Loading...

Loading...
کتب
۳۴۵ احادیث
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”رمضان سے پہلے روزہ مت رکھو، چاند دیکھ کر روزہ رکھو، اور ( چاند ) دیکھ کر ( روزہ ) بند کرو، ( پس ) اگر چاند سے ورے بادل حائل ہو جائے تو تیس ( دن ) پورے کرو“۔
اخبرنا قتيبة، قال حدثنا ابو الاحوص، عن سماك، عن عكرمة، عن ابن عباس، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لا تصوموا قبل رمضان صوموا للروية وافطروا للروية فان حالت دونه غياية فاكملوا ثلاثين
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قسم کھائی کہ ایک ماہ ( تک ) اپنی بیویوں کے پاس نہیں جائیں گے، چنانچہ آپ انتیس دن ٹھہرے رہے، تو میں نے عرض کیا: کیا آپ نے ایک مہینے کی قسم نہیں کھائی تھی؟ میں نے شمار کیا ہے، ابھی انتیس دن ( ہوئے ) ہیں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مہینہ انتیس دن کا بھی ہوتا ہے“۔
اخبرنا نصر بن علي الجهضمي، عن عبد الاعلى، قال حدثنا معمر، عن الزهري، عن عروة، عن عايشة، قالت اقسم رسول الله صلى الله عليه وسلم ان لا يدخل على نسايه شهرا فلبث تسعا وعشرين فقلت اليس قد كنت اليت شهرا فعددت الايام تسعا وعشرين . فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " الشهر تسع وعشرون
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں مجھے برابر اس بات کا اشتیاق رہا کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ان دونوں بیویوں کے بارے میں پوچھوں جن کا ذکر اللہ تعالیٰ نے آیت کریمہ: «إن تتوبا إلى اللہ فقد صغت قلوبكما» ”اگر تم دونوں اللہ تعالیٰ سے توبہ کر لو ( تو بہتر ہے ) یقیناً تمہارے دل جھک پڑے ہیں“ ( التحریم: ۴ ) میں کیا ہے، پھر پوری حدیث بیان کی، اس میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیویوں سے انتیس راتوں تک اس بات کی وجہ سے جو حفصہ رضی اللہ عنہا نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے ظاہر کر دی تھی کنارہ کشی اختیار کر لی، عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: آپ نے اپنی اس ناراضگی کی وجہ سے جو آپ کو اپنی عورتوں سے اس وقت ہوئی تھی جب اللہ تعالیٰ نے ان کی بات آپ کو بتلائی یہ کہہ دیا تھا کہ میں ان کے پاس ایک مہینہ تک نہیں جاؤں گا، تو جب انتیس راتیں گزر گئیں تو آپ سب سے پہلے عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئے تو انہوں نے آپ سے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ نے تو ایک مہینے تک ہمارے پاس نہ آنے کی قسم کھائی تھی، اور ہم نے ( ابھی ) انتیسویں رات کی ( ہی ) صبح کی ہے، ہم ایک ایک کر کے اسے گن رہے ہیں؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مہینہ انتیس راتوں کا بھی ہوتا ہے“۔
اخبرنا عبيد الله بن سعد بن ابراهيم، قال حدثنا عمي، قال حدثني ابي، عن صالح، عن ابن شهاب، ان عبيد الله بن عبد الله بن ابي ثور، حدثه ح، واخبرنا عمرو بن منصور، قال حدثنا الحكم بن نافع، قال انبانا شعيب، عن الزهري، قال اخبرني عبيد الله بن عبد الله بن ابي ثور، عن ابن عباس، قال لم ازل حريصا ان اسال عمر بن الخطاب عن المراتين من ازواج رسول الله صلى الله عليه وسلم اللتين قال الله لهما { ان تتوبا الى الله فقد صغت قلوبكما } وساق الحديث وقال فيه فاعتزل رسول الله صلى الله عليه وسلم نساءه من اجل ذلك الحديث حين افشته حفصة الى عايشة تسعا وعشرين ليلة . قالت عايشة وكان قال " ما انا بداخل عليهن شهرا " . من شدة موجدته عليهن حين حدثه الله عز وجل حديثهن فلما مضت تسع وعشرون ليلة دخل على عايشة فبدا بها فقالت له عايشة انك قد كنت اليت يا رسول الله ان لا تدخل علينا شهرا وانا اصبحنا من تسع وعشرين ليلة نعدها عددا فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " الشهر تسع وعشرون ليلة
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرے پاس جبرائیل علیہ السلام آئے اور انہوں نے کہا: مہینہ انتیس دن کا بھی ہوتا ہے“۔
اخبرنا عمرو بن يزيد، - هو ابو بريد الجرمي بصري - عن بهز، قال حدثنا شعبة، عن سلمة، عن ابي الحكم، عن ابن عباس، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " اتاني جبريل عليه السلام فقال الشهر تسع وعشرون يوما
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مہینہ انتیس دن کا بھی ہوتا ہے“۔
اخبرنا محمد بن بشار، عن محمد، وذكر، كلمة معناها حدثنا شعبة، عن سلمة، قال سمعت ابا الحكم، عن ابن عباس، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " الشهر تسع وعشرون يوما
سعد بن ابی وقاص رضی الله عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ( ایک ) ہاتھ دوسرے ہاتھ پر مارا اور فرمایا: ”مہینہ اس طرح ہے، اس طرح ہے، اور اس طرح ہے“، اور تیسری بار میں ایک انگلی دبا لی ۱؎۔
اخبرنا اسحاق بن ابراهيم، قال حدثنا محمد بن بشر، عن اسماعيل بن ابي خالد، عن محمد بن سعد بن ابي وقاص، عن ابيه، عن النبي صلى الله عليه وسلم انه ضرب بيده على الاخرى وقال " الشهر هكذا وهكذا وهكذا " . ونقص في الثالثة اصبعا
سعد بن ابی وقاص رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مہینہ اس طرح ہے، اس طرح ہے اور اس طرح ہے“، یعنی انتیس دن کا بھی ہوتا ہے۔ اسے یحییٰ بن سعید وغیرہ نے اسماعیل سے، انہوں نے محمد بن سعد بن ابی وقاص سے، اور محمد بن سعد نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے۔
اخبرنا سويد بن نصر، قال انبانا عبد الله، عن اسماعيل، عن محمد بن سعد، عن ابيه، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " الشهر هكذا وهكذا وهكذا " . يعني تسعة وعشرين . رواه يحيى بن سعيد وغيره عن اسماعيل عن محمد بن سعد عن النبي صلى الله عليه وسلم
محمد بن سعد بن ابی وقاص کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مہینہ اس طرح ہے، اس طرح ہے، اور اس طرح ہے“۔ اور محمد بن عبید نے اپنے دونوں ہاتھوں کو تین بار ملا کر بتلایا، پھر تیسری بار میں بائیں ہاتھ کا انگوٹھا بند کر لیا، یحییٰ بن سعید کہتے ہیں: میں نے اسماعیل بن ابی خالد سے «عن أبیہ» کی زیادتی کے بارے میں پوچھا، تو انہوں نے کہا: نہیں۔
اخبرنا احمد بن سليمان، قال حدثنا محمد بن عبيد، قال حدثنا اسماعيل، عن محمد بن سعد بن ابي وقاص، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " الشهر هكذا وهكذا وهكذا " . وصفق محمد بن عبيد بيديه ينعتها ثلاثا ثم قبض في الثالثة الابهام في اليسرى . قال يحيى بن سعيد قلت لاسماعيل عن ابيه قال لا
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مہینہ ( کبھی ) انتیس دن کا ہوتا ہے، اور ( کبھی ) تیس دن کا، اور جب تم ( چاند ) دیکھ لو تو روزہ رکھو اور جب اسے دیکھ لو تو روزہ رکھنا بند کرو، ( اور ) اگر تم پر بادل چھا جائیں تو ( تیس کی ) گنتی پوری کرو“۔
اخبرنا ابو داود، قال حدثنا هارون، قال حدثنا علي، - هو ابن المبارك - قال حدثنا يحيى، عن ابي سلمة، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " الشهر يكون تسعة وعشرين ويكون ثلاثين فاذا رايتموه فصوموا واذا رايتموه فافطروا فان غم عليكم فاكملوا العدة
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ”مہینہ انتیس دن کا بھی ہوتا ہے“۔
اخبرني عبيد الله بن فضالة بن ابراهيم، قال انبانا محمد، قال حدثنا معاوية، ح واخبرني احمد بن محمد بن المغيرة، قال حدثنا عثمان بن سعيد، عن معاوية، - واللفظ له - عن يحيى بن ابي كثير، ان ابا سلمة، اخبره انه، سمع عبد الله، وهو - ابن عمر - يقول سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " الشهر تسع وعشرون
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہم «اُمّی» لوگ ہیں، نہ ہم لکھتے پڑھتے ہیں اور نہ حساب کتاب کرتے ہیں، مہینہ اس طرح ہے، اس طرح ہے، اور اس طرح ہے“، ( ایسا تین بار کیا ) یہاں تک کہ انتیس دن کا ذکر کیا۔
اخبرنا محمد بن المثنى، قال حدثنا عبد الرحمن، عن سفيان، عن الاسود بن قيس، عن سعيد بن عمرو، عن ابن عمر، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " انا امة امية لا نكتب ولا نحسب الشهر هكذا وهكذا وهكذا " . ثلاثا حتى ذكر تسعا وعشرين
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم آپ نے فرمایا: ”ہم «اُمّی» لوگ ہیں، نہ تو ہم لکھتے ہیں، اور نہ حساب کتاب کرتے ہیں، مہینہ اس طرح ہے، اس طرح ہے اور اس طرح ہے“، اور تیسری بار انگوٹھا بند کر لیا، ”مہینہ اس طرح ہے، اس طرح ہے، اور اس طرح ہے، پورے تیس دن“ ۱؎۔
اخبرنا محمد بن المثنى، ومحمد بن بشار، عن محمد، عن شعبة، عن الاسود بن قيس، قال سمعت سعيد بن عمرو بن سعيد بن ابي العاص، انه سمع ابن عمر، يحدث عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " انا امة امية لا نحسب ولا نكتب والشهر هكذا وهكذا وهكذا " . وعقد الابهام في الثالثة " والشهر هكذا وهكذا وهكذا " . تمام الثلاثين
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مہینہ اس طرح ہے“۔ شعبہ نے جبلہ سے نقل کیا، انہوں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے کہ مہینہ انتیس دن کا ( بھی ) ہوتا ہے، اس طرح کہ انہوں نے دو بار اپنے دونوں ہاتھوں کی انگلیوں سے اشارہ کیا، اور تیسری بار ایک انگلی دبا لی۔
اخبرنا محمد بن عبد الاعلى، قال حدثنا خالد، قال حدثنا شعبة، عن جبلة بن سحيم، عن ابن عمر، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " الشهر هكذا " . ووصف شعبة عن صفة جبلة عن صفة ابن عمر انه تسع وعشرون فيما حكى من صنيعه مرتين باصابع يديه ونقص في الثالثة اصبعا من اصابع يديه
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مہینہ انتیس دن کا بھی ہوتا ہے“۔
اخبرنا محمد بن المثنى، قال حدثنا محمد، قال حدثنا شعبة، عن عقبة، - يعني ابن حريث - قال سمعت ابن عمر، يقول قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " الشهر تسع وعشرون
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سحری کھاؤ، کیونکہ سحری میں برکت ہے“۔ عبیداللہ بن سعید نے اسے موقوفاً روایت کیا ہے۔
اخبرنا محمد بن بشار، قال حدثنا عبد الرحمن، قال حدثنا ابو بكر بن عياش، عن عاصم، عن زر، عن عبد الله، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " تسحروا فان في السحور بركة " . وقفه عبيد الله بن سعيد
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں سحری کھاؤ۔ عبیداللہ کہتے ہیں: میں نہیں جانتا کہ اس کے الفاظ کیا تھے؟
اخبرنا عبيد الله بن سعيد، قال حدثنا عبد الرحمن، عن ابي بكر بن عياش، عن عاصم، عن زر، عن عبد الله، قال تسحروا . قال عبيد الله لا ادري كيف لفظه
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سحری کھاؤ، کیونکہ سحری میں برکت ہے“۔
اخبرنا قتيبة، قال حدثنا ابو عوانة، عن قتادة، وعبد العزيز، عن انس، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " تسحروا فان في السحور بركة
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سحری کھاؤ، کیونکہ سحری میں برکت ہے“۔
اخبرنا علي بن سعيد بن جرير، - نسايي - قال حدثنا ابو الربيع، قال حدثنا منصور بن ابي الاسود، عن عبد الملك بن ابي سليمان، عن عطاء، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " تسحروا فان في السحور بركة
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ سحری کھاؤ، کیونکہ سحری میں برکت ہے۔ ابن ابی لیلیٰ نے اسے مرفوعاً بیان کیا ہے۔
اخبرنا احمد بن سليمان، قال حدثنا يزيد، قال انبانا عبد الملك بن ابي سليمان، عن عطاء، عن ابي هريرة، قال تسحروا فان في السحور بركة . رفعه ابن ابي ليلى
ابوہریرہ رضی الله عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سحری کھاؤ، کیونکہ سحری میں برکت ہے“۔
اخبرنا عمرو بن علي، قال حدثنا يحيى، قال حدثنا ابن ابي ليلى، عن عطاء، عن ابي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " تسحروا فان في السحور بركة