Loading...

Loading...
کتب
۳۴۵ احادیث
طلحہ بن عبیداللہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ ایک اعرابی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پراگندہ بال آیا، ( اور ) اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! مجھے بتائیے اللہ تعالیٰ نے مجھ پر کتنی نمازیں فرض کی ہیں؟ آپ نے فرمایا: ”پانچ ( وقت کی ) نمازیں، اِلاَّ یہ کہ تم کچھ نفل پڑھنا چاہو“، پھر اس نے کہا: مجھے بتلائیے کہ اللہ تعالیٰ نے مجھ پر کتنے روزے فرض کیے ہیں؟ آپ نے فرمایا: ”ماہ رمضان کے روزے، اِلاَّ یہ کہ تم کچھ نفلی ( روزے ) رکھنا چاہو“، ( پھر ) اس نے پوچھا: مجھے بتلائیے اللہ تعالیٰ نے مجھ پر کتنی زکاۃ فرض کی ہے؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اسلام کے احکام بتائے، تو اس نے کہا: قسم ہے اس ذات کی جس نے آپ کی تکریم کی ہے، میں کوئی نفل نہیں کروں اور نہ اللہ تعالیٰ نے مجھ پر جو فرض کیا ہے اس میں کوئی کمی کروں گا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر اس نے سچ کہا تو یہ کامیاب ہو گیا“، یا کہا: ”اگر اس نے سچ کہا تو جنت میں داخل ہو گیا“۔
اخبرنا علي بن حجر، قال حدثنا اسماعيل، - وهو ابن جعفر - قال حدثنا ابو سهيل، عن ابيه، عن طلحة بن عبيد الله، ان اعرابيا، جاء الى رسول الله صلى الله عليه وسلم ثاير الراس فقال يا رسول الله اخبرني ماذا فرض الله على من الصلاة قال " الصلوات الخمس الا ان تطوع شييا " . قال اخبرني بما افترض الله على من الصيام قال " صيام شهر رمضان الا ان تطوع شييا " . قال اخبرني بما افترض الله على من الزكاة فاخبره رسول الله صلى الله عليه وسلم بشرايع الاسلام . فقال والذي اكرمك لا اتطوع شييا ولا انقص مما فرض الله على شييا . فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " افلح ان صدق " . او " دخل الجنة ان صدق
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں: ہمیں قرآن کریم میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے لایعنی بات پوچھنے سے منع کیا گیا تھا، تو ہمیں یہ بات اچھی لگتی کہ دیہاتیوں میں سے کوئی عقلمند شخص آئے، اور آپ سے نئی نئی باتیں پوچھے، چنانچہ ایک دیہاتی آیا، اور کہنے لگا: اے محمد! ہمارے پاس آپ کا قاصد آیا، اور اس نے ہمیں بتایا کہ آپ کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو بھیجا ہے؟ آپ نے فرمایا: ”اس نے سچ کہا“، اس نے پوچھا: آسمان کو کس نے پیدا کیا؟ آپ نے کہا: ”اللہ تعالیٰ نے“ ( پھر ) اس نے پوچھا: زمین کو کس نے پیدا کیا؟ آپ نے کہا: ”اللہ نے“ ( پھر ) اس نے پوچھا: اس میں پہاڑ کو کس نے نصب کیے ہیں؟ آپ نے کہا: ”اللہ تعالیٰ نے“ ( پھر ) اس نے پوچھا: اس میں نفع بخش ( چیزیں ) کس نے بنائیں؟ آپ نے کہا: ”اللہ تعالیٰ نے“ ( پھر ) اس نے کہا: قسم اس ذات کی جس نے آسمان اور زمین کو پیدا کیا، اور اس میں پہاڑ نصب کیے، اور اس میں نفع بخش ( چیزیں ) بنائیں کیا آپ کو اللہ تعالیٰ نے بھیجا ہے؟ آپ نے کہا: ”ہاں“، پھر اس نے کہا: اور آپ کے قاصد نے کہا ہے کہ ہمارے اوپر ہر روز دن اور رات میں پانچ وقت کی نماز فرض ہے؟ آپ نے فرمایا: ”اس نے سچ کہا“، تو اس نے کہا: قسم ہے اس ذات کی جس نے آپ کو بھیجا! کیا اللہ تعالیٰ نے آپ کو ان ( نمازوں ) کا حکم دیا ہے؟ آپ نے کہا: ہاں، ( پھر ) اس نے کہا: آپ کے قاصد نے کہا ہے کہ ہم پر اپنے مالوں کی زکاۃ فرض ہے؟ آپ نے فرمایا: اس نے سچ کہا، ( پھر ) اس نے کہا: قسم اس ذات کی جس نے آپ کو بھیجا! کیا آپ کو اللہ تعالیٰ نے اس کا حکم دیا ہے؟ آپ نے کہا: ”ہاں“، ( پھر ) اس نے کہا: آپ کے قاصد نے کہا ہے: ہم پر ہر سال ماہ رمضان کے روزے فرض ہیں، آپ نے کہا: ”اس نے سچ کہا“ ( پھر ) اس نے کہا: کیا اللہ تعالیٰ نے آپ کو ان ( دنوں کے روزوں ) کا حکم دیا ہے؟ آپ نے کہا: ”ہاں“، ( پھر ) اس نے کہا: آپ کے قاصد نے کہا ہے: ہم میں سے جو کعبہ تک جانے کی طاقت رکھتے ہوں، ان پر حج فرض ہے؟ آپ نے فرمایا: ”اس نے سچ کہا“، اس نے کہا: قسم اس ذات کی جس نے آپ کو بھیجا! کیا اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس کا حکم دیا ہے؟ آپ نے فرمایا: ”ہاں“، تو اس نے کہا: قسم اس ذات کی جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا فرمایا: میں ہرگز نہ اس میں کچھ بڑھاؤں گا اور نہ گھٹاؤں گا، جب وہ لوٹا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر اس نے سچ کہا ہے تو یہ ضرور جنت میں داخل ہو گا“۔
اخبرنا محمد بن معمر، قال حدثنا ابو عامر العقدي، قال حدثنا سليمان بن المغيرة، عن ثابت، عن انس، قال نهينا في القران ان نسال النبي صلى الله عليه وسلم عن شىء فكان يعجبنا ان يجيء الرجل العاقل من اهل البادية فيساله فجاء رجل من اهل البادية فقال يا محمد اتانا رسولك فاخبرنا انك تزعم ان الله عز وجل ارسلك قال " صدق " . قال فمن خلق السماء قال " الله " . قال فمن خلق الارض قال " الله " . قال فمن نصب فيها الجبال قال " الله " . قال فمن جعل فيها المنافع قال " الله " . قال فبالذي خلق السماء والارض ونصب فيها الجبال وجعل فيها المنافع الله ارسلك قال " نعم " . قال وزعم رسولك ان علينا خمس صلوات في كل يوم وليلة قال " صدق " . قال فبالذي ارسلك الله امرك بهذا قال " نعم " . قال وزعم رسولك ان علينا زكاة اموالنا قال " صدق " . قال فبالذي ارسلك الله امرك بهذا قال " نعم " . قال وزعم رسولك ان علينا صوم شهر رمضان في كل سنة . قال " صدق " . قال فبالذي ارسلك الله امرك بهذا قال " نعم " . قال وزعم رسولك ان علينا الحج من استطاع اليه سبيلا . قال " صدق " . قال فبالذي ارسلك الله امرك بهذا قال " نعم " . قال فوالذي بعثك بالحق لا ازيدن عليهن شييا ولا انقص . فلما ولى قال النبي صلى الله عليه وسلم " لين صدق ليدخلن الجنة
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں: ہم مسجد میں بیٹھے تھے کہ اسی دوران ایک شخص اونٹ پر آیا، اسے مسجد میں بٹھایا پھر اسے باندھا، ( اور ) لوگوں سے پوچھا: تم میں محمد کون ہیں؟ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے درمیان ٹیک لگائے بیٹھے تھے۔ تو ہم نے اس سے کہا: یہ گورے چٹے آدمی ہیں، جو ٹیک لگائے بیٹھے ہیں، آپ کو پکار کر اس شخص نے کہا: اے عبدالمطلب کے بیٹے! تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: ”میں نے تمہاری بات سن لی“ ( کہو کیا کہنا چاہتے ہو ) اس نے کہا: محمد! میں آپ سے کچھ پوچھنے والا ہوں، ( اور ذرا ) سختی سے پوچھوں گا تو آپ دل میں کچھ محسوس نہ کریں، آپ نے فرمایا: ”پوچھو جو چاہتے ہو“، تو اس نے کہا: میں آپ کو آپ کے، اور آپ سے پہلے ( جو گزر چکے ہیں ) ان کے رب کی قسم دلاتا ہوں! کیا اللہ تعالیٰ نے آپ کو تمام لوگوں کی طرف ( رسول بنا کر ) بھیجا ہے؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا: ”اے اللہ! ( میری بات پر گواہ رہنا ) ہاں“، ( پھر ) اس نے کہا: میں اللہ کی قسم دلاتا ہوں! کیا اللہ تعالیٰ نے آپ کو دن اور رات میں پانچ ( وقت کی ) نماز پڑھنے کا حکم دیا ہے؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے اللہ! ( گواہ رہنا ) ہاں“، ( پھر ) اس نے کہا: میں آپ کو اللہ کی قسم دلاتا ہوں! کیا اللہ تعالیٰ نے آپ کو سال کے اس ماہ میں روزے رکھنے کا حکم دیا ہے؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے اللہ! ( گواہ رہنا ) ہاں،“ ( پھر ) اس نے کہا: میں آپ کو اللہ کی قسم دلاتا ہوں! اللہ تعالیٰ نے آپ کو مالداروں سے زکاۃ لے کر غریبوں میں تقسیم کرنے کا حکم دیا ہے؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا: ”اے اللہ! ( گواہ رہنا ) ہاں“، تب ( اس ) شخص نے کہا: میں آپ کی لائی ہوئی ( شریعت ) پر ایمان لایا، میں اپنی قوم کا جو میرے پیچھے ہیں قاصد ہوں، اور میں قبیلہ بنی سعد بن بکر کا فرد ضمام بن ثعلبہ ہوں۔ یعقوب بن ابراہیم نے حماد بن عیسیٰ کی مخالفت کی ہے ۱؎۔
اخبرنا عيسى بن حماد، عن الليث، عن سعيد، عن شريك بن ابي نمر، انه سمع انس بن مالك، يقول بينا نحن جلوس في المسجد جاء رجل على جمل فاناخه في المسجد ثم عقله فقال لهم ايكم محمد - ورسول الله صلى الله عليه وسلم متكي بين ظهرانيهم - قلنا له هذا الرجل الابيض المتكي فقال له الرجل يا ابن عبد المطلب . فقال له رسول الله صلى الله عليه وسلم " قد اجبتك " . فقال الرجل اني سايلك يا محمد فمشدد عليك في المسالة فلا تجدن في نفسك . قال " سل ما بدا لك " . فقال الرجل نشدتك بربك ورب من قبلك الله ارسلك الى الناس كلهم فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اللهم نعم " . قال فانشدك الله الله امرك ان تصلي الصلوات الخمس في اليوم والليلة قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اللهم نعم " . قال فانشدك الله الله امرك ان تصوم هذا الشهر من السنة قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اللهم نعم " . قال فانشدك الله الله امرك ان تاخذ هذه الصدقة من اغنياينا فتقسمها على فقراينا فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اللهم نعم " . فقال الرجل امنت بما جيت به وانا رسول من ورايي من قومي وانا ضمام بن ثعلبة اخو بني سعد بن بكر . خالفه يعقوب بن ابراهيم
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس مسجد میں بیٹھے تھے کہ اسی دوران ایک شخص اونٹ پر سوار آیا، اس نے اسے مسجد میں بٹھا کر باندھا ( اور ) لوگوں سے پوچھا: تم میں محمد کون ہیں؟ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کے درمیان ٹیک لگائے ہوئے تھے۔ ہم نے اس سے کہا: یہ گورے چٹے آدمی ہیں جو ٹیک لگائے ہوئے ہیں، تو ( اس ) شخص نے ( پکار کر ) آپ سے کہا: اے عبدالمطلب کے بیٹے! تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: ”میں نے تمہاری بات سن لی“، ( کہو کیا کہنا چاہتے ہو ) تو اس شخص نے کہا: اے محمد! میں آپ سے کچھ پوچھنے والا ہوں ( اور ذرا ) سختی سے پوچھوں گا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پوچھو جو تم پوچھنا چاہتے ہو“، تو اس آدمی نے کہا: میں آپ کو آپ کے، اور آپ سے پہلے ( جو گزر چکے ہیں ) کے رب کی قسم دلاتا ہوں! کیا اللہ تعالیٰ نے آپ کو تمام لوگوں کی طرف ( رسول بنا کر ) بھیجا ہے؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا: ”اے اللہ! ( گواہ رہنا ) ہاں“، پھر اس نے کہا: میں آپ کو اللہ کی قسم دلاتا ہوں! کیا اللہ تعالیٰ نے آپ کو سال کے اس ماہ کے روزے رکھنے کا حکم دیا ہے؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے اللہ! ( گواہ رہنا! ) ہاں“، ( پھر ) اس نے کہا: میں آپ کو اللہ کی قسم دلاتا ہوں، کیا اللہ تعالیٰ نے آپ کو حکم دیا ہے کہ آپ ہمارے مالداروں سے یہ صدقہ لو اور اسے ہمارے غریبوں میں تقسیم کرو، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے اللہ! ( گواہ رہنا ) ہاں“، تب ( اس ) شخص نے کہا: میں آپ کی لائی ہوئی ( شریعت ) پہ ایمان لایا، میں اپنی قوم کا جو میرے پیچھے ہے قاصد ہوں، اور میں بنی سعد بن بکر کا فرد ضمام بن ثعلبہ ہوں۔ عبیداللہ بن عمر نے ابن عجلان کی مخالفت کی ہے ۱؎۔
اخبرنا عبيد الله بن سعد بن ابراهيم، من كتابه قال حدثنا عمي، قال حدثنا الليث، قال حدثنا ابن عجلان، وغيره، من اخواننا عن سعيد المقبري، عن شريك بن عبد الله بن ابي نمر، انه سمع انس بن مالك، يقول بينما نحن عند رسول الله صلى الله عليه وسلم جلوس في المسجد دخل رجل على جمل فاناخه في المسجد ثم عقله ثم قال ايكم محمد - وهو متكي بين ظهرانيهم - فقلنا له هذا الرجل الابيض المتكي فقال له الرجل يا ابن عبد المطلب . فقال له رسول الله صلى الله عليه وسلم " قد اجبتك " . قال الرجل يا محمد اني سايلك فمشدد عليك في المسالة . قال " سل عما بدا لك " . قال انشدك بربك ورب من قبلك الله ارسلك الى الناس كلهم فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اللهم نعم " . قال فانشدك الله الله امرك ان تصوم هذا الشهر من السنة قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اللهم نعم " . قال فانشدك الله الله امرك ان تاخذ هذه الصدقة من اغنياينا فتقسمها على فقراينا فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اللهم نعم " . فقال الرجل اني امنت بما جيت به وانا رسول من ورايي من قومي وانا ضمام بن ثعلبة اخو بني سعد بن بكر . خالفه عبيد الله بن عمر
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ کے ساتھ تھے کہ اسی دوران دیہاتیوں میں ایک شخص آیا، اور اس نے پوچھا: تم میں عبدالمطلب کے بیٹے کون ہیں؟ لوگوں نے کہا: یہ گورے رنگ والے جو تکیہ پر ٹیک لگائے ہوئے ہیں ( حمزہ کہتے ہیں: «الأمغر» سرخی مائل کو کہتے ہیں ) تو اس شخص نے کہا: میں آپ سے کچھ پوچھنے ولا ہوں، اور پوچھنے میں آپ سے سختی کروں گا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا: ”پوچھو جو چاہو“، اس نے کہا: میں آپ سے آپ کے رب کا اور آپ سے پہلے لوگوں کے رب کا اور آپ کے بعد کے لوگوں کے رب کا واسطہ دے کر پوچھتا ہوں: کیا اللہ نے آپ کو رسول بنا کر بھیجا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے اللہ تو گواہ رہ، ہاں“، اس نے کہا: تو میں اسی کا واسطہ دے کر آپ سے پوچھتا ہوں کیا اللہ نے آپ کو حکم دیا ہے کہ آپ روزانہ پانچ وقت کی نماز پڑھیں؟ آپ نے کہا: ”اے اللہ تو گواہ رہ، ہاں“، اس نے کہا: کیا اللہ نے آپ کو حکم دیا ہے کہ آپ ہمارے مالداروں کے مالوں میں سے ( زکاۃ ) لیں، پھر اسے ہمارے فقیروں کو لوٹا دیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے اللہ تو گواہ رہنا، ہاں“، اس نے کہا: میں آپ کو اللہ کی قسم دلاتا ہوں، کیا اللہ تعالیٰ نے آپ کو سال کے بارہ مہینوں میں سے اس مہینہ میں روزے رکھنے کا حکم دیا ہے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا: ”اے اللہ تو گواہ رہنا، ہاں“، اس نے کہا: میں آپ کو اللہ کی قسم دلاتا ہوں کیا اللہ تعالیٰ نے آپ حکم دیا ہے کہ جو اس خانہ کعبہ تک پہنچنے کی طاقت رکھے وہ اس کا حج کرے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا: ”اے اللہ گواہ رہنا ہاں“، تب اس شخص نے کہا: میں ایمان لایا اور میں نے تصدیق کی، میں ضمام بن ثعلبہ ہوں۔
اخبرنا ابو بكر بن علي، قال حدثنا اسحاق، قال حدثنا ابو عمارة، حمزة بن الحارث بن عمير قال سمعت ابي يذكر، عن عبيد الله بن عمر، عن سعيد بن ابي سعيد المقبري، عن ابي هريرة، قال بينما النبي صلى الله عليه وسلم مع اصحابه جاء رجل من اهل البادية قال ايكم ابن عبد المطلب قالوا هذا الامغر المرتفق - قال حمزة الامغر الابيض مشرب حمرة - فقال اني سايلك فمشتد عليك في المسالة قال " سل عما بدا لك " . قال اسالك بربك ورب من قبلك ورب من بعدك الله ارسلك قال " اللهم نعم " . قال فانشدك به الله امرك ان تصلي خمس صلوات في كل يوم وليلة قال " اللهم نعم " . قال فانشدك به الله امرك ان تاخذ من اموال اغنياينا فترده على فقراينا قال " اللهم نعم " . قال فانشدك به الله امرك ان تصوم هذا الشهر من اثنى عشر شهرا قال " اللهم نعم " . قال فانشدك به الله امرك ان يحج هذا البيت من استطاع اليه سبيلا قال " اللهم نعم " . قال فاني امنت وصدقت وانا ضمام بن ثعلبة
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے تھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں میں سب سے زیادہ سخی آدمی تھے، اور رمضان میں جس وقت جبرائیل علیہ السلام آپ سے ملتے تھے آپ اور زیادہ سخی ہو جاتے تھے، جبرائیل علیہ السلام آپ سے ماہ رمضان میں ہر رات ملاقات کرتے ( اور ) قرآن کا دور کراتے تھے۔ ( راوی ) کہتے ہیں: جس وقت جبرائیل علیہ السلام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات کرتے تو آپ تیز چلتی ہوئی ہوا سے بھی زیادہ سخی ہو جاتے تھے۔
اخبرنا سليمان بن داود، عن ابن وهب، قال اخبرني يونس، عن ابن شهاب، عن عبيد الله بن عبد الله بن عتبة، ان عبد الله بن عباس، كان يقول كان رسول الله صلى الله عليه وسلم اجود الناس وكان اجود ما يكون في رمضان حين يلقاه جبريل وكان جبريل يلقاه في كل ليلة من شهر رمضان فيدارسه القران . قال كان رسول الله صلى الله عليه وسلم حين يلقاه جبريل عليه السلام اجود بالخير من الريح المرسلة
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی لعنت ایسی نہیں کی جسے ذکر کیا جائے، ( اور ) جب جبرائیل علیہ السلام کے آپ کو قرآن دور کرانے کا زمانہ آتا تو آپ تیز چلتی ہوئی ہوا سے بھی زیادہ فیاض ہوتے۔ ابوعبدالرحمٰن ( نسائی ) کہتے ہیں: یہ ( روایت ) غلط ہے، اور صحیح یونس بن یزید والی حدیث ہے ( جو اوپر گزری ) راوی نے اس حدیث میں ایک ( دوسری ) حدیث داخل کر دی ہے۔
اخبرنا محمد بن اسماعيل، قال حدثني حفص بن عمر بن الحارث، قال حدثنا حماد، قال حدثنا معمر، والنعمان بن راشد، عن الزهري، عن عروة، عن عايشة، قالت ما لعن رسول الله صلى الله عليه وسلم من لعنة تذكر وكان اذا كان قريب عهد بجبريل عليه السلام يدارسه كان اجود بالخير من الريح المرسلة . قال ابو عبد الرحمن هذا خطا والصواب حديث يونس بن يزيد وادخل هذا حديثا في حديث
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب رمضان کا مہینہ آتا ہے تو جنت کے دروازے کھول دئیے جاتے ہیں، جہنم کے دروازے بند کر دیے جاتے ہیں، اور شیاطین جکڑ دئیے جاتے ہیں“۔
اخبرنا علي بن حجر، قال حدثنا اسماعيل، قال حدثنا ابو سهيل، عن ابيه، عن ابي هريرة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " اذا دخل شهر رمضان فتحت ابواب الجنة وغلقت ابواب النار وصفدت الشياطين
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب رمضان آتا ہے تو جنت کے دروازے کھول دئیے جاتے ہیں، جہنم کے دروازے بند کر دیے جاتے ہیں، اور شیاطین جکڑ دئیے جاتے ہیں“۔
اخبرني ابراهيم بن يعقوب الجوزجاني، قال حدثنا ابن ابي مريم، قال انبانا نافع بن يزيد، عن عقيل، عن ابن شهاب، قال اخبرني ابو سهيل، عن ابيه، عن ابي هريرة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " اذا دخل رمضان فتحت ابواب الجنة وغلقت ابواب النار وصفدت الشياطين
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب رمضان آتا ہے تو جنت کے دروازے کھول دئیے جاتے ہیں، جہنم کے دروازے بند کر دیے جاتے ہیں، اور شیاطین زنجیر میں جکڑ دئیے جاتے ہیں“۔
اخبرنا عبيد الله بن سعد بن ابراهيم، قال حدثنا عمي، قال حدثنا ابي، عن صالح، عن ابن شهاب، قال اخبرني نافع بن انس، ان اباه، حدثه انه، سمع ابا هريرة، يقول قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اذا دخل رمضان فتحت ابواب الجنة وغلقت ابواب جهنم وسلسلت الشياطين
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب رمضان آتا ہے تو رحمت کے دروازے کھول دئیے جاتے ہیں، جہنم کے دروازے بند کر دیے جاتے ہیں، اور شیاطین جکڑ دئیے جاتے ہیں“۔
اخبرنا محمد بن خالد، قال حدثنا بشر بن شعيب، عن ابيه، عن الزهري، قال حدثني ابن ابي انس، مولى التيميين ان اباه، حدثه انه، سمع ابا هريرة، يقول قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اذا جاء رمضان فتحت ابواب الرحمة وغلقت ابواب جهنم وسلسلت الشياطين
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب رمضان آتا ہے تو جنت کے دروازے کھول دئیے جاتے ہیں، جہنم کے دروازے بند کر دئیے جاتے ہیں، اور شیاطین جکڑ دئیے جاتے ہیں“۔ اسے ابن اسحاق نے بھی زہری سے روایت کیا ہے۔
اخبرنا الربيع بن سليمان، في حديثه عن ابن وهب، قال اخبرني يونس، عن ابن شهاب، عن ابن ابي انس، ان اباه، حدثه انه، سمع ابا هريرة، يقول قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اذا كان رمضان فتحت ابواب الجنة وغلقت ابواب جهنم وسلسلت الشياطين " . رواه ابن اسحاق عن الزهري
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب ماہ رمضان آتا ہے تو جنت کے دروازے کھول دئیے جاتے ہیں، جہنم کے دروازے بند کر دئیے جاتے ہیں، اور شیاطین جکڑ دئیے جاتے ہیں“۔ ابوعبدالرحمٰن ( نسائی ) کہتے ہیں: یہ ابن اسحاق ( والی ) حدیث غلط ہے، اسے ابن اسحاق نے زہری سے نہیں سنا ہے، اور صحیح ( روایت ) وہ ہے جس کا ذکر ہم ( اوپر ) کر چکے ہیں۔
اخبرنا عبيد الله بن سعد، قال حدثنا عمي، قال حدثنا ابي، عن ابن اسحاق، عن الزهري، عن ابن ابي انس، عن ابيه، عن ابي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " اذا دخل شهر رمضان فتحت ابواب الجنة وغلقت ابواب النار وسلسلت الشياطين " . قال ابو عبد الرحمن هذا - يعني حديث ابن اسحاق - خطا ولم يسمعه ابن اسحاق من الزهري والصواب ما تقدم ذكرنا له
انس بن مالک رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ رمضان ہے جو تمہارے پاس آپ پہنچا ہے اس میں جنت کے دروازے کھول دئیے جاتے ہیں، جہنم کے دروازے بند کر دئیے جاتے ہیں، اور شیاطین جکڑ دئیے جاتے ہیں“۔ ابوعبدالرحمٰن ( نسائی ) کہتے ہیں: یہ حدیث غلط ہے۔
اخبرنا عبيد الله بن سعد، قال حدثنا عمي، قال حدثنا ابي، عن ابن اسحاق، قال وذكر محمد بن مسلم عن اويس بن ابي اويس، عديد بني تيم عن انس بن مالك، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " هذا رمضان قد جاءكم تفتح فيه ابواب الجنة وتغلق فيه ابواب النار وتسلسل فيه الشياطين " . قال ابو عبد الرحمن هذا الحديث خطا
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم عزیمت و تاکید بغیر واجب کئے قیام رمضان کی ترغیب دیتے تھے، اور فرماتے تھے: ”جب رمضان آتا ہے تو جنت کے دروازے کھول دئیے جاتے ہیں، جہنم کے دروازے بند کر دئیے جاتے ہیں، اور اس میں شیاطین جکڑ دئیے جاتے ہیں“۔ ابن مبارک نے اسے مرسلاً ( منقطعاً ) روایت کیا ہے۔
اخبرنا ابو بكر بن علي، قال حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، قال حدثنا عبد الاعلى، عن معمر، عن الزهري، عن ابي سلمة، عن ابي هريرة، ان النبي صلى الله عليه وسلم كان يرغب في قيام رمضان من غير عزيمة وقال " اذا دخل رمضان فتحت ابواب الجنة وغلقت ابواب الجحيم وسلسلت فيه الشياطين " . ارسله ابن المبارك
ابوہریرہ رضی الله عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب رمضان آتا ہے تو رحمت کے دروازے کھول دئیے جاتے ہیں، جہنم کے دروازے بند کر دئیے جاتے ہیں، اور شیاطین جکڑ دئیے جاتے ہیں“۔
اخبرنا محمد بن حاتم، قال انبانا حبان بن موسى، - خراساني - قال انبانا عبد الله، عن معمر، عن الزهري، عن ابي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " اذا دخل رمضان فتحت ابواب الرحمة وغلقت ابواب جهنم وسلسلت الشياطين
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”رمضان کا مبارک مہینہ تمہارے پاس آ چکا ہے، اللہ تعالیٰ نے تم پر اس کے روزے فرض کر دیئے ہیں، اس میں آسمان کے دروازے کھول دئیے جاتے ہیں، جہنم کے دروازے بند کر دئیے جاتے ہیں، اور سرکش شیاطین کو بیڑیاں پہنا دی جاتی ہیں، اور اس میں اللہ تعالیٰ کے لیے ایک رات ایسی ہے جو ہزار مہینوں سے بہتر ہے، جو اس کے خیر سے محروم رہا تو وہ بس محروم ہی رہا“۔
اخبرنا بشر بن هلال، قال حدثنا عبد الوارث، عن ايوب، عن ابي قلابة، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اتاكم رمضان شهر مبارك فرض الله عز وجل عليكم صيامه تفتح فيه ابواب السماء وتغلق فيه ابواب الجحيم وتغل فيه مردة الشياطين لله فيه ليلة خير من الف شهر من حرم خيرها فقد حرم
عرفجہ کہتے ہیں کہ ہم نے عتبہ بن فرقد کی عیادت کی تو ہم نے ماہ رمضان کا تذکرہ کیا، تو انہوں نے پوچھا: تم لوگ کیا ذکر کر رہے ہو؟ ہم نے کہا: ماہ رمضان کا، تو انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: ”اس میں جنت کے دروازے کھول دئیے جاتے ہیں، جہنم کے دروازے بند کر دئیے جاتے ہیں، اور شیاطین کو بیڑیاں پہنا دی جاتی ہیں، اور ہر رات منادی آواز لگاتا ہے: اے خیر ( بھلائی ) کے طلب گار! خیر کے کام میں لگ جا ۱؎، اور اے شر ( برائی ) کے طلب گار! برائی سے باز آ جا“ ۲؎۔ ابوعبدالرحمٰن ( امام نسائی ) کہتے ہیں: یہ غلط ہے ۳؎۔
اخبرنا محمد بن منصور، قال حدثنا سفيان، عن عطاء بن السايب، عن عرفجة، قال عدنا عتبة بن فرقد فتذاكرنا شهر رمضان فقال ما تذكرون قلنا شهر رمضان . قال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " تفتح فيه ابواب الجنة وتغلق فيه ابواب النار وتغل فيه الشياطين وينادي مناد كل ليلة يا باغي الخير هلم ويا باغي الشر اقصر " . قال ابو عبد الرحمن هذا خطا
عرفجہ کہتے ہیں میں ایک گھر میں تھا جس میں عتبہ بن فرقد بھی تھے، میں نے ایک حدیث بیان کرنی چاہی حالانکہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں سے ایک ( صاحب وہاں ) موجود تھے گویا وہ حدیث بیان کرنے کا مجھ سے زیادہ مستحق تھے، چنانچہ ( انہوں ) نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”رمضان میں آسمان کے دروازے کھول دئیے جاتے ہیں، جہنم کے دروازے بند کر دیئے جاتے ہیں، اور ہر سرکش شیطان کو بیڑی لگا دی جاتی ہے، اور پکارنے والا ہر رات پکارتا ہے: اے خیر ( بھلائی ) کے طلب گار! نیکی میں لگا رہ، اور اے شر ( برائی ) کے طلب گار! باز آ جا“۔
اخبرنا محمد بن بشار، قال حدثنا محمد، قال حدثنا شعبة، عن عطاء بن السايب، عن عرفجة، قال كنت في بيت فيه عتبة بن فرقد فاردت ان احدث بحديث وكان رجل من اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم كانه اولى بالحديث مني فحدث الرجل عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " في رمضان تفتح فيه ابواب السماء وتغلق فيه ابواب النار ويصفد فيه كل شيطان مريد وينادي مناد كل ليلة يا طالب الخير هلم ويا طالب الشر امسك
ابوبکرہ رضی الله عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں کوئی ہرگز یہ نہ کہے کہ میں نے پورے رمضان کے روزے رکھے، اور اس کی پوری راتوں میں قیام کیا“ ( راوی کہتے ہیں ) میں نہیں جانتا کہ آپ نے آپ اپنی تعریف کرنے کو ناپسند کیا، یا آپ نے سمجھا ضرور کوئی نہ کوئی غفلت اور لاپرواہی ہوئی ہو گی ( پھر یہ کہنا کہ میں نے پورے رمضان میں عبادت کی کہاں صحیح ہوا ) یہ الفاظ عبیداللہ کے ہیں۔
اخبرنا اسحاق بن ابراهيم، قال انبانا يحيى بن سعيد، قال انبانا المهلب بن ابي حبيبة، ح وانبانا عبيد الله بن سعيد، قال حدثنا يحيى، عن المهلب بن ابي حبيبة، قال اخبرني الحسن، عن ابي بكرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " لا يقولن احدكم صمت رمضان ولا قمته كله " . ولا ادري كره التزكية او قال لا بد من غفلة ورقدة اللفظ لعبيد الله