Loading...

Loading...
کتب
۳۴۵ احادیث
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ ان سے عاشوراء کے روزہ کے بارے میں پوچھا گیا تھا تو انہوں نے کہا: مجھے نہیں معلوم کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی دن کا روزہ اور دنوں سے بہتر جان کے رکھا ہو، سوائے اس دن کے، یعنی ماہ رمضان کے اور عاشوراء کے۔
اخبرنا قتيبة، قال حدثنا سفيان، عن عبيد الله، انه سمع ابن عباس، وسيل، عن صيام، عاشوراء قال ما علمت النبي صلى الله عليه وسلم صام يوما يتحرى فضله على الايام الا هذا اليوم يعني شهر رمضان ويوم عاشوراء
حمید بن عبدالرحمٰن بن عوف کہتے ہیں کہ میں نے معاویہ رضی اللہ عنہ کو عاشوراء کے دن منبر پر کہتے سنا: ”اے مدینہ والو! تمہارے علماء کہاں ہیں؟ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس دن میں کہتے ہوئے سنا کہ میں روزہ سے ہوں تو جو روزہ رکھنا چاہے وہ رکھے“
اخبرنا قتيبة، عن سفيان، عن الزهري، عن حميد بن عبد الرحمن بن عوف، قال سمعت معاوية، يوم عاشوراء وهو على المنبر يقول يا اهل المدينة اين علماوكم سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول في هذا اليوم " اني صايم فمن شاء ان يصوم فليصم
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک زوجہ مطہرہ (ام المؤمنین رضی الله عنہا) کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عاشوراء کے روز، ذی الحجہ کے نو دنوں میں، ہر مہینے کے تین دنوں میں یعنی: مہینہ کے پہلے دوشنبہ ( پیر ) کو اور پہلے اور دوسرے جمعرات کو روزہ رکھتے تھے۔
اخبرني زكريا بن يحيى، قال حدثنا شيبان، قال حدثنا ابو عوانة، عن الحر بن صياح، عن هنيدة بن خالد، عن امراته، قالت حدثتني بعض، نساء النبي صلى الله عليه وسلم ان النبي صلى الله عليه وسلم كان يصوم يوم عاشوراء وتسعا من ذي الحجة وثلاثة ايام من الشهر اول اثنين من الشهر وخميسين
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے ہمیشہ روزے رکھے، تو اس نے روزے ہی نہیں رکھے“۔
اخبرني حاجب بن سليمان، قال حدثنا الحارث بن عطية، قال حدثنا الاوزاعي، عن عطاء بن ابي رباح، عن عبد الله بن عمر، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من صام الابد فلا صام
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے ہمیشہ روزے رکھے اس نے نہ روزے رکھے، اور نہ افطار کیا“۔
حدثنا عيسى بن مساور، عن الوليد، قال حدثنا الاوزاعي، قال اخبرني عطاء، عن عبد الله، ح وانبانا محمد بن عبد الله، قال حدثني الوليد، عن الاوزاعي، قال حدثنا عطاء، عن عبد الله بن عمر، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من صام الابد فلا صام ولا افطر
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے ہمیشہ روزے رکھے تو اس نے روزے ہی نہیں رکھے“۔
اخبرنا العباس بن الوليد، قال حدثنا ابي وعقبة، عن الاوزاعي، قال حدثني عطاء، قال حدثني من، سمع ابن عمر، يقول قال النبي صلى الله عليه وسلم " من صام الابد فلا صام
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے ہمیشہ روزے رکھے اس نے روزے ہی نہیں رکھے“۔
اخبرنا اسماعيل بن يعقوب، قال حدثنا محمد بن موسى، قال حدثنا ابي، عن الاوزاعي، عن عطاء، قال حدثني من، سمع ابن عمر، ان النبي صلى الله عليه وسلم قال " من صام الابد فلا صام
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی الله عنہا کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے ہمیشہ روزے رکھے اس نے نہ تو روزے ہی رکھے اور نہ ہی کھایا پیا“۔
اخبرنا احمد بن ابراهيم بن محمد، قال حدثنا ابن عايذ، قال حدثنا يحيى، عن الاوزاعي، عن عطاء، انه حدثه قال حدثني من، سمع عبد الله بن عمرو بن العاص، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من صام الابد فلا صام ولا افطر
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر ملی کہ میں روزہ رکھتا ہوں، پھر مسلسل روزہ رکھتا ہوں، اور راوی نے پوری حدیث بیان کی۔ ابن جریج کہتے ہیں کہ عطاء نے کہا: مجھے یاد نہیں کہ انہوں نے «صیام ابد» کا ذکر کیسے کیا، مگر اتنا یاد ہے کہ انہوں نے یوں کہا: ”اس شخص نے «صیام» ( روزے ) نہیں رکھے جس نے ہمیشہ «صیام» ( روزے ) رکھے“۔
اخبرني ابراهيم بن الحسن، قال حدثنا حجاج بن محمد، قال قال ابن جريج سمعت عطاء، ان ابا العباس الشاعر، اخبره انه، سمع عبد الله بن عمرو بن العاص، قال بلغ النبي صلى الله عليه وسلم اني اصوم اسرد الصوم وساق الحديث . قال قال عطاء لا ادري كيف ذكر صيام الابد لا صام من صام الابد
عمران بن حصین رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ عرض کیا گیا: اللہ کے رسول! فلاں شخص کبھی دن کو افطار نہیں کرتا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس نے نہ روزہ رکھا، نہ افطار کیا“۔
اخبرنا علي بن حجر، قال انبانا اسماعيل، عن الجريري، عن يزيد بن عبد الله بن الشخير، عن اخيه، مطرف عن عمران، قال قيل يا رسول الله ان فلانا لا يفطر نهارا الدهر . قال " لا صام ولا افطر
عبداللہ بن شخیر رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا اور آپ کے سامنے ایک ایسے شخص کا ذکر کیا گیا تھا جو ہمیشہ روزہ رکھتا تھا تو آپ نے فرمایا: ”اس نے نہ روزہ رکھا اور نہ ہی افطار کیا“۔
اخبرني عمرو بن هشام، قال حدثنا مخلد، عن الاوزاعي، عن قتادة، عن مطرف بن عبد الله بن الشخير، اخبرني ابي انه، سمع رسول الله صلى الله عليه وسلم وذكر عنده رجل يصوم الدهر قال " لا صام ولا افطر
عبداللہ بن شخیر رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صیام الدھر رکھنے والے کے بارے میں فرمایا: ”نہ اس نے روزہ رکھا، اور نہ ہی افطار کیا“۔
اخبرنا محمد بن المثنى، قال حدثنا ابو داود، قال حدثنا شعبة، عن قتادة، قال سمعت مطرف بن عبد الله بن الشخير، يحدث عن ابيه، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال في صوم الدهر " لا صام ولا افطر
عمر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے، تو ہم سب کا گزر ایک شخص کے پاس سے ہوا، ( اس کے بارے میں ) لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے نبی! یہ شخص ایسا ہے جو اتنی مدت سے افطار نہیں کر رہا ہے ( یعنی برابر روزے رکھ رہا ہے ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہ اس نے روزہ رکھا، نہ ہی افطار کیا“۔
اخبرني هارون بن عبد الله، قال حدثنا الحسن بن موسى، قال انبانا ابو هلال، قال حدثنا غيلان، - وهو ابن جرير - قال حدثنا عبد الله، - وهو ابن معبد الزماني - عن ابي قتادة، عن عمر، قال كنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم فمررنا برجل فقالوا يا نبي الله هذا لا يفطر منذ كذا وكذا . فقال " لا صام ولا افطر
ابوقتادہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے آپ کے روزوں کے بارے میں پوچھا گیا، تو آپ ناراض ہو گئے، عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: ہم اللہ کے رب ( حقیقی معبود ) ہونے پر، اسلام کے دین ہونے پر، اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے رسول ہونے پر، راضی ہیں، نیز آپ سے ہمیشہ روزہ رکھنے والے کے بارے میں پوچھا گیا، تو آپ نے فرمایا: ”اس نے نہ روزہ رکھا، نہ ہی افطار کیا“
اخبرنا محمد بن بشار، قال حدثنا محمد، قال حدثنا شعبة، عن غيلان، انه سمع عبد الله بن معبد الزماني، عن ابي قتادة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم سيل عن صومه فغضب فقال عمر رضينا بالله ربا وبالاسلام دينا وبمحمد رسولا . وسيل عمن صام الدهر فقال " لا صام ولا افطر او ما صام وما افطر
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ حمزہ بن عمرو اسلمی رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: اللہ کے رسول! میں ایک ایسا آدمی ہوں جو مسلسل روزے رکھتا ہو، تو کیا سفر میں بھی روزہ رکھ سکتا ہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر چاہو تو رکھو اور اگر چاہو تو نہ رکھو“۔
اخبرنا يحيى بن حبيب بن عربي، قال حدثنا حماد، عن هشام، عن ابيه، عن عايشة، ان حمزة بن عمرو الاسلمي، سال رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال يا رسول الله اني رجل اسرد الصوم افاصوم في السفر قال " صم ان شيت او افطر ان شيت
عمرو بن شرجبیل ایک صحابی رضی الله عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا گیا: ایک آدمی ہے جو ہمیشہ روزے رکھتا ہے؟ آپ نے فرمایا: ”میری خواہش ہے کہ وہ کبھی کھاتا ہی نہیں“ ۱؎، لوگوں نے عرض کیا: دو تہائی ایام رکھے تو؟ ۲؎ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ بھی زیادہ ہے“، لوگوں نے عرض کیا: اور آدھا رکھے تو؟ ۳؎ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ بھی زیادہ ہے“، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا میں تمہیں اتنے روزوں نہ بتاؤں جو سینے کی سوزش کو ختم کر دیں، یہ ہر مہینے کے تین دن کے روزے ہیں“۔
اخبرنا محمد بن بشار، قال حدثنا عبد الرحمن، قال حدثنا سفيان، عن الاعمش، عن ابي عمار، عن عمرو بن شرحبيل، عن رجل، من اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم قال قيل للنبي صلى الله عليه وسلم رجل يصوم الدهر . قال " وددت انه لم يطعم الدهر " . قالوا فثلثيه قال " اكثر " . قالوا فنصفه قال " اكثر " . ثم قال " الا اخبركم بما يذهب وحر الصدر صوم ثلاثة ايام من كل شهر
عمرو بن شرحبیل کہتے ہیں کہ ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا: اللہ کے رسول! آپ اس شخص کے بارے میں کیا فرماتے ہیں جو صیام الدھر رکھے؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں تو یہ چاہوں گا کہ کبھی کچھ کھائے ہی نہ“، اس نے کہا: اس کا دو تہائی رکھے تو؟ آپ نے فرمایا: ”زیادہ ہے“، اس نے کہا: آدھے ایام رکھے تو؟ آپ نے فرمایا: ”زیادہ ہے“، پھر آپ نے فرمایا: ”کیا میں تمہیں وہ چیز نہ بتاؤں جو سینے کی سوزش کو ختم کر دے“، لوگوں نے کہا: جی ہاں ( ضرور بتائیے ) آپ نے فرمایا: ”یہ ہر مہینے میں تین دن کا روزہ ہے“۔
اخبرنا محمد بن العلاء، قال حدثنا ابو معاوية، قال حدثنا الاعمش، عن ابي عمار، عن عمرو بن شرحبيل، قال اتى رسول الله صلى الله عليه وسلم رجل فقال يا رسول الله ما تقول في رجل صام الدهر كله فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " وددت انه لم يطعم الدهر شييا " . قال فثلثيه قال " اكثر " . قال فنصفه قال " اكثر " . قال " افلا اخبركم بما يذهب وحر الصدر " . قالوا بلى . قال " صيام ثلاثة ايام من كل شهر
ابوقتادہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اللہ کے رسول! اس شخص کا معاملہ کیسا ہے جو صیام الدھر رکھتا ہو؟ آپ نے فرمایا: ”اس نے نہ روزے رکھے، اور نہ ہی افطار کیا“۔ ( راوی کو شک ہے «لاصيام ولا أفطر» کہا، یا «لم يصم ولم يفطر» کہا، انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! اس شخص کا معاملہ کیسا ہے جو دو دن روزہ رکھتا ہے اور ایک دن افطار کرتا ہے؟ آپ نے فرمایا: ”کیا اس کی کوئی طاقت رکھتا ہے؟“ انہوں نے عرض کیا: ( اچھا ) اس شخص کا معاملہ کیسا ہے جو ایک دن روزہ رکھتا ہے اور ایک دن افطار کرتا ہے؟ آپ نے فرمایا: ”یہ داود علیہ السلام کا روزہ ہے“، انہوں نے کہا: اس شخص کا معاملہ کیسا ہے جو ایک دن روزہ رکھے اور دو دن افطار کرے؟ آپ نے فرمایا: ”میری خواہش ہے کہ میں اس کی طاقت رکھوں“، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر مہینے میں تین دن روزہ رکھنا، اور رمضان کے روزے رکھنا یہی صیام الدھر ہے“۔
اخبرنا قتيبة، قال حدثنا حماد، عن غيلان بن جرير، عن عبد الله بن معبد الزماني، عن ابي قتادة، قال قال عمر يا رسول الله كيف بمن يصوم الدهر كله قال " لا صام ولا افطر او لم يصم ولم يفطر " . قال يا رسول الله كيف بمن يصوم يومين ويفطر يوما قال " اويطيق ذلك احد " . قال فكيف بمن يصوم يوما ويفطر يوما قال " ذلك صوم داود عليه السلام " . قال فكيف بمن يصوم يوما ويفطر يومين قال " وددت اني اطيق ذلك " . قال ثم قال " ثلاث من كل شهر ورمضان الى رمضان هذا صيام الدهر كله
عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”روزوں میں سب سے افضل داود علیہ السلام کے روزے ہیں، وہ ایک دن روزہ رکھتے، اور ایک دن افطار کرتے“۔
قال وفيما قرا علينا احمد بن منيع قال حدثنا هشيم، قال انبانا حصين، ومغيرة، عن مجاهد، عن عبد الله بن عمرو، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " افضل الصيام صيام داود عليه السلام كان يصوم يوما ويفطر يوما
مجاہد کہتے ہیں کہ مجھ سے عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما نے کہا: میرے والد نے میری شادی ایک اچھے خاندان والی عورت سے کر دی، چنانچہ وہ اس کے پاس آتے، اور اس سے اس کے شوہر کے بارے میں پوچھتے، تو ( ایک دن ) اس نے کہا: یہ بہترین آدمی ہیں ایسے آدمی ہیں کہ جب سے میں ان کے پاس آئی ہوں، انہوں نے نہ ہمارا بستر روندا ہے اور نہ ہم سے بغل گیر ہوئے ہیں، عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ نے اس کا ذکر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تو آپ نے فرمایا: ”اسے میرے پاس لے کر آؤ“، میں والد کے ساتھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوا، تو آپ نے پوچھا: ”تم کس طرح روزے رکھتے ہو؟“ میں نے عرض کیا: ہر روز، آپ نے فرمایا: ”ہفتہ میں تین دن روزے رکھا کرو“، میں نے کہا: میں اس سے زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں، آپ نے فرمایا: ”اچھا دو دن روزہ رہا کرو اور ایک دن افطار کرو“، میں نے کہا: میں اس سے زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اچھا سب سے افضل روزے رکھے کرو جو داود علیہ السلام کے روزے ہیں، ایک دن روزہ اور ایک دن افطار“۔
اخبرنا محمد بن معمر، قال حدثنا يحيى بن حماد، قال حدثنا ابو عوانة، عن مغيرة، عن مجاهد، قال قال لي عبد الله بن عمرو انكحني ابي امراة ذات حسب فكان ياتيها فيسالها عن بعلها، فقالت نعم الرجل من رجل لم يطا لنا فراشا ولم يفتش لنا كنفا منذ اتيناه . فذكر ذلك للنبي صلى الله عليه وسلم فقال " ايتني به " . فاتيته معه فقال " كيف تصوم " . قلت كل يوم . قال " صم من كل جمعة ثلاثة ايام " . قلت اني اطيق افضل من ذلك . قال " صم يومين وافطر يوما " . قال اني اطيق افضل من ذلك . قال " صم افضل الصيام صيام داود عليه السلام صوم يوم وفطر يوم