا: کچھ کھانا ہے؟ ان کی بیوی نے کہا: ہمارے پاس تو کچھ ( بھی ) نہیں ہے، لیکن میں جا کر آپ کے لیے رات کا کھانا ڈھونڈ کر لاتی ہوں، چنانچہ وہ نکل گئی، اور یہ اپنا سر رکھ کر سو گئے، وہ لوٹ کر آئی تو انہیں سویا ہوا پایا، ( تو ) انہیں جگایا ( لیکن ) انہوں نے کچھ ( بھی ) نہیں کھایا، اور ( اسی حال میں ) رات گزار دی، اور روزے ہی کی حالت ) میں صبح کی یہاں تک کہ دوپہر ہوئی، تو ان پر غشی طاری ہو گئی، یہ اس آیت کے نازل ہونے سے پہلے کی بات ہے، اللہ تعالیٰ نے ( یہ آیت ) انہیں کے سلسلہ میں اتاری۔
اخبرني هلال بن العلاء بن هلال، قال حدثنا حسين بن عياش، قال حدثنا زهير، قال حدثنا ابو اسحاق، عن البراء بن عازب، ان احدهم، كان اذا نام قبل ان يتعشى لم يحل له ان ياكل شييا ولا يشرب ليلته ويومه من الغد حتى تغرب الشمس حتى نزلت هذه الاية { وكلوا واشربوا } الى { الخيط الاسود } قال ونزلت في ابي قيس بن عمرو اتى اهله وهو صايم بعد المغرب فقال هل من شىء فقالت امراته ما عندنا شىء ولكن اخرج التمس لك عشاء . فخرجت ووضع راسه فنام فرجعت اليه فوجدته نايما وايقظته فلم يطعم شييا وبات واصبح صايما حتى انتصف النهار فغشي عليه وذلك قبل ان تنزل هذه الاية فانزل الله فيه
عدی بن حاتم رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے آیت کریمہ: «حتى يتبين لكم الخيط الأبيض من الخيط الأسود» کے متعلق سوال کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” «خيط الأسود» ( سیاہ دھاری ) رات کی تاریکی ہے، ( اور «خيط الأسود» سفید دھاری ) دن کا اجالا ہے“۔
اخبرنا علي بن حجر، قال حدثنا جرير، عن مطرف، عن الشعبي، عن عدي بن حاتم، انه سال رسول الله صلى الله عليه وسلم عن قوله تعالى { حتى يتبين لكم الخيط الابيض من الخيط الاسود } قال " هو سواد الليل وبياض النهار