Loading...

Loading...
کتب
۳۴۵ احادیث
عطا کہتے ہیں میں نے ابن عباس رضی الله عنہما کو سنا، وہ ہمیں بتا رہے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک انصاری عورت سے کہا: ”جب رمضان آئے تو اس میں عمرہ کر لو، کیونکہ ( ماہ رمضان میں ) ایک عمرہ ایک حج کے برابر ہوتا ہے“۔
اخبرنا عمران بن يزيد بن خالد، قال حدثنا شعيب، قال اخبرني ابن جريج، قال اخبرني عطاء، قال سمعت ابن عباس، يخبرنا قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم لامراة من الانصار " اذا كان رمضان فاعتمري فيه فان عمرة فيه تعدل حجة
کریب مولیٰ ابن عباس کہتے ہیں: ام فضل رضی اللہ عنہا نے انہیں معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس شام بھیجا، تو میں شام آیا، اور میں نے ان کی ضرورت پوری کی، اور میں شام ( ہی ) میں تھا کہ رمضان کا چاند نکل آیا، میں نے جمعہ کی رات کو چاند دیکھا، پھر میں مہینہ کے آخری ( ایام ) میں مدینہ آ گیا، عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے مجھ سے ( حال چال ) پوچھا، پھر پہلی تاریخ کے چاند کا ذکر کیا، ( اور مجھ سے ) پوچھا: تم لوگوں نے چاند کب دیکھا؟ تو میں نے جواب دیا: ہم نے جمعہ کی رات کو دیکھا تھا، انہوں نے ( تاکیداً ) پوچھا: تم نے ( بھی ) اسے جمعہ کی رات کو دیکھا تھا؟ میں نے کہا: ہاں ( میں نے بھی دیکھا تھا ) اور لوگوں نے بھی دیکھا، تو لوگوں نے ( بھی ) روزے رکھے، اور معاویہ رضی اللہ عنہ نے بھی، ( تو ) انہوں نے کہا: لیکن ہم لوگوں نے ہفتے ( سنیچر ) کی رات کو دیکھا تھا، ( لہٰذا ) ہم برابر روزہ رکھیں گے یہاں تک کہ ہم ( گنتی کے ) تیس دن پورے کر لیں، یا ہم ( اپنا چاند ) دیکھ لیں، تو میں نے کہا: کیا معاویہ رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھیوں کا چاند دیکھنا کافی نہیں ہے؟ کہا: نہیں! ( کیونکہ ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ایسا ہی حکم دیا ہے۔
اخبرنا علي بن حجر، قال حدثنا اسماعيل، قال حدثنا محمد، - وهو ابن ابي حرملة - قال اخبرني كريب، ان ام الفضل، بعثته الى معاوية بالشام - قال - فقدمت الشام فقضيت حاجتها واستهل على هلال رمضان وانا بالشام فرايت الهلال ليلة الجمعة ثم قدمت المدينة في اخر الشهر فسالني عبد الله بن عباس ثم ذكر الهلال فقال متى رايتم فقلت رايناه ليلة الجمعة . قال انت رايته ليلة الجمعة قلت نعم وراه الناس فصاموا وصام معاوية . قال لكن رايناه ليلة السبت فلا نزال نصوم حتى نكمل ثلاثين يوما او نراه . فقلت اولا تكتفي بروية معاوية واصحابه قال لا هكذا امرنا رسول الله صلى الله عليه وسلم
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ ایک دیہاتی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا ( اور ) کہنے لگا: میں نے چاند دیکھا ہے، تو آپ نے کہا: ”کیا تم شہادت دیتے ہو کہ اللہ کے سوا کوئی حقیقی معبود نہیں، اور محمد اس کے بندے اور رسول ہیں؟“ اس نے کہا: ہاں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں میں روزہ رکھنے کا اعلان کر دیا۔
اخبرنا محمد بن عبد العزيز بن ابي رزمة، قال انبانا الفضل بن موسى، عن سفيان، عن سماك، عن عكرمة، عن ابن عباس، قال جاء اعرابي الى النبي صلى الله عليه وسلم فقال رايت الهلال . فقال " اتشهد ان لا اله الا الله وان محمدا عبده ورسوله " . قال نعم . فنادى النبي صلى الله عليه وسلم " ان صوموا
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ ایک اعرابی ( دیہاتی ) نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر کہا: میں نے آج رات چاند دیکھا ہے، آپ نے پوچھا: ”کیا تم شہادت دیتے ہو کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، اور محمد اس کے بندے اور رسول ہیں؟“ اس نے کہا: ہاں، تو آپ نے فرمایا: ”بلال! لوگوں میں اعلان کر دو کہ کل سے روزے رکھیں“۔
اخبرنا موسى بن عبد الرحمن، قال حدثنا حسين، عن زايدة، عن سماك، عن عكرمة، عن ابن عباس، قال جاء اعرابي الى النبي صلى الله عليه وسلم فقال ابصرت الهلال الليلة . قال " اتشهد ان لا اله الا الله وان محمدا عبده ورسوله " . قال نعم . قال " يا بلال اذن في الناس فليصوموا غدا
اس سند سے عکرمہ سے یہ حدیث مرسلاً مروی ہے۔
اخبرنا احمد بن سليمان، عن ابي داود، عن سفيان، عن سماك، عن عكرمة، مرسل
اس سند سے بھی عکرمہ سے یہ حدیث مرسلاً مروی ہے۔
اخبرنا محمد بن حاتم بن نعيم، - مصيصي - قال انبانا حبان بن موسى المروزي، قال انبانا عبد الله، عن سفيان، عن سماك، عن عكرمة، مرسل
عبدالرحمٰن بن زید بن خطاب سے روایت ہے کہ انہوں نے ایک ایسے دن میں جس میں شک تھا ( کہ رمضان کی پہلی تاریخ ہے یا شعبان کی آخری ) لوگوں سے خطاب کیا تو کہا: سنو! میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کی ہم نشینی کی، اور میں ان کے ساتھ بیٹھا تو میں نے ان سے سوالات کئے، اور انہوں نے مجھ سے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم چاند دیکھ کر روزہ رکھو، اور چاند دیکھ کر افطار کرو، اور اسی طرح حج بھی کرو، اور اگر تم پر مطلع ابر آلود ہو تو تیس ( کی گنتی ) پوری کرو، ( اور ) اگر دو گواہ ( چاند دیکھنے کی ) شہادت دے دیں تو روزے رکھو، اور افطار ( یعنی عید ) کرو“۔
اخبرني ابراهيم بن يعقوب، قال حدثنا سعيد بن شبيب ابو عثمان، - وكان شيخا صالحا بطرسوس - قال انبانا ابن ابي زايدة، عن حسين بن الحارث الجدلي، عن عبد الرحمن بن زيد بن الخطاب، انه خطب الناس في اليوم الذي يشك فيه فقال الا اني جالست اصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم وساءلتهم وانهم حدثوني ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " صوموا لرويته وافطروا لرويته وانسكوا لها فان غم عليكم فاكملوا ثلاثين فان شهد شاهدان فصوموا وافطروا
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”چاند دیکھ کر روزے رکھو، اور چاند دیکھ کر افطار کرو، اگر مطلع ابر آلود ہو تو تیس ( دن ) پورے کرو“ ۱؎۔
اخبرنا مومل بن هشام، عن اسماعيل، عن شعبة، عن محمد بن زياد، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " صوموا لرويته وافطروا لرويته فان غم عليكم الشهر فعدوا ثلاثين
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”چاند دیکھ کر روزہ رکھو، اور چاند دیکھ کر افطار کرو، ( اور ) اگر مطلع تم پر بادل چھائے ہوں تو تیس دن پورے کرو“۔
اخبرنا محمد بن عبد الله بن يزيد، قال حدثنا ابي قال، حدثنا ورقاء، عن شعبة، عن محمد بن زياد، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " صوموا لرويته وافطروا لرويته فان غم عليكم فاقدروا ثلاثين
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم ( رمضان کا ) چاند دیکھو تو روزہ رکھو، اور جب ( شوال کا ) چاند دیکھو تو روزہ رکھنا بند کر دو، ( اور ) اگر تم پر مطلع ابر آلود ہو تو ( پورے ) تیس دن روزہ رکھو“۔
اخبرنا محمد بن يحيى بن عبد الله النيسابوري، قال حدثنا سليمان بن داود، قال حدثنا ابراهيم، عن محمد بن مسلم، عن سعيد بن المسيب، عن ابي هريرة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " اذا رايتم الهلال فصوموا واذا رايتموه فافطروا فان غم عليكم فصوموا ثلاثين يوما
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ”جب تم چاند دیکھو تو روزہ رکھو، اور جب ( شوال کا ) چاند دیکھو تو روزہ رکھنا بند کر دو، ( اور ) اگر تم پر مطلع ابر آلود ہو تو اس کا اندازہ لگاؤ“۔
اخبرنا الربيع بن سليمان، قال حدثنا ابن وهب، قال اخبرني يونس، عن ابن شهاب، قال حدثني سالم بن عبد الله، ان عبد الله بن عمر، قال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " اذا رايتم الهلال فصوموا واذا رايتموه فافطروا فان غم عليكم فاقدروا له
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان کا ذکر کیا تو فرمایا: ”تم روزہ نہ رکھو یہاں تک کہ چاند دیکھ لو، اور روزہ رکھنا بند کرو یہاں تک کہ ( چاند ) دیکھ لو، ( اور ) اگر فضا ابر آلود ہو تو اس کا حساب لگا لو“۔
اخبرنا محمد بن سلمة، والحارث بن مسكين، قراءة عليه وانا اسمع، - واللفظ له - عن ابن القاسم، عن مالك، عن نافع، عن ابن عمر، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم ذكر رمضان فقال " لا تصوموا حتى تروا الهلال ولا تفطروا حتى تروه فان غم عليكم فاقدروا له
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم ( رمضان کے ) روزے نہ رکھو یہاں تک کہ ( چاند ) دیکھ لو اور نہ ہی روزے رکھنا بند کرو یہاں تک کہ ( عید الفطر کا چاند ) دیکھ لو ( اور ) اگر آسمان میں بادل ہوں تو اس ( مہینے ) کا حساب لگا لو“۔
اخبرنا عمرو بن علي، قال حدثنا يحيى، قال حدثنا عبيد الله، قال حدثني نافع، عن ابن عمر، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " لا تصوموا حتى تروه ولا تفطروا حتى تروه فان غم عليكم فاقدروا له
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چاند کا ذکر کیا تو فرمایا: ”جب تم اسے ( یعنی رمضان کا چاند ) دیکھ لو تو روزہ رکھو، اور جب اسے ( یعنی عید الفطر کا چاند ) دیکھ لو تو روزہ بند کر دو، ( اور ) اگر آسمان میں بادل ہوں تو تیس دن پورے شمار کرو“۔
اخبرنا ابو بكر بن علي، صاحب حمص قال حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، قال حدثنا محمد بن بشر، قال حدثنا عبيد الله، عن ابي الزناد، عن الاعرج، عن ابي هريرة، قال ذكر رسول الله صلى الله عليه وسلم الهلال فقال " اذا رايتموه فصوموا واذا رايتموه فافطروا فان غم عليكم فعدوا ثلاثين
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے ( رمضان کا چاند ) دیکھ کر روزہ رکھو، اور اسے ( عید الفطر کا چاند ) دیکھ کر روزہ بند کرو، ( اور ) اگر تم پر بادل چھائے ہوں تو تیس کی گنتی پوری کرو“۔
اخبرنا احمد بن عثمان ابو الجوزاء، - وهو ثقة بصري اخو ابي العالية - قال انبانا حبان بن هلال، قال حدثنا حماد بن سلمة، عن عمرو بن دينار، عن ابن عباس، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " صوموا لرويته وافطروا لرويته فان غم عليكم فاكملوا العدة ثلاثين
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں مجھے حیرت ہوتی ہے اس شخص پر جو مہینہ شروع ہونے سے پہلے ( ہی ) روزہ رکھنے لگتا ہے، حالانکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم ( رمضان کا ) چاند دیکھ لو تو روزہ رکھو، ( اسی طرح ) جب ( عید الفطر کا چاند ) دیکھ لو تو روزہ رکھنا بند کرو، ( اور ) جب تم پر بادل چھائے ہوں تو تیس کی گنتی پوری کرو“۔
اخبرنا محمد بن عبد الله بن يزيد، قال حدثنا سفيان، عن عمرو بن دينار، عن محمد بن حنين، عن ابن عباس، قال عجبت ممن يتقدم الشهر وقد قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اذا رايتم الهلال فصوموا واذا رايتموه فافطروا فان غم عليكم فاكملوا العدة ثلاثين
حذیفہ بن یمان رضی الله عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم رمضان کے مہینہ پر سبقت نہ کرو ۱؎ یہاں تک کہ ( روزہ رکھنے سے ) پہلے چاند دیکھ لو، یا ( شعبان کی ) تیس کی تعداد پوری کر لو، پھر روزہ رکھو، یہاں تک کہ ( عید الفطر کا ) چاند دیکھ لو، یا اس سے پہلے رمضان کی تیس کی تعداد پوری کر لو“۔
اخبرنا اسحاق بن ابراهيم، قال انبانا جرير، عن منصور، عن ربعي بن حراش، عن حذيفة بن اليمان، عن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " لا تقدموا الشهر حتى تروا الهلال قبله او تكملوا العدة ثم صوموا حتى تروا الهلال او تكملوا العدة قبله
ایک صحابی رسول رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم رمضان کے مہینہ پر سبقت نہ کرو یہاں تک کہ شعبان کی گنتی پوری کر لو، یا رمضان کا چاند دیکھ لو پھر روزہ رکھو، اور نہ روزہ بند کرو یہاں تک کہ تم عید الفطر کا چاند دیکھ لو، یا رمضان کی تیس ( دن ) کی گنتی پوری کر لو“۔ حجاج بن ارطاۃ نے اسے مرسلاً روایت کیا ہے۔
اخبرنا محمد بن بشار، قال حدثنا عبد الرحمن، قال حدثنا سفيان، عن منصور، عن ربعي، عن بعض، اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لا تقدموا الشهر حتى تكملوا العدة او تروا الهلال ثم صوموا ولا تفطروا حتى تروا الهلال او تكملوا العدة ثلاثين " . ارسله الحجاج بن ارطاة
ربعی کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم ( رمضان کا ) چاند دیکھ لو تو روزہ رکھو، اور جب اسے ( عید الفطر کا چاند ) دیکھ لو تو روزہ بند کر دو، ( اور ) اگر تم پر بادل چھا جائیں تو شعبان کے تیس دن پورے کرو، مگر یہ کہ اس سے پہلے چاند دیکھ لو، پھر رمضان کے تیس روزے رکھو، مگر یہ کہ اس سے پہلے چاند دیکھ لو“۔
اخبرنا محمد بن حاتم، قال حدثنا حبان، قال حدثنا عبد الله، عن الحجاج بن ارطاة، عن منصور، عن ربعي، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اذا رايتم الهلال فصوموا واذا رايتموه فافطروا فان غم عليكم فاتموا شعبان ثلاثين الا ان تروا الهلال قبل ذلك ثم صوموا رمضان ثلاثين الا ان تروا الهلال قبل ذلك
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے ( رمضان کے چاند کو ) دیکھ کر روزہ رکھو، اور اسے ( یعنی عید الفطر کے چاند کو ) دیکھ کر روزہ بند کرو، ( اور ) اگر تمہارے اور اس کے بیچ بدلی حائل ہو جائے تو تیس کی گنتی پوری کرو، اور ( ایک یا دو دن پہلے سے رمضان کے ) مہینہ کا استقبال نہ کرو“۔
اخبرنا اسحاق بن ابراهيم، قال حدثنا اسماعيل بن ابراهيم، قال حدثنا حاتم بن ابي صغيرة، عن سماك بن حرب، عن عكرمة، قال حدثنا ابن عباس، عن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " صوموا لرويته وافطروا لرويته فان حال بينكم وبينه سحاب فاكملوا العدة ولا تستقبلوا الشهر استقبالا