Loading...

Loading...
کتب
۳۴۵ احادیث
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نزدیک روزہ رکھنے کے لیے سب سے زیادہ پسندیدہ مہینہ شعبان کا تھا، بلکہ آپ اسے رمضان سے ملا دیتے تھے۔
اخبرنا الربيع بن سليمان، قال حدثنا ابن وهب، قال حدثنا معاوية بن صالح، ان عبد الله بن ابي قيس، حدثه انه، سمع عايشة، تقول كان احب الشهور الى رسول الله صلى الله عليه وسلم ان يصومه شعبان بل كان يصله برمضان
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم روزے سے رہتے تھے یہاں تک کہ ہم کہتے کہ آپ بغیر روزے کے نہیں رہیں گے، اور بغیر روزہ کے رہتے یہاں تک کہ ہم کہتے کہ آپ روزہ رکھیں گے ہی نہیں، اور میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو شعبان کے مہینے سے زیادہ کسی اور مہینے میں روزہ رکھتے نہیں دیکھا۔
اخبرنا الربيع بن سليمان بن داود، قال حدثنا ابن وهب، قال اخبرني مالك، وعمرو بن الحارث، وذكر، اخر قبلهما ان ابا النضر، حدثهم عن ابي سلمة، عن عايشة، قالت كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يصوم حتى نقول ما يفطر ويفطر حتى نقول ما يصوم وما رايت رسول الله صلى الله عليه وسلم في شهر اكثر صياما منه في شعبان
ام المؤمنین ام سلمہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سوائے شعبان اور رمضان کے مسلسل دو مہینے روزہ نہیں رکھتے تھے۔
اخبرنا محمود بن غيلان، قال حدثنا ابو داود، قال انبانا شعبة، عن منصور، قال سمعت سالم بن ابي الجعد، عن ابي سلمة، عن ام سلمة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم كان لا يصوم شهرين متتابعين الا شعبان ورمضان
ام المؤمنین ام سلمہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سال کے کسی بھی مہینہ میں پورا روزہ نہیں رکھتے تھے سوائے شعبان کے، آپ اسے رمضان سے ملا دیتے تھے۔
اخبرنا محمد بن الوليد، قال حدثنا محمد، قال حدثنا شعبة، عن توبة، عن محمد بن ابراهيم، عن ابي سلمة، عن ام سلمة، عن النبي صلى الله عليه وسلم انه لم يكن يصوم من السنة شهرا تاما الا شعبان ويصل به رمضان
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کسی بھی مہینے میں شعبان سے زیادہ روزہ نہیں رکھتے تھے، آپ شعبان کے پورے یا اکثر دن روزہ رہتے تھے۔
اخبرنا عبيد الله بن سعد بن ابراهيم، قال حدثنا عمي، قال حدثنا ابي، عن ابن اسحاق، قال حدثني محمد بن ابراهيم، عن ابي سلمة، عن عايشة، قالت لم يكن رسول الله صلى الله عليه وسلم لشهر اكثر صياما منه لشعبان كان يصومه او عامته
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہ کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پورے شعبان روزہ رکھتے تھے سوائے چند دنوں کے۔
اخبرني عمرو بن هشام، قال حدثنا محمد بن سلمة، عن ابن اسحاق، عن يحيى بن سعيد، عن ابي سلمة، عن عايشة، قالت كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يصوم شعبان الا قليلا
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پورے شعبان روزہ رکھتے تھے۔
اخبرنا عمرو بن عثمان، قال حدثنا بقية، قال حدثنا بحير، عن خالد بن معدان، عن جبير بن نفير، ان عايشة، قالت ان رسول الله صلى الله عليه وسلم كان يصوم شعبان كله
اسامہ بن زید رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! جتنا میں آپ کو شعبان کے مہینے میں روزہ رکھتے ہوئے دیکھتا ہوں اتنا کسی اور مہینے میں نہیں دیکھتا، آپ نے فرمایا: ”رجب و رمضان کے درمیان یہ ایسا مہینہ ہے جس سے لوگ غفلت برتتے ہیں، یہ ایسا مہینہ ہے جس میں آدمی کے اعمال رب العالمین کے سامنے پیش کئے جاتے ہیں، تو میں چاہتا ہوں کہ جب میرا عمل پیش ہو تو میں روزہ سے رہوں“۔
اخبرنا عمرو بن علي، عن عبد الرحمن، قال حدثنا ثابت بن قيس ابو الغصن، - شيخ من اهل المدينة - قال حدثني ابو سعيد المقبري، قال حدثني اسامة بن زيد، قال قلت يا رسول الله لم ارك تصوم شهرا من الشهور ما تصوم من شعبان . قال " ذلك شهر يغفل الناس عنه بين رجب ورمضان وهو شهر ترفع فيه الاعمال الى رب العالمين فاحب ان يرفع عملي وانا صايم
اسامہ بن زید رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ روزہ رکھتے ہیں یہاں تک کہ ایسا لگتا ہے کہ آپ روزہ بند ہی نہیں کریں گے، اور بغیر روزہ کے رہتے ہیں یہاں تک کہ لگتا ہے کہ روزہ رکھیں گے ہی نہیں سوائے دو دن کے۔ کہ اگر وہ آپ کے روزہ کے درمیان میں آ گئے ( تو ٹھیک ہے ) اور اگر نہیں آئے تو بھی آپ ان میں روزہ رکھتے ہیں۔ آپ نے پوچھا: ”وہ دو دن کون ہیں؟“ میں نے عرض کیا: وہ پیر اور جمعرات کے دن ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ دو دن وہ ہیں جن میں اللہ رب العالمین کے سامنے ہر ایک کے اعمال پیش کئے جاتے ہیں، تو میں چاہتا ہوں کہ جب میرا عمل پیش ہو تو میں روزہ سے رہوں“۔
اخبرنا عمرو بن علي، عن عبد الرحمن، قال حدثنا ثابت بن قيس ابو الغصن، - شيخ من اهل المدينة - قال حدثني ابو سعيد المقبري، قال حدثني اسامة بن زيد، قال قلت يا رسول الله انك تصوم حتى لا تكاد تفطر وتفطر حتى لا تكاد ان تصوم الا يومين ان دخلا في صيامك والا صمتهما . قال " اى يومين " . قلت يوم الاثنين ويوم الخميس . قال " ذانك يومان تعرض فيهما الاعمال على رب العالمين فاحب ان يعرض عملي وانا صايم
اسامہ بن زید رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم برابر روزہ رکھتے جاتے تھے، یہاں تک کہ کہا جانے لگتا کہ آپ بغیر روزہ کے رہیں گے ہی نہیں، اور ( مسلسل ) بغیر روزہ کے رہتے یہاں تک کہ کہا جانے لگتا کہ آپ روزہ رکھیں گے ہی نہیں۔
اخبرنا احمد بن سليمان، قال حدثنا زيد بن الحباب، قال اخبرني ثابت بن قيس الغفاري، قال حدثني ابو سعيد المقبري، قال حدثني ابو هريرة، عن اسامة بن زيد، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم كان يسرد الصوم فيقال لا يفطر ويفطر فيقال لا يصوم
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دو شنبہ ( پیر ) اور جمعرات کے روزہ کا اہتمام فرماتے تھے۔
اخبرنا عمرو بن عثمان، عن بقية، قال حدثنا بحير، عن خالد بن معدان، عن جبير بن نفير، ان عايشة، قالت ان رسول الله صلى الله عليه وسلم كان يتحرى صيام الاثنين والخميس
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دوشنبہ ( پیر ) اور جمعرات کے دن ( کے روزہ ) کا اہتمام فرماتے تھے۔
اخبرنا عمرو بن علي، قال حدثنا عبد الله بن داود، قال اخبرني ثور، عن خالد بن معدان، عن ربيعة الجرشي، عن عايشة، قالت كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يتحرى يوم الاثنين والخميس
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دوشنبہ ( پیر ) اور جمعرات کے دن ( کے روزہ ) کا اہتمام فرماتے تھے۔
اخبرنا اسحاق بن ابراهيم، قال انبانا عبيد الله بن سعيد الاموي، قال حدثنا سفيان، عن ثور، عن خالد بن معدان، عن عايشة، قالت كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يتحرى الاثنين والخميس
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دوشنبہ ( پیر ) اور جمعرات کے دن ( کے روزہ ) کا اہتمام فرماتے تھے۔
اخبرنا احمد بن سليمان، قال حدثنا ابو داود، عن سفيان، عن منصور، عن خالد بن سعد، عن عايشة، قالت كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يتحرى يوم الاثنين والخميس
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم دوشنبہ ( پیر ) اور جمعرات کو روزہ رکھتے تھے۔
اخبرنا اسحاق بن ابراهيم بن حبيب بن الشهيد، قال حدثنا يحيى بن يمان، عن سفيان، عن عاصم، عن المسيب بن رافع، عن سواء الخزاعي، عن عايشة، قالت كان النبي صلى الله عليه وسلم يصوم الاثنين والخميس
ام المؤمنین ام سلمہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہر مہینے تین دن روزہ رکھتے تھے: پہلے ہفتہ کے دوشنبہ ( پیر ) اور جمعرات کو، اور دوسرے ہفتہ کے دوشنبہ ( پیر ) کو۔
اخبرني ابو بكر بن علي، قال حدثنا ابو نصر التمار، قال حدثنا حماد بن سلمة، عن عاصم، عن سواء، عن ام سلمة، قالت كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يصوم من كل شهر ثلاثة ايام الاثنين والخميس من هذه الجمعة والاثنين من المقبلة
ام المؤمنین حفصہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہر مہینے کی جمعرات اور دوشنبہ ( پیر ) کو اور دوسرے ہفتہ کے دوشنبہ ( پیر ) کو روزہ رہتے تھے۔
اخبرني زكريا بن يحيى، قال حدثنا اسحاق، قال انبانا النضر، قال انبانا حماد، عن عاصم بن ابي النجود، عن سواء، عن حفصة، قالت كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يصوم من كل شهر يوم الخميس ويوم الاثنين ومن الجمعة الثانية يوم الاثنين
ام المؤمنین حفصہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب اپنے بستر پر لیٹتے تو اپنی داہنی ہتھیلی اپنے دائیں گال کے نیچے رکھ لیتے، اور دوشنبہ ( پیر ) اور جمعرات کے دن روزہ رکھتے تھے۔
اخبرنا القاسم بن زكريا بن دينار، قال حدثنا حسين، عن زايدة، عن عاصم، عن المسيب، عن حفصة، قالت كان رسول الله صلى الله عليه وسلم اذا اخذ مضجعه جعل كفه اليمنى تحت خده الايمن وكان يصوم الاثنين والخميس
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہر مہینے کے ابتدائی تین دنوں میں روزہ رکھتے تھے اور کم ہی ایسا ہوتا کہ آپ جمعہ کے دن روزہ سے نہ رہے ہوں ۱؎۔
اخبرنا محمد بن علي بن الحسن بن شقيق، قال ابي انبانا ابو حمزة، عن عاصم، عن زر، عن عبد الله بن مسعود، قال كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يصوم ثلاثة ايام من غرة كل شهر وقلما يفطر يوم الجمعة
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے چاشت کی دونوں رکعتوں کا حکم دیا، اور یہ کہ میں وتر پڑھے بغیر نہ سوؤں، اور ہر مہینے میں تین دن روزہ رکھا کروں۔
اخبرنا زكريا بن يحيى، قال حدثنا ابو كامل، قال حدثنا ابو عوانة، عن عاصم بن بهدلة، عن رجل، عن الاسود بن هلال، عن ابي هريرة، قال امرني رسول الله صلى الله عليه وسلم بركعتى الضحى وان لا انام الا على وتر وصيام ثلاثة ايام من الشهر