احادیث
#2111
سنن نسائی - Fasting
کریب مولیٰ ابن عباس کہتے ہیں: ام فضل رضی اللہ عنہا نے انہیں معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس شام بھیجا، تو میں شام آیا، اور میں نے ان کی ضرورت پوری کی، اور میں شام ( ہی ) میں تھا کہ رمضان کا چاند نکل آیا، میں نے جمعہ کی رات کو چاند دیکھا، پھر میں مہینہ کے آخری ( ایام ) میں مدینہ آ گیا، عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے مجھ سے ( حال چال ) پوچھا، پھر پہلی تاریخ کے چاند کا ذکر کیا، ( اور مجھ سے ) پوچھا: تم لوگوں نے چاند کب دیکھا؟ تو میں نے جواب دیا: ہم نے جمعہ کی رات کو دیکھا تھا، انہوں نے ( تاکیداً ) پوچھا: تم نے ( بھی ) اسے جمعہ کی رات کو دیکھا تھا؟ میں نے کہا: ہاں ( میں نے بھی دیکھا تھا ) اور لوگوں نے بھی دیکھا، تو لوگوں نے ( بھی ) روزے رکھے، اور معاویہ رضی اللہ عنہ نے بھی، ( تو ) انہوں نے کہا: لیکن ہم لوگوں نے ہفتے ( سنیچر ) کی رات کو دیکھا تھا، ( لہٰذا ) ہم برابر روزہ رکھیں گے یہاں تک کہ ہم ( گنتی کے ) تیس دن پورے کر لیں، یا ہم ( اپنا چاند ) دیکھ لیں، تو میں نے کہا: کیا معاویہ رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھیوں کا چاند دیکھنا کافی نہیں ہے؟ کہا: نہیں! ( کیونکہ ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ایسا ہی حکم دیا ہے۔
Metadata
- Edition
- سنن نسائی
- Book
- Fasting
- Hadith Index
- #2111
- Book Index
- 22
Grades
- Abu GhuddahSahih
- Al-AlbaniSahih
- Zubair Ali ZaiSahih Muslim