Loading...

Loading...
کتب
۳۴۵ احادیث
عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ میرے والد نے میری شادی ایک عورت سے کر دی، وہ اس سے ملاقات کے لیے آئے، تو اس سے پوچھا: تم نے اپنے شوہر کو کیسا پایا؟ اس نے کہا: کیا ہی بہترین آدمی ہیں نہ رات میں سوتے ہیں اور نہ دن میں کھاتے پیتے ہیں، ۱؎ تو انہوں نے مجھے سخت سست کہا اور بولے: میں نے تیری شادی ایک مسلمان لڑکی سے کی ہے، اور تو اسے چھوڑے رکھے ہے۔ میں نے ان کی بات پر دھیان نہیں دیا اس لیے کہ میں اپنے اندر قوت اور ( نیکیوں میں ) آگے بڑھنے کی صلاحیت پاتا تھا، یہ بات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچی تو آپ نے فرمایا: ”میں رات میں قیام بھی کرتا ہوں اور سوتا بھی ہوں، روزہ بھی رکھتا ہوں اور کھاتا پیتا بھی ہوں، تو تم بھی قیام کرو اور سوؤ بھی۔ اور روزہ رکھو اور افطار بھی کرو، ہر مہینے میں تین دن روزہ رکھا کرو“ میں نے کہا: میں اس سے زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں، آپ نے فرمایا: ”تو پھر تم «صیام داودی» رکھا کرو، ایک دن روزہ رکھو اور ایک دن کھاؤ پیو“، میں نے عرض کیا: میں اس سے بھی زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں، آپ نے فرمایا: ”ہر مہینہ ایک مرتبہ قرآن پڑھا کرو“، پھر آپ ( کم کرتے کرتے ) پندرہ دن پر آ کر ٹھہر گئے، اور میں کہتا ہی رہا کہ میں اس سے زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں۔
اخبرنا ابو حصين عبد الله بن احمد بن عبد الله بن يونس، قال حدثنا عبثر، قال حدثنا حصين، عن مجاهد، عن عبد الله بن عمرو، قال زوجني ابي امراة فجاء يزورها فقال كيف ترين بعلك فقالت نعم الرجل من رجل لا ينام الليل ولا يفطر النهار . فوقع بي وقال زوجتك امراة من المسلمين فعضلتها . قال فجعلت لا التفت الى قوله مما ارى عندي من القوة والاجتهاد فبلغ ذلك النبي صلى الله عليه وسلم فقال " لكني انا اقوم وانام واصوم وافطر فقم ونم وصم وافطر " . قال " صم من كل شهر ثلاثة ايام " . فقلت انا اقوى من ذلك . قال " صم صوم داود عليه السلام صم يوما وافطر يوما " . قلت انا اقوى من ذلك . قال " اقرا القران في كل شهر " . ثم انتهى الى خمس عشرة وانا اقول انا اقوى من ذلك
عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے حجرے میں داخل ہوئے اور فرمایا: ”کیا مجھے یہ خبر نہیں ملی ہے کہ تم رات میں قیام کرتے ہو اور دن میں روزہ رکھتے ہو؟“ انہوں نے کہا: کیوں نہیں، ہاں ایسا ہی ہے۔ آپ نے فرمایا: ”تم ایسا ہرگز نہ کرو، سوؤ بھی اور قیام بھی کرو، روزہ سے بھی رہو اور کھاؤ پیو بھی، کیونکہ تمہاری آنکھ کا تم پر حق ہے، اور تمہارے بدن کا تم پر حق ہے، تمہاری بیوی کا تم پر حق ہے، تمہارے مہمان کا تم پر حق ہے، اور تمہارے دوست کا تم پر حق ہے، توقع ہے کہ تمہاری عمر لمبی ہو، تمہارے لیے بس اتنا کافی ہے کہ ہر مہینے میں تین دن روزہ رکھا کرو، یہی صیام الدھر ہو گا کیونکہ نیکی کا ثواب دس گنا ہوتا ہے، میں نے عرض کیا: میں اپنے اندر طاقت پاتا ہوں، تو میں نے سختی چاہی تو مجھ پر سختی کر دی گئی، آپ نے فرمایا: ”ہر ہفتے تین دن روزہ رکھا کرو“، میں نے عرض کیا: میں اس سے زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں، تو میں نے سختی چاہی تو مجھ پر سختی کر دی گئی، آپ نے فرمایا: ”تم اللہ کے نبی داود علیہ السلام کے روزے رکھو“، میں نے کہا: داود علیہ السلام کا روزہ کیا ہے؟ آپ نے فرمایا: ”ایک دن روزہ ایک دن افطار“۔
اخبرنا يحيى بن درست، قال حدثنا ابو اسماعيل، قال حدثنا يحيى بن ابي كثير، ان ابا سلمة، حدثه ان عبد الله قال دخل رسول الله صلى الله عليه وسلم حجرتي فقال " الم اخبر انك تقوم الليل وتصوم النهار " . قال بلى . قال " فلا تفعلن نم وقم وصم وافطر فان لعينك عليك حقا وان لجسدك عليك حقا وان لزوجتك عليك حقا وان لضيفك عليك حقا وان لصديقك عليك حقا وانه عسى ان يطول بك عمر وانه حسبك ان تصوم من كل شهر ثلاثا فذلك صيام الدهر كله والحسنة بعشر امثالها " . قلت اني اجد قوة فشددت فشدد على . قال " صم من كل جمعة ثلاثة ايام " . قلت اني اطيق اكثر من ذلك فشددت فشدد على . قال " صم صوم نبي الله داود عليه السلام " . قلت وما كان صوم داود قال " نصف الدهر
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ذکر کیا گیا کہ میں کہتا ہوں کہ میں جب تک زندہ رہوں گا ہمیشہ رات کو قیام کروں گا، اور دن کو روزہ رکھا کروں گا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: تم ایسا کہتے ہو؟ میں نے آپ سے عرض کیا: اللہ کے رسول! جی ہاں میں نے یہ بات کہی ہے، آپ نے فرمایا: ”تم ایسا نہیں کر سکتے، تم روزہ بھی رکھو اور افطار بھی کرو، سوؤ بھی اور قیام بھی کرو، اور مہینے میں تین دن روزہ رکھو کیونکہ نیکی کا ثواب دس گنا ہوتا ہے، اور یہ صیام الدھر ( پورے سال کے روزوں ) کے مثل ہے“، میں نے عرض کیا: میں اس سے زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں، آپ نے فرمایا: ”ایک دن روزہ رکھو اور دو دن افطار کرو“، پھر میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں اس سے زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں، آپ نے فرمایا: ”اچھا ایک دن روزہ رکھو اور ایک دن افطار کرو، یہ داود علیہ السلام کا روزہ ہے، یہ بہت مناسب روزہ ہے“، میں نے کہا: میں اس سے بھی زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں، آپ نے فرمایا: ”اس سے بہتر کچھ نہیں“۔ عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: اگر میں نے مہینے میں تین دن روزہ رکھنے کی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بات قبول کر لی ہوتی تو یہ میرے اہل و عیال اور میرے مال سے میرے لیے زیادہ پسندیدہ ہوتی۔
اخبرنا الربيع بن سليمان، قال حدثنا ابن وهب، قال اخبرني يونس، عن ابن شهاب، قال اخبرني سعيد بن المسيب، وابو سلمة بن عبد الرحمن ان عبد الله بن عمرو بن العاص، قال ذكر لرسول الله صلى الله عليه وسلم انه يقول لاقومن الليل ولاصومن النهار ما عشت . فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " انت الذي تقول ذلك " . فقلت له قد قلته يا رسول الله . فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " فانك لا تستطيع ذلك فصم وافطر ونم وقم وصم من الشهر ثلاثة ايام فان الحسنة بعشر امثالها وذلك مثل صيام الدهر " . قلت فاني اطيق افضل من ذلك . قال " صم يوما وافطر يومين " . فقلت اني اطيق افضل من ذلك يا رسول الله . قال " فصم يوما وافطر يوما وذلك صيام داود وهو اعدل الصيام " . قلت فاني اطيق افضل من ذلك . قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لا افضل من ذلك " . قال عبد الله بن عمرو لان اكون قبلت الثلاثة الايام التي قال رسول الله صلى الله عليه وسلم احب الى من اهلي ومالي
ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن بن عوف کہتے ہیں کہ میں عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کے پاس آیا۔ میں نے عرض کیا: چچا جان! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ سے جو کہا تھا اسے مجھ سے بیان کیجئے۔ انہوں نے کہا: بھتیجے! میں نے پختہ عزم کر لیا تھا کہ میں اللہ کی عبادت کے لیے بھرپور کوشش کروں گا یہاں تک کہ میں نے کہہ دیا کہ میں ہمیشہ روزہ رکھوں گا، اور ہر روز دن و رات قرآن پڑھا کروں گا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے سنا تو میرے پاس تشریف لائے یہاں تک کہ گھر کے اندر میرے پاس آئے، پھر آپ نے فرمایا: ”مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ تم نے کہا ہے کہ میں ہمیشہ روزہ رکھوں گا اور قرآن پڑھوں گا؟“ میں نے عرض کیا: ہاں اللہ کے رسول! میں نے ایسا کہا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایسا مت کرو ( بلکہ ) ہر مہینے تین دن روزہ رکھ لیا کرو“، میں نے عرض کیا: میں اس سے زیادہ رکھنے کی طاقت رکھتا ہوں، آپ نے فرمایا: ”ہر ہفتہ سے دو دن دوشنبہ ( پیر ) اور جمعرات کو روزہ رکھ لیا کرو“، میں نے عرض کیا: میں اس سے بھی زیادہ رکھنے کی طاقت رکھتا ہوں، آپ نے فرمایا: ”داود علیہ السلام کا روزہ رکھا کرو کیونکہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک یہ سب سے زیادہ بہتر اور مناسب روزہ ہے، وہ ایک دن روزہ رکھتے اور ایک دن افطار کرتے، اور وہ جب وعدہ کر لیتے تو وعدہ خلافی نہیں کرتے تھے، اور جب دشمن سے مڈبھیڑ ہوتی تھی تو بھاگتے نہیں تھے“۔
اخبرني احمد بن بكار، قال حدثنا محمد، - وهو ابن سلمة - عن ابن اسحاق، عن محمد بن ابراهيم، عن ابي سلمة بن عبد الرحمن، قال دخلت على عبد الله بن عمرو قلت اى عم حدثني عما قال لك رسول الله صلى الله عليه وسلم قال يا ابن اخي اني كنت اجمعت على ان اجتهد اجتهادا شديدا حتى قلت لاصومن الدهر ولاقران القران في كل يوم وليلة فسمع بذلك رسول الله صلى الله عليه وسلم فاتاني حتى دخل على في داري فقال " بلغني انك قلت لاصومن الدهر ولاقران القران " . فقلت قد قلت ذلك يا رسول الله . قال " فلا تفعل صم من كل شهر ثلاثة ايام " . قلت اني اقوى على اكثر من ذلك . قال " فصم من الجمعة يومين الاثنين والخميس " . قلت فاني اقوى على اكثر من ذلك . قال " فصم صيام داود عليه السلام فانه اعدل الصيام عند الله يوما صايما ويوما مفطرا وانه كان اذا وعد لم يخلف واذا لاقى لم يفر
عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”ایک دن روزہ رکھ تمہیں باقی دنوں کا ثواب ملے گا“۔ انہوں نے عرض کیا: میں اس سے زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں، آپ نے فرمایا: ”دو دن روزہ رکھ تمہیں باقی دنوں کا اجر ملے گا“، انہوں نے عرض کیا: میں اس سے بھی زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں۔ آپ نے فرمایا: ”تین دن روزہ رکھو اور باقی دنوں کا ثواب ملے گا“۔ انہوں نے عرض کیا: میں اس سے بھی زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں، آپ نے فرمایا: ”چار دن روزہ رکھو اور تمہیں باقی دنوں کا بھی اجر ملے گا، انہوں نے عرض کیا: میں اس سے بھی زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں۔ آپ نے فرمایا: تو پھر داود علیہ السلام کے روزے رکھو جو اللہ کے نزدیک سب سے افضل روزے ہیں، وہ ایک دن روزہ رکھتے تھے اور ایک دن بغیر روزہ کے رہتے تھے“۔
اخبرنا محمد بن المثنى، قال حدثنا محمد، قال حدثنا شعبة، عن زياد بن فياض، سمعت ابا عياض، يحدث عن عبد الله بن عمرو، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال له " صم يوما ولك اجر ما بقي " . قال اني اطيق اكثر من ذلك . قال " صم يومين ولك اجر ما بقي " . قال اني اطيق اكثر من ذلك . قال " صم ثلاثة ايام ولك اجر ما بقي " . قال اني اطيق اكثر من ذلك . قال " صم اربعة ايام ولك اجر ما بقي " . قال اني اطيق اكثر من ذلك . قال " صم افضل الصيام عند الله صوم داود عليه السلام كان يصوم يوما ويفطر يوما
عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روزہ کا ذکر کیا تو آپ نے فرمایا: ”ہر دس دن پر ایک دن روزہ رکھو، تمہیں ان باقی نو دنوں کا اجر و ثواب ملے گا“، میں نے عرض کیا: میں اس سے زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں، آپ نے فرمایا: ”ہر نو دن پر ایک دن روزہ رکھو اور تمہیں ان آٹھ دنوں کا بھی ثواب ملے گا“، میں نے عرض کیا: میں اس سے بھی زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں، آپ نے فرمایا: ”ہر آٹھ دن پر ایک دن روزہ رکھ اور تجھے باقی سات دنوں کا بھی ثواب ملے گا“، میں نے عرض کیا: میں اس سے بھی زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں، آپ برابر اسی طرح فرماتے رہے یہاں تک کہ آپ نے فرمایا: ”ایک دن روزہ رکھو اور ایک دن افطار کرو“۔
اخبرنا محمد بن عبد الاعلى، قال حدثنا المعتمر، عن ابيه، قال حدثنا ابو العلاء، عن مطرف، عن ابن ابي ربيعة، عن عبد الله بن عمرو، قال ذكرت للنبي صلى الله عليه وسلم الصوم فقال " صم من كل عشرة ايام يوما ولك اجر تلك التسعة " . فقلت اني اقوى من ذلك . قال " صم من كل تسعة ايام يوما ولك اجر تلك الثمانية " . قلت اني اقوى من ذلك . قال " فصم من كل ثمانية ايام يوما ولك اجر تلك السبعة " . قلت اني اقوى من ذلك قال فلم يزل حتى قال " صم يوما وافطر يوما
عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ مجھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک دن روزہ رکھ تمہیں دس دن کا ثواب ملے گا“، میں نے عرض کیا: میرے لیے کچھ اضافہ فرما دیجئیے، آپ نے فرمایا: ”دو دن روزہ رکھ تمہیں نو دن کا ثواب ملے گا“، میں نے عرض کیا: میرے لیے کچھ اور بڑھا دیجئیے، آپ نے فرمایا: ”تین دن روزہ رکھ لیا کرو تمہیں آٹھ دن کا ثواب ملے گا“۔ ثابت کہتے ہیں: میں نے مطرف سے اس کا ذکر کیا، تو انہوں نے کہا: میں محسوس کرتا ہوں کہ وہ کام میں تو بڑھ رہے ہیں لیکن اجر میں گھٹتے جا رہے ہیں، یہ الفاظ محمد بن اسماعیل بن ابراہیم کے ہیں۔
اخبرنا محمد بن اسماعيل بن ابراهيم، قال حدثنا يزيد، قال حدثنا حماد، ح واخبرني زكريا بن يحيى، قال حدثنا عبد الاعلى، قال حدثنا حماد، عن ثابت، عن شعيب بن عبد الله بن عمرو، عن ابيه، قال قال لي رسول الله صلى الله عليه وسلم " صم يوما ولك اجر عشرة " . فقلت زدني . فقال " صم يومين ولك اجر تسعة " . قلت زدني . قال " صم ثلاثة ايام ولك اجر ثمانية " . قال ثابت فذكرت ذلك لمطرف فقال ما اراه الا يزداد في العمل وينقص من الاجر واللفظ لمحمد
عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے خبر ملی ہے کہ تم رات میں قیام کرتے ہو، اور دن کو روزہ رکھتے ہو؟ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں نے اس سے خیر کا ارادہ کیا ہے، آپ نے فرمایا: ”جس نے ہمیشہ کا روزہ رکھا اس نے روزہ ہی نہیں رکھا، لیکن میں تمہیں بتاتا ہوں کہ ہمیشہ کا روزہ کیا ہے؟ یہ مہینہ میں صرف تین دن کا روزہ ہے“، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں اس سے زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں، آپ نے فرمایا: ”پانچ دن رکھ لیا کرو“، میں نے عرض کیا: میں اس سے بھی زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں، آپ نے فرمایا: ”تو دس دن رکھ لیا کرو“، میں نے عرض کیا: میں اس سے بھی زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں، آپ نے فرمایا: ”تم داود علیہ السلام کے روزے رکھا کرو“، وہ ایک دن روزہ رکھتے تھے اور ایک دن افطار کرتے تھے“۔
اخبرنا محمد بن عبيد، عن اسباط، عن مطرف، عن حبيب بن ابي ثابت، عن ابي العباس، عن عبد الله بن عمرو، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " انه بلغني انك تقوم الليل وتصوم النهار " . قلت يا رسول الله ما اردت بذلك الا الخير . قال " لا صام من صام الابد ولكن ادلك على صوم الدهر ثلاثة ايام من الشهر " . قلت يا رسول الله اني اطيق اكثر من ذلك . قال " صم خمسة ايام " . قلت اني اطيق اكثر من ذلك . قال " فصم عشرا " . فقلت اني اطيق اكثر من ذلك . قال " صم صوم داود عليه السلام كان يصوم يوما ويفطر يوما
عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا، پھر راوی نے پوری حدیث ذکر کی۔
اخبرنا علي بن الحسين، قال حدثنا امية، عن شعبة، عن حبيب، قال حدثني ابو العباس، - وكان رجلا من اهل الشام وكان شاعرا وكان صدوقا - عن عبد الله بن عمرو قال قال لي رسول الله صلى الله عليه وسلم وساق الحديث
عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ”عبداللہ بن عمرو! تم ہمیشہ روزہ رکھتے ہو اور رات میں کرتے ہو، جب تم ایسا کرو گے تو آنکھیں اندر کو دھنس جائیں گی اور نفس تھک جائے گا، جو ہمیشہ روزہ رہے گا اس کا روزہ نہ ہو گا، ہر مہینے میں تین دن کا روزہ پورے سال کے روزہ کے برابر ہے“، میں نے عرض کیا: میں اس سے زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں، آپ نے فرمایا: ”صوم داود رکھو، وہ ایک دن روزہ رکھتے تھے اور ایک دن بغیر روزہ کے رہتے تھے، اور جب دشمن سے مڈبھیڑ ہوتی تو بھاگتے نہیں تھے“۔
اخبرنا محمد بن عبد الاعلى، قال حدثنا خالد، حدثنا شعبة، قال اخبرني حبيب بن ابي ثابت، قال سمعت ابا العباس، - هو الشاعر - يحدث عن عبد الله بن عمرو، قال قال لي رسول الله صلى الله عليه وسلم " يا عبد الله بن عمرو انك تصوم الدهر وتقوم الليل وانك اذا فعلت ذلك هجمت العين ونفهت له النفس لا صام من صام الابد صوم الدهر ثلاثة ايام من الشهر صوم الدهر كله " . قلت اني اطيق اكثر من ذلك . قال " صم صوم داود كان يصوم يوما ويفطر يوما ولا يفر اذا لاقى
عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ”قرآن ایک مہینہ میں پڑھا کرو“، میں نے عرض کیا: میں اس سے زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں، اور پھر میں برابر آپ سے مطالبہ کرتا رہا، یہاں تک کہ آپ نے فرمایا: ”پانچ دن میں پڑھا کرو، اور مہینہ میں تین دن روزہ رکھو“، میں نے عرض کیا: میں اس سے زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں، تو میں برابر آپ سے مطالبہ کرتا رہا یہاں تک کہ آپ نے فرمایا: ”داود علیہ السلام کا روزہ رکھو، جو اللہ تعالیٰ کو سب سے زیادہ پسند ہے، وہ ایک دن روزہ رکھتے تھے، اور ایک دن بغیر روزہ کے رہتے تھے“۔
اخبرنا محمد بن بشار، قال حدثنا محمد، قال حدثنا شعبة، عن عمرو بن دينار، عن ابي العباس، عن عبد الله بن عمرو، قال قال لي رسول الله صلى الله عليه وسلم " اقرا القران في شهر " . قلت اني اطيق اكثر من ذلك . فلم ازل اطلب اليه حتى قال " في خمسة ايام " . وقال " صم ثلاثة ايام من الشهر " . قلت اني اطيق اكثر من ذلك . فلم ازل اطلب اليه حتى قال " صم احب الصيام الى الله عز وجل صوم داود كان يصوم يوما ويفطر يوما
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر ملی کہ میں روزہ رکھتا ہوں اور مسلسل رکھتا ہوں، اور رات میں نماز تہجد پڑھتا ہوں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بلا بھیجا، یا آپ ان سے ملے تو آپ نے فرمایا: ”کیا مجھے خبر نہیں دی گئی ہے کہ تم ( ہمیشہ ) روزہ رکھتے ہو، اور کبھی بغیر روزہ کے نہیں رہتے، اور رات میں تہجد کی نماز پڑھتے ہو، تم ایسا نہ کرو کیونکہ تمہاری آنکھ کا بھی ایک حصہ ہے، اور تمہارے نفس کا بھی ایک حصہ ہے، تمہاری بیوی کا بھی ایک حصہ ہے، تم روزہ بھی رکھو اور افطار بھی کرو، نماز بھی پڑھو اور سوؤ بھی، ہر دس دن میں ایک دن روزہ رکھو، تمہیں باقی نو دنوں کا بھی ثواب ملے گا“، انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں اس سے زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں۔ آپ نے فرمایا: ”پھر تو تم روزہ داود رکھا کرو“، پوچھا: اللہ کے نبی! داود علیہ السلام کے روزہ کیسے ہوا کرتے تھے؟ آپ نے فرمایا: ”وہ ایک دن روزہ رکھتے تھے اور ایک دن افطار کرتے تھے، اور جب دشمن سے مڈبھیڑ ہوتی تو بھاگتے نہیں تھے“، انہوں نے کہا: کون ایسا کر سکتا ہے؟ اللہ کے نبی!۔
اخبرنا ابراهيم بن الحسن، قال حدثنا حجاج، قال قال ابن جريج سمعت عطاء، يقول ان ابا العباس الشاعر اخبره انه، سمع عبد الله بن عمرو بن العاص، قال بلغ النبي صلى الله عليه وسلم اني اصوم اسرد الصوم واصلي الليل فارسل اليه ولما لقيه قال " الم اخبر انك تصوم ولا تفطر وتصلي الليل فلا تفعل فان لعينك حظا ولنفسك حظا ولاهلك حظا وصم وافطر وصل ونم وصم من كل عشرة ايام يوما ولك اجر تسعة " . قال اني اقوى لذلك يا رسول الله . قال " صم صيام داود اذا " . قال وكيف كان صيام داود يا نبي الله قال " كان يصوم يوما ويفطر يوما ولا يفر اذا لاقى " . قال ومن لي بهذا يا نبي الله
ابوقلابۃ ابوالملیح سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا: میں تمہارے والد زید کے ساتھ عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کے پاس آیا، تو انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے میرے روزہ کا ذکر کیا گیا تو آپ میرے پاس تشریف لائے، میں نے آپ کے لیے چمڑے کا ایک درمیانی تکیہ لا کر رکھا جس کا بھراؤ کھجور کی پیتاں تھیں، آپ زمین پر بیٹھ گئے، اور تکیہ ہمارے اور آپ کے درمیان ہو گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا ہر مہینے میں تین دن تمہارے روزہ کے لیے کافی نہیں ہیں؟“ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ( کچھ بڑھا دیجئیے ) آپ نے فرمایا: ”پانچ دن کر لو“، میں نے پھر عرض کیا: اللہ کے رسول! ( کچھ بڑھا دیجئیے ) آپ نے فرمایا: ”سات دن کر لو“، میں نے پھر عرض کیا: اللہ کے رسول! کچھ اور بڑھا دیجئیے! آپ نے فرمایا: ”نو دن“، میں نے پھر عرض کیا: اللہ کے رسول! ( کچھ اور بڑھا دیجئیے ) تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”گیارہ دن کر لو“، میں نے پھر عرض کیا: اللہ کے رسول! ( کچھ بڑھا دیجئیے ) آپ نے فرمایا: ”داود علیہ السلام کے روزہ سے بڑھ کر کوئی روزہ نہیں ہے، اور وہ اس طرح ہے ایک دن روزہ رکھا جائے، اور ایک دن بغیر روزہ کے رہا جائے“۔
اخبرنا زكرياء بن يحيى، قال حدثنا وهب بن بقية، قال انبانا خالد، عن خالد، - وهو الحذاء - عن ابي قلابة، عن ابي المليح، قال دخلت مع ابيك زيد على عبد الله بن عمرو فحدث ان رسول الله صلى الله عليه وسلم ذكر له صومي فدخل على فالقيت له وسادة ادم ربعة حشوها ليف فجلس على الارض وصارت الوسادة فيما بيني وبينه قال " اما يكفيك من كل شهر ثلاثة ايام " . قلت يا رسول الله . قال " خمسا " . قلت يا رسول الله . قال " سبعا " . قلت يا رسول الله . قال " تسعا " . قلت يا رسول الله . قال " احدى عشرة " . قلت يا رسول الله . فقال النبي صلى الله عليه وسلم " لا صوم فوق صوم داود شطر الدهر صيام يوم وفطر يوم
عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ”مہینے میں ایک دن روزہ رکھو تمہیں باقی دنوں کا ثواب ملے گا“، میں نے عرض کیا: میں اس سے زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں، آپ نے فرمایا: ”دو دن رکھ لیا کر، تجھے باقی دنوں کا ثواب مل جایا کرے گا“، میں نے کہا: میں اس سے زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں، آپ نے فرمایا: ”تو تین دن رکھ لیا کرو تمہیں باقی دنوں کا بھی اجر ملا کرے گا“، میں نے کہا: میں اس سے بھی زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں، تو آپ نے فرمایا: ”چار دن رکھ لیا کرو باقی دنوں کا بھی اجر بھی تمہیں ملا کرے گا“، میں نے عرض کیا: میں اس سے بھی زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سب سے افضل روزہ داود علیہ السلام کا روزہ ہے، وہ ایک دن روزہ رکھتے تھے اور ایک دن افطار کرتے تھے“۔
اخبرنا ابراهيم بن الحسن، قال حدثنا حجاج بن محمد، قال حدثني شعبة، عن زياد بن فياض، قال سمعت ابا عياض، قال قال عبد الله بن عمرو قال لي رسول الله صلى الله عليه وسلم " صم من الشهر يوما ولك اجر ما بقي " . قلت اني اطيق اكثر من ذلك . قال " فصم يومين ولك اجر ما بقي " . قلت اني اطيق اكثر من ذلك . قال " فصم ثلاثة ايام ولك اجر ما بقي " . قلت اني اطيق اكثر من ذلك . قال " صم اربعة ايام ولك اجر ما بقي " . قلت اني اطيق اكثر من ذلك . فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " افضل الصوم صوم داود كان يصوم يوما ويفطر يوما
ابوذر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میرے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے تین باتوں کی وصیت کی ہے میں انہیں ان شاءاللہ کبھی چھوڑ نہیں سکتا: آپ نے مجھے صلاۃ الضحیٰ ( چاشت کی نماز ) پڑھنے کی وصیت کی، اور سونے سے پہلے وتر پڑھنے کی، اور ہر مہینے تین دن روزہ رکھنے کی۔
اخبرنا علي بن حجر، قال حدثنا اسماعيل، قال حدثنا محمد بن ابي حرملة، عن عطاء بن يسار، عن ابي ذر، قال اوصاني حبيبي صلى الله عليه وسلم بثلاثة لا ادعهن ان شاء الله تعالى ابدا اوصاني بصلاة الضحى وبالوتر قبل النوم وبصيام ثلاثة ايام من كل شهر
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے تین چیزوں کا حکم دیا ہے: وتر پڑھ کر سونے کا، جمعہ کے دن غسل کرنے کا ۱؎، اور ہر مہینے تین دن روزہ رکھنے کا۔
اخبرنا محمد بن علي بن الحسن، قال سمعت ابي قال، انبانا ابو حمزة، عن عاصم، عن الاسود بن هلال، عن ابي هريرة، قال امرني رسول الله صلى الله عليه وسلم بثلاث بنوم على وتر والغسل يوم الجمعة وصوم ثلاثة ايام من كل شهر
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے صلاۃ الضحیٰ ( چاشت کی نماز ) دو رکعتیں پڑھنے کا، اور بغیر وتر پڑھے نہ سونے کا، اور ہر مہینے تین دن روزہ رکھنے کا حکم دیا ہے۔
اخبرنا زكريا بن يحيى، قال حدثنا ابو كامل، قال حدثنا ابو عوانة، عن عاصم بن بهدلة، عن رجل، عن الاسود بن هلال، عن ابي هريرة، قال امرني رسول الله صلى الله عليه وسلم بركعتى الضحى وان لا انام الا على وتر وصيام ثلاثة ايام من كل شهر
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے وتر پڑھ کر سونے، جمعہ کے دن غسل کرنے، اور ہر مہینے تین دن روزہ رکھنے کا حکم دیا۔
اخبرنا محمد بن رافع، حدثنا ابو النضر، حدثنا ابو معاوية، عن عاصم، عن الاسود بن هلال، عن ابي هريرة، رضى الله عنه قال امرني رسول الله صلى الله عليه وسلم بنوم على وتر والغسل يوم الجمعة وصيام ثلاثة ايام من كل شهر
ابوعثمان سے روایت ہے کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کہتے ہوئے سنا: ”صبر کے مہینے کے، اور ہر مہینے سے تین دن کے روزے صوم الدهر ہیں“۔
اخبرنا زكريا بن يحيى، قال حدثنا عبد الاعلى، قال حدثنا حماد بن سلمة، عن ثابت، عن ابي عثمان، ان ابا هريرة، قال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " شهر الصبر وثلاثة ايام من كل شهر صوم الدهر
ابوذر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے مہینے کے تین دن روزہ رکھے تو گویا اس نے صوم الدهر رکھے“، پھر آپ نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں سچ فرمایا ہے: «من جاء بالحسنة فله عشر أمثالها» ”جو کوئی ایک نیکی لائے گا اسے دس گنا ثواب ملے گا“ ( الانعام: ۱۶۰ ) ۔
اخبرنا علي بن الحسن اللاني، بالكوفة عن عبد الرحيم، - وهو ابن سليمان - عن عاصم الاحول، عن ابي عثمان، عن ابي ذر، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من صام ثلاثة ايام من الشهر فقد صام الدهر كله " . ثم قال " صدق الله في كتابه { من جاء بالحسنة فله عشر امثالها}